Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

بن مانس یا آدمی ؟

اسماء نے تبصرہ میں یہ نقطہ اٹھایا ہے

But then becoming an aadmi is also not very easy!! We are homosapiens

جیسا کہ میں نے شروع ہی میں اشارہ دیا تھا میں تخلیق آدم اور پھر تخلیق کائنات کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ بلکہ میں نے دس مئی کو اس کا آغاز کر دیا تھا۔ میرے خیال میں اس تقابل کا ابھی وقت نہیں آیا تھا مگر پانچ مئی کو اسماء کے مندرجہ بالا تبصرہ کی وجہ سے میں نے سوچا وقتی طور پر اس کے متعلق مختصر سا لکھ دیا جائے اور سب کو اس پر رائے دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔

علم حیاتیات کے نظریات امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے تو ٹھیک ہیں مگر بنائے ہوئے آدمی کے ہی ہیں۔ انسان غلطی بھی کر سکتا ہے اور یہ نظریات کل کلاں تبدل بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ان کو آفاقی حقیت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اب ذرا غور کیجئے ہو مو سیپیئنز کے معنی پر

Homo sapiens is a Latin for “knowing man” : a bipedal primate belonging to the super family of Hominoidea, with all of the apes: chimpanzees, gorillas, orangutans, and gibbons

اگر وقتی طور پر اس نظریہ کو صحیح تصوّر کر بھی لیا جائے تو یہ سلسہ ڈارون کے نظریہ کے مطابق جاری رہنا چاہئے تھا اور پچھلے ایک ہزار سال میں لوگ کچھ بن مانسوں کو آدمیوں کی شکل اختیار کرتے ہوئے ضرور دیکھتے اور یہ انتہائی اہم خبر تحریر میں آ جاتی اور آج بطور عملی ثبوت موجود ہوتی مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے یہ نظریہ محض مفروضہ ہے اور از خود ہی غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اگر پہلے بن مانس تھا تو بن مانس پہلے کیا تھا ؟ یہ لمبی بات ہے چنانچہ پھر کبھی سہی۔ علامہ اقبال نے آدمی کی خصلت کو خوب بیان کیا ہے۔تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں ۔۔۔۔۔ انسان کی ہر قوّت سرگرم تقاضہ ہے
اس ذرّے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم ۔۔۔۔۔ یہ ذرّہ نہیں ۔ شاید سمٹا ہوا صحرا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی ۔۔۔۔۔ یہ ہستی دانا ہے ۔ بینا ہے ۔ توانا ہے

عجب بات یہ ہے کہ ہم اپنی موجودہ زندگی میں کسی چیز کے متعلق اس کے بنانے والے کی فراہم کردہ معلومات کو سب سے زیادہ معتبر سمجھتے ہیں اور ان کے مطابق عمل کرتے ہیں تو پھر آدمی کے سلسہ میں ہم آدمیوں کے خالق کی طرف رجوع کیوں نہیں کرتے ؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب میں آپ لوگوں بالخصوص اسماء سے چاہتا ہوں۔

اللہ سبحانہ و تعالی نے آدمی کی پیدائش کو واضح الفاظ میں قرآن الحکیم کے ذریعہ ہم تک پہنچا دیا ہوا ہے۔ اگر حوالے چاہیئں تو میں حاضر ہوں

