Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

گوشہ مار بندوق

گوشہ مار گن [Corner Shoot Gun] کے نام سے اسرائیل نے ایک ایسا جُگاڑ بنایا تھا جس میں ایک پستول نصب تھا ۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے عمارت کے کونے کی اوٹ میں کھڑے ہو کر 90 درجے پر عمارت کے ساتھ ساتھ آنے والا جو عام حالت میں نظر نہیں آتا کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ جب اسرائیل نے اس ہتھیار کا اعلان کرتے ہو ئے کہا کہ اسرائیل واحد ملک ہے جس کے پاس ایسا ہتھیار ہے تو پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں میری سابقہ فیکٹری جسے ویپنز فیکٹری کا نام اللہ کریم نے مجھ سے دلوایا تھا اور جس کی نشو و نما میں میری 13 سال کی دن رات کی محنت شامل ہے کے جوان انجنیئروں نے پیچھے رہنا گوارا نہ کیا اور صرف 6 ماہ کی محنت سے ایسی گوشہ مار گن بنائی جس میں پستول کی بجائے گن کو شامل کیا گیا ہے ۔ چنانچہ یہ پاکستانی گوشہ مار گن اسرائيل کی تیار کردہ گوشہ مار گن سے بدرجہا بہتر ہے ۔ دیکھئے اس گن کی وڈیو


مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ وہ فیکٹری جو پچھلی تقریباً دو دہائیوں سے خوابیدہ نظر آ رہی تھی اس نے اپنی ریت بحال کر لی ۔ وسط 1976ء میں میرے ملک سے باہر ایڈوائزر مقرر ہو جانے کے بعد ویپنز فیکٹری نے پہلے جرمن ایم پی 5 سب مشین گن اور پھر چائینیز ہیوی مشین گن 12.7 ایم ایم ڈویلوپ کی مؤخرالذکر اَینٹی ایئرکرفٹ رول میں بھی استعمال ہو سکتی ہے ۔ یہ دونوں پروجیکٹ 1976ء کے بعد 1984ء تک مکمل ہو چکے تھے

پاکستان آرڈننس فيکٹریز میں یکم مئی 1963ء کو ملازم ہونے پر مجھے سمال آرمز گروپ [Small Arms Group] میں بطور اسسٹنٹ ورکس منیجر تعینات کیا گیا اور میں جرمن رائفل جی ۔ 3 [Gewer G-3] کی منصوبہ بندی [planning] میں شریک ہو گیا ۔ ساتھ ساتھ مجھے بیرل ۔ بٹ ۔ فورآرم اور اسمبلی [Barrel, Butt, Fore-arm and Assembly] کی ڈویلوپمنٹ پيداوار اور شاپ [development, production and workshops] قائم [establish] کرنے کا کام دے دیا گیا ۔ جب وسط 1966ء میں جی ۔ 3 کی ڈویلوپمنٹ مکمل ہو کر ماس پروڈکشن [mass production] شروع ہو گئی تو جرمن مشین گن المعروف ایم جی 42 کا پروجیکٹ میرے ذمہ کر دیا گیا یعنی منصوبہ بندی ۔ ڈویلوپمنٹ اور پروڈکشن ۔ اس کی بیرل کے سوراخ کو اندر سے ہارڈ کروم پلیٹنگ [hard chrome plating] کی جاتی تھی جس سے اس کی کارآمد عمر 15000 راؤنڈ تک پہنچ جاتی تھی مگر یہ عمل خاصہ مہنگا تھا اور اس میں بنی بنائی بیرلز [Barrels] کا 15 سے 30 فیصد تک ضائع ہونے کا احتمال ہوتا تھا مگر مجبوری تھی کیونکہ بغیر کروم پلیٹنگ کے کارآمد عمر صرف 6000 راؤنڈ تھی ۔ جرمنی میں جو فرم پلیٹنگ کرتی تھی وہ ٹیکنالوجی بیچنے کیلئے تیار نہ تھی جو کسی صورت ہمارے وارے میں نہ تھا ۔ ہارڈ کروم پلیٹنگ سے جان چھڑانے کیلئے جرمن فرم جس سے ہم نے مشین گن 42 کا لائسنس لیا تھا وہ تین چار سال سے بیرل پر مختلف تجربات کر رہے تھے مگر کامیابی نہ ہو سکی تھی ۔ اللہ کی کرم فرمائی اور نصرت سے میں نے 1968ء میں پاکستان میں 2 ماہ کی محنت کے بعد بیرل کے سوراخ کا نیا ڈیزائن بنایا جسے پولی گون پروفائل بور [Polygon Profile Bore] کا نام دیا جس کے نتیجہ میں بیرل کی کارآمد عمر ہارڈ کروم پلیٹنگ کے بغير 18000 راؤنڈ ہو گئی ۔ ہم نے پولی گون بور والی کچھ بیرلز جرمن فرم کو بھیجیں ۔ جب انہوں نے اس کی ٹیسٹنگ کی تو ان کے ادارے کے سربراہ واہ چھاؤنی پہنچ گئے ۔ پاکستان آرڈننس فیکٹریز کے چیئرمین اُنہیں ساتھ لے کر ہماری فیکٹری میں پہنچے ۔ میں اس وقت ورکشاپ میں کام دیکھ رہا تھا ۔ وہ وہیں آ گئے اور جرمن سربراہ کے سامنے مجھے کہنے لگے “یہ آپ کو جرمنی لیجانے کیلئے آئے ہیں ۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ کے پاس تو مسٹر بھوپال جیسے کئی لوگ ہیں ۔ ہمارے پاس صرف ایک مسٹر اجمل بھوپال ہے اور آپ اُسے بھی چھیننا چاہتے ہیں ۔ آپ کا کیا خیال ہے ؟” میں نے ایکدم جواب دیا “آپ نے درست کہا ہے ان سے ۔ میں اپنا وطن چھوڑ کر نہیں جاؤں گا”۔ مجھے اس کام کا صلہ اپنے اطمینان کی صورت میں ملا ۔ نہ میں نے کوئی انعام لیا نہ کوئی سند ۔ البتہ میرا نام بابائے ویپنز رکھ دیا گیا

