Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

طالبان اور پاکستان ۔ پیش لفظ

مجھے 23 جون 2008ء کو محمد سعد صاحب کا مندرجہ ذیل برقیہ ملا
میں افغانستان اور طالبان کے ماضی ۔ ان کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں ۔ اس کے علاوہ یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ آج کل طالبان پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ کہاں تک درست ہیں ۔ اور اگر درست نہیں تو ان کی حقیقت کیا ہے ۔ کیا آپ میری کچھ رہنمائی کر سکیں گے؟ اگر اس سلسلے میں بلاگ پر ایک تحریر ہو سکے تو اور بھی اچھا ہے کہ کئی دوسرے لوگ بھی پڑھ لیں گے ۔ آپ کو تنگ کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس کی کہ میں نے سوچا کہ آپ کو ایسی بہت سی باتیں معلوم یا یاد ہونگی جو آج کل مغربی میڈیا کی مہربانیوں سے پسِ منظر چلی گئی ہیں ۔ امید ہے کہ آپ برا نہیں مانیں گے

محمد سعد صاحب کا شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا گو مطالبہ ایک کتاب لکھنے کا کر دیا گیا ۔ میں انتہائی اختصار کے ساتھ صرف اُن لوگوں کے پسِ منظر اور کردار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کروں گا جن کو طالبان کا نام دیا گیا ہے ۔ لیکن پھر بھی ایک نشست میں سب لکھنا نہ صرف میرے لئے مشکل ہو گا کیونکہ ذاتی مجبوری کے تحت میں زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتا بلکہ قارئین پر بھی اسے یکمُشت پڑھنا گراں گذرنے کا اندیشہ ہے ۔

کسی زمانہ میں موجودہ پورا افغانستان ۔ ایران کا جنوبی حصہ پاکستا ن کا صوبہ سرحد ۔ ریاست جموں کشمیر مع شمالی علاقہ جات اور پورا پنجاب دہلی سمیت ایک مسلم سلطنت ہوا کرتی تھی لیکن مسلسل غیرملکی سازشوں اور اندرونی ناچاقی نے اس عظیم سلطنت کا شیرازہ بکھیر دیا

دیگر جنوب مشرقی افغانستان اور شمال مغربی پاکستان میں رہنے والے لوگوں کی تاریخ ایک مسلسل جدوجہد کی داستان ہے ۔ ان لوگوں نے کبھی جبر کی حکمرانی کو نہیں مانا ۔ وسائل کم ہونے کی وجہ سے یہ لوگ مالدار نہیں ہوتے لیکن بڑے دل کے مالک ہوتے ہیں ۔ زرک خان اور اِیپی فقیر اسی علاقہ میں پیدا ہوئے جنہوں نے انگریزوں کو سالہا سال تگنی کا ناچ نچائے رکھا اور ان دونوں کو ان کی انسان دوست عادت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دھوکہ دہی سے گرفتار کیا گیا ۔

فی زمانہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں قدیم زمانہ سے جس پودے کی کاشت انسانی صحت کیلئے مفید بیج خشخاش یا خشخش حاصل کرنے کیلئے کی جاتی تھی ۔ انگریز سائنسدانوں نے اس پودے سے نشہ آور جنس افیون بنانے کی ترکیب ایجاد کی جس کے متعلق میں 13 دسمبر 2005ء کو لکھ چکا ہوں جس کا مختصر خُلاصہ یہ ہے :
”اٹھارہویں صدی میں سبز چائے نے انگریزوں کے بنیادی مشروب ایل یا آلے کی جگہ لے لی ۔ انیسویں صدی کے شروع تک سالانہ 15000 مِٹرک ٹن چائے چین سے انگلستان درآمد ہونا شروع ہو چکی تھی ۔ انگریز حکمرانوں کو خیال آیا کہ چین تو ہم سے بہت کم چیزیں خریدتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے ۔ انہوں نے افیون دریافت کی اور چینیوں کو افیون کی عادت ڈالی جو کہ چائے کے مقابلہ میں بہت مہنگی بھی تھی ۔ پوست کی کاشت چونکہ ہندوستان میں ہوتی تھی اس لئے ہندوستان ہی میں افیون کی تیاری شروع کی گئی ۔ یہ سازش کامیاب ہو گئی ۔ اس طرح انگریزوں نے اپنے نقصان کو فائدہ میں بدل دیا ۔ انگریزوں کی اس چال کے باعث چینی قوم افیمچی بن گئی اور تباہی کے قریب پہنچ گئی“ ۔

