Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

مانگنے والے ۔ جو ياد رہ جاتے ہيں

مانگنے والوں کی لاتعداد اقسام ہوں گی ميں صرف اُن اچھے يا بُرے مانگنے والوں کی بات کر رہا ہوں جو اپنی کسی حرکت يا عمل کی وجہ سے ياد رہ جاتے ہيں ۔ اِن ميں بھيک مانگنے والے بھی ہيں اور مسجد کے نام پر مانگنے والے بھی ۔ پہلے ناپسنديدہ واقعات پھر وہ جو اپنے پيچھے ايک اچھا تاءثر چھوڑ گئے

ہم جھنگی محلہ راولپنڈی ميں رہتے تھے ۔ مغرب کے بعد ايک بہت مسکين اور نحيف آواز آتی “مائی جی ۔ روٹی”
ايک جھُکا ہوا آدمی اپنے سر اور جسم پر کمبل ڈالے ہوئے بھيک مانگ رہا ہوتا تھا ۔ ايک دن ميں مغرب کے بعد گھر واپس آ رہا تھا کہ يہی آواز ہماری گلی ميں سے سُنائی دی ۔ جب ميں اپنی گلی کی طرف مُڑا تو گلی ميں کوئی نہ تھا ۔ ميں حيران ہو کر واپس بھاگا اور اس جوان صحتمند کو ديکھا جو ايک لمحہ پہلے گلی سے نکل کر گيا تھا ۔ اگلے دن “مائی جی ۔ روٹی’ کی نحيف آواز آئی تو ميں گھر سے نکل کر جا کر وہاں کھڑا ہو گيا جہاں ہماری گلی بڑی گلی سے ملتی تھی ۔ جونہی وہ مانگنے والا اُسی طرح کمبل ڈالے نکلا ميں نے پيچھے سے کمبل پکڑ ليا ۔ اندر سے ہٹا کٹا جوان نکل آيا جو کمبل سنبھال کر بھاگ گيا ۔ اس دن کے بعد ہماری گلی ميں اُس کی آواز نہ آئی

ميں انجنيئرنک کالج لاہور ميں پڑھتا گھر سے کالج جانے کيلئے بس پر جا رہا تھا ۔ بس جہلم رُکی ۔ ميں بس سے نکل کر باہر کھڑا ہو گيا ۔ چند منٹ بعد ايک خانہ بدوش قسم کی جوان پلی ہوئی عورت آ کر بھيک مانگنے لگی ۔ کچھ فاصلے پر اسی کی طرح کی تين چار عورتيں اور تھيں ۔ خطرہ پہچانتے ہوئے ميں نے خيرات دينے کی بجائے “معاف کرو” کہا مگر وہ ميری تھوڑی پکڑ پکڑ کے مانگنے لگ گئی ۔ ميں وہاں سے ہٹ کر بس کے ساتھ لگ کے کھڑا ہوگيا ۔ وہ پيچھے آ گئی اور اتنی قريب کہ اگر ميں يکدم وہاں سے چلا نہ جاتا تو اس کی چھاتی کے اُبھار ميرے سينے سے ٹکراتے ۔ ميں بس کے اندر چلا گيا ۔ کنڈکٹر نے اُسے روک ديا اور کہنے لگا “يہ بے غيرت عورتيں ہيں اسی طرح جوان سواريوں کو تنگ کرتی ہيں

ہم 1994ء ميں اسلام آباد منتقل ہو گئے ۔ گيٹ کے باہر کی گھنٹی بجی ميں نے گھر کے اندر سے انٹرکام کا رسيور اُٹھايا ۔ آواز آئی “آپ خوش قسمت ہيں ۔ آپ سے ملنے کيلئے حضرت خود تشريف لائے ہيں”۔ ميں گيٹ پر پہنچا ۔ داڑھيوں والے 4 آدمی کھڑے تھے ۔ مدعا پوچھا تو کسی مسجد کيلئے چندہ مانگا ۔ ميں نے پوچھا “کونسی مسجد ؟” جواب ملا “يہ جی يہ ساتھ والی”۔ مزيد سوال پوچھنے پر جھوٹ ثابت ہو گيا مگر ان لوگوں کو کوئی شرمندگی نہ ہوئی

