Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

برا کون ؟ قانون یا قانون نافذ کرنے والے ؟

روشن خیال حکومت کے دور میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ابھی ایک گہرے زخم کا علاج بھی صحیح طرح شروع نہیں ہوا ہوتا کہ ایک اور گہرا زخم لگا دیا جاتا ہے۔ ابھی چند دن کی بات ہے کہ سیالکوٹ شہر کے تھانہ میں قانون کے محافظوں نے ایک سترہ سالہ طالبہء علم کی عصمت لوٹی تھی۔ اور الٹا اس پر برے چال چلن کا مقدمہ بھی بنا دیا تھا۔اب 17 مئی کو رات ساڑھے آٹھ بجے طاہر اور بلاّ اپنی رشتہ دار خواتین 32 سالہ صائمہ اور 15 سالہ سائرہ کو فیض آباد میں شیخوپورہ جانے والی بس کے اڈا پر چھوڑنے جا رہے تھے کہ فیض آباد فلائی اوور کے پاس پولیس نے روک کر ان کی شناخت یعنی ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ کا ثبوت مانگا۔ پھر ان کو قریبی تھانہ لے جا کر سب انسپکٹر اقبال شاہ کے حوالے کیا جس نے ان کے بیان لینے کے بعد انہیں کمرہ میں بند کرنے کا حکم دیا۔

پولیس والوں نے انہیں سیکس سکینڈل میں ملوّث کرنے کی دھمکی دی اور باعزت چھوڑنے کے عوض دو لاکھ روپے رشوت مانگی۔ نیز ان کے باس جو کچھ تھا (گھڑیاں۔ موبائل فون۔پیسے۔ اے ٹی ایم کارڈ) سب کچھ چھین لیا۔ پھر عورتوں سے ٹیلیفون کروا کر ان کے ایک رشتہ دار احمد ٹونی کو بلوایا اور اپنا دو لاکھ روپے کا مطالبہ دہرایا۔ ٹونی نے معذوری کا اظہار کیا تو دھمکیاں دیکر اے ٹی ایم پن کوڈ معلوم کیا اور ٹونی کو پولیس کے ساتھ بھیجا کہ اے ٹی ایم سے زیادہ سے زیادہ پیسے نکال کر لائیں۔ وہ الائیڈ بنک سے رسید نمبر 00298099 کے مطابق بیس ہزار روپے اور حبیب بنک سے رسید نمبر 00364248 کے مطابق پانچ ہزار روپے لے کر آئے۔ ان کی عدم موجودگی میں پولیس آفیسر نے ایک پولیس مین کے ذریعہ سائرہ کو اپنے کمرہ میں بلایا اور زبردستی اس کی عزت لوٹ لی۔

ٹونی نے واپس آ کر پچیس ہزار روپے دئیے تو طاہر اور بلّے کواگلی صبح 4 بجے کے قریب رہا کر دیا مگر خواتین کو صبح 6 بجے تک اپنے پاس رکھا۔ جب خواتین کو رہا کیا گیا تو سائرہ کی حالت بہت خراب تھی۔ ٹونی خواتین کو اپنے گھر لے گیا مگر پھر سائرہ کو ہسپتال لے جانا پڑا جہاں سائرہ 30 گھینٹے زیر علاج رہی۔ ٹونی نے پولیس کے ڈر سے ہسپتال والوں کو اصل صورت حال نہ بتائی۔