بیسویں صدی میں پوست کے اسی پودے سے یورپی سائنسدانوں نے ہیروئین بنائی اور اس کے کارخانے افغانستان کے دشوار گذار پہاڑی علاقوں میں لگائے ۔ اِن کارخانوں کی معمل [laboratories] یورپی ممالک سے بن کر آئی تھیں ۔ یہ کاروائی دراصل اس علاقے کے صحتمند لوگوں کے خلاف ایک سازش تھی جس طرح کہ چینیوں کے خلاف سازش کی گئی تھی لیکن اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ خطرناک نشہ آور مادہ کی مقامی منڈی میں کوئی خاص مانگ نہ ہوئی اور اس کی ترسیل یورپ اور امریکہ کی طرف ہونے لگی ۔ جب امریکہ کو اس خطرہ کا احساس ہوا تو اُنہوں نے پوست کی کاشت پر بین الاقوامی طور پر پابندی لگانے کی مہم شروع کر دی ۔ جس کے نتیجہ میں اس علاقہ کے لوگ ایک سستے اور آسان نُسخہِ صحت خشخاش سے محروم ہو گئے ۔ لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ جب افغانستان پر مُلا عمر کا حُکم چلتا تھا تو ہیروئین کی افغانستان میں پیداوار صفر ہو گئی تھی اور اب جبکہ وہاں امریکا کا حُکم چلتا ہے دنیا میں ہیروئین کی کُل پیداواری مقدار کا 70 فیصد سے زائد افغانستان میں تیار ہو رہی ہے ۔

ایسا کیوں ؟

عیسائی راہبہ [Nun] سوائے چہرے کے اپنا سارا جسم کپڑوں میں ڈھانپ کر رکھے تو وہ قابلِ احترام ہے کیونکہ وہ پُجاری ہے
اگر کوئی مسلمان عورت اپنے دین کی پیروی میں اپنے جسم کو کپڑوں سے ڈھانپے تو اُسے مظلوم گردانا جاتا ہے

جب یہودی داڑھی رکھے تو یہ اُس کا مذہبی فریضہ کہا جاتا ہے
مسلمان داڑھی رکھے تو اُسے انتہاء پسند کہا جاتا ہے

اگر عیسائی یا یہودی عورت بچوں اور دوسرے گھریلو کاموں کی دیکھ بھال کیلئے گھر پر رہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر کو بنانے کیلئے قربانی دے رہی ہے
جب مسلمان عورت اسی مقصد کیلئے گھر پر رہے تو اُسے قید سے آزاد کرانے کی اشتہار بازی کی جاتی ہے

اگر عیسائی یا یہودی کسی کو قتل کر دے تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے اور اس کا عیسائیت یا یہودیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
اگر مسلمان کے ہاتھوں قتل ہو جائے تو موردِ الزام اس کا دین اسلام ٹھہرایا جاتا ہے

وجودِ زَن سے

یہ دَور اشتہار بازی کا ہے جسے انگریزی میں پروپیگنڈہ کہتے ہیں اور اس کا جدید نام کسی حد تک انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی ہو سکتا ہے ۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تین صدیاں قبل اشتہاربازی کی بجائے لوگ یا قومیں اپنے ہُنر یا طاقت سے اپنا سِکہ منواتے تھیں ۔ یورپ میں جب یہ خیال اُبھرا کہ صرف حقائق کے سہارے دوسروں کو متأثر کرنا اُن کے بس کا روگ نہیں رہا تو آزادیِ نسواں کے ساتھ ساتھ اشتہار بازی کی صنعت معرضِ وجود میں لائی گئی ۔ اشتہاربازی کا بنیادی اصول حقائق کی وضاحت کی بجائے یہ رکھا گیا کہ اتنا جھوٹ بولو اور اتنی بار بولو کہ کوئی اس کا دس فیصد بھی درست مان لے تو بھی فائدہ ہی ہو ۔

