Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط ۔2 ۔ معلومات

ميں اس سے قبل پہلا سوال اور دوسرا سوال اور ذرائع لکھ چکا ہوں ۔ اب ان ذرائع [الف] سے حاصل ہونے والی معلومات [ب] کا خلاصہ پيشِ خدمت ہے

ب ۔ 1 ۔ جن بنگالی پروفيسر صاحبان سے ميری 1957ء ميں ملاقات رہی مشرقی پاکستان کی جامعات کے پروفيسر صاحبان تھے جو لندن سے سائنس ميں پی ايچ ڈی کی اسناد يافتہ تھے ۔ يہ لوگ بہت مُشفق ۔ مُنکسر اور مُحِبِ وطن پاکستانی تھے ۔ ہم نے ان سے اچھے آداب ۔ تعليم سے لگن اور مُلک و قوم کيلئے محنت کا سبق سيکھا

ب ۔ 2 ۔ بنگالی انجنيئر جو ميرے زيرِ تربيت رہے محبِ وطن پاکستانی تھے اور محنت سے کام سيکھتے تھے ۔ وہ 1970ء ميں واپس مشرقی پاکستان چلے گئے تھے ۔ جب مُکتی باہنی کا شور شرابا زوروں پر تھا ان ميں سے ايک پر مُکتی باہنی کی طرف سے الزام عائد کيا گيا کہ وہ غدار ہے اور اگر نہيں تو بنگلا ديش کا جھنڈا اُٹھا کر جلوس کے آگے چلے ۔ وہ شادی شدہ اور ايک چند ماہ کے بچے کا باپ تھا ۔ مُکتی باہنی کے لوگوں سے ڈر کر ايک جلوس ميں جھنڈہ اُٹھا ليا ۔ اس کی بناء پر ايک فوجی افسر نے اُسے اُس کی بيوی چند ماہ کے بچے اور فيکٹری کے افسران کے سامنے گوليوں کی بوچھاڑ سے ہلاک کروا ديا ۔ اُس کی بيوی نے فوجی افسر کے پاؤں پکڑ کر رو کر فرياد کی کہ ميرے خاوند کو نہ مارو ۔ مجبور انسان کو مت مارو ۔ مگر گولی چلانے کا حکم دے ديا گيا ۔ ديکھنے والے افسران ميں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے سويلين افسران بھی موجود تھے وہ خاموش رہے ۔ يہ واقعہ اُنہوں نے ہی مجھے سنايا

ب ۔ 3 ۔ ميرے دوست سِول انجينئر نے بتايا کہ مشرقی پاکستان ميں ساہوکاروں کا راج تھا جن کی بھاری اکثريت ہندو تھی ۔ بھارت سے آئے ہوئے بہاری مسلمان جو مالدار تھے ہندو ساہوکاروں سے پيچھے نہ تھے ۔ مچھيرے جو ساری زندگی مچھلياں پکڑ کر ساہوکاروں کی تجورياں بھرتے تھے اُنہيں مچھلی پکڑنے کی اجازت تھی کھانے کی نہيں ۔ مچھيروں کی کشتياں ساہوکار کی ملکيت تھيں ۔ ساہوکاروں کا قرض کبھی ختم نہيں ہوتا تھا ساری عمر سود ادا کرتے بيت جاتی تھی

