Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

ثقافت کیا ہے ؟

ثقافت کیا ہوتی ہے ؟ جاننے کی جُستجُو مجھے اُنہی دنوں ہوئی تھی جب میری عمر سولہ سترہ سال تھی اور میں گارڈن کالج راولپنڈی میں پڑھتا تھا ۔ میں نے اُنہی دنوں کے حوالہ سے ثقافت کے سلسلہ میں 30 جون 2006ء کو اپنی ایک تحریر شائع کی تھی بہرحال نوجوانی کے زمانہ سے سالہا سال بعد تک کی تگ و دو اور مطالعہ نے مجھے اس قابل کیا کہ سمجھ سکوں کہ ثقافت کس بلا کا نام ہے ۔ پچھلی دو صدیوں میں لکھی گئی کُتب کی طرف رُخ کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ثقافت کسی قوم ملت یا قبیلہ کی مجموعی بود و باش سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ ایک عادت یا عمل سے ۔ نہ کچھ لوگوں کی عادات سے ۔ مزید یہ کہ ثقافت میں انسانی اصولوں پر مبنی تعلیم و تربیت کا عمل دخل لازم ہے ۔ ثقافت کے متعلق محمد ابراھیم ذوق ۔ الطاف حیسن حالی ۔ علامہ اقبال ۔ اکبر الٰہ آبادی اور دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن میں اسے دہرانے کی بجائے صرف لُغت سے استفادہ کروں گا

فیروز اللُغات کے مطابق ” ثقافت ” کے معنی ہیں ۔ عقلمند ہونا ۔ نیک ہونا ۔ تہذیب
ایک انگریزی سے اُردو ڈکشنری کے مطابق کلچر [Culture] کا مطلب ہے ۔ ترتیب ۔ تہذیب ۔ پرورش کرنا ۔ کاشت کرنا

چند مشہور انگریزی سے انگریزی ڈکشنریوں کے مطابق ثقافت یا کلچر [Culture
] کے معنی ہیں

مریم ویبسٹر ڈکشنری
1 ۔ شعوری اور اخلاقی استعداد کا افشا بالخصوص علم کے ذریعہ
2 ۔ شعوری اور جمالیاتی تربیت سے حاصل کردہ بصیرت اور عُمدہ پسندیدگی
3 ۔ پیشہ ورانہ اور فنی استعداد سے ماوراء فنونِ لطیفہ ۔ انسانیات اور سائنس کی وسیع ہیئت سے شناسائی
4 ۔ انسانی معلومات کا مرکب مجسمہ ۔ اعتقاد اور چال چلن جس کا انحصار سیکھنے کی وسعت اور آنے والی نسلوں کو علم کی مُنتقلی پر ہو
5 ۔ کسی گروہ کے رسم و رواج ۔ باہمی سلوک اور مادی اوصاف

کومپیکٹ آکسفورڈ ڈکشنری
1 ۔ خیالی یاشعوری فَن یا ہُنر کے ظہُور جو اجتمائی نشان ہو یا اس کی ایک خالص فِکر یا قدر دانی
2 ۔ کسی قوم ۔ مِلّت یا گروہ کی رسوم ۔ ادارے اور کامرانی

کیمبرج بین الاقوامی انگریزی کی ڈکشنری
1 ۔ کسی قوم ۔ مِلّت یا گروہ کے کسی خاص دور میں بود و باش کا طریقہ بالخصوص عمومی عادات ۔ رسوم ۔ روایات اور عقائد
2 ۔ اگر صرف فَنون سے متعلق ہو تو موسیقی ۔ ہُنر ۔ ادبی علوم یا تمثیل گھر