بچے

یونہی ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے کچھ بچوں کی باتوں نے ذہن میں آ کر مسکرانے پر مجبور کر دیا ۔ سوچا شاید قارئین بھی محظوظ ہوں

ایک خاتون نے اپنے بھائی سے کہا “دیکھو کوئی ایسی بات نہ کہنا کہ میرا دل بیٹھ جائے “۔ پاس تین چارسالہ بچہ بیٹھا تھا بولا “ماموں ۔ نہ ۔ امی کا دل سویا ہے اُٹھ کے بیٹھ جائے گا”

ایک خاتون سے اس کا ایک بیٹا کچھ مانگ رہا تھا اُس نہ کہا “تنگ نہ کرو”۔ چھوٹا بیٹا جو 3 سال کا تھا بولا “امی کو تنگ نہیں کرو ۔ کھُلا کرو ۔ کھُلا کرو”

ایک خاتون کا بھائی کئی سال بعد اسکے گھر آیا ۔ وہ باورچی خانہ سے آ کر بھائی کے ساتھ گپ لگانے لگ گئی ۔ کچھ دیر بعد باورچی خانہ سے پٹاخ پٹاخ کی آوازیں آنے لگیں ۔ وہ باورچی خانہ میں گئی تو اس کا ساڑھے تین سالہ بیٹا بڑی چھُری پکڑے چوکی پر مار رہا تھا ۔ اس نے اسے کہا “آؤ ماموں کو سلام کرو”۔ مگر بچہ باز نہ آیا ۔ اس نے بچے سے چھُری لینے کی کوشش میں کہا “یہ مجھے دو ۔ کس کو ذبح کرنا ہے”۔ بچہ بلا توقف بولا “ماموں کو”

میرا بڑا بیٹا زکریا ابھی تين سال سے چھوٹا تھا تو میں نے اُسے ایک لیگو سیٹ [Lego] لا کر دیا ۔ وہ اسے لے کر ڈرائنگ روم میں چلا گیا ۔ کوئی پندرہ منٹ بعد ڈرائنگ روم سے پٹاخ پٹاخ کی آوازوں کے ساتھ زکریا کی آواز آئی “گندھا بچہ ۔ میں نہیں کھيلتا”۔ میں ڈرائنگ روم میں پہنچا تو دیکھا کہ زکریا بہت غُصے میں ہے اور لیگو اِدھر اُدھر پھينک رہا ہے ۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگا “میں بناتا ہوں ۔ یہ گندھا ٹوٹ جاتا ہے”۔ میں نے کہا “اچھا میرے سامنے بناؤ” ۔ وہ کیا کرتا تھا کہ ايک گوٹ نيچے رکھتا اس پر کراس دوسری پھر کراس تیسری ۔ اونچا مینار بنانے کیلئے اس طرح لگاتا جاتا ۔ جب وہ اونچا ہوتا تو اور گوٹ لگاتے ہوئے ٹوٹ جاتا ۔ میں نے طریقہ سمجھایا کہ نيچے زیادہ گوٹیں لگائے پھر کم کرتا جائے ۔ اس طرح جب مینار بن کر کھڑا رہا تو زکریا خوش ہو گیا

میرے بہنوئی ہمیں ملنے واہ آئے ۔ میں گھر پر نہ تھا تو انہوں نے سوچا کہ میری بڑی بہن کو مل لیتے ہیں ۔ وہ زکریا کو جو اس وقت تقریباً تین سال کا تھا ساتھ لے گئے ۔ گھر قریب ہی تھا اسلئے پيدل ہی گئے ۔ زکریا سارا راستہ خاموش رہا ۔ واپس آتے ہوئے میرے بہنوئی نے زکریا سے کہا “آپ باتیں نہیں کرتے ۔ کیا بات ہے ؟” تھوڑی دیر بعد زکریا نے اُوپر کی طرف اشارہ کر کے کہا “وہ دیکھیں”۔ انہوں نے اُوپر دیکھا تو بجلی کی تاروں کے سوا کچھ نطر نہ آیا تو انہوں نے کہا “زکریا ۔ اُوپر کیا ہے ؟” زکریا بولا “تار پر مچھر بیٹھا ہے”

اُن دنوں ہم لبیا کے شہر طرابلس میں تھے ۔ میرا چھوٹا بیٹا تقریباً 3 سال کا تھا ۔ کہنے لگا “مجھے چاکلیٹ لینا ہے”۔ میں نے کہا “مجھے نہیں معلوم چکلیٹ کہا ملتی ہے”۔ کہنے لگا “فلاں سٹور میں”۔ میں نے کہا “مجھے معلوم نہیں یہ سٹور کہاں ہے”۔ جا کر پنسل اور کاغذ لے آیا اور ایک خانہ بنا کر کہنے لگا “یہ ہمارا گھر ہے نا”۔ پھر لکیریں لگاتا گیا اور بولتا گیا “یہاں سے باہر نکلیں پھر بائیں مُڑیں پھر داہنے مُڑیں پھر بڑی سڑک پار کریں پھر تھوڑا سا داہنی طرف جائیں ۔ یہ سٹور ہے ۔ اس کے اندر چلے جائیں پھر اِدھر جائیں پھر اُدھر تو یہاں پر چکلیٹ ہوتی ہے ۔ جا کر لے آئیں”۔ بیٹے نے میرے لئے کوئی گنجائش نہ چھوڑی تھی ۔ میں گیا تو چاکلیٹ عین اُسی جگہ تھی