بالا کے برعکس

جب ہم 1964ء سے قبل جھنگی محلہ ميں رہتے تھے ايک آدمی صرف رمضان کے مہينہ ميں سحری کے وقت آواز لگاتا ” اللہ کے پيارو ۔ اللہ والو ۔ تيری بستی ميں بولتا سائیں نا”۔ بہت گرجدار مگر من بھاتی آواز ۔ وہ کچھ نہيں مانگتا تھا ۔ صرف ستائيسويں روزے کی سحری کے وقت کہتا “بابا اپنی بستی واپس جا رہا ۔ بابا کو کچھ دے دو”۔ ايک سحری کا مجھے ياد ہے کہ ہمارا دروازہ کھٹکھٹايا ۔ ميں باہر گيا تو کہا “سائيں بابا کو روزہ نہيں رکھواؤ گے ؟” ميں دوڑ کر اندر گيا ۔ جو پراٹھا اور سالن ميں نے کھانا تھا لا کر اُسے ديا ۔ وہ بولا ” مجھے پانی کا ايک گلاس بھی دے جاؤ ۔ پھر اپنا روزہ رکھو”۔ کئی سال وہ آتا رہا ۔ پھر ايک رمضان کا مہينہ آيا مگر سائيں بابا نہ آيا ۔ اگلے روز محلے ميں سب ايک دوسرے کو کہہ رہے تھے “سائیں بابا نہيں آيا ؟” کوئی نہيں جانتا تھا وہ سائيں بابا کہاں سے آتا تھا اور کہاں چلا گيا ۔ اُسے ديکھے 5 پانچ دہائياں ہونے کو ہيں مگر مجھے اُس کی شکل اب بھی ياد ہے اور اُس کی آواز اب بھی ميرے کانوں ميں گونجتی ہے

اسلام آباد ميں ايک مانگنے والی باقاعدہ 2 سے 6 ہفتے کے وقفے سے آتی ۔ کہتی “مدد کر ديں” ۔ ایک دن میں اُسے پيسے دينے گيا تو ديکھا تيس پينتيس سال عمر ہو گی ۔ ميلے کچيلے کپڑے ۔ چہرے پر تھکاوٹ اور پريشانی کے آثار ۔ ساتھ ايک کوئی 3 سال کی بچی اور ايک بچہ چند ماہ کا گود ميں جسے وہ اينٹی بائيوٹک شربت کی ايک خوراک پلا رہی تھی ۔ ميں نے پوچھا “ان بچوں کا باپ کہاں ہے ؟” بولی “نشہ کرتا ہے”۔ اسی حال ميں وہ کئی سال آتی رہی ۔ پيسے لے کر چلی جاتی ۔ جولائی 2009ء ميں ہم لاہور چلے گئے ۔ فروری 2011ء ميں واپس آئے ۔ جون کے شروع ميں ايک دن انٹرکام کی گھنٹی بجی ۔ ميں نے رسيور اُٹھايا ۔ ايک زنانہ آواز آئی “بچے يتيم ہيں ۔ مدد کر ديں”۔ ميں پيسے دينے گيا تو وہی عورت جو پہلے صرف “مدد کر ديں” کہتی تھی ۔ صاف ستھرے کپڑے ۔ چہرے پر پہلے جيسی ہوائياں نہيں اُڑ رہی تھيں ۔ بچے بھی ساتھ نہ تھے ۔ ميں نے پيسے ديئے ۔ وہ چلی گئی ۔ گيٹ سے واپس آتے ہوئے ميں نے سوچا “اس کا خاوند شايد اس کيلئے عذاب تھا ۔ مر گيا تو اس کا بوجھ ہلکا ہو گيا”