اینکارٹا ورلڈ انگلش ڈکشنری
کسی قوم یا گروہ کی / کے مشترکہ
1 ۔ مجموعی طور پر فن یا ہُنر جس میں فنونِ لطیفہ ۔موسیقی ۔ ادب ۔ ذہنی چُستی شامل ہوں
2 ۔ آگہی ۔ آمیزش اور بصیرت جو تعلیم کے ذریعہ حاصل ہو
3 ۔ رائے ۔ وصف ۔ رسم و رواج ۔ عادات ۔ باہمی طور طریقے
4 ۔ شعور یا ہُنرمندی یا فنی مہارت کی نشو و نما

چنانچہ ثقافت صرف عادات و رسوم کا ہی نہیں بلکہ صحتمند عادات و رسوم کے مجموعہ کا نام ہے جن کی بنیاد تربیت پر ہو ۔ ہر چند کہ کسی گروہ یا قبیلہ کے لوگ کچھ قباحتیں بھی رکھتے ہوں لیکن ان بُری عادات کو ان کی ثقافت کا حصہ نہیں سمجھا جائے گا

اگر کہا جائے کہ ہندوؤں کی ثقافت میں ناچ گانا شامل ہے تو یہ درست ہے لیکن ہندوؤں کیلئے بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اُن کی ثقافت ناچ گانا ہے کیونکہ ناچ گانا ان کی ثقافت کا صرف ایک جُزو ہے اور ان کی ثقافت میں کئی اور اوصاف بھی شامل ہیں ۔ ناچ گانا پوجا پاٹ کا حصہ بنا دینے کی وجہ سے ہندوؤں کی ثقافت میں شامل ہو گیا اور یہ ناچ گانا وہ بھی نہیں ہے جو کہ مووی فلموں میں دکھایا جاتا ہے

مسلمان کیلئے دین اول ہے اسلئے مسلمانوں کی ثقافت میں دین کا لحاظ لازمی ہے لیکن میرے اکثر ہموطن مسلمان ہوتے ہوئے اپنی ثقافت کو ناچ ۔ گانا ۔ تمثیل ۔ مصوّری ۔ بُت تراشی وغیرہ ہی سمجھتے ہیں اور ثبوت کے طور پر ہندوانہ رسم و رواج کا حوالہ دیتے ہیں یا پھر اس دور کی مثال دیتے ہیں جب اسلام کا ظہور نہیں ہوا تھا

عام طور پر جو لوگ ثقافت پر زور دیتے ہیں اُن میں سے کچھ کے خیال میں شاید ثقافت ساکت و جامد چیز ہے اور وہ اسے موہنجو ڈارو کے زمانہ میں پہنچا دیتے ہیں ۔ جبکہ کچھ لوگ ثقافت کو ہر دم متغیّر قرار دیتے ہیں ۔ یہ دونوں گروہ اپنے آپ کو جدت پسند ظاہر کرتے ہیں ۔ مؤخرالذکر ثقافت کو اپنے جسم تک محدود رکھتے ہیں یعنی لباس ۔ محفل جمانا ۔ تمثیل ۔ ناچ گانا وغیرہ ۔ لُطف کی بات یہ ہے کہ ثقافت عوام کی اکثریت کا ورثہ اور مرہُونِ منت ہے جنہیں ثقافت کی بحث میں پڑنے کا شاید خیال بھی نہیں ہوتا یا جنہوں نے کبھی ثقافت پر غور کرنے یا اسے اُجاگر کرنے کی دانستہ کوشش نہیں کی