میں 1964ء میں لاہور آیا تھا تو ایک دوست سے ملنے اسکے گھر گیا ۔ وہ کہنے لگا “کہیں باہر چلتے ہیں ۔ میری بہن آئی ہوئی ہے ۔ اس کے دو طوفان میل بچے ہیں وہ ہمیں سکھ سے نہیں بيٹھنے دیں گے” ۔ میں نے کہیں جانے سے انکار کر دیا اور اسے اپنے بھانجوں سے ملوانے کا کہا ۔ چند منٹ بعد وہ یہ کہہ کر باہر نکل گیا “میں ابھی آتا ہوں ۔ وہ ابھی کمرے میں ہیں تھوڑی دیر میں آ کر تمہاری طبیعت صاف کر دیں گے”۔ میں صحن میں چارپائی پر بیٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر بعد کمرے کا دروازہ کھُلا اور ایک چار پانچ سالہ بچے نے جھانکا ۔ اس کے بعد ایک تین چار سالہ بچے نے جھانکا ۔ یہ عمل چند بار دہرایا گیا تو میں نےمسکرا کر بچے کو ہاتھ کے اشارے سے بُلایا ۔ وہ آیا نہیں مگر واپس جانے کی بجائے دروازے میں کھڑا رہا ۔ پھر دوسرا بھی آ کر کھڑا ہو گیا ۔ پھر وہ ايک دوسرے سے دھکم پیل کرنے لگے ۔ اتنے میں میرا دوست واپس آ گیا ۔ میں نے اسے کہا “مجھے دو چار کاغذ دے دو” ۔ وہ مجھے ایک کاپی دے گیا ۔ میں نے اس میں سے ایک ورق نکال کر اس کی چڑیا بنائی اور ان بچوں کو دکھا کر کہا “میرے پاس آؤ ۔ میں یہ چڑیا آپ کو دوں گا”۔ مگر کوئی نہ آیا ۔ میں نے چڑیا چارپائی پر رکھ کر ایک اور چڑيا بنانا شروع کر دی ۔ ایک بچہ بھاگ کر آیا اور چارپائی پر پڑی چڑیا لے گیا ۔ دوسرے نے اس سے چھين کر مچوڑ دی ۔ وہ لڑنے لگے تو میں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا اور کہا “میں اور چڑیا بنا دیتا ہوں ۔ آپ دونوں کو بنا کر دوں گا”۔ جب میں نے دو چڑیاں بنا کر انہیں دکھائیں تو دونوں میرے پاس آ کر لے گئے اور کمرے میں چلے گئے ۔ تھوڑی دیر بعد میرے پاس آئے تو ایک تھوڑی مُچڑی ہوئی چڑیا مجھے دی ۔ میں نے اسے ٹھیک کر دیا ۔ اس کے بعد ان سے باتیں شروع کیں ۔ بعد میں اپنی کتابیں لانے کو کہا ۔ وہ دونوں قاعدے لے کر آ گئے ۔ مجھے اپنا سبق سنایا ۔ پھر میں آگے پڑھا رہا تھا کہ میرا دوست کھانے پینے کا سامان لئے نمودار ہوا ۔ دیکھتے ہی کہنے لگا “واہ شنا اجمل ۔ تم نے تو شیطانوں انسان بنا دیا”

اللہ کرے ہماری قوم میں صبر کا مادہ پیدا ہو جائے تو سارے شیطان انسان بن جائیں

انکشافات

پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے کہ

* بریگیڈیئر امتیاز کے انکشافات کا مقصد مشرف کے ٹرائل کو روکنا ہے
* آئی جے آئی غلام اسحق خان اور اس وقت کی نگراں حکومت نے بنائی تھی
* ضیاء الحق نے سندھی نیشنل ازم کو کاؤنٹر کرنے کیلئے ایم کیو ایم بنائی تھی
* این آر او کا فائدہ زرداری، ایم کیو ایم اور بریگیڈیئر امتیاز کو ہوا
* نوازشریف کا لانگ مارچ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بڑا ہنگامہ جو ہونے والا تھا وہ رُک گیا ۔ اس کے نتیجے میں نواز شریف کا قد اُونچا ہوگیا جو کہ حکومت کو پسند نہیں آیا ۔ جو سلسلہ ابھی شروع ہوا ہے یہ اس کا ردِ عمل ہے ۔ حکومت حزب اختلاف کو اپنی جگہ پر رکھنا چاہتی ہے
* حکومت نے کوئی فیصلہ کرلیا ہے کہ مشرف کا ٹرائل نہیں ہوگا اور آپ نے دیکھا ہے ایسی شرطیں لگادیں اسمبلی میں جائے گا جب پاپولر ورڈکٹ آئے گا اسمبلی کی طرف سے تو ان کا ٹرائل ہوگا اور آئین میں دوسری یہ بھی شق لگی ہوئی ہے، کسی کو مشرف کے ٹرائل کے لئے مقدمہ چلانے کے لئے حکومت کی مرضی کی ضرورت ہوتی ہے
* بریگیڈیئر امتیاز کے انکشافات والے معاملے کے پیچھے کون ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حکومت وقت اور ایم کیو ایم ہے ۔ ان کے ساتھ بریگڈیئر (ر) امتیاز جیسے لوگ ہیں ۔ ان کا صرف ایک مقصد ہے کہ اتنا دباؤ ڈالو کہ نواز شریف اینڈ کمپنی کو ٹرائل کی بات کرنے کی ہمت نہ ہو
* سیاسی جماعتوں میں پیسے تقسیم کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سلسلہ تو ہمیشہ ہوتا رہا ہے ۔ آئی ایس آئی کو یہ کام بھٹو صاحب نے 1975ء میں دیا تھا ۔ اُس وقت سے یہ کام ہو رہا ہے، پیسے بانٹے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیسوں کی تقسیم میں صرف ایک جماعت کے لوگ نہیں ۔ آٹھ نو جماعتوں کے لوگوں کو پیسے دیئے گئے تھے ۔ یہاں تک کہ اس وقت کے الیکشن سیل کو بھی پیسے دیئے گئے تھے اور میڈیا مینجمنٹ بھی اس کے اندر موجود ہے
* سانحہ بہالپور حادثہ نہیں تھایہ سبوتاژ کی کارروائی تھی۔ اس میں اندرونی اور بیرونی ہاتھ ملوث ہوسکتا ہے
* بینظیر بھٹو کے قتل میں وہی لوگ ملوث ہیں جو ضیاء الحق کے قتل میں ملوث تھے

