Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

حُکمرانوں کی مجبوریاں کب تک ہمیں ستائیں گی ؟

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 22 مئی کے اجلاس میں کافی گرما گرم بحچ کے بعد الزام عائد کیا گیا تھا کہ 2005 میں شوکت عزیز نے کراچی میریٹ ہوٹل سے ملحقہ ڈیڑھ کھرب روپے سے زائد مالیت کی 21 ایکڑ اراضی امریکی قونصل خانے کی تعمیر کیلئے مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب روپے میں 99 سال کی لیز پر دینے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اس اراضی کے 5 ایکڑ رقبے پر وزارت خوراک و زراعت کے زیر انتظام پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی لیبارٹریز اور دفاتر قائم تھے۔ یہ زمین 1950 سے 2000 تک وزارت خوراک و زراعت کے پاس لیز پر تھی جسے وزیراعظم شوکت عزیز کے حکم پر 2005 میں 99 سال کی لیز پر امریکی سفارتخانے کو دے دیا گیا تھا۔ اس زمین کی مارکیٹ قیمت 2 لاکھ 20 ہزار روپے فی مربع گز تھی مگر امریکی حکومت نے اس قیمتی زمین کی قیمت 9 ہزار روپے فی مربع گز ادا کرنے کی پیش کش کی تھی۔ وزیراعظم نے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے 15 ہزار روپے فی مربع گزکے حساب امریکیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

موجودہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو حکومت نے اس اراضی کی فروخت اور ڈیل سے متعلق تمام دستاویزات اور ریکارڈ پیش کر دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مئی 2008 میں یہ معاملہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو فیصلے کیلئے بھجوایا گیا۔ یوسف رضا گیلانی نے شوکت عزیز کے 19 مئی 2005 کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوکت عزیز کے طے کردہ نرخوں پر کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 21 ایکڑ اراضی امریکی سفارت خانے کو دینے کی منظوری دی۔

وزارت خوراک و زراعت کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہدایت کی ہے کہ سینٹرل کاٹن کمیٹی کے دفاتر کے قیام کیلئے مزید فنڈز کی فراہمی کی نئی تجویز منظوری کیلئے پیش کی جائے

بشکریہ ۔ جنگ

چور اُچکا چوہدری تے لُنڈی رن پردھان

یہ پنجابی کا مقولہ ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر چور حکمران ہو تو جرائم پیشی کو فیصلے دینے پر لگا دیا جاتا ہے ۔ اب پڑھیئے حالِ وطن

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کا ترلائی کا دفتر ہفتے کی صبح خلاف ورزی کرنے والے بااثر افراد کو نوٹس جاری کرنے کیلئے تیار تھا لیکن اسے اعلٰی حکام کی جانب سے ایسا کرنے سے روک دیا گیا ۔ اسکینڈل بے نقاب ہونے کے بعد اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چک شہزاد کے فارم ہاؤسز کو فراہم کئے گئے تمام کنکشنز کی جانچ پڑتال کرنے کیلئے ایک ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن جس شخص کو ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا، وہ وہی شخص ہے جس سے اس بات کی تفتیش ہونی چاہیے کہ یہ سب کچھ اس کی ناک کے نیچے ہونے کی اجازت کیوں دی گئی۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے مطابق متعلقہ ایس ای ٹیم کی قیادت کریگا۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ گھریلو صارفین کو زرعی ٹیرف دے کر غلط استعمال اور چک شہزاد میں بجلی کی چوری اسی ایس ای سیف اللہ جان، متعلقہ ایکس ای این رشید خٹک اور ایس ڈی او میاں جمیل کی نگرانی میں کئی برسوں سے جاری ہے۔ معاملے کی تحقیقات کیلئے کسی با اختیار اور غیر جانبدار ٹیم کے تقرر کی بجائے وہ لوگ جن سے تفتیش کرنے کی ضرورت تھی ان کو اپنے جرائم کیلئے تفتیش کار، جج اور جیوری مقرر کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی و بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف بھی ایک فارم ہاؤس کے مالک ہیں اور اس کا بہت زیادہ تجارتی استعمال ہوتا ہے جیسے شادی کی تقریبات کیلئے شادی ہال کرائے پر دینا۔ ذرائع نے کہا کہ اگر تمام فارم ہاؤسز کے کنکشن اور بلز کے ریکارڈ کی فزیکل سروے کے بعد چھان بین کی جائے تو یہ کہیں زیادہ بڑا اسکینڈل ہو سکتا ہے۔ تاہم اتھارٹیز معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں کیونکہ کسی خود مختار تفتیش کا مقصد نہ صرف ماضی کے بلکہ موجودہ حکومت کے بھی بااثر ترین افراد کو سزا دینا ہوگا۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں فوج کی قیادت میں واپڈا نے بجلی چوری کرنے کیخلاف مہم شروع کی تھی اور جب کہنہ مشق سیاستدان عابدہ حسین پر بجلی چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا تو یہ اخبارات کی سرخیاں بن گیا تھا۔