کچھ سال پيشتر ايک دن دوپہر کے ڈھائی بجے تھے ۔ گيٹ کی گھنٹی بجی ۔ رسيور اُٹھايا ۔ آواز آئی ” بھوکا ہوں بابا ۔ کھانا کھلا دو”۔ ميں پيسے لے کر باہر نکلا ۔ اُس نے پيسے لينے سے انکار کر ديا ۔ ميں نے کہا ” اس وقت روٹی يا چاول کچھ بھی نہيں ہے”۔ کہنے لگا “بابا ۔ 2 دن کی باسی ہو تو وہ لا دو”۔ ميں اندر گيا بيوی سے پوچھا “انڈے ہيں ؟” بولی “نہيں”۔ ميں نے کہا “اچھا روٹی پکوا دو يا پکا دو ۔ سالن ميں قريبی مارکيٹ سے لے آتا ہوں”۔ گوندھا ہوا آٹا بھی صرف ايک روٹی کا تھا ۔ ميں وہی لے کر باہر گيا ۔ اور مانگنے والے سے کہا “ميں ابھی بازار سے سالن لے کر آتا ہوں”۔ بولا “کہاں جاؤ گے ۔ بابا ۔ پانی لادو ميں پانی سے کھا لوں گا”۔ ساتھ والوں کا نوکر کھڑا سُن رہا تھا بولا “سر ۔ ميں ابھی اندر سے کچھ لے کر آتا ہوں”۔ وہ اچار سے بھری پيالی لے کر آ گيا ۔ بابا نے روٹی پر اچار اُنڈيل ليا ۔ کھا کر پانی پيا ۔ اللہ کا شکر ادا کيا اور بولا “بابا ۔ دو دن سے بھوکا تھا ۔ آج پيٹ ميں کچھ چلا گيا ۔ اللہ بھلا کرے”۔ ميں ديکھتا رہا ۔ وہ چلتا ہوا سيدھا گلی سے نکل گيا ۔ مجھے جب بھی وہ شخص ياد آتا ہے ميں آنسو بہائے بغير نہيں رہ سکتا

ہميں اللہ نے اتنی زيادہ نعمتيں دے رکھی ہيں ۔ ہم اللہ کا کتنا شکر ادا کرتے ہيں ؟ ايک وہ کہ 2 دن بعد ايک روٹی مل گئی تو شکر گذار ہوا اور مطمئن بھی

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ کل ۔ آج اور کل

اگر آدمی ماضی پر روتا رہے
اور
مستقبل کيلئے پريشان رہے
تو
اُس کا آج بھی غارت چلا جائے گا

ماضی کو کوئی بھی تبديل نہيں کر سکتا
مستقبل کيلئے پريشان رہنے سے حال بھی برباد ہو جائے گا

درست سوچ يہ ہے کہ جو انتخاب آج کيا جائے گا
عمومی طور پر اُس کا اثر آنے والے کل پر ہو گا
چنانچہ مستقبل اچھا بنانے کيلئے آج ہی کچھ کرنا ہو گا

سچی محبت ۔ نہ جسمانی نہ رُومانی

سچی محبت نہ جسمانی ہوتی ہے نہ رومانی
سچی محبت جو تھا جو ہے جو ہو گا اور جو نہيں ہو گا سب کی قبوليت ہے
ضروری نہيں کہ خوشيوں سے سرشار لوگوں کو ہر اچھی چيز ملے بلکہ وہ جو اُنہيں مل جائے وہ اسی ميں اچھائی تلاش کر ليتے ہيں

ايک بڑے ہسپتال کی ايمرجنسی استقباليہ ميں کام کرنے والا ڈاکٹر لکھتا ہے

وہ بہت مصروف صبح تھی کہ ساڑھے آٹھ بجے کے قريب ايک بوڑھا شخص جو 80 سال کا ہو گا اپنے انگوٹھے کے ٹانکے نکلوانے کيلئے آيا ۔ اُسے 9 بجے کا وقت ديا گيا تھا مگر وہ جلدی ميں تھا کہ اُسے 9 بجے کسی اور جگہ پہنچنا ہے ۔ ميں نے اہم معلومات لے ليں اور اُسے بيٹھنے کيلئے کہا کيونکہ اس کی باری آنے ميں ايک گھنٹہ سے زيادہ لگ جانے کا اندازہ تھا ۔ ميں نے ديکھا کہ وہ بار بار گھڑی پر نظر ڈال رہا ہے اور پريشان لگتا ہے ۔ اس بزرگ کی پريشانی کا خيال کرتے ہوئے ميں نے خود اس کے زخم کا معائنہ کيا تو زخم مندمل ہوا ديکھ کر ميں نے ايک ڈاکٹر سے مطلوبہ سامان لے کر خود اس کے ٹانکے نکال کر پٹی کر دی