تفصیل روزنامہ جنگ میں پڑھیئے

اے تے فیر ہے

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے چینی کی قیمت 40 روپے فی کلو مقرر کرنے کے بعدپنجاب حکومت نے صوبے بھر میں شوگر ملز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے اور ملز پر چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔ چھاپوں کے دوران کالونی شوگر ملز پھالیہ کا اسٹاک سیل کرکے 291305 بوری چینی قبضہ میں لے لی گئی ۔ پتوکی شوگر مل میں اسٹاک کی گئی 350000 بوری چینی کی نگرانی شروع کر دی گئی ہے ۔ راجن پور میں شوگر مل کے گودام پر چھاپا مار کر چینی کی تقریباً 300000 بوریاں تحویل میں لے لی گئیں ۔ جبکہ پنجاب کی بیشتر شوگرملوں کے باہر پولیس تعینات کردی گئی ہے ۔ رات دیر گئے رحیم یارخان کی پانچ،کوٹ ادو ،صادق آباد اور ننکانہ صاحب کی دو دو جبکہ بہاول پوراور بہاول نگرمیں ایک ایک شوگر ملز پر پولیس اہلکار مقرر کردیئے گئے ہیں

تازہ ترین
شوگر ملز کیخلاف پنجاب حکومت کے کریک ڈاوٴن کے پیش نظر ملز مالکان نے ہنگامی اجلاس آج دوپہر کو طلب کر لیا ہے ۔ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملز مالکان کے دباؤ میں نہیں آئے گی اور چینی 40 روپے فی کلو گرام سے زیادہ قیمت پر فروخت نہیں ہو سکے گی اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے شوگر ملوں کے گودام ایک بار پھر سیل کرنا شروع کردیئے ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے شوگر ملوں کے مالکان کو بات چیت کی دعوت دی تھی۔ مگر شوگر ملز مالکان نے سرکاری کارروائی پر احتجاج کے طور پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے مذاکرات سے انکار کردیا تاہم ڈیلر اور پرچون فروشوں کے علاوہ صوبائی وزرا اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق ملز مالکان آج دوپہرصورتحال کا جائزہ لیں گے
بشکریہ جنگ

صحت کا راز

غُصے کی حالت میں زبان دماغ سے زیادہ تیز چلتی ہے ۔ نتیجہ ظاہر ہے
غُصہ کے دوران ہر منٹ میں 60 خوشگوار سیکنڈ ضائع ہوتے ہیں جو کبھی واپس نہیں مل سکتے
سخت الفاظ سے کسی کی ہڈیاں تو نہیں ٹوٹتی لیکن دل ٹوٹ جاتا ہے
اگر دوسرے آپ کے خلاف بدخوئی کریں تو آپ کا دل ٹوٹ جائے گا
اسلئے ایسے رہیئے کہ کوئی آپ کے خلاف بدخوئی پر یقین نہ کرے

مسکرائیے اور دوسروں کو بھی مسکرانے کا موقع دیجئے

پرانے اخبارات کے کچھ تراشے

جنگ کراچی: 6جولائی 1992ء … بینظیر بھٹو نے کہا کہ اگر بہاریوں کو سندھ میں بسایا گیا تو اس سے جناح پور اور سندھو دیش کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کیلئے سندھ واٹر لو ثابت ہوچکا ہے اور ایسا شاید نواز شریف کیلئے بھی ہوسکتا ہے

جنگ کراچی: 18جولائی 1992ء … فوج کے ترجمان بریگیڈیئر ہارون نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ایم کیو ایم نے ایک علیحدہ وطن کا منصوبہ بنایا ہے

دی نیوز : 17 جولائی … بریگیڈیئر ہارون نے کہا کہ ایم کیو ایم کے منصوبے کے متعلق مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس موجود ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے دوران علیحدہ ملک کا نقشہ بھی برآمد کیا گیا

جنگ لاہور: 11 اکتوبر 1992ء … رپورٹر اظہر سہیل کی فائل کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آرمی کمان نے حکومت کو دستاویزی ثبوت پیش کئے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم جناح پور کے نام سے ایک علیحدہ ریاست بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس میں حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، کراچی اور بالائی سندھ کے وہ تمام علاقے شامل ہیں جو تیل سے مالا مال ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ہونیوالی کور کمانڈر میٹنگ میں اس معاملے پر بات چیت کی گئی اور حکومت کو تمام مواد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا

شاہین صہبائی، جو اس وقت دی نیوز کے گروپ ایڈیٹر ہیں نے 13 اکتوبر 1992ء کو روزنامہ ڈان کیلئے ایک رپورٹ (اے ہاؤس لوزنگ اٹس ٹیمپر) فائل کی اور اپنی پریس گیلری میں تحریر کیا کہ ”اپوزیشن دباؤ ڈال رہی ہے کہ جناح پور پر بحث کی جائے کیونکہ یہ اردو بولنے والے علاقوں کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کا ایم کیو ایم کا منصوبہ ہے“۔
اسی دن دی نیوز میں ٹریژری بینچوں کی جانب سے جناح پور کے حوالے سے قومی اسمبلی میں ایک تحریک مسترد کئے جانے کی رپورٹ شایع ہوئی۔ دی نیوز میں یہ بھی شایع ہوا کہ اس وقت کے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر فاروق لغاری نے کہا کہ وزیراعظم (نواز شریف) جناح پور کی سازش میں ملوث ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اس ایشو پر تحریک کی مخالفت کر رہی ہے کیونکہ وہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہتی۔

