محمد رضوان صاحب نے قراردادِ پاکستان کے حوالہ سے لکھا ہے “يہ قرار داد تو 24 مارچ 1940 کو منظور ہوئی تھی ۔ پھر ہم اسے 23 مارچ کو کیوں مناتے ہیں۔ اصل میں 23 مارچ کو پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا تھا جس کے مطابق پاکستان کو اسلامی جمہوریہ ملک قرار دیا گیا”
ايک تو ہماری قوم کی تاريخ [کا مضمون] ہی کمزور ہے اس پر طُرّہ يہ کہ پۓ درپۓ ہمارے حکمرانوں نے قوم کو عِلم سے محروم رکھنے کی بھرپور کوشش کی ۔ شاید يہ ميری غلطی ہے کہ ميں نے اپنی 23 مارچ 2010ء کی تحرير ميں اس کی وضاحت ضروری نہ سمجھی کہ قوانين اور قراردادوں مین ايسا ہی ہوتا آيا ہے
نئے قانون يا نئی قرارداد کا جب مسؤدہ پيش کيا جاتا ہے تو اُس پر تاریخ پہلے سے فيصلہ کر کے درج کردی جاتی ہے ۔ ترجيح اُس تاريخ کو دی جاتی ہے جس دن متعلقہ مجلس کے تمام ارکان کا اس مسؤدہ سے کم از کم زبانی متفق ہونا متوقع ہو يا جس دن يہ مسؤدہ متعلقہ مجلس کے ارکان کی اکثريت اسے پیش کرنے کی منظوری دے دے ۔ ايسا بھی ہوتا ہے کہ قراداد يا قانون پر وہی تاريخ درج ہو جس دن اسے حتمی طور پر منظور کيا جائے
مثال کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت ميں منظور ہونے والا آئين جسے 1973 کا آئين کہا جاتا ہے وہ منظور 1974ء ميں ہوا تھا ليکن اسمبلی ميں پيش 1973ء ميں کيا گيا تھا ۔ بہت سے ايسے قوانين موجود ہيں جو اُن پر لکھے گئے سال سے ايک يا زيادہ سال بعد ميں منظور ہوئے
جب 22 مارچ 1940ء کو قراردادِ پاکستان منظور کرنے کيلئے منٹو پارک لاہور ميں جہاں اب مينارِ پاکستان کھڑا ہے آل انڈيا مسلم ليگ سہ روزہ اجلاس طلب کيا گيا تو تمام نمائندوں کے ساتھ ساتھ وہاں برِصغير کے مسلمانوں کا بے مثال جمِ غفير اکٹھا ہوا ۔ آل انڈيا مسلم ليگ کے تمام منتخب نمائندوں نے قراردادِ پاکستان سے اتفاق کا اظہار کر ديا ہوا تھا اور منظوری کی تاریخ 23 مارچ 1940ء رکھی گئی تھی ۔ جلسہ کے دوران مسلمان حاضرين کی تعداد اور دلچسپی کو ديکھتے ہوئے فيصلہ کيا گيا کہ قرارداد کی رسمی منظوری 24 مارچ 1940ء کو جلسہ عام سے لی جائے
قرادادِ پاکستان کو 23 مارچ 1940ء کی قرارداد کہنا بالکل درست ہے ۔ اور حقيقت يہ ہے کہ 1956ء کا آئين بھی اسی تاريخ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رسمی طور پر 23 مارچ 1956ء کو منظور کيا گيا تھا
آج يومِ پاکستان ہے ۔ بروز ہفتہ 12 صفر 1359ھ اور گریگورین جنتری کے مطابق 23 مارچ 1940ء لاہور میں بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کی شمال کی طرف اُس وقت کے منٹو پارک میں جو پاکستان بننے کے بعد علامہ اقبال پارک کہلایا مسلمانانِ ہِند کے نمائندوں نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس کا عنوان “قراردادِ لاہور” تھا لیکن وہ
قرارداد اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے فضل و کرم سے قراردادِ پاکستان ثابت ہوئی ۔ مینارِ پاکستان علامہ اقبال پارک میں ہی کھڑا ہے ۔ مینار پاکستان بطور یادگار قراردادِ پاکستان تعمیر کیا گیا تھا ۔ عوام نے اسے یادگارِ پاکستان کہنا شروع کر دیا جو کہ مناسب نہ تھا ۔ چنانچہ اسے مینارِ پاکستان کا نام دے دیا گیا
اس نقشے میں جو نام لکھے ہیں یہ چوہدری رحمت علی کی تجویز تھی ۔ وہ لندن [برطانیہ] میں مقیم تھے اور مسلم لیگ کی کسی مجلس میں شریک نہیں ہوئے