ميں نے اسی اثناء ميں بزرگ سے پوچھا کہ “کيا اُسے کسی اور ڈاکٹر نے 9 بجے کا وقت ديا ہوا ہے کہ وہ اتنی جلدی ميں ہے ؟”
وہ بولا کہ اُس نے ايک نرسنگ ہوم جانا ہے جہاں اُس نے 9 بجے اپنی بيوی کے ساتھ ناشتہ کرنا ہے
اس پر ميں نے بزرگ کی بيوی کی صحت کے بارے ميں پوچھا تو بزرگ نے بتايا کہ اس کی بيوی الزائمر بيماری کا شکار ہونے کے بعد کچھ عرصہ سے نرسنگ ہوم ميں ہے
ميں نے پوچھا کہ “اگر وہ وقت پر نہ پہنچے تو اس کی بيوی ناراض ہو گی ؟”
اُس بزرگ نے جواب ديا کہ “وہ تو پچھلے 5 سال سے مجھے پہچانتی بھی نہيں ہے”

ميں نے حيران ہو کر پوچھا “اور آپ اس کے باوجود ہر صبح اپنی بيوی کے ساتھ ناشتہ کرتے ہيں ؟ حالانکہ وہ پہچانتی بھی نہيں کہ آپ کون ہيں”
بزرگ نے مسکرا کر کہا “درست کہ وہ مجھے نہيں جانتی مگر ميں تو اُسے جانتا ہوں کہ وہ کون ہے”

يہ سن کر ميں نے بڑی مشکل سے اپنے آنسو روکے گو ميرا کليجہ منہ کو آ رہا تھا ۔ ميں نے سوچا “يہ ہے محبت جو ہر انسان کو چاہيئے”

ميرا دارالمطالعہ

اللہ کی بہت کرم نوازی ہے کہ ميں زندگی کی 7 دہائياں گذار چکا ہوں جن ميں 7 جان ليوا واقعات کے بعد بھی اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے زندہ بقائمی ہوش و ہواس رکھا ۔ ايک بار تو موت کا اعلان بھی کر ديا گيا تھا اور مزيد 3 بار متعلقہ ہسپتالوں کے بہترين ڈاکٹروں کے مطابق بچنے کی کوئی اُميد نہ تھی ۔ پچھلی 2 دہائياں يہی سوچتے گذريں کہ اب گيا اور اب گيا ليکن ابھی تک زندہ ہوں مگر کب تک ؟

ميں نے 7 سال قبل بلاگ لکھنا شروع کيا ۔ پھر 6 سال سے زائد قبل پہلے بلاگ کو انگريزی کيلئے مُختص کر کے يہ اُردو کا بلاگ عليحدہ بنايا ۔ ان بلاگز کی وجہ سے صرف چند لوگ ہيں جو مجھے سمجھ سکے ۔ باقی کچھ اپنی دريا دِلی کی وجہ سے عالِم سمجھنے لگے ہيں [يہ اُن کی ذرّہ نوازی ہے] ۔ چند نے مجھے انتہاء پسند کا سُرخا لگا ديا ہے ۔ ايک آدھ ايسے بھی ہيں جو مجھ ميں اور دہشتگرد ميں کوئی فرق نہيں سمجھتے ۔ سوچا کہ اپنی ذات پر سے پردہ سرکانا شروع کيا جائے تاکہ عقل و فہم والے قاری مجھے درست طريقہ سے پہچان سکيں ۔ اللہ نے مُہلت دی تو تھوڑا تھوڑا کر کے اپنے آپ کو بے نقاب کرنے کی سعی ہو گی ۔ عِلم کی فوقيت ہے اور اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے کرم و فضل کے بعد عِلم ہی ہے جس نے مجھے آج تک عزت دے رکھی ہے ۔ اسلئے پہلے ميرا دارالمطالعہ جو ہمارے مکان کی دوسری منزل ميں ہے اور جس ميں بيٹھے رہنے پر ميری بيگم کبھی کبھی کہہ ديتيں ہيں “اُسی سے شادی کی ہوئی ہے آپ نے”
:lol:
يہ دارالمطالعہ ميری آدھی صدی پر محيط کاوشوں کا نتيجہ ہے ۔ اس دارالمطالعہ کی رونق ميں سے دو تين درجن کُتب تو کبھی مانگ کر اور کبھی بغير مانگے غائب ہوئيں ۔ پھر 3 سال قبل 45 جلديں ميری اجازت سے ميرا بڑا بيٹا زکريا اپنے ساتھ امريکا لے گيا ۔ اب ميرے پاس چھوٹی بڑی ملا کر 600 کے لگ بھگ جلديں موجود ہيں ۔ اِن ميں چيدہ چيدہ کُتب ہيں ۔ قرآن الحکيم کے مختلف اُردو يا انگريزی تراجم اور تفاسير ۔ مجموعات حديث ۔ سيرت النبی ۔ کتاب الفقہ ۔ مجموعات فتاوٰی ۔ دائرہ معارف الاسلاميہ [Encyclopedia of Islam]۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے خطوط و تقارير اور ان کے متعلق لکھی گئی اہم کُتب ۔ علامہ اقبال کی اور ان پر لکھی گئی تحارير ۔ معروف شعراء کا کلام ۔ اَينساکلوپيڈيا بريٹينکا [Encyclopedia Britanica]۔ دی سوشل سائنس اَينساکلوپيڈيا [The Social Science Encyclopedia]۔ ڈکشنرياں [اُردو اُردو ۔ انگريزی اُردو ۔ انگريزی انگريزی ۔ انگريزی جرمن ۔ انگريزی عربی] ۔ نفسيات ۔ منيجمنٹ ۔ انجنيئرنگ ۔ سائنس اور تاريخ پر کُتب ۔ کردار سازی کے سلسلہ کی معروف کُتب ۔ ناول اور کہانياں پڑھے مگر محفوظ نہيں رکھے ۔ اغواء ہونے والی کُتب ميں جو مجھے نہيں بھُولتيں وہ يہ ہيں جن ميں سے پہلی 3 مختلف يونيورسٹيوں کے پروفيسر صاحبان کی سالہا سال کی تحقيقات پر مبنی تھيں