روزنامہ ڈان میں 14 اکتوبر 1992ء کے ایم کیو ایم چیف الطاف حسین کا بیان شایع ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے خلاف جناح پور کی سازش کی تحقیقات سپریم کورٹ سے کرائی جائے۔ اسی اخبار میں 15 اکتوبر کو شایع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی اے) اور جماعت اسلامی نے جناح پور پر بحث کیلئے تحریک التواء پیش کردی

نواز شریف کی حکومت کے ایک اہم وزیر چوہدری نثار علی خان نے 17 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جناح پور کی سازش کا وجود نہیں ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ ”حکومت مہاجروں کے حقوق کو متاثر ہونے نہیں دے گی، یہ بات بے بنیاد ہے کہ ہم نے ایم کیو ایم کے ساتھ کبھی نام نہاد جناح پور پر بات نہیں کی“۔ چوہدری نثار نے اس تاثر کو بھی مسترد کردیا کہ پوری ایم کیوا یم دہشت گرد تنظیم تھی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اچھے اور برے لوگ ہر جماعت میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے الطاف حسین سے کہا کہ وہ ایم کیو ایم پر لگائے جانیوالے الزامات کا جواب دیں۔ اسی روز اے این پی کے سربراہ اجمل خٹک نے کہا کہ اس اطلاعات میں کوئی سچائی نہیں ہے کہ ایم کیو ایم نے پاکستان کو توڑنے کیلئے یا جناح پور بنانے کیلئے کوئی منصوبہ بنایا ہے ۔

آئی ایس پی آر کا پریس ریلیز 19 اکتوبر کے اخبارات میں شایع ہوا جس میں آرمی کی جانب سے جناح پور منصوبے کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی گئی۔ ”آرمی کے پاس نام نہاد جناح پور کے حوالے سے کوئی ثبوت موجود نہیں، یہ واضح کیا جاتا ہے کہ زیر بحث اخباری رپورٹ بے بنیاد ہے۔ آرمی نے حکومت کو ئی دستاویزات یا نقشہ نہیں دیا۔ آرمی کے پاس نام نہاد جناح پور کے حوالے سے کوئی ثبوت بھی دستیاب نہیں۔ یہ بھی درست نہیں کہ یہ معاملہ کور کمانڈر کی میٹنگ میں زیر بحث آیا تھا“۔

لیکن اسی روز بینظیر بھٹو نے قومی اسمبلی میں دیئے گئے ایک بیان میں کہا کہ حکومت جان بوجھ کر جناح پور سازش کو چھپا رہی ہے اور روز اول سے ایم کیو ایم کی حمایت کر رہی ہے۔ نوائے وقت کے مطابق بینظیر بھٹو نے کہا کہ ایم کیو ایم نامی تنظیم کا مقصد بھارت کی حمایت سے علیحدہ ملک بنانا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو توڑنے کیلئے مالی مدد اور حمایت فراہم کرنے پر نواز شریف کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف الطاف حسین پر الزام عائد کرنا بیکار ہے
دی نیوز 19 اکتوبر کے مطابق بینظیر بھٹو نے کہا کہ ”ان (الطاف حسین) کے پارٹنر، حامی اور رہنما نواز شریف کو جانا چاہئے“۔ اسی دن اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین نے مبینہ طور پر قومی اسمبلی میں کہا کہ جناح پور کوئی ایشو نہیں اور یہ صرف پیپلز پارٹی کی سوچ ہے۔ تاہم، فاروق لغاری نے اس سازش کے حوالے سے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جناح پور کا منصوبہ سامنے آنے سے ایم کیو ایم کی ریاست مخالف سرگرمیاں سامنے آچکی ہیں جن کی مزید تحقیقات ہونا چاہئیں

دی نیوز میں19 اکتوبر کو ایک رپورٹ شایع ہوئی جس میں آصف علی زرداری نے جناح پور کے منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اخبار کے مطابق زرداری نے کہا کہ اسلامی جمہوری اتحاد کے رہنما کی جانب سے بنائے گئے منصوبے کی تردید بے بنیاد نہیں ہے

دی نیوز 19 اکتوبر کے مطابق سینئر صحافی نصرت جاوید نے اپنی رپورٹ ”کمینے کی آخری پناہ گاہ“ میں بتایا کہ فوجی ترجمان بریگیڈیئر ہارون نے جولائی کے وسط میں کراچی کا دورہ کرنے والے صحافیوں کو یہ بتایا کہ اس بات کی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات تھیں کہ ایم کیو ایم کے کچھ رہنما ایک علیحدہ ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ یہ نمائندہ کراچی میں ہونے والی آرمی بریفنگ میں موجود تھا جہاں اس طرح کے الزامات عائد کئے گئے

اس وقت کے چیف رپورٹر طارق بٹ نے 19 اکتوبر کے دی نیوز میں اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بینظیر بھٹو نے حکومت پر معاملہ چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔ طارق بٹ کی رپورٹ کے مطابق ”جب وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین نے جناح پور سازش کو پی ڈی اے کی خطرناک سوچ قرار دیا تھا اس وقت اپوزیشن کے ارکان قومی اسمبلی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ بھی اس سازش کا حصہ ہے۔ اسی روز نوائے وقت میں شایع ہونے والی رپورٹ میں بینظیر بھٹو کے حوالے سے کہا گیا کہ فوج نے جناح پور کی سازش بے نقاب کی لیکن حکومت اس ایشو پر خاموش رہی