تحریر انصار عباسی ۔ بشکریہ ۔ جنگ

ہمارے چور حُکمران

ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز، جنہوں نے اسلام آباد سے ملحق چک شہزاد میں فارم ہاؤسز کے نام پر کروڑوں روپے کے محلات تعمیر کئے ہیں، اپنے بجلی کے بلوں پر سبسڈی ( رعایت ) حاصل کر رہے ہیں اور ان پر سستے ترین زراعتی نرخ لاگو کئے جاتے ہیں۔ دیگر انتہائی بااثر اور اچھے روابط کے حامل چک شہزاد کے مکین چند منتخب افراد بھی اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے حکام کی مدد سے سستے ترین نرخوں پر بجلی کے بلوں کی ادائیگیاں کر رہے ہیں جبکہ پوری دنیا یہ بات جانتی ہے کہ پرویز مشرف نے سبزیوں اور پولٹری کی افزائش کیلئے حاصل کئے گئے فارم پر جدید طرز کا مکان تعمیر کیا ہے اس کے باوجود اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے انہیں پاور کے سستے ترین نرخ ڈی۔ٹو(1) سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوئی ہے یہ ٹیرف زرعی ٹیوب ویلز اور آب پاشی کے لئے پمپس چلانے کے لئے دیا جاتا ہے اور حکومت ٹیکس دہندگان کی رقم سے اس پر زرتلافی بھی دیتی ہے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی فراخدلی کی وجہ سے پرویز مشرف کو صرف اپریل 2009 کے ماہ میں معمول کے صارف کے مقابلے میں 50 ہزار روپے کم کا بل دیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ کئی سال سے اس نرخ کے حساب سے ادائیگیاں کر رہے ہیں جو اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ذرائع کے مطابق غیر قانونی اور دھوکہ دہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ پرویز مشرف درجن بھر بااثر افراد میں سے ایک ہیں جو اپنے متعلقہ فارم ہاؤسز میں ڈی۔ ( 1 ) 2 ٹیرف کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور اسے یا تو رہائشی مقاصد کیلئے اور یا پھر صنعتی و تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ایسے بااثر افراد میں سے پرویز مشرف اور شوکت عزیز، جو ملک سے فرار ہو چکے ہیں، کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سینیٹر سیف الرحمن اور اعلیٰ پارلیمنٹرینز اور ریٹائرڈ دفاعی افسران شامل ہیں۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ، جو اسی علاقے میں رہائش پذیر ہیں، کو مفت ٹرانسفارمر اور پول فراہم کیا گیا ہے جو اس وقت کے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سربراہ بریگیڈئیر شہباز کے حکم پر دیا گیا تھا عام طور سے ہر فارم ہاؤس کو ٹرانسفارمر کیلئے 7 تا 10 لاکھ روپے ادا کرنا ہوتے ہیں جو ہر کنکشن کے لئے لازمی ہے تاہم یہ ریٹائر جنرل معمول کا گھریلو کنکشن استعمال کررہا ہے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ذریعے نے بتایا کہ (ر) جنرل پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کو بھی 2006 میں ٹرانسفارمر اور دیگر آلات مفت فراہم کئے گئے تھے اور جو سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو دئیے جانے والے ٹرانسفارمر سے بھی زیادہ مہنگے تھے۔ ان ذرائع نے بتایا کہ کچھ سینیٹرز بشمول ایک سابق چیئرمین سینیٹ، ایک ریٹائرڈ ایڈمرل‘ سابق بریگیڈئیر اور ایک کاروباری گروپ بھی رعایتی ٹیرف ڈی۔ٹو(1) کنکشن استعمال کر رہا ہے۔ شوکت عزیز کے معاملے میں اگرچہ معمول کی بجلی خرچ ہو رہی ہے لیکن (ر) جنرل پرویز مشرف اس غیر قانونی رعایت سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں اور یہ رعایت انہیں اس وقت دی گئی تھی جب وہ سربراہ مملکت تھے۔ اپریل کے مہینے میں ان کی بجلی کا بل جس کی ریڈنگ 2 مئی کو لی گئی ظاہر کرتا ہے کہ 5 ہزار 6 سو یونٹ استعمال کرنے کے باوجود ان کا بل 25 ہزار 8 سو 41 روپے ہے جو 4 روپے یونٹ کا فلیٹ ریٹ ہے۔ اس رقم میں 2 ہزار 7 سو 63 روپے کا جنرل سیلز ٹیکس بھی شامل ہے۔ مشرف کو اس بل پر 8 ہزار 10 روپے کی سبسڈی ( رعایت ) بھی دی گئی ہے جس کے بعد بل کم ہو کر 17 ہزار 8 سو 31 روپے ہو گیا ہے اور یہ صرف اس وجہ سے ممکن ہو سکا ہے کہ سابق جنرل کو خصوصی کنکشن دیا گیا تھا اگر کوئی عام گھریلو صارف 5 ہزار 6 سو یونٹ ماہانہ استعمال کرے تو اسے 73 ہزار 4 سو 98 روپے کا بل ادا کرنا ہو گا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرویز مشرف نے صرف ایک ماہ میں اس غیر قانونی کنکشن کی وجہ سے 50 ہزار روپے کی بچت کی ہے