(1) Child Psychology
(2) How to Increase Your Will Power
(3) Modern Sex Life
(4) A Thief’s Biography and Advice which was written in prison by a thief who was caught after having committed hundreds of burglaries

ميرے دارالمطالعہ کی شکل و شباہت

ميں کمپيوٹر پر کام کر رہا ہوں ۔ يہ ہے ميرے پيچھے والی ديوار کے ساتھ لگی 11 فٹ اُونچی اور 6 فٹ چوڑی الماری جس کا نچلا 3 فٹ حصہ نظر نہيں آ رہا ۔ نچلے حصہ ميں ميرے لکھے ہوئے وہ مسودے پڑے ہيں جو ابھی تک کمپيوٹر کی نظر نہيں ہو سکے
.

.
يہ ہے ميرے پيچھے والی ديوار کے ساتھ ميرے داہنی طرف کی 6 فٹ اْونچی اور 4 فٹ چوڑی الماری
.

.
يہ ہے ميرے پيچھے والی ديوار کے ساتھ ميرے بائيں طرف کی 4 فٹ اُونچی اور 4 فٹ چوڑی الماری
.

.
يہ ہے ميرے داہنی طرف والی ديوار کے ساتھ کی ساڑھے 3 فٹ اُونچی اور 4 فٹ چوڑی الماری
.

.
يہ ہے ميرے بائيں طرف والی ديوار کے ساتھ کی 4 فٹ اُونچی اور 3 فٹ چوڑی الماری اور ميز جو ميں لکھنے کيلئے استعمال کرتا ہوں
.

.
يہ ہے ميرے کمپيوٹر والی ميز اور کمپيوٹر اپنے پورے خاندان کے ساتھ ۔ داہنی طرف تھوڑا سا ليزر جيٹ پرِنٹر نظر آ رہا ہے ۔ ميز کے نيچے بائيں طرف 2 يو پی ايس نيچے اُوپر پڑے نظر آ رہے ہيں ۔ ان کے قريب اُوپر کی طرف ايک چھوٹی سی روشنی نظر آ رہی ہے وہ سٹيوال جاپان کا بنا ہوا وولٹيج سٹيبِیلائزر ہے جو ميں نے اپنے پہلے کمپيوٹر کے ساتھ 1987ء کے شروع ميں خريدا تھا اور اب تک ماشاء اللہ ميرا ساتھ دے رہا ہے ۔ اُس زمانہ ميں بجلی بند نہيں ہوا کرتی تھی اسلئے يو پی ايس کی ضرورت نہ تھی
.

.
ميں نے 1987ء ميں درميان والی کُرسی خريدی ۔ اس کی نشت چھوٹی تھی ۔ جب اس کا فوم خراب ہو گيا تو ميں نے بڑھئی کو کہا کہ نشست کو بڑا کر کے نيا فوم لگا دے ۔ اُس نے اس کی شکل ہی بگاڑ دی ۔ اس کے بعد اس کے ساتھ والی سليٹی [grey] رنگ کی کرسی لی ۔ لاہور گئے تو کالے رنگ والی کرسی خريدی جو ميں ابھی تک استعمال کر رہا ہوں
.