روزنامہ ڈان میں 21 اکتوبر 1992ء کو شایع ہونے والی رپورٹ کے مطابق الطاف حسین نے حکومت کی تعریف کی۔ رپورٹ کی سرخی کچھ اس طرح تھی: ”جناح پور سازش بے نقاب کرنے پر الطاف حسین نے حکومت کو سراہا“۔ رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم چیف نے کہا کہ نواز شریف کی حکومت اور اس کی ایجنسیاں اسی موثر اور مثبت رویے کا اظہار کرکے ایم کیو ایم کے خلاف عائد کردہ بے بنیاد الزامات کا جائزہ لیں اور حالیہ آئینی اور سیاسی خصوصاً سندھ کے بحران کے حوالے سے صورتحال بہتر بنائیں

فاروق لغاری نے حکومت کے اس دعوے کی تردید کی ہے [21 اکتوبر] کہ جناح پور پیپلز پارٹی کی سوچ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک طاقتور کمیشن قائم کیا جائے جس میں چاروں صوبائی چیف جسٹس صاحبان شامل ہوں اور یہ کمیشن اس پورے معاملے کا جائزہ لے۔

کئی سال بعد 14دسمبر 1998ء کو دی نیوز میں اسی ایشو پر الطاف حسین کا ایک بیان شایع ہوا جس میں انہوں نے جناح پور کے متعلق اطلاعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ علیحدہ جناح پور کی ریاست ایک منظم سازش تھی جو مہاجر کمیونٹی کو یہ پیغام دینے کیلئے رچائی گئی کہ اگر انہوں نے علیحدہ ریاست کا مطالبہ نہ کیا تو انہیں نشانہ بنایا جاتا رہے گا
بشکریہ : جنگ

فرزندکراچی لکھتےہیں

اظہرالحق صاحب کو میں کبھی ملا تو نہیں لیکن انٹرنیٹ کے ذریعہ چار پانچ سال سے جانتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ وہ کبھی من گھڑت یا جھوٹے واقعات نہیں لکھتے ۔ اظہرالحق صاحب لکھتے ہیں مؤرخہ 28 اگست 2009ء
————————
آج ایک نئی بحث شروع ہوئی تو اپنے آپ کو روک نہیں سکا لکھنے سے ، میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ جو میں سمجھتا ہوں اسے اپنے ہم وطنوں تک پہنچاؤں ، میں نے اپنا بچپن اور جوانی کراچی میں گذاری ۔ میں کوشش کروں گا اپنے اس مضمون کو مختصر رکھنے کی ، یہ بات ہے کے 1984ء اواخر کی ، ملک میں مارشل لاء تھا مگر عوام کے لئے ایک “مرد مومن“ کی حکومت تھی ، ناظم صلات (نمازوں کو پڑھوانے والے ) کا دور تھا ، ہر طرف فوج کے جلوے تھے ، بین الاقومی سٹیج پر روس بکھر رہا تھا ، امریکہ افغانی مجاہدین کے لئے مدد دے رہا تھا ، اور پاکستان “اخوت اسلامی“ کے ریکارڈ توڑتے ہوئے لاکھوں “بے سہارا“ افغانوں کی مدد سے کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر میں خود کفیل ہو رہا تھا ۔ ایسے میں کراچی کے کالجوں میں ابھرتی ہوئی ایک تنظیم جو کراچی میں ہجرت کر کے آنے والوں کی اس نسل میں سے تھی جس نے اپنی آنکھ ہی اس آزاد ملک میں کھولی تھی ، جسے اس شہر میں ہی نہیں اس ملک میں ایک پڑھی لکھی اور سمجھدار قوم سمجھا جاتا تھا ، جس میں حکیم سعید جیسے سپوت تھے ، جس میں سلیم الزماں صدیقی جیسے سائینسدان تھے جس میں رئیس امروہی جیسا شاعر اور بجیا اور حسینہ معین جیسی لکھاری تھیں ۔ ۔ ۔ اسی قوم کے جوانوں کی ایک تنظیم تھی اے پی ایم ایس او یعنی آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹ آرگنازئیزشن ، اور یہ کوئی خاص بات نہ تھی کہ اسی شہر کے کالجوں میں اور یونیورسٹیز میں پی ایس اے (پنجابی اسٹوڈنٹ ایسوی ایشن) اور پختون اسٹوڈنٹ فیڈریشن ، کشمیر اسٹوڈنٹ فیڈریشن جیسی تنظیمیں موجود تھیں تو کسی کو ایک اور “قومی“ تنظیم پر اعتراض کی وجہ نہیں بنتی تھی ، اور پھر ان سب سے بڑھ کر کراچی کے کالجوں میں جمعیت اور پیپلز اسٹوڈنڈنٹس جیسی سیاسی طفیلیے بھی موجود تھیں اور لسانی تنظیمیں بھی تھیں جن میں سرائیکی اور سندھی تنظیمیں تھیں

یہ سب بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ مہاجر اسٹوڈنڈنٹس کا ابھرنا کوئی خاص بات نہ تھی ، یہ بھی یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب طلباء تنظیموں پر پابندی تھی مگر در پردہ انکی آبیاری بھی کی جاتی تھی ، اے پی ایم ایس او سے بھی پہلے جمیعت کے جھگڑے مشہور تھے اور کالجوں میں سب سے زیادہ اسلحہ بھی اسی تنظیم کے پاس تھا ، کیونکہ شہری حکومت بھی جماعت اسلامی کی تھی اس لئے اسکی ذیلی تنظیموں پاسبان اور جمیعت کی اجارہ داری تھی ، میں ان لوگوں کو کنفیوز لوگ سمجھتا تھا اور ہوں کیونکہ یہ لوگ نہ تو مذہبی بن سکتے ہیں اور نہ ہی سیکولر ، اس وجہ سے انکے نظریے میں ہمیشہ ایک خلا رہتا ہے ، جبکہ انکے مقابلے میں آنے والی تنظیم نظریاتی طور پر مستحکم تھی اور اسکی سمت معین تھی ،