ثقافت ایک ایسی خُو ہے جو اقدار کی مضبوط بنیاد پر تعمیر ہوتی ہے ۔ یورپ اور امریکہ میں عورت اور مرد کا جنسی اختلاط عام ہے اور عرصہ دراز سے ہے ۔ کسی یورپی یا امریکن سے پوچھا جائے کہ کیا یہ جنسی اختلاط آپ کی ثقافت کا حصہ ہے تو وہ کہے گا کہ “نہیں ایسا نہیں ہے” ۔ اس کے برعکس کچھ ایسی عادات ہیں جسے اُنہوں نے غیروں سے اپنایا ہے مثال کے طور پر آجکل جسے ٹراؤزر یا پینٹ کہتے ہیں یہ دراصل منطلون یا منطالون ہے جسے عربوں نے گھوڑ سواری بالخصوص جنگ کے دوران کیلئے تیار کیا تھا ۔ یہ اب یورپ اور امریکہ کی ثقافت کا حصہ ہے گو اس کی شکل اب بدل چکی ہے اور اُن لوگوں کی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے ۔ اسی طرح کچھ کھانے ہیں جو یورپی اور امریکی ثقافت کا حصہ سمجھے جاتے ہیں لیکن ایشیا سے نقل کئے گئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ اب ایشیا کی بجائے یورپ یا امریکہ کا خاصہ تصور ہوتے ہیں ۔ دورِ حاضر کا برگر جرمنی کا ہیمبُرگر تھا کیونکہ اسے ہیمبُرگ میں کسی شخص نے بنانا شروع کیا تھا ۔ اس سے قبل اس کا نام وِمپی تھا اور ترکی اور اس کے قریبی ایشیائی علاقہ میں بنایا جاتا تھا ۔ اُس سے پہلے یہ منگولوں کا سفری کھانا تھا ۔ اسی طرح شیش کباب جسے ولائیتی [یورپی] کھانا سمجھ کر کھایا جاتا ہے درصل سیخ کباب ہی ہے جو کہ ترکی کا کھانا تھا

ہندو عورتیں ایک ڈیڑھ گز چوڑی چادر پیچھے سے سامنے کی طرف لا کر داہنے والا کونہ بائیں کندھے اور بائیں والا کونہ داہنے کندھے کے اُوپر لے جا کر گردن کے پیچھے باندھ لیتی تھیں اور یہی ان کا لباس تھا ۔ لباس میں ساڑھی جسے کئی لوگ ہندوؤں کا پہناوا یا ثقافت کہتے ہیں ہندوؤں نے مسلمانوں سے نقل کیا جس کو مختلف اشکال دی گئیں اور عُریاں بھی بنا دیا گیا ۔ دراصل یہ عرب بالخصوص افریقی مسلمانوں کا لباس ساری تھا جو کہ مسلمان عورتیں بطور واحد لباس نہیں بلکہ اپنے جسم کے خد و خال چھپانے کی خاطر عام لباس کے اُوپر لپیٹ لیتی تھیں ۔ یہ ساری اب بھی افریقہ کے چند ملکوں بالخصوص سوڈان میں رائج ہے

ثقافت کے متذکرہ بالا اجزاء میں جو مادی اوصاف ہیں وہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ان کے تبدیل ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور انسانی بہتری کیلئے ان میں تبدیلی ہوتے رہنا چاہیئے مگر ثقافت پر اثر انداز ہونے والی اقدار میں وہ وصف شامل ہیں جن کی بنیاد خالقِ کائنات نے اپنی مخلوق کی بہتری کیلئے مقرر کر دی ہے ۔ ان کو تبدیل کرنا انسانی تمدن کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور اللہ کی نافرمانی بھی ۔ آج کمپیوٹر کا دور ہے ۔ کمپیوٹر متعدد قسم کے کام سرانجام دیتا ہے مگر یہ سب کام کمپیوٹر کے خالق کے مقرر کردہ ہیں ۔ کمپیوٹر ان مقررہ حدود سے باہر نہیں جاتا ۔ یہی حال انسان کا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ انسان کے خالق نے انسان کو کچھ اختیار دیا ہوا ہے لیکن ساتھ ہی انسان کا نصب العین بھی مقرر کر دیا ہے اور اس پر واضح کر دیا ہوا ہے کہ غلط عمل کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا ۔ اس لئے انسان کیلئے لازم ہے کہ انسانیت یا خود اپنی بہتری کیلئے اپنی اقدار کو نہ بدلے اور ان پر قائم رہے ۔ وہ اقدار ہیں عبادت ۔ تعلیم ۔ سلوک ۔ عدل ۔ انتظام ۔ وغیرہ