کیا ہم زندہ ہیں۔۔۔۔۔؟ ؟ ؟

گذ شتہ جمعہ مسجد سے واپسی پر راستہ میں ایک خوش بوش نوجوان نے مجھے چار صفحوں کا ایک پرچہ تھما دیا جس کا عنوان تھا ” کیا ہم زندہ ہیں ۔ ۔ ؟ ” اس پرچہ کی 74 سطور میں سے چند یہاں نقل کر رہا ہوں۔نائن الیون کا بدلہ لینے کے بہانے بے شمار معصوم مسلمانوں کے خون سے ہولی کھلنے اور دو مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے باوجود جب امریکہ کا غصہ ٹھنڈ ا نہ ہوا تو دہشت گردی کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف محاذ کھولا گیا اور ہم نے اس میں تعاون کرتے ہوئے تن من دھن سبھی کچھ بیچ ڈالا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سینکڑوں جوانوں کو ہم نے چند ڈالروں کے عوض پنجروں میں بند کرنے کے لئے گوانتا ناموبے بھیج دیا اور اجازت دی کہ جاؤ امریکہ ان سے وہی سلوک کرو جو قریش مکہ نے بلال۔ یاسر یا عمّار بن یاسر ( رضی اللہ عنہم) سے کیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے اکیسویں صدی کے شایان شان بننے کے لئے بے حیائی کو روشن خیالی کے نام پر ترویج دی۔ مذاکروں میں اسلام اور نظریہ پاکستان کی ہم نے دھجیاں بکھیریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایمان اور اسلام کا لا متناہی سلسلہ ہائے بے حرمتی چلتے چلتے بات یہاں تک پہنچی کہ امریکہ نے قرآن پاک کے نسخے پھاڑنے۔ غشل خانوں کے فرش پر بچھا نے اور فلش میں بہانے کی جسارت کر لی۔ سوا ارب مسلمان ۔۔ ؟ خس و خاشاک کی مانند ۔۔ جھاگ کی مانند ۔۔ کیڑے مکوڑوں سے زیادہ حقیر اور بے وقعت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے اپنی قوم سے بمشکل نیوز ویک چھپایا کہ کہیں انہیں

قرآن مجید کی بے حرمتی کی خبر نہ لگ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرچہ کے آخر میں شعر ہیں۔
اٹھو کہ ظلمت ہوئی پیدا افق خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں
اس چمن کو سبق آئین نو کا دے کر
قطرہء شبنم بے مایہ کو دریا کر دیں
شمع کی طرح جئیں ہر جگہ عالم میں
خود جلیں۔ دیدہء اغیار کو بینا کر دیں

تبصروں کے جوابات میں تاخیر کی معذرت

اسماء۔ نبیل۔ عبداقدیر۔ جہانزیب اور سائرہ عنبریں۔ !
دیر سے رجوع کرنے کی معذرت ۔ بہر حال دیر ہونا اندھیر ہونے سے بہت بہتر ہے۔ آپ سب کا شکریہ میری حوصلہ افزائی کرنے کا۔ دیر کا سبب یہ ہوا کہ یہ کھاتہ بناتے ہوئے میں نے ایک غلطی کر دی تھی جس کے باعث ایک تو آپ کے تبصرے تاخیر سے شائع ہوئے دوسرے مجھے ان کی اطلاع نہ ہوئی۔ آج میں کھاتہ دوہرا رہا تھا کہ میں نے آپ کے تبصرے دیکھے۔ الحمدللہ۔ غلطی مل گئی اور ٹھیک کر دی ہے۔ انشا اللہ آئندہ کوتاہی نہیں ہوگی۔ اس کو میں اصلی کھاتہ میں لکھ رہا ہوں تا کہ سب کو آسانی سے پتہ چل جائے۔ اب تبصروں کا مختصر جواب:اسماء: آپ نے اہم نقطہ اٹھایا ہے اس کے متعلق میں اصلی کھاتہ میں لکھو گا انشا اللہ جلدی۔

نبیل: آپ کے تبصرہ کا جواب زکریّا نے میرے پڑھنے سے بھی پہلے دے دیا۔ مزید کوئی مشورہ ہو تو ضرور تھوڑا وقت نکالیں۔

جہانزیب: والدین کا فرض ہے کہ اولاد کو انسان بنانے کی کوشش کریں۔ اس لئے اولاد کو چاہیئے کہ جلدی سے جلدی انسان بن جائے۔ ہا ہا ہا !