چَوندے چَوندے شعر

نقل کرنا چاہتا تھا حبیب جالب کے اشعار جو کل ورق گردانی کرتے ہوئے حسب حال محسوس ہوئے تھے مگر حالات نے دماغ نچوڑ ديا اور جو عرق نکلا اُس کے پسِ منظر ميں يہ موسيقی تھی

وہ ہم سے رُوٹھ گئی ہے
ہے کوئی جو منا کے لائے
وہ چھوڑ کر ہميں چلی گئی ہے
ہے کوئی جو اُسے واپس لائے
وہ ہم سے کيوں ہوتی ہے ناراض
ہم نے کبھی نہ کيا اُس پہ اعتراض

معمول اُس کا يہی ہے کئی سال سے کہ دن ميں چار پانچ بار روٹھ کے چلی جاتی ہے اور گھنٹے ڈيڑھ گھنٹے تک واپس آ جاتی ہے مگر کل سے نجانے اُس نے کس بات کا بُرا منايا کہ بار بار رُوٹھتی رہی مگر آج صبح کی ايسی گئی واپس آنے کا نام ہی نہ لے رہے تھی ۔ کئی بار اُس کے ميکے والوں کو ٹيليفون کيا ۔ مِنت سماجت کی پھر کہيں 12 بجے آئی ہے ۔ اللہ کرے اب نہ روٹھے ۔ کيا سمجھے خواتين و حضرات ؟

حبیب جالب کا کلام

کوئی دم کی رات ہے یہ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ کوئی پل کی بات ہے یہ
نہ رہے گا کوئی قاتل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ رہیں گی قتل گاہیں
میں زمین کا آدمی ہوں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے کام ہے زمیں سے
یہ فلک پہ رہنے والے [حکمران] ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے چاہیں یا نہ چاہیں
نہ مذاق اڑا سکیں گے يہ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری مفلسی کا جالب
یہ [زرداری کے] بلند و بام ایواں ۔ یہ [دنياوی پيروں کی] عظیم بار گاہیں

سمجھ سے باہر

اپنے معاشرے ميں جہاں اچھی روايات اور عادات پائی جاتی ہيں وہاں ميرے ہموطنوں کی بھاری تعداد ميں خواہ وہ کتنا ہی پڑے لکھے ہوں چند ايسی عادات پائی جاتی ہيں جو ميری سمجھ ميں آج تک نہ آسکيں

1 ۔ حقيقت کی نسبت افواہيں سننا زيادہ پسند کرتے ہيں ۔ اخباری اور ٹی وی بالخصوص بی بی سی اور اسی طرح کے فرنگی ذرائع ابلاغ پر بلا چُوں و چرا اعتبار کر ليتے ہيں مگر زمينی حقائق کو بغير غور و مطالعہ کے رَد يا نامنظور کر ديتے ہيں ۔ اگر کوئی اُن کی توجہ حقائق کی طرف دلانے کی کوشش کرے تو اُس کا تمسخر اُڑاتے ہيں ۔ بہت رعائت کريں تو کہہ ديں گے “کس دنيا ميں رہتے ہو ؟”

2 ۔ کوئی بات گھڑ کر دوسرے کو سنائيں گے ۔ سُننے والا شخص بغير غور اور تشخيص کے کسی دوسرے کو وہ من گھڑت خبر يا کہانی سنائے گا ۔ کچھ دن بعد ہر سننے اور سنانے والا اس من گھڑت خبر کو حقيقت ماننا شروع کر ديتا ہے

3 ۔ جو چيز ۔ جگہ يا ادارہ ايک شخص نے اندر تو کيا باہر سے بھی نہ ديکھا ہو گا اُس کے متعلق وہ غيرمصدقہ باتيں بڑے وثوق کے ساتھ بيان کرے گا

يہ بھولی بسری باتيں مجھے اسلئے ياد آئيں کہ کچھ ماہ قبل ايک بلاگ پر کچھ ايسے دلائل باوثوق طريقہ سے بی بی سی کے حوالے سے کچھ دلائلديئے گئے تھے جو زمينی حقائق سے ميل نہيں کھاتے تھے ۔ جس ادارے کا وہ ذکر کر رہے تھے ميں نے اپنی زندگی کا بہترين حصہ اُسی ادارے کی ملازمت ميں گذارا تھا