موجودہ دور کی اشتہاربازی نے ٹی وی کی مدد سے اپنے گھروں میں بیٹھے لوگوں کے ذہنوں کو اپنا غلام بنا لیا ہے ۔ نتیجہ صرف یہی نہیں کہ ایک روپے کی چیز 5 یا 10 روپے میں بِک رہی ہے اور لوگ دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں بلکہ بقول ایک مدبّر سربراہِ خاندان ۔ اُنہیں خالص دودھ میسّر ہے لیکن اس کے بچے کہتے ہیں کہ یہ دودھ مزیدار نہیں اور ٹی وی پر سب سے زیادہ اشتہار میں آنے والے ناقص دودھ کو پینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے

آمدن برسرِ موضوع ۔ مجھ سے پچھلی نسل کے کسی شاعر نے آدھی صدی سے زیادہ ماضی میں نجانے کس ترنگ میں آ کر کہا تھا

وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ

کسی اور نے کچھ سمجھا یا نہیں سمجھا ۔ ہمارے وطن میں اشتہار بنانے والوں نے اسے خُوب سمجھا اور اشتہاروں میں عورت کی شکل نظر آنے لگی ۔ جب عورت کا رنگ اخباروں میں بھرا جا چکا تو ٹی وی نے جنم لے لیا ۔ پھر کیا تھا ۔ نہ صرف عورت کی شکل بلکہ اس کے جسم کی دل لُوٹ لینے والی حرکات کا بھی رنگ بھرنا شروع ہوا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ اشتہاری عورت ۔ معاف کیجئے گا ۔ اشتہار میں آنے والی عورت کا لباس اُس کے جسم کے ساتھ چِپکنے لگا ۔ پھر لباس نے اختصار اختیار کیا اور عورت کے جسم کا رنگ ناظرین کی آنکھوں میں بھرا جانے لگا ۔ ٹی وی سکرین سے عورت کا رنگ بڑے شہروں سے ہوتا ہوا قصبوں اور دیہات میں پہنچنے لگا ۔

پچھلے سات آٹھ سال میں حکومتی سطح پر روشن خیال ترقی قوم کی منزلِ مقصود ٹھہرا کر پُورے زور شور سے مادر پِدر آزاد معاشرہ قائم کرنے کی دوڑ لگا دی گئی ۔ کائنات میں عورت کا رنگ بھرنے کیلئے نِت نئے ڈھنگ نکالے گئے ہیں ۔ عورت اور مرد کا اکٹھے جذبات کو اُبھارنے والے ناچ ناچنا ۔ ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑخانی کرنا ۔ اور پھر اس سے بھی اگلی منزل شروع ہوئی کہ مرد کا عورت کو اُٹھا کر ہوا میں لہرانا یا گلے لگانا بھی کائنات میں رنگ بھرنے کا ایک طریقہ قرار پا گیا ۔

بیچاری عورت کھیل تماشہ تو بن گئی مگر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی مقرر کردہ تحریم تو ایک طرف اپنی جو عفّت تھی وہ بھی کھو بیٹھی ۔

ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں ۔ اللہ ہمیں مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ شیطان کی یلغار سے بچائے اور سیدھی راہ پر چلائے ۔ آمین ۔

پردہ سِرکنا شروع

انسان کو جب کسی وجہ سے اللہ تعالٰی اقتدار دے دیتا ہے تو بہت سے ایسے ہیں جو خود کو ہی خدا سمجھنے لگتے ہیں ۔ موجودہ دور میں اِن میں سے ایک امریکہ کا صدر بُش ہے اور وطنِ عزیز میں پرویز مشرف جو بُش کا غلام بن کر اپنے آپ کو پاکستان کا خدا سمجھ بیٹھا ہے ۔ لیکن مشِیّت ایک ایسی چیز ہے جو بالآخر حقائق سے پردہ اُٹھا دیتی ہے ۔

لگتا ہے کہ ایسا ہی عمل پرویز مشرف کے سلسلہ میں شروع ہو جکا ہے ۔ کچھ دن قبل وطنِ عزیز کے مایہ ناز سائنسدان انجنئر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پردہ تھوڑا سا سرکایا تھا کہ پرویز مشرف نے ان پر سے پابندیاں اُٹھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن پورہ نہیں کیا ۔ ساتھ ہی اُن کے دیرینہ دوست نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر پابندیوں کے خلاف دعوٰی دائر کردیا جس کی سماعت شروع ہو چکی ہے ۔ اب بات مزید کچھ آگے بڑھی ہے