یہ ٨1980ء کے عشرے کا درمیانی وقت تھا ، ہمارے افغانی “اسلامی“ بھائی سارے ملک میں منشیات اور اسلحہ پھیلا چکے تھے ، اور ہمارے حکمران افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے ایسے میں کراچی جو ایک چھوٹا پاکستان تھا جس میں پنجابی سندھی بلوچی پٹھان اور کشمیری اپنے اردو سپیکنگ ہم وطنوں کے ساتھ رہ رہے تھے ، اس پر سازش رچی گئی اور سازش کے لئے ہراول دستہ بنا ایم کیو ایم ، جو ایک فلاحی تنظیم کے طور پر ابھری تھی اور اسکی بنیاد تھی اسکی طلبہ تنظیم ، جنہوں نے بچت بازار لگائے تھے اور پھر مختلف اداروں میں اپنا نظریہ پھیلا دیا ،

کوئی بھی جماعت یا تنظیم اس وقت ہی مقبولیت حاصل کر لیتی ہے جب اسے مظلوم ثابت کر دیا جائے ، ایسا ہی ہوا ایم کیو ایم کے ساتھ ، اسے ہمارے حکمرانوں نے کندھا دیا اور کراچی “جئے مہاجر“ کے نعروں سے گونجنے لگا ، اور لوگوں کو ایک مسیحا نظر آیا “الطاف حسین“ ، جو عوام کے اندر سے اٹھا ، عام سا آدمی جو کسی بڑی گاڑی کے بجائے ایک ہنڈا ففٹی میں اپنی سیاست کرتا ، وہ عام لوگوں میں مل جل جاتا اور عوام اسے اپنے میں سے ہی سمجھتے ، پھر جسے اپنا سمجھتے اسکا حکم بھی مانتے ، اور پھر ہنڈا ففٹی ایک مقدس چیز بن گئی ، شاید بہت لوگوں کے علم میں ہو گا کہ کراچی کے ایک بڑے جلسے میں لوگوں نے اس ہنڈا ففٹی کو چوم چوم کر چمکا دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

پاکستان کی بدقسمتی کہیئے یا پھر قانون قدرت کہ جو بار بار یہ سمجھاتا ہے کہ اقتدار کے طالب ایک دن ذلت کی موت مرتے ہیں ، ایسے ہی ہوا ۔ ١1988ء میں جب مرد مومن “شہید اسلام“ بن گیا ، اسلام کے اس سپاہی نے جو کارنامے انجام دئیے انکا شاخسانہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں ، منشیات اور کلاشنکوف سے لیکر لسانی سیاست تک سب اسی دور کے پھل ہیں ، مگر اس کے بعد جو اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوئی تو اگلے دس سال تک ایک میوزیکل چئیر کھیلا جانے لگا ، ایسے میں ہی کراچی کے “قائد عوام“ نے ان سب چیزوں کا فائدہ اٹھایا اور کراچی میں نو گو ایریا [No-go Areas] بن گئے ، قائد کے غداروں کو بوری میں بند کیا جانے لگا ، اخبارات میں انسانوں کی مڑی تڑی لاشوں کی تصویریں چھپنے لگیں ۔۔ ۔ اور پھر ہم بے حس ہو گئے ۔ ۔ ۔ ایم کیو ایم ایک پریشر گروپ بن گئی ، جو ہر آنے والی حکومت کو بلیک میل کرتی ،

پتہ نہیں لوگ کیوں بھول گئے کہ جب الطاف بھائی کی تصویریں آسمان سے لیکر پتے پتے پر جم رہی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ جب فوج کے سپاہی عزیز آباد میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تو پتھروں اور گولیوں سے انکا استقبال ہوتا ، لوگ کھجی گراؤنڈ کو کیوں بھول گئے پتہ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ادھر شہر کے اندر یہ ہولی کھیلی جا رہی تھی ادھر شہر کے مضافات میں اسلحے اور منشیات کے ڈیلر اپنے اڈے مضبوط کر رہے تھے ، انہوں نے سہراب گوٹھ سے لیکر ناتھا خان کے پُل کے نیچے تک اپنے گاہک پیدا کر لئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔

ضیاء الحق کے بعد تو کراچی میں وحشت کا راج ہو گیا تھا (میں نے جان بوجھ کہ وحشت لکھا ہے دھشت میں انسان صرف خوف کا شکار ہوتا ہے مگر ان دنوں کراچی کے لوگ وحشی بن چکے تھے ) جن لوگوں نے گولیمار اور سہراب گوٹھ کے واقعات کی وڈیوز دیکھی ہیں وہ جان سکتے ہیں کہ میں نے وحشی کیوں کہا ، مجھے وہ رات آج بھی یاد ہے جب شاہ فیصل کالونی میں فساد ہوا تھا ، گرین ٹاؤن گولڈن ٹاؤن اور الفلاح سوسائٹی میں لوگ بازار جلا رہے تھے اور پھر رات ایک بجے کے قریب ہمیں شاہ فیصل کالونی کی جانب سے گولیوں کی آوازیں سنائیں دیں اور ان آوازوں سے بلند عورتوں اور بچوں کی چیخیں تھیں ، جو ایک عرصہ تک میرے کانوں میں گونجتی رہیں ۔ ۔