شايد جون يا جولائی 1965ء کی بات ہے کہ ميں کراچی ميں ورک سٹڈی ٹيکنيکس کورس کر رہا تھا ۔ ايک شام ميں اپنے ايک بزرگ جو 1947ء ميں حيدر آباد دکن سے ہجرت کر کے آئے تو کراچی ميں رہائش پذير ہو گئے تھے اُنہيں ملنے گيا ۔ اُن کے ساتھ اُن کے کوئی دوست بيٹھے تھے ۔ بزرگ نے ميرا تعارف اُن سے کراتے ہوئے کہا “يہ انجنيئر ہے اور پاکستان آرڈننس فيکڑيز ميں ملازم ہے”۔ موصوف طنزيہ بولے “وہ فيکٹری جو آج تک لِپ سٹک پاؤڈر کے علاوہ کچھ نہيں بنا سکی”
وہ بزرگ تھے اور ميری اُن سے جان پہچان بھی نہ تھی دوسرے ميں بداخلاق نہيں ہوں اسلئے خاموش رہا

بات ہے شروع 1970ء کی دہائی کی ۔ ميں واہ سے کسی ذاتی کام کے سلسلہ ميں راولپنڈی گيا اور واپس ويگن پر آ رہا تھا ۔ ميرے آگے والی نشست پر ايک صاحب بڑے وثوق کے ساتھ پاکستان آرڈننس فيکٹريز کی ويپنز فيکٹری کے متعلق باتيں کر رہے تھے ۔ ميں غور سے سُنتا رہا ۔ وہ صاحب کچھ خود ساختہ خامياں بتا رہے تھے اور کچھ ايسی چيزوں کا وہاں بننے کا ذکر کر رہے تھے جو وہاں کبھی نہيں بنيں تھيں ۔ جب من گھڑتی کی انتہاء ہو گئی تو ميں نے پوچھا “معاف کيجئے گا ۔ آپ ويپنز فيکٹری ميں کام کرتے ہيں ؟”
جواب ملا “نہيں”
ميں نے پوچھا “آپ کبھی ويپنز فيکٹری کے اندر گئے ہيں ؟”
جواب ملا “نہيں”
ميں نے پوچھا “آپ کو کوئی دوست يا رشتہ دار فيکٹری ميں کام کرتا ہے ؟”
جواب ملا “نہيں”
اس پر ميں نے کہا “ويپنز فيکٹری جس کا آپ ذکر کر رہے تھے ميں اس کا پروڈکشن منيجر ہوں”
اس کے بعد وہ صاحب چُپ بيٹے رہے
ويسے وہ زمانہ پھر بھی اچھا تھا ۔ آجکل تو لوگ اپنی غلط بات درست ثابت کرنے کيلئے جان لڑا ديتے ہيں

يہ بات 1990ء يا 1991ء کی ہے کہ ميں ايک دوست سے ملنے گيا جو ايم ايس سی انجنيئرنگ ہيں اور انجنيئرنگ کالج لاہور ميں ميرے ہمجماعت تھے ۔ اُن کے پاس ايک جوان بيٹھا تھا ۔ ميرے ساتھ عليک سليک کے بعد ميرے دوست نے اُس جوان سے کہا “تمہاری قسمت اچھی ہے ۔ اجمل صاحب آ گئے ہيں تم ان سے سيکھ سکتے ہو”
اُس جوان نے مايوس سی شکل بناتے ہوئے کہا “يہ نئی ٹيکنالوجی ہے ۔ بڑی عمر کے لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے” اور اُٹھ کر چلا گيا
اُس کے چلے جانے کے بعد ميں نے اپنے دوست کو سواليہ نظروں سے ديکھا تو وہ بولے “ہمارے ہمسائے کا بيٹا ہے ۔ بدقسمت ہے ۔ آج کے جوان اپنے آپ کو بہت ذہين اور عِلم والا سمجھتے ہيں ۔ کمپيوٹر کے بارے ميں بات ہو رہی تھی اور کہہ رہا تھا کہ ميں سيکھنا چاہتا ہوں مگر پاکستان ميں اس ٹيکنالوجی کا اُستاد نہيں ہے جو مجھے سمجھا سکے اور ميرے سوالوں کا جواب دے سکے”