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا کہ اُن کا پی ٹی وی پر اعتراف خوف سے نہیں بلکہ ملکی مفاد میں تھا کیونکہ ان سے کہا گیا تھا کہ ملک پر بمباری کر دی جائے گی اگر آپ نے یہ جرم اپنے سر نہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا آدمی جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے اسلئے اب وقت ہے کہ حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں ۔ اُنہوں نے واضح کیا اُن کی رپورٹ حمود الرحمان رپورٹ کی طرح چھُپی نہیں رہے گی بلکہ قوم حقیقت جان جائے گی کیونکہ انہوں نے سب کچھ اپنے بیوی بچوں کو بتادیا ہے

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق صدر مشرف وہی کچھ کر رہے ہیں جو امریکا چاہ رہا ہے ۔ امریکا کا منصوبہ ہے کہ 2015 تک پاکستان کو تقسیم کر دیا جائے ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یہ بھی کہا کہ آئی اے ای اے عالمی ادارہ نہیں بلکہ امریکا اور یہودیوں کا مشترکہ ادارہ ہے ۔

اس سوال کے جواب میں کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ؟ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ میرا اس پر ایمان ہے کہ جو رات قبر میں آنا ہے وہ باہر نہیں ہو سکتی ۔ مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا ۔

کی موجودگی میں بڑے پیمانے پر جو اسلحہ خریدا جا رہا ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ اس اسلحے کی ایٹمی اسلحے کے سامنے کچھ نہیں ۔ لوگ صرف کمیشن کمانے کے لئے یہ اسلحہ خرید رہے ہیں۔

وقتِ دعا

آج پی سی او ججوں نے نواز شریف کو الیکشن کیلئے نا اہل قرار دے دیا ۔

یہ فیصلہ نواز شریف کے سپورٹروں کیلئے تو بُراہے ہی لیکن اس سے بڑھ کر پورے ملک کیلئے بُرا ہے کیونکہ اس وقت نواز شریف کی جماعت قومی سطح دوسری سب سے بڑی جماعت ہے اور اس جماعت کے ساتھ تمام وکلاء ۔ سِول سوسائٹی ۔ تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی ملک میں انصاف قائم کرنے کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

ان باقی گروہوں کی آواز اسمبلی میں اُٹھانے والی جماعت مسلم لیگ نواز ہی ہے اور اعلٰی ترین سیاسی سطح پر انصاف کا مقدمہ نواز شریف ہی لڑ رہا ہے ۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ اس فیصلہ کا جھٹکا ان سب گروہوں کو لگے گا ۔

اگر یہ سب گروہ سڑکوں پر نکل آئے تو پھر [خاکم بدہن] ہمارے ملک کا بہت نقصان ہو سکتا ہے ۔ اس لئے دعا ہے کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی اس مسئلہ کو بخیر و خوبی سُلجھا دے ۔

ایک بات جو اس فیصلہ سے کھُل کر سامنے آ گئی ہے یہ ہے کہ پی سی او کا حلف اُٹھانے والے جج قابلِ اعتبار نہیں ہیں ۔

حِکمت

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ درست آدمی یا راستہ کی تلاش میں ہمارا واسطہ غلط قسم کے آدمی سے پڑ جاتا ہے ۔

شاید یہ اس لئے ہوتا ہے کہ جب ہم درست آدمی سے ملیں یا صحیح راستہ کو پا لیں تو ہم اس کی قدر و منزلت کو پہچان سکیں
اور یہ نعمت عطا کرنے والے کا صحیح طور شکر ادا کریں