پوری خبر کے لئے یہاں کلک کریں

کچھ حدود آرڈیننس کے متعلق

پہلے شبّیر کی “میری یادیں” میں تحریر سے اقتباس

۔کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ذہن قبول ہی نہیں کرتا۔۔ اسلام انسان کو جستجو اور کھوج کا سبق دیتا ہے۔ اسلام کے بہت سے اصول اس وقت بنائے گئے جب سائینس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ ایسے ہی “حدود ” کا معاملہ ہے۔پنجاب ہائی کورٹ میں ایک حدود کا مقدمہ کافی عرصے سے چل رہا ہے۔ اس مقدمہ کی کہانی یہ ہے کہ ایک شخص کافی عرصے سے امریکہ میں نوکری کررہا ہے بیوی پاکستان میں رہتی ہے۔ بیٹی کی ولادت کے بعد جب وہ پاکستان آیا تو اسے شک تھا کہ یہ بیٹی اس کی نہیں ہے اور یہ کہ اس کی بیوی کے تعلقات کسی اور مرد سے ہیں۔ شوہر کورٹ گیا حدود کا مقدمہ چلا۔ ڈی این اے ٹیسٹ ہوا اور معلوم ہوگیا کے وہ آدمی حق پر ہے ۔۔۔ یہ نقطہ اٹھایا گیا کہ کیا ڈی این اے ٹیسٹ کو حدود کے مقدمہ میں بطور شہادت پیش کیا جا سکتا ہے ؟ ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ جب معلوم ہو گیا کہ وہ بچی اسکی اولاد نہیں ہے تو پھر حدود کا مقدمہ کیوں نہیں چل سکتا اور کیا ایسے تعلقات جائز ہیں جو ایک بند کمرے میں ہوں جہاں چار آدمی ایسے تعلقات نہ دیکھ سکیں اور یہ کہ ایسے تعلقات اگر چھپ کر ہوں تو کیا جائز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس ختم ہوا

ہمارے ملک کے قوانین ہماری آزادی سے پہلے قابض انگریز حکمرانوں نے اپنی حکومت کو مضبوط رکھنے کے لئے بنائے تھے۔ عوام کی بھلائی کے لئے نہیں۔ ہماری آزادی کے بعد جو ترامیم ہوئیں وہ زیادہ تر مطلق العنان حکمرانوں کے دور میں ہوئیں چنانچہ اول تو قوانین ہیں ہی جابر اور بارسوخ لوگوں کی حمائت میں۔ اور جو ایسے نہیں ہیں ان کی بھی تشریح اسی طرح سے کی جاتی ہے۔ حدود کے قوانین کا صحیح نفاز اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تعذیرات پاکستان اور قانون شہادت وغیرہ میں انسانیت دوست (یا منطقی) ترمیمات نہیں کی جاتیں۔ حدود آرڈیننس تو کیا۔ کسی بھی انسان دوست قانون کا صحیح نفاذ موجودہ قانون تعذیرات پاکستان اور قانون شہادت کی موجودگی میں ناممکن ہے۔ وکیل بھاری فیس کے عوض ہر جھوٹ کو سچ ثابت کرتا ہے۔ اپنے ضمیر کو وہ دولت کی گولی کھلا کے سلا دیتا ہے۔ اس لئے کسی عام آدمی کو انصاف مل جانا محض ایک اتفاق ہوتا ہے۔

ضیاءالحق کے زمانہ میں گواہی دینے کے لئے ایک حلف ضروری قرار دیا گیا تھا جو کہ قرآن شریف میں غلط کاری کے سلسلہ میں درج ہے۔ یہ حلف کچھ اس طرح تھا ” میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جو کہوں گا سچ کہوں گا اور اگر میں کوئی غلط بیانی کروں تو مجھ پر اللہ کا قہر نازل ہو” یہ حلف نامعلوم کیوں ختم کر دیا گیا۔ شائد اس لئے کہ جھوٹے گواہوں کو ذہنی کوفت نہ ہو۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلام کے نظام انصاف میں نہ آج جیسے وکیل کی گنجائش ہے اور نہ آج جیسے ججوں کی۔ اسلامی نظام انصاف میں سچ کی جستجو اور انصاف کا اطلاق (جس کو کوئی جھوٹ پر مبنی نہ کہہ سکے) جج کی ذمہ داری ہوتی ہے اور جج صرف وہی بن سکتا ہے جس کے انصاف پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔

پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی ۔ اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر ۔ چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام
مردہ لادینی افکار سے افرنگ میں عشق ۔ عقل بے ربطیءِ افکار سے مشرق میں غلام

نوٹ ۔ یہاں مدرسہ سے مطلب مروّجہ تعلیمی ادارے یعنی سکول کالج یونیورسٹی سب ہیں

ہوشیار۔ پاکستان ترقی کی راہ پر دوڑرنے لگا

کل یعنی اکیس مئی کو ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان والوں اور دیگر این جی اوز والوں نے لاہور میں مخلوط واک کروائی جس میں نعرے لگائے گئے کہ عورتوں مردوں کی مخلوط دوڑوں کی اجازت دی جائے۔ کیا اسی وجہ سے امریکہ۔ یورپ اور جاپان ترقی کر گیا ہے ؟یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ملک میں جو اصلی جمہوریت نافذ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اس کا پہلا اصول ہے کہ اپنے عوام کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے جسے چاہو جان سے مار دو جسے چاہو قید کر دو یا پکڑ کے امریکہ کے حوالے کر دو اور جسے چاہو پولیس سے ڈنڈے مرواؤ۔ اس لئے پچھلی دفعہ اگر عاصمہ جہانگیر کو ڈنڈے پڑے تو کوئی نئی بات نہیں۔ پہلے بھی بہت لوگوں کو پڑ چکے ہیں۔

جو بات سمجھ میں نہیں آتی وہ یہ ہے کہ کیا مردوں عورتوں کی مخلوط دوڑ سے معاشرہ یا قوم ترقی کی راہ پر دوڑنے لگیں گے؟ آخر اس دوڑ کا بندوبست کرنے کے پیچھے کیا راز تھا؟ کیا مخلوط محفلوں اور ناچ گانے سے قوم ترقی کر جائے گی یا تعلیم یافتہ بن جائے گی؟ آخر ان ڈراموں کا سوائے اس کے کیا مقصد ہے کہ کچھ لوگ ذاتی سرفرازی یا اپنے نام کو میڈیا میں زندہ رکھنے کے لئے ایسی حرکتیں کرتے ہیں یا پھر ان غیر ملکی اداروں کی خوشنودی کے لئے ایسا کرتے ہیں جن کے فنڈ لاکھوں ڈالر انہوں نے ہڑپ کئے ہوتے ہیں۔

اگر ان ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان والوں اور دیگر این جی اوز والوں کو واقعی مظلوموں سے ہمدردی ہے تو جو فنڈز انہیں مختلف غیر ملکی اداروں سے ملتے ہیں ان کو فضول جلوسوں۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں پارٹیوں اور ناچ گانا کرنے کی بجائے۔ لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے لئے دو چار سکول اچھے معیار اور کم فیس والے کیوں نہیں کھول دیتے؟ اگر مال خرچ نہیں کر سکتے تو جن سکولوں کالجوں میں اساتذہ کی کمی ہے ان میں سے ہر ایک وہاں باقاعدگی سے کوئی مضمون پڑھا دیا کرے۔

جن مولویوں کے خلاف یہ نام نہاد آزاد خیال لوگ ہر وقت زہر اگلتے رہتے ہیں ان میں یہ وصف تو ہے کہ کچھ مفت اور کچھ معمولی مشاہرہ کے عوض مدرسوں میں یتیم اور نادار بچوں کو کم از کم قرآن شریف اور اردو کی تعلیم دیتے ہیں اور کئی مدرسوں میں حساب۔ سائنس اور انگریزی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔

علامہ اقبال نے شاید ان آزاد خیالوں کے متعلق ہی کہا تھا
ہاتھوں سے اپنے دامن دنیا نکل گیا ۔۔۔ رخصت ہوا دلوں سے معاد بھی
قانون وقف کے لۓ لڑتے تھے شیخ جی ۔ پوچھو تو۔وقف کے لۓ ہے جائیداد بھی