عبداقدیر: کھاتے کی پسندیدگی کا شکریہ۔ آپ نے پولینڈ کے بچے کی دلچسپ کہانی لکھی ہے۔

سائرہ عنبرین: میری والدہ کے لئے نیک دعا کا شکریہ۔ شیخ سعدی ایک مفکّر تھے۔ انہوں نے نہائت سادہ زندگی گذاری اور آدمیوں کو انسان بنانے کی کوشش کی۔

پاس نہیں ہوا۔ فرسٹ آیا ہوں

جموں توی ریاست جموں کشمیر کا ایک شہر ہے جو ریاست کا موسم سرما کا دارالخلافہ ہے اور دریائے توّی کے کنارے پر آباد ہے۔ نام کی مثال جرمنی کے شہر ” ڈوسل ڈارف ام رائن ” جیسی ہے جو دریائے رائن کے کنارے آباد ہے۔ ریاست جموں کشمیر میں تعلیم کا نظام اور معیار بہت عمدہ تھا اور سوائے دو مدرسوں کے تعلیم تقریبا مفت تھی ۔ ایک مدرسہ جموں توّی میں تھا ” ماڈل اکیڈمی” اور ایک سرینگر میں ” برن ہال” ۔ 1947 میں برن ہال کو ایبٹ آباد (پاکستان) منتقل کر دیا گیا اور ایو ب خان کے دور میں اس مدرسہ کو پاکستان آرمی نے فتح کر لیا۔ جی ہاں بالکل ایسے ہی جیسے چار مرتبہ پاکستان کو فتح کیا (ایوب خان۔ یحی خان۔ ضیا الحق اور پرویز مشرّف نے) جموں کا پرنس آف ویلز کالج (سرکاری) عمدہ تعلیمی معیار کے باعث پورے ہندوستان میں مشہور تھا۔ میں ماڈل اکیڈمی میں پڑھتا تھا۔ اس مدرسہ میں تین سال نرسری کے پھر سات سال جو سات سٹینڈرڈ کہلاتے تھے۔ سیونتھ سٹینڈرڈ کے آخر میں ” او لیول” یا “میٹرک” کا امتحان دے سکتے تھے۔ 1946 میں میں نے فرسٹ سٹینڈرڈ کا امتحان دیا۔ میری پھو پھی کی بیٹی جو مجھ سے آٹھ سال بڑی ہیں نے مجھے بتایا کہ جب میں فرسٹ سٹینڈرڈ کا نتیجہ سن کر گھر لوٹا تھا تو میرے چہرے پر کو ئی خوشی نہ تھی۔ پوچھنے پر میں نے بتایا تھا ” محلہ میں رہنے والے میرے تینوں ہم جماعت پاس ہو گئے ہیں” پوچھا گیا ” لیکن تمہارا نتیجہ کیا رہا ؟” میں نے منہ بسورتے ہوے بتایا ” میں فرسٹ آیا ہوں”۔ ہاں جی تو لگائیے قہقہہ میری بیوقوفی پر یا داد دیجئے میری معصومیت کی

ڈھونڈ نے والا ستاروں کی گذرگاہ کا

آپ جانتے ہی ہیں کہ خالق حقیقی نے ایک پتلا بنایا پھر اس مین روح پھونکی تو وہ متحرّک ہو گیا۔ آپ پوچھتے ہیں روح کیا ہے تو حناب یہ تو خالق ہی جانے۔ بڑے بڑے ناموں والے سائینسدان تھک ہار کے خاموش ہو گئے۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہون کہ اگر خود کو کچھ معلوم نہ ہو تو دوسرے کی بات مان لینا چاہیئے۔ آپ نے سنا ہو گا۔