یہ میری 13 اپریل اور 15 اپریل 2009ء کی تحاریر کا خلاصہ ہے

جُرمِ غریبی کی سزا

”میرا نام احمد نور وزیری ہے ۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں بی اے آنرز کا طالب علم ہوں ۔ اس کے علاوہ میں کیا بتاؤں کہ میں کون ہوں او رکیا ہوں ۔ اس ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ کے دوران میں اپنی شناخت کھوچکا ہوں ۔ ان ساٹھ سالوں میں مجھے کیا کیا نام نہیں ملے ۔ کبھی مجھے غیور قبائلی کے نام سے پکارا گیا ۔ کبھی مجھے مجاہد بنا کر غیروں کے ہتھیاروں سے غیروں کے مقاصد کے لئے لڑوایا اور استعمال کیا گیا ۔ کبھی مجھے سمگلر کہا گیا ۔ کبھی مجھے غدار کے لقب ملے جبکہ کبھی مجھے دہشت گرد بنا کر میرے معصوم خون کو کسی اور کیلئے بہایا گیا ۔ میں فاٹا کے ایک پسماندہ علاقہ جنوبی وزیرستان کے وانا نامی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں جسے بعض لوگ علاقہ غیرکہتے ہیں بعض کے نزدیک یہ نومین لینڈ [No-man-land] ہے اور بعض کے نزدیک یہ ایک فیکٹری ہے جہاں کبھی مجاہد اور کبھی دہشت گرد تیار ہوتے ہیں ۔ قانون کی کتابوں میں وزیرستان اور پورا فاٹا پاکستان کا حصہ ہے لیکن وہاں کی فضاؤں میں امریکہ کے ڈرون طیاروں کاراج ہے ۔ وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں میزائل فائر کردیتے ہیں

میرے دوستو ۔ آج میں اپنی شناخت کی تلاش میں یہاں آیا ہوں ۔ آج میں ایف سی آر کی ستائی ہوئی غربت کی چکی میں پسی ہوئی وار آن ٹَیرر کی آگ میں لپٹی ہوئی اپنے ہی ملک میں مہاجر بنی ہوئی اور امریکہ کے ڈرون حملوں کے سائے تلے زندگی گزارنے والی پانچ ملین انسانوں پر مشتمل قوم [قبائل] کی طرف سے پیار محبت اور عشق کی سوغات لے کر آیا ہوں ۔ اسے قبول کیجئے ۔ میرے دوستو ۔ اسے قبول کیجئے“

یہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ہونہار طالب علم احمد نور وزیری کے افتتاحی کلمات تھے جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں ”یوتھ پارلیمنٹ“ کے افتتاحی اجلاس کے دوران اپنا تعارف کراتے ہوئے ملک بھر سے منتخب طلبہ اور اہم قومی شخصیات کی موجودگی میں ادا کئے