سر منڈاتے ہی اولے پڑے

میرے والد (اللہ جنت عطا کرے) کا کوئی بھائی نہیں تھا۔ میں دو بہنوں کے بعد پیدا ہوا اور بڑی قدر و قیمت پائی لیکن میں ابھی ایک سال کا بھی نہیں ہوا تھا کہ بخار میں مبتلا ہوا۔ سب سے سینئر ڈاکٹر کا علاج مگر بخار اترتا نہ تھا اور میں اتنا کمزور ہو گیا کہ ہڈیوں پر صرف کھال ہی رہ گئی۔ پھر کہیں واضح ہوا کہ ٹانگ جہاں دھڑ سے ملتی ہے وہاں کوئی ابھار ہے جو کہ زہرباد (ایبسیس) کہلاتا ہے۔ جان بچانے کے لئے اس کی جراحی ضروری تھی سو کی گئی مگر جسم پر گوشت نہ ہونے کی وجہ سے زخم بھر نہیں رہا تھا چنانچہ ڈاکٹروں کی کانفرنس ہوئی۔ انہوں نے میرے لواحقین کو تو اللہ سے دعا کرنے کو کہا اور مجھے آپریشن تھیئٹر میں لے گئے۔ وہاں لوہے کی ایک سلاخ گرم کر کے زخم پر لگائی۔ سمجھ لیں کیا ہوا ہو گا۔ آپریشن کی جگہ جل گئی۔ بات وہی ہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون مار سکتا ہے۔ میں آج آپ کے سامنے اس کا ثبوت ہوں۔ البتہ جس جگہ گرم سلاخ لگی تھی وہاں گوشت نہیں بن سکا اور ایک کھڈا موجود ہے مگر اس کی وجہ سے مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔

سب کچھ دیا ہے اللہ نے مجھ کو ۔۔۔ میری تو کوئی بھی چیز نہیں ہے
یہ تو کرم ہے فقط میرے اللہ کا ۔۔۔ مجھ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے

یاد داشت

اسلام علیکم قارئین !جیسا کہ اوپر تحریر ہے اس بلاگ میں نام تعلیم پیشہ اور تجربہ کے علاوہ فرائض اور ذمہ داریاں (صرف میری نہیں آپ کی بھی) لکھی جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قارئین بھی اپنے تجربات تحریر کریں گے۔ یعنی کوئی واقع جس سے انسانیت ظاہر ہوتی ہو یا انسانیت کا سبق ملتا ہو۔ آپ تبصرہ کے طور پر لکھئے۔ میں ان واقعات کو مین پوسٹ میں لے آؤں گا۔

ایسا کرنا

اب کے سال کچھ ایسا کرنا
اپنے پحھلے بارہ ماہ کے
دُکھ سُکھ کا اندازہ کرنا
سنہری یادیں تازہ کرنا
سادہ سا اک کاغذ لے کر
بھُولے بَسرے پَل لکھ لینا
اپنے سارے کل لکھ لینا
پھر بیتے ہوئے ہر اِک پل کا
اپنے گذرے اِک اِک کل کا
اِک اِک موڑ کا احاطہ کرنا
سارے دوست اکٹھے کرنا
ساری صُبحیں حاضر کرنا
ساری شامیں پاس بُلانا
اور علاوہ اِن کے دیکھو
سارے موسم دھیان میں رکھنا
اِک اِک یاد گمان میں رکھنا
پھر اِک محتاط قیاس لگانا
گر تو خوشیاں بڑھ جاتی ہیں
پھر تم کو میری طرف سے
آنے والا یہ سال مبارک
اور اگر غم بڑھ جائیں تو
مت بیکار تکلّف کرنا
دیکھو پھر تم ایسا کرنا
میری خوشیا ں تم لے لینا
مجھ کو اپنے غم دے دینا

