Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

دبئی ہسپتال کا ایک منظر

یہ تصویر سعودی جرمن ہسپتال ۔ دبئی کے وی آئی پی مریضوں کیلئے ایک کمرے کے اندر سے لی گئی ہے
hospital-window
کیسی خوبصورت ہریالی ہے ؟
۔
۔
۔
۔
۔
دھوکہ کھا گئے نا ؟
جناب ۔ کھڑی سے باہر ساتھ والے بلاک کی چھت ہے
یہ کھڑکی کے شیشے پر پینٹنگ ہے

باپ

ماں کی متعلق بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے اور درست بھی ہے
باپ کے بارے میں بہت کم کہا یا لکھا گیا ہے
چند شعر باپ کے متعلق

باپ ہے تو روٹی ہے کپڑا ہے مکان ہے
باپ ننھے سے پرندے کا بڑا آسمان ہے
باپ سے ماں کی چوڑی ۔ بندیا اور مان ہے
باپ ہے تو گھر ہے اور گھرانے کا سامان ہے
باپ ہے تو بچوں کے سارے سَپنے اپنے ہیں
باپ ہے تو بازار کے سارے کھلونے اپنے ہیں

خوشیاں حاصل کرنے کا طریقہ

ایک سیمینار میں 50 لوگ شریک تھے ۔ مقرر نے سب کو ایک ایک غبارہ دے کر کہا ”سب اپنے اپنے غبارے پر اپنا نام لکھیں”۔
جب سب نے نام لکھ لئے تو سارے غبارے ایک کمرے میں ڈال دیئے گئے اور سب کو 5 منٹ میں اپنا اپنا غبارہ تلاش کر کے لانے کا کہا گیا
سب اپنے غبارے تلاش کرنے میں لگ گئے ۔ اس بھگدڑ میں کئی غبارے پاؤں کے نیچے آ کر پھٹ گئے اور 5 منٹ میں کسی کو اپنا غبارہ نہ ملا

یہی عمل دوہرایا گیا لیکن اس بار یہ کہا گیا کہ ”جو غبارہ کسی کے ہاتھ میں آئے وہ اس پر نام دیکھ کر جس کا وہ ہے اُسے دے دے”۔
اس طرح 5 منٹ میں سب کو اپنے اپنے غبارے مل گئے

مقرر نے سب کو مخاطب کر کے کہا ” اسی طرح ہماری زندگی ہے ۔ ہم اپنی خوشیاں تلاش کرتے ہوئے افراتفری میں دوسروں کی خوشیاں پاؤں کے نیچے کُچل دیتے ہیں ۔ ہم لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ہماری خوشیاں دوسروں کے ساتھ وابسطہ ہیں ۔ ہم دوسروں کو اُن کی خوشیاں دیں گے تو ہمیں ہماری خوشیاں بھی مِل جائیں گی اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے“۔

مزید زندگی کا مقصد جاننے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

انسانی بوالعجمیاں

یہ کیا کہ سورج پہ گھر بنانا اور اُس پہ چھاؤں تلاش کرنا
کھڑے بھی ہونا تو دَلدَلوں پہ ۔ پھر اپنے پاؤں تلاش کرنا
نِکل کے شہر میں آ بھی جانا چمکتے خوابوں کو ساتھ لیکر
بلند و بالا عمارتوں میں ۔ پھر اپنے گاؤں تلاش کرنا
کبھی تو بیعت فروخت کر دی ۔ کبھی تمثیلیں فروخت کر دیں
میرے وکیلوں نے میرے ہونے کی سب دلیلیں فروخت کر دیں
وہ اپنے سورج تو کیا جلاتے ۔ میرے چراغوں کو بیچ ڈالا
فراک اپنے بچا کے رکھے ۔ میری سبیلیں فروخت کر دیں
خدا ہیں لوگ گناہ و ثواب دیکھتے ہیں
ہم تو روز ہی روز حساب دیکھتے ہیں
کُچل کُچل کے فُٹ پاتھ کو ۔ نہ چلو اِتنا
یہاں پہ مزدور رات کو خواب دیکھتے ہیں
(کلام ۔ سلمان)

قارئین سے درخواست

میں مکمل سنجیدگی کے ساتھ یہ درخواست کر رہا ہوں
تمام قارئین سمجھدار ہیں اس لئے اُن سے سنجیدہ جوابات کی اُمید رکھتا ہوں

میں نے آپ کا حق مارا ہو یا آپ کا حق ادا نہ کیا ہو یا آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہو
یا آپ کے عَلم میں ہو کہ میں نے کسی کے ساتھ ایسا کیا تھا
تو
از راہ کرم مجھے مطلع فرمایئے تاکہ میں اس کا ازالہ کر سکوں
میں آپ کا مشکور ہوں گا

بندے کی حیثیت


بھُولی ہوئی ہوں میں داستاں ۔ گذرا ہوا خیال ہوں
جس کو نہ کوئی سمجھ سکے میں ایسا اِک سوال ہوں
سب نے مجھے بھُلا دیا ۔ نظروں سے یوں گرا دیا
جیسے کبھی ملے نہ تھے ۔ اِک راہ پر چلے نہ تھے
تھم جاؤ میرے آنسوؤ ۔ کسی سے نہ کوئی گلہ کرو
وہ حسنِ خُلق کی مثال ہیں ۔ میں ماضی کا زوال ہوں
جس کو نہ کوئی سمجھ سکے میں ایسا اِک سوال ہوں

کرنا ہی تھا اگر ستم اور دینا تھا عمر بھر کا غم
درسِ وفا دیا تھا کیوں ؟ خُلق کی راہ پر چلایا تھا کیوں
سب نے نگاہ پھیر لی ۔ اب میں ہوں اور میری بے بسی
ویران شب کے چاند کا ۔ میں کھویا ہوا جمال ہوں
جس کو نہ کوئی سمجھ سکے میں ایسا اِک سوال ہوں
بھُولی ہوئی ہوں میں داستاں ۔ گذرا ہوا خیال ہوں

محفوظ رہنے کا طریقہ

اگر کوئی آدمی آپ کو ناراض یا بیزار کرتا ہے یا نقصان پہنچاتا ہے تو یاد رکھیئے کہ آپ دوسروں کو نہیں روک سکتے اور نہ اُن کے عمل پر آپ کو قدرت حاصل ہے
آپ صرف اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکتے ہیں اور اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کیلئے اپنے ردِ عمل کو روک سکتے ہیں