” یہ خط وانا [جنوبی وزیرستان ایجنسی] سے لکھا جارہا ہے۔ وانا میں تقریبا ساڑھے سات سال سے خانہ جنگی جاری ہے اور یہاں زندگی بس صرف سانس کے آنے اور جانے کا نام ہے ۔ ۔ ۔ دسمبر 2001ء میں ایک طرف افغانستان سے طالبان کے اور دوسری طرف پاکستان سے افواج کے دستے وانا آنا شروع ہوگئے۔ 26 جون 2002ء کو وانا کے گاؤں کژہ پنگہ میں پہلا فوجی آپریشن ہوا۔ تب سے لے کر اب تک کشت و خون کا بازار گرم ہے ۔ ہمارے اوپر الزام تھا کہ ہم سب دہشت گرد ہیں چنانچہ سرکار نے پورے وانا سب ڈویژن میں اقتصادی پابندیاں لگادیں۔ اس دوران ہمارے قبائلی مشران میں سے جس نے بھی زبان کھولی اسے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ 2004ء میں ایک اور انتہائی بے رحم آپریشن کیا گیاجس میں ہوائی جہاز بھی استعمال ہوئے ۔ لوگوں نے وانا سے ہجرت کی لیکن کسی شہر کی جانب نہیں بلکہ قرب و جوار کے ویرانوں کی طرف۔ اس دوران گھر مسمار ہوئے ، بازار لٹ گئے ۔ واحد ذریعہ معاش یعنی سیبوں کے باغات برباد ہوگئے۔ اس وقت تک وانا کے لوگ اغواء برائے تاوان کے جرم سے ناآشنا تھے لیکن آئے ہوئے ازبک ، چیچن اور دیگر جابر مہمانوں نے نہ صرف انہیں اس سے آشنا کیا بلکہ قتل و غارت ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور سرکاری سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانا بھی روز کا معمول بن گیا۔ اس کے بعد تاحال ہم اس کیفیت سے گزر رہے ہیں ۔ ڈرون حملے ہیں ۔ فوجی کانوائے کا تمام راستوں پر نہ صرف آنا جانا ہے بلکہ اس کے خیریت سے گزرنے کی خبر ہم بطور خوشخبری ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ وانا ڈی آئی خان سڑک بند ہے اور ہم 150روپے فی سواری کی بجائے 1500روپے فی سواری کرایہ دے کر ژوپ بلوچستان کے راستے وانا اور ڈی آئی خان کے مابین سفر کرتے ہیں ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول ہے لیکن آپ کے ہاں گھنٹوں کے حساب سے جبکہ ہمارے ہاں مہینوں کے حساب سے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چھ ماہ سے بجلی بند ہے ”

مکمل مضمون یہاں کلِک کر کے پڑھیئے

اس سے کیا اشارہ ملتا ہے ؟

کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان مینا بازار میں ہونیوالے اس دھماکے میں ملوث نہیں ہے
طالبان اورالقاعدہ نے پشاور بم دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بازاروں اور مساجد میں کبھی بم دھماکے نہیں کرتے
القاعدہ کے بیان کے مطابق وہ بے گناہوں کے قتل عام میں ملوث نہیں ہے
القاعدہ ذرائع کے مطابق پشاور دھماکے میں وہ عناصر ملوث ہیں جو جہاد اور مہاجرین کو بدنام کرنا چاہتے ہیں
القاعدہ کے ذرائع کے مطابق القاعدہ امریکا اور اس کے ایجنٹوں کے خلاف دنیا بھر میں جہاد جاری رکھے گی
خبر جنگ میں شائع ہوئی

روندی یاراں نوں

پنجابی کی ایک کہاوت ہے
روندی یاراں نوں ناں لَے کے بھراواں دے
اس کا مطلب ہے کہ رو رہی ہے آشنا کی جدائی میں لیکن نام بھائیوں کے لے کر رو رہی ہے

altafhussainbritishpassport2

ایسی ہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اپنی قومیت چھوڑ کر دوسری قومیت اختیار کر لی اور اس پر پھُولا نہیں سمائے ۔ اور اس کے بعد اپنے آپ کو اُس قوم کا خیرخواہ جتانے کی کوشش کرے جسے اُس نے تج دیا ۔ کیا یہ منافقت نہیں ہے ؟

روپیہ سب کچھ ہے

“بس جی ۔ روپیہ ہونا چاہیئے”
“روپے کے بغیر زندگی مشکل ہے”
“روپے کو روپیہ کھینچتا ہے”
“روپیہ ہو تو سب کام ہو جاتے ہیں” ۔ وغیرہ وغیرہ

یہ سب کج فہمی یا کم عقلی ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو مالدار ہمیشہ مالدار اور بے مایہ ہمیشہ بے مایہ رہتا