تحریر انصار عباسی ۔ بشکریہ ۔ جنگ

چوروں کی دکان لاٹھیوں کے گز

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کراچی میں اربوں کی زمین کوڑیوں کے مول امریکی قونصلیٹ کو دینے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ کمیٹی نے 2005ء میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی طرف سے کراچی میریٹ ہوٹل سے ملحقہ 150 ارب روپے سے زائد مالیت کی 21 ایکڑ قیمتی اراضی امریکی قونصلیٹ کی تعمیر کیلئے مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب روپے میں 99 سال کی لیز پر دینے کے معاملہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی اے سی سیکرٹریٹ کو ہدایت کی کہ اس معاملہ کو وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی کے نوٹس میں لایا جائے اور وزارت خارجہ سے ایک ماہ میں ڈپلومیٹس کو زمینوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں قواعد و ضوابط کے حوالہ سے پوچھا جائے
بشکریہ ۔ جنگ

ایمان ۔ اتحاد ۔ نظم

عرضداشت ۔ کل ابھی یہ تحریر نامکمل تھی کہ غلطی سے شائع ہو کر اُردو سیّارہ پر ظاہر ہو گئی ۔ مگر بلاگ سے ہٹا دیئے جانے کے باعث قارئین پڑھ نہ سکے جس کیلئے معذرت خواہ ہوں ۔ اب پوری تحریر پڑی جا سکتی ہے

قائدِ اعظم محمد علی جناح نے 1946ء میں پاکستان کیلئے رائے شماری ہونے سے قبل ناگپور میں منعقد ہونے والی آل انڈیا مُسلم سٹوڈنٹس کنونشن میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ آپ کو میں ایک مقولہ [Motto] دیتا ہوں ۔ ایمان ۔ اتحاد ۔ نظم

قائد اعظم کی وفات کے کچھ دہائیاں بعد بلند آواز والے لوگوں نے اس مقولے کو اتحاد ۔ یقین ۔ تنظیم بنا دیا ۔ اُن کا استدلال تھا کہ یقین اتحاد سے پیدا ہوتا ہے جبکہ ساری دنیا کے مفّکر کہتے ہیں کہ اتحاد یقین یا ایمان سے پیدا ہوتا ہے ۔ بہرکیف دورِ حاضر میں ایمان کی جو حالت ہے وہ سب جانتے ہیں ۔ اکثر لوگ امریکا سے ڈرتے ہیں یا امریکا کی خوشنودی چاہتے ہیں ۔ انفرادی طور پر بھی طاقتور یا بارسوخ انسان سے ڈرتے ہیں ۔ اللہ سے نہ ڈرتے ہیں نہ انہیں اللہ کی خوشنودی سے کوئی سرو کار ہے

رہ گئی تنظیم تو فوجی کاروائی کے نتیجہ میں بے گھر ہونے والے بے قصور لوگوں کو متبادل جگہ اور خوراک مہیاء کرنے میں حُکمرانوں اور ان کے حواریوں نے جو دھماچوکڑی مچائی ہے ایسی بدانتظامی کا نمونہ شاید ماضی میں دنیا کے کسی بدترین حصہ میں بھی دیکھنے میں نہ آیا ہو ۔ حکومت اور اقوامِ متحدہ کا متعلقہ ادارہ مل کر بے گھر افراد کے 15 فیصد کو ابھی تک نہ خیمے ۔ نہ خوراک اور نہ دوسری ضروریات مہیاء کر سکے ہیں ۔ باقی شہروں کا کیا ذکر دارالحکومت پشاور میں پہنچنے والے ان بے گھر افراد کی حالت سب سے زیادہ ابتر ہے ۔ خوراک کی تقسیم کا حصول اتنا سُست ہے کہ لوگ پورا پورا دن قطار میں کھڑے رہتے ہیں کیونکہ اُن کی شناخت اور تقسیم صرف ایک نقطہ پر ہو رہی ہے اور بندوبست یہ ہے کہ فی خاندان دو تھیلے گیہوں اور ایک ڈبہ تیل کا دیا جاتا ہے ۔ جن لوگوں نے بالآخر گیہوں اور تیل وصول کر لیا وہ پریشان ہیں کہ اسے کیا کریں ۔ کیا وہ گیہوں کھا کر تیل پی لیں ؟ ہمیشہ سے ڈالروں پر پلنے والی نام نہاد این جی اوز کا وہاں پر کردار صرف اتنا ہے کہ کچھ وہاں تصاویر بنوا کر واپس چلے جاتے ہیں ۔ حُکمران اور دوسرے بڑے اہلکار بھی وہاں صرف تصاویر بنوانے جاتے ہیں ۔ سرکاری کیمپوں کی حالت یہ ہے کہ اتنی شدید گرمی میں ابھی تک بہت کم خیموں میں پنکھے دیئے گئے ہیں ۔ پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ خاص کر بچے اسہال میں مبتلاء ہو رہے ہیں ۔ بلند بانگ دعوے روزانہ کئے جا رہے ہیں