اسماء کی ای میل بابت بن مانس یا آدمی ۔ اور اس کا جواب

میرا ارادہ تھا کہ اس کھاتہ کو اردو ہی میں رکھوں گا مگر ایک تو اسماء نے انگریزی لکھ بھیجی دوسرے میرا جواب ذرا لمبا ہو گیا اور میری اردو لکھنے کی رفتار ابھی بہت سست ہے دیگر میں نے محسوس کیا ہے کہ بہت سے اردو بلاگ رکھنے والے اور پڑھنے والے صحیح طرح اردو نہیں جانتے۔ چنانچہ جواب بھی انگریزی میں لکھ دیا۔ اصول کی خلاف ورزی پر معذرت خواہ ہوں۔

Assalamo alaykum w.w.!
Well, as far as comment to ur post about evolution is concerned, i would surely give a detailed answer as my papers would end on 27th :)
Well, i was just wondering do u have any Ahmadi in ur social circle? If yes, then U can ask him for a book
“Revelation, Rationality, Knowledge and Truth” By: Hadhrat Mirza Tahir Ahmad. If you can borrow this book, i’m sure u’ll be greatly delighted to read the book.
Wassalam Take care
Allah Hafiz
ASMA

My Reply

Thank you for your e-mail and your nice guidance on recommending a book. By chance I have already read (not the recommended book but) many books that describe views of people who call themselves Ahmedia. The first discussion I had about it was in 1955 with a student who was Ahmedia. In my young age (including college life), I have been writing articles effectively refuting false claims of the so-called Ahmedia community.

You must be knowing the name of Roshan Din Tanvir who remained editor of Al-Fazal the news paper of your community. I lived for a month with his one son and three daughters at 3-Maclagen Road, Lahore in 1953 or so. In those days Roshan Din Tanvir was at Rabwah. The adjoining apartment was office of Al-Fazal and library. I had access to the library. So I am one of the very few Muslims in Pakistan who were lucky to have that opportunity. There-after Allah was kind to provide me chance to know more about beliefs of followers of Mirza Ghulam Ahmed through my Ahmedia friends at Engineering College, Lahore.

From that study: I know that your community does not believe that Hazrat Adam, AS, was the first human being but only the first Nabi saying that humans were already there. Also, your community does not believe that Hazrat Eisa, AS, was lifted to heavens but believes that he died and is buried some-where in Kashmir.

I also know something that you may not be knowing that nearly all the followers of Mirza Ghulam Ahmed signed a memorandum and sent that to Ruler of Great Britain in early 1947 which stated that followers of Mirza Ghulam Ahmed were not of the same belief as followers of Muhammad Ali Jinnah, as such should be counted as separate community and Qadian (Gurdaspur) should be given to them like Vatican City. This effort resulted in changing of demarcation line of India and Pakistan, and Gurdaspur was given to India because subtracting the followers of Mirza Ghulam Ahmed from the Muslims and adding them to non-Muslims, Muslim majority of Gurdaspur became marginal and eased British Rulers hands to favour Jawahar Lal Nehru who was supported by wife of Viceroy, Lord Mount Batten. This clever action of followers of Mirza Ghulam Ahmed proved cancerous for Pakistan in the form of Jammu & Kashmir dispute.

Quaid-i-Azam was fully confident that state Jammu & Kashmir will even geographically be part of Pakistan because it would be surrounded by Pakistan territory. It was a shock to every Muslim of India when a few days after 14th August, 1947, Redcliff award (of partition) was announced and that showed Gurdaspur (a Muslim Majority area) in India. The result was that India entered her armed forces in to Jammu & Kashmir through Gurdaspur.

Having done all this, I fail to understand, why followers of Mirza Ghulam Ahmed came over to Pakistan and what their leaders Tahir and the next have been doing sitting in London, something like Altaf Hussain?