نکل جاتی ہے جب خوشبو ۔ تو گل بے کار ہوتا ہے

مجھے تو اتنا معلوم ہے کہ روح نکل جائے تو جسم بے کار بلکہ بالکل بے کار ہوتا ہے۔

آپ نے تو مجھے پٹڑی سے اتار دیا۔ ہاں تو روح پھونکی اور ایک انسان معرض وجود میں آیا۔ یہ تھے حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان۔ (کچھ لوگ حضرت آدم علیہ السلام کو پہلا نبی مانتے ہیں پہلا انسان نہیں وہ اور بھی بہت کچھ نہیں مانتے۔ بہر کیف اس سے میری صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا) پھر خالق نے اس نر میں سے ایک مادہ انسان کو پیدا کیا۔ سارے انسانوں یا آدمیوں کو انسانوں کے اس جوڑے کی اولاد ہونے کا شرف حاصل ہے۔آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ فرشتوں نے بھی کہا تھا ” ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ ( اللہ ) نے ہم کو دے دیا ہے ” ذرا غور کیجیئے کہ آدمی ہر دور میں بہت کچھ جاننے کے دعوے کرتا آیا ہے اور آج کے دور میں تو اتنے اونچے دعوے ! ! ! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ میرے خیال میں علامہ اقبال نے کچھ صحیح کہا ہے ۔ ملاحظہ ہو

ڈھونڈ نے والا ستاروں کی گذ ر گاہ کا ۔۔۔۔۔ اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا ۔۔۔۔۔ آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا ۔۔۔۔۔ زندگی کی شب تاریک کو سحر کر نہ سکا

انسان اور کتا

شیخ سعدی نے گلستان سعدی لکھی یہ ذومعنی چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی کتاب میں نے جب پہلی بار پڑھی تو میں آٹھویں جماعت میں تھا۔ اس وقت مجھے وہ بچوں کی کہانیاں لگیں مگر آدھی صدی گزرنے کے بعد آج میں سوچتا ہوں کہ یہ کہانیاں ہر عمر کے آدمیوں کے لئے ہیں اور ان کو پڑھ کر آدمی انسان بن سکتا ہے۔ آپ فالحال مندرجہ دو کہانیاں پڑھئیے۔ایک درویش کے پاس سے ایک بادشاہ کا گذر ہوا۔ درویش کے پاس اس کا کتا بیٹھا تھا۔ بادشاہ نے مذاق کے طور پر پوچھا ” آپ اچھے ہیں یا آپ کا کتا ؟ “۔ درویش نے جواب دیا ” یہ کتا میرا کہنا مانتا ہے اور میرا وفادار ہے۔ اگر میں اپنے مالک کا وفادار رہوں اور اس کا کہنا مانوں تو میں اچھا ورنہ یہ کتا مجھ سے اچھا ہے “۔

ایک آدمی کو کتے نے کاٹ لیا۔ درد سے اس کے آنسو نکل آۓ۔ اس کی کمسن بچی اسے کہنے لگی ” بابا روتے کیوں ہو۔ کتا آپ سے بڑا تو نہیں ہے۔ آپ بھی اس کو کاٹ لیں”۔ آدمی نے کہا ” بیٹی ٹھیک ہے کہ کتا مجھ سے بہت چھوٹا ہے مگر میں انسان ہوں اور انسان کتے کو نہیں کاٹتا “۔

ایک دوست نے ایک لطیفہ بھیجا ہے امید ہے آپ محظوظ ہوں گے

80 years old Arab American man, living close to New York City for more than 50 years, love potatoes and wants to plant potatoes in his garden, but he is alone, old and weak.His only son is working in Paris, so the old man sends him an e-mail. He explains the problem:”My beloved son, I am very sad because I can’t plant potatoes in my garden. I am sure, if only you were here, you would have helped me and dug up the garden for me.
I love you: Your father.”

The following day, the old man receives a response e-mail from his son:

“My beloved father, please don’t touch the garden. It’s there that I have hidden ‘THE THING’.
I love you too– Ahmed.”

At 4 pm same day the US Army, the Marines, the FBI and the CIA visit the house of the old man, take the whole garden apart, search every inch, but can’t find anything. Disappointed, they apologize and leave the house.

On the third day, the old man receives another e-mail from his son:

“My beloved father, I hope the garden is dug up by now and you can plant your potatoes. That’s all I could do for you from here on such short notice. I love you–Ahmed.”