اس کے برعکس جو کیمپ دردمند لوگوں نے بنائے ہیں وہاں لوگوں کو بجلی کے پنکھوں سمیت سب کچھ مہیاء کیا گیا ہے ۔ ہمارے جو وفود امداد پہنچا کر آئے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ مقامی عام لوگوں نے جو کردار ادا کیا ہے اس کے بعد الخدمت فاؤنڈیشن [جماعتِ اسلامی والی] ۔ اُمہ ویلفیئر ٹرسٹ اور چھوٹی چھوٹی نجی قسم کی ویلفیئر سوسائٹیاں وہاں مصروفِ عمل نظر آتی ہیں ۔ سرکاری کیمپ بدنظمی کا مظہر تھے ۔ میڈیکل ٹیمیں زیادہ تر حکومتِ پنجاب کی ہیں ۔ کچھ نجی اور کچھ فوج کی بھی ہیں ۔ کل آئندہ کے لائحہ عمل پر بات ہو رہی تھی تو حکومتی بدانتظامی کا ذکر بھی آیا ۔ ایک صاحب جو ایک سال قبل تک پیپلز پارٹی میں ہوا کرتے تھے کہنے لگے “جن کا کوئی جلوس یا جلسہ یا دعوت کبھی بغیر بگھدڑ توڑ پھوڑ یا مارکٹائی کے نہیں ہوا وہ کیا جانیں انتظام کس بلا کا نام ہے ؟ ”

سب سے کم دولت والے صوبے بلوچستان نے بے گھر ہونے والے افراد کی مدد کیلئے 6 کروڑ روپیہ دیا ہے ۔ پنجاب نے 10 کروڑ روپیہ کے علاوہ میڈیکل ٹیمیں مع دوائیوں کے بھیجی ہیں ۔ پنجاب نے دونوں صوبوں میں بے گھر ہو جانے والے لوگوں کی میزبانی کی پیشکش بھی کی اور پنجاب میں ہزاروں بے گھر ہونے والے لوگ پناہ لے چکے ہیں ۔ صوبہ سندھ امداد کے بارے میں خاموش ہے شاید وہ بہت نیک لوگ ہیں اور اس مقولے کے پابند ہیں کہ ایک ہاتھ دے اور دوسرے کو پتہ نہ چلے ۔ سب سے بڑھ کر جو کام صوبہ سندھ نے کیا ہے یہ ہے کہ الطاف حسین کے کہنے پر متاءثرین کے سندھ میں داخلہ پر پابندی لگا دی ہے ۔ انسانی ہمدردی کے بلند بانگ دعوے کرنے والی ایم کیو ایم نے ایک ٹرک بھیجا تھا تو کئی دن صبح شام اس کی تشہیر کی جاتی رہی تھی ۔ اب جسقم کے ساتھ مل کر اپنے ہی پُرزور مطالبہ پر ہونے والی فوجی کاروائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے عام شہریوں کے سندھ میں داخلے کے خلاف ہڑتالیں کر رہے ہیں

کسے سچ سمجھیں یہ بتائے کوئی ؟

Updated at 1820 PST Jang 23-5-2009
اسلام آباد… وزیراطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ بے گھر ہونے والوں کیلئے پورا پاکستان کھلا ہے ۔کئی افراد صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ منتقل ہوچکے ہیں ۔ انہیں صرف رجسٹریشن کرانی ہوگی

Updated at 1830 PST Jang 23-5-2009
اسلام آباد…وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ سوات آپریشن کے متاثرین کو صوبہ سرحد تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ صوبہ سرحد سے باہر جانے والوں کو نہ 25 ہزار روپے امداد ملے گی نہ وہ بحالی کے منصوبے میں شامل ہوں گے