ميں نے کل اسرائيل کی غزہ ميں دہشتگردی کے چند ثبوت پيش کئے تھے ۔ آج اسرائيليوں کی درندگی کے چند اور نمونے بوجھل دل کے ساتھ حاضر ہيں جن ميں بالخصوص ننھے بچوں کو درندگی کا نشانہ بنايا گيا ہے ۔ اسرائيل کے بہيمانہ قتل و غارت پر کبھی امريکا نے اسرائيل کی صرف مذمت بھی نہيں کی
اگر کسی مسلمان ملک ميں ايک غير مسلم بچہ مر جائے تو امريکا طوفان کھڑا کر ديتا ہے ۔ امريکا کے چہيتے پرويز مشرف کا دور تھا اسلام آباد کے سيکٹر ايف ۔ 7 ميں ايک کچی آبادی کے نام پر پکی آبادی ہے جو سرکاری زمين پر قبضہ کر کے غيرقانونی طور پر عيسائيوں نے بنائی ہوئی ہے ۔ يہ فرنچ کالونی کے نام سے مشہور ہے ۔ سڑک کی طرف اُنہوں نے ايک کچی ديوار بنائی ہوئی تھی ۔ ايک دن عيسائی بچے سڑک کے کنارے اُس ديوار کے ساتھ بيٹھے کھيل رہے تھے کہ طوفان آ گيا اور ديوار گر گئی ۔ اس کے نيچے آ کر ايک عيسائی بچہ مر گيا ۔ واشنگٹن کی ديواريں لرزنے لگيں اور پرويز مشرف کو ٹيليفون آيا ۔ چنانچہ وہاں اُس غيرقانونی کالونی کے ساتھ ری اِنفورسڈ کنکريٹ کی ديوار بنانے کے علاوہ اس کالونی کو قانونی قرار دے ديا گيا



