میری کمزوریوں سے فائدہ

ہفتہ بھر میں بیمار کیا رہا جوانوں نے اُدھم مچا دیا اور دھڑادھڑ ایک دوسرے کو نتھی کرنے لگے ۔ اور مجھے شاید پنساری کی دُکان کا لفافہ یا سرکاری دفتر کا خط سمجھ لیا کہ سب نے نتھی کرنا شروع کر دیا ۔ اتنی گرمی میں میری کمزوری کو دُور کرنے کیلئے بڑا سا میٹھا تربوز بھیجنے کی بجائے 16 جون کو اُردو بلاگ والے قدیر احمد صاحب نے ۔ 17 جون کو ضمیمہ والے عارف انجم صاحب نے ۔ 19 جون کو ابو شامل صاحب نے اور 20 جون 2008ء کو اکرام صاحب نے حُکم صارد کیا کہ میں بچوں کے مندرجہ ذیل کھیل میں ملوّث ہو جاؤں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک صاحب نے اغواء کاروں کی طرح دھمکی دی “پولیس کو مطلع کرنے کی کوشش نہ کیجئے اور خاموشی سے ٹیگنگ کے مطالبات پر عمل کر ڈالئے”۔ اسے کہتے ہیں کمزوریوں سے فائدہ اُٹھانا

بقول علّامہ اقبال صاحب ۔ “برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر ”

قوانین
1 ۔ کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے ۔
جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے ۔2 ۔
3 ۔ سوالات کے آخر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے ۔

سوالات اور جوابات

1 ۔ اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟
جواب ۔ میں گھر میں جرابیں صرف سردیوں میں پہنتا ہوں

2 ۔کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟
جواب ۔ جی نہیں ۔ میں اس وقت لکھ رہا ہوں

3 ۔ سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟
جواب ۔ جب تک زندہ ہوں کھاتا رہوں گا ۔ آخری کونسی ہو گی صرف اللہ جانتا ہے ۔

4 ۔ سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
جواب ۔ یاد نہیں ۔ غیر اہم چیز کو پچیس تیس سال یاد رکھنا ضروری نہیں سمجھتا

5 ۔ آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟
جواب ۔ نیکی کر دریا میں ڈال ۔ اللہ بخشے میرے دادا جان کہا کرتے تھے جن کا انتقال 1955ء میں ہوا

6 ۔ کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟
جواب ۔ کون سے 12 بجے ؟ امریکہ کے ۔ پاکستان کے یا میرے ؟

7 ۔ کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
جواب الف ۔ زندوں میں ۔ ایسے شخص کو ملنا چاہتا ہوں جو اتنا خود دار ہو کہ ظالم حاکم کے سامنے کلمہ حق بلاتأمل کہہ دے ۔
ایک طالب عِلم ذہن میں آ رہا ہے جس نے مئی 2006ء کو کنوینشن سینٹر اسلام آباد میں قوم کو خودی کا راستہ دکھایا تھا ۔ جامعہ علوم الاسلامیہ العالمیہ ۔ بنوری ٹاؤن ۔ کراچی کا طالبعلم سیّد عدنان کاکاخیل ۔
اس کے بعد 18جون 2008ء کو اسلام آباد کے جلسہ تقسیم اسناد میں ہاورڈ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم سرمد خُرم نے ایک بار پھر خودی کی مشعل جلائی ہے ۔ اللہ کرے اب تیزی سے مشعل سے مشعل جلتی جائے اور خودی کا ایک کارواں بن جائے ۔

جواب ب ۔ مُردوں میں ۔ دعا ہے اور سب قارئین سے بھی دعا کی استدعا ہے کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی میری خطائیں معاف کر کے مجھے جنّت میں جگہ دے دے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا دیدار نصیب ہو جائے اور پھر اسی وجہ سے اپنی والدہ کا بھی ۔

8 ۔ غصہ میں اپنے آپ کو پُرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟
جواب ۔ غُصہ ہی تو ہے جو مجھے آتا نہیں اور اگر کبھی آ جائے تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھتا ہوں

9 ۔ فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
جواب ۔ کسی بہن بھائی سے ہوئی ہو گی

10 ۔ آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟
جواب ۔ جس دن مجھے سب چہرے حقیقی بشاش نظر آئیں ۔
یا اللہ ۔ میری زندگی میں وہ گُمشدہ دن پھر لوٹ آئے ۔

11 ۔ حسب قواعد میں نتھی کرتا ہوں‌ ان بلاگرز کو ۔
جو بلاگرز ابھی تک نتھی نہیں کئے گئے اُن سے التماس ہے کہ کم ازکم 5 اپنے آپ کو یہاں نتھی کر کے ممنون فرمائیں ۔ مجھے کسی کی ذرا سی دل آزاری بھی قبول نہیں اسلئے میں نے کسی کو نتھی نہیں کیا ۔