حقیقت يہ ہے کہ طاقت روپیہ نہیں ہے بلکہ اصل طاقت انسان کے اندر ہوتی ہے

روپے سے بہترین بستر تو خریدا جا سکتا ہے مگر نیند نہیں
روپے سے کسی کی زبان تو خریدی جا سکتی ہے مگر دل نہیں
روپے سے جسم تو خریدا جا سکتا ہے مگر محبت نہیں
روپے سے ایئر کنڈیشنر تو خریدا جا سکتا ہے مگر دل کی ٹھنڈک نہیں
روپے سے مقویات تو خریدی جا سکتی ہیں مگر صحت نہیں
ساری دنیا کی دولت لگا کر بھی دل کا اطمینان نہیں خریدا جا سکتا

روپے کا ایک کارِ منصبی ایسا ہے جو انسان کو بہت کچھ دے جاتا ہے
وہ ہے خود غرضی سے باہر نکل کر روپے کا ضروتمندوں پر استعمال

اللہ ہمیں اپنی دولت کے درست استعمال کی توفیق عطا فرمائے

بُوجھیئے وہ کون ہے ؟

مندرجہ ذیل عبارت میں تھری ملین ڈالر مین [Three Million Dollar Man] کون ہے ؟ بوجھیئے تو جانیں

امریکہ اور برطانیہ میں گزارے گئے ان چند دنوں میں مجھے شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے ہوں گے ۔ غیرملکی امدادکسی مسئلے کا حل نہیں ۔ ہمیں صرف دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف بھی متحد ہونا ہوگا ۔ لندن میں ایک انتہائی قابل اعتماد شخصیت نے مجھے بتایا کہ پچھلے دنوں ایک عرب ملک کی فضائی کمپنی نے پاکستان میں اپنی پروازوں کی تعداد میں اضافے کی کوشش کی ۔ جب کامیابی نہ ہوئی تو مذکورہ فضائی کمپنی نے ایک مقتدر شخصیت کو تین ملین ڈالر دے کر اپنا کام کروا لیا

یہ مقتدر شخصیت صرف خود کھانے کی شوقین ہے اور بدقسمتی سے ڈالر کھانے کی شوقین ہے ۔ اس شخصیت کو نجانے یہ احساس کیوں نہیں ہو پا رہا کہ زیادہ کھانے سے ناصرف بدہضمی ہوجاتی ہے ۔ بلکہ بدنامی بھی ہوتی ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ اس قسم کی بے حس مقتدر شخصیات کو اقتدار کے ایوانوں سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے کیونکہ یہ شخصیات صرف جمہوریت نہیں بلکہ پاکستان کیلئے بھی خطرہ بنتی جارہی ہیں ۔ اور کوئی جانے نہ جانے لیکن جناب نواز شریف اس ”تھری ملین ڈالر مین“ کا نام ضرور جانتے ہیں ۔ ان سے گزارش ہے کہ ”تھری ملین ڈالر مین“ کو بے نقاب کریں اور اسے بھی پرویز مشرف کے پاس لندن بھیج دیں

بشکریہ ۔ جنگ

پھر نتھی کر دیا گیا

میں راشد کامران صاحب کے بلاگ پر کسی اور کام سے گیا تھا اور وہاں اپنے آپ کو بندھا ہوا پایا
سوال ۔ 1 ۔ انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
جواب ۔ کچھ مقرر نہیں ۔ صفر سے لے کر 8 گھنٹے تک لیکن لگاتار نہیں اور اس کا انحصار مہیاء وقت اور ضرورت پر ہے ۔ مطلب ہے کہ کوئی اور کام ہو تو پھر کمپیوٹر میرے انتظار میں چلتا رہتا ہے ۔ اسی لئے کئی حضرات کو شکائت ہے کہ میں ان کی بات کا جواب نہیں دیتا