وہ شخص وحشی ہی تھا نا جس نے شیر خوار بچوں کو چیر دیا تھا ۔ ۔ ۔ وہ آدمی کیسا تھا کہ جسکی لاش کے ساتھ یہ لکھا ملا کہ قائد کے غداروں کا یہ ہی انجام ہوتا ھے ۔ ۔ ۔ کیا ہماری لائبریریوں میں اس وقت کے اخبار موجود نہیں ؟ جن میں سب جھوٹ تھا مگر کیا ایک سچ بھی نہیں مل سکتا ۔ ۔ ۔ جذبات بہت ہیں مگر کیا کہوں کہ انسان کو جلتے دیکھا ہے جلاتے بھی دیکھا ہے ، بندوقوں سے بچوں کو بہلاتے بھی دیکھا ہے

خیرکرفیو لگا ، انتخابات ہوئے ، یہ کیسے انتخابات تھے ، کہ کراچی میں رجسٹرڈ ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ ڈلے ، یہ کیسے انتخابات تھے کہ جن میں جیتنے والے اور ہارنے والوں کے درمیان لاکھوں کا فرق تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر کراچی میں آگ لگتی چلی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایم کیو ایم نے چولے بدلنے شروع کئے ، انہیں پتہ لگ گیا تھا کہ حکومت میں رہنے کا گُر کیا ہے ، کسی کی بھی حکومت آئے ، ایم کیو ایم اسکے ساتھ رہے گی ،

ایم کیو ایم کو کیا چاہیئے تھا ، حکومت اور شہید ، دونوں اسے ملتے رہے ، اور ابھی تک مل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ایم کیو ایم نے ساحر لدھیانوی کے اس شعر کو سچ کر دیکھایا ہے کہ
برسوں سے رہا ہے یہ شیوہ سیاست
جب جواں ہو بچے ہو جائیں قتل

یہ سلسلہ چل پڑا ہے اور چلتا ہی رہے گا ، اس جماعت کی بنیاد ایک لسانی تنظیم تھی اور آج تک ہے ، الطاف حسین ایک ایسی مچھلی ہے جس نے اپنی قوم کے تالاب کو اتنا گندہ کر دیا ہے جسے صاف کرنے میں شاید ایک صدی لگے ۔ ۔ ۔ الطاف حسین کو اپنی قوم سے کوئی ہمدردی نہیں ، وہ اس کمزور عورت (بے نظیر بھٹو) سے بھی کمزور ہے جو سب جاننے کے باوجود واپس آئی ، اور اپنی جان تک قربان کر دی ، مگر شاید الطاف حسین جو دوسروں کو چوڑیاں پہننے کا اکثر مشورہ دیتے ہیں ، خود چوڑیاں پہن کہ بیٹھے ہیں ۔ ۔ ورنہ ۔ ۔ ۔ بقول شاعر ،
قوم پڑی ہے مشکل میں اور مشکل کشا لندن میں ۔ ۔

بات کہاں کی کہاں نکل گئی ، میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں ، الگ ریاست کا خواب ایم کیو ایم کا اس وقت کا خواب ہے جب وہ مہاجر قومی موومنٹ تھی ، اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ 1984ء سے پہلے کراچی کے تمام اداروں میں اردو سپیکنگ نہ صرف اچھی سروسز اور پوزیشنز پر موجود تھے بلکہ بہت اچھی شہرت بھی رکھتے تھے ، کراچی کے “بھیئے“ سب قوموں کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے ، انکی آپس میں رشتے داریاں تھیں ۔ ۔ ۔ دوستیاں تھیں ۔ ۔ ۔ یہ ایم کیو ایم نے ہنستے کھیلتے کراچی کو کیا بنا دیا ۔ ۔؟؟؟

ٹھیک ہے انہیں استعمال کیا گیا مگر جب وہ لوگ اقتدار میں آئے تو انہیں خود کو بدلنا چاہیئے تھا ، یہ شاید 1990ء کے بعد کی بات ہے جب میری ملاقات ہوئی تھی ایڈمینسٹریٹر کراچی فاروق ستار سے ، میں سوچتا تھا کہ یار یہ بندہ تو بہت اچھا ہے ، جو عام لوگوں میں گھل مل جاتا ہے ، ان دنوں جب ٹارگٹ کلنگ عام تھی فاروق ستار جب بھی کہیں جاتے تو وہ آگے چلتے اور اتنا تیز چلتے کہ دوسرے لوگ انکا ساتھ نہیں دے پاتے ۔ ۔ ۔ اور اگر وہ ایم کیو ایم کو بہتر وقت دے سکتے مگر شاید وہ اپنی جماعت کے پابند تھے ۔ ۔ اور اسی وجہ سے انکے بعد جماعت اسلامی نے کراچی کو “فتح“ کیا ۔ ۔ ۔ اور اپنے مئیر کو لا سکی ۔ ۔ ۔ اور جماعت اسلامی نے وہ ہی غلطیاں کیں جو اقتدار کے لالچی لوگ کرتے ہیں ، اور ان سے حکومت چھن گئی ۔ ۔ ۔ گو انکے منصوبے اچھے بنے تھے مگر انکا افتتاح کسی اور نے کیا ۔ ۔ ۔

مختصر یہ کہ ایم کیو ایم ایک پریشر گروپ سے ایک قومی جماعت بنی ، اس جماعت کا اور منشور اپنی جگہ مگر ایک شق لازمی ہے ، وہ ہے فوج کی کردار کُشی ۔ ۔ ۔ اور یہ پہلے دن سے یہ ہی چل رہا ہے ۔ ۔ ۔ اور ابھی تک چل رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور شاید چلتا رہے گا ۔۔ کیونکہ “قائد“ لندن میں رہیں گے اور قوم ٹیلی فونک خطاب سنتی رہے گی