سوال ۔2 ۔ انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
جواب ۔ وہی چالِ بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ۔ بقول کچھ جوانوں کے میں جدید دنیا میں نہ آ سکا ہوں نہ اسے سمجھ سکا ہوں ۔ یہ الگ بات ہے کہ جب میں نے کپيوٹر پر کام شروع کیا اور میراتھان قسم کے پروگرام ڈویلوپ کئے [1985ء تا 1988ء] اس وقت وہ لوگ بوتل میں دودھ پیتے ہوں گے یا پرائمری سکول میں پڑھتے ہوں گے ۔ جو جوان امریکہ کینڈا یا یورپ میں ہیں ان کی بات نہیں کر رہا کیونکہ وہ مجھے عرصہ سے جانتے ہیں ۔ خیال رہے کہ سب سے پہلے اسلام آباد میں انٹر نیٹ شروع ہوا تھا اور میں پہلے چند دنوں میں یہ سہولت حاصل کرنے والوں میں تھا ۔ مین ان سب سے پہلے چند پاکستانیوں میں تھا جنہوں نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعہ صوتی پیغام بھیجے
فائدے یہ ہوئے
میرا بڑا بیٹا زکریا اعلٰی تعلیم کیلئے ستمبر 1997ء میں امریکا چلا گیا ۔ تو ای میل کے ذریعہ جلد خیر خیریت معلوم ہو جاتے تھی ۔ لیکن تسلی نہ ہوتی تھی ۔ اسلئے ٹیلیفون کرتے تھے اور فی کال 700 سے 1050 روپے ادا کرتے تھے جس میں کبھی کبھار آٹھ نو منٹ بات ہوتی تھی عام طور پر آپریٹر کی لاپرواہی کی وجہ سے تین منٹ بات ہوتی تھی ۔ اب تو مسئلہ نہیں رہا ۔ کمپیوٹر پر ٹیلیفون سے بہتر آواز میں بات ہوتی ہے پہلے خط لکھ کر ڈاکخانے کے ذریعہ بھیجتے اور پھر ہفتوں انتظار کرتے جواب کا ۔ اب فٹا فٹ ہو جاتا ہے ۔
پہلے کتابیں ڈھونے اور صفحے اُلٹنے میں کافی وقت ضائع ہوتا تھا ۔ پھر ہاتھ سے لکھنا پڑتا تھا ۔ اب چند منٹوں میں سب کچھ ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ عِلم حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ بلاگر اور قاری مجھ سے پریشان رہتے ہیں

سوال ۔ 3 ۔ کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
جواب ۔ میری سماجی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ سماجی سرگرمیاں جاری ہیں البتہ چند سالوں سے باہر کا ماحول بدلنے کی وجہ سے کم ہو گئی ہوئی ہیں ۔ میں بم دھماکوں کی نہیں قوم کے افراد کے رویے کی بات کر رہا ہوں جو میرے جیسے انسان کو پسند نہیں کرتے
گھر میں صرف اتنا فرق پڑا ہے کہ میری بیگم مجھے اور عزیز و اقارب کو کہتی رہتی ہیں ” ہر وقت کمپیوٹر پر بیٹھے رہتے ہیں “۔ میں کہتا ہوں ” مجھ سے قسم کرا لو جو میں کبھی کمپیوٹر پر بیٹھا ہوں ”

سوال ۔ 4 ۔ اس علت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
جواب ۔ میں نے اپنی زندگی میں صرف ایک علت پالی تھی ” چائے ” اور اُس سے میں نے اُس وقت پیچھا چھُڑا لیا جب میں گیارہویں جماعت میں پڑھتا تھا

سوال ۔ 5 ۔ کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
جواب ۔ کھیلیں تو میری انٹر نیٹ پاکستان میں آنے سے بہت پہلے بند ہو گئی تھیں کیونکہ کھیلنے کی بجائے کھلانے کے دن شروع ہو گئے تھے