ڈھاکہ يونيورسٹی ميں ہندو پروفيسر کافی تھے اور بارسوخ تھے ۔ وہ جو زہر بنگالی مسلمان نوجونوں کے کانوں ميں گھولتے رہے اس نے اُنہيں اپنے ہی ملک سے متنفّر کيا ہوا تھا مگر انتظاميہ اپنی عياشيوں ميں مگن تھی ۔ اُس کے سنائے ہوئے واقعات ميں سے 2 لکھ رہا ہوں ۔ ميرے دوست نے بتايا “ميں مشرقی پاکستان پہنچنے کے بعد ڈھاکہ کے ايک ہوٹل ميں ٹھہرا تھا ۔ اگلے روز ايک درميانی عمر کا آدمی اپنے ساتھ ايک جوان لڑکی لئے ہوئے آيا اور بولا ۔ ‘صاب ۔ يہ لڑکی آپ کا سب کام کرے گی ۔ ہر قسم کا کام ۔ آپ کے پاس ہی رہے گی ۔ ميں نے اُسے ٹال ديا ۔ بات ميری سمجھ ميں آ گئی تھی ۔ ميں نے وہاں فيلڈ ايريا يعنی ديہات ميں ديکھا کہ عام عورتوں کے پاس ايک چادر جسے وہ ساڑھی کی طرح باندھ ليتيں تھيں کے علاوہ پہننے کو کوئی اور لباس نہ تھا اور نہ دھونے کيلئے صابن ۔ وہ جوہڑ يا دريا ميں گھس کر ساڑھی اُتار ديتيں اور پانی ميں مَل کر پھر وہی گيلی ساڑھی زيبِ تن کر کے باہر نکل آتيں”۔

ب ۔ 4 ۔ ميرے نائب مشرِ ماليات دوست جو 1968ء ميں مشرقی پاکستان گئے تھے 3 سال بعد وسط 1971ء ميں واپس آئے ۔ اُنہوں نے بتايا “مشرقی پاکستان ميں سير اور اپنی اصلاح کی غرض سے تبليغ والوں کے ساتھ جانا شروع کيا اور بہت علاقوں کے متعلق معلومات حاصل ہوئيں ۔ ” ايک گھنٹہ سے زيادہ متواتر بولتے ہوئے جو کچھ اُنہوں نے بتايا تھااُس کا خلاصہ يہ ہے

ڈھاکہ يونيورسٹی ميں کچھ ہندو پروفيسر تو 1947ء سے ہی موجود تھے مگر 1965ء کے بعد مزيد ہندو نمعلوم کہاں سے آتے رہے اور پروفيسر تعينات ہوتے رہے ۔ يہ لوگ ناپُختہ ذہن طلباء ميں بنگالی قوميت جگاتے اور مغربی پاکستان کے خلاف رائے ہموار کرتے ۔ شيرِ بنگال ٹيپو سلطان کی جگہ رابندر ناتھ ٹيگور کی مداح سرائی کرتے اور علامہ اقبال کی جگہ ايک مسلمان نام کے دہريئے شاعر [اس وقت نام ميرے ذہن ميں نہيں آ رہا] کی حُبُ البنگلہ کو اُجاگر کرتے ہوئے بنگالی قوميت اُبھاری جاتی تھی ۔ 1970ء کے شروع سے ہی محبِ وطن بنگالی مسلمانوں نے آواز اُٹھانا شروع کی کہ ڈھاکہ يونيورسٹی ميں اسلحہ اکٹھا کيا جا رہا ہے ۔ وہ 1971ء کے شروع ميں خود کچھ طلباء کے ساتھ ڈھاکہ يونيورسٹی ہوسٹل گئے جہاں کے رہائشی طلباء نے بڑے وثوق سے کہا کہ “فلاں فلاں کمروں ميں بہت اسلحہ اکٹھا کيا جا رہا ہے ۔ اُن کی شکائت پر يونيورسٹی انتطاميہ نے کچھ نہيں کيا ۔ ايسا کيوں ہو رہا ہے ؟ اُن کی سمجھ ميں نہيں آرہا تھا ۔ ڈھاکہ کی انتظاميہ اور حکومت مشرقی پاکستان بھی اس کی طرف کوئی توجہ نہيں دے رہی تھی”۔

مشرقی پاکستان کی بھارت کے ساتھ سرحد جنگلوں ۔ نديوں اور دلدلوں کی زمين ہے جہاں سے سرحد پار کرنے والے کو روکنا ناممکن ہے ۔ 1966ء سے بھارت نے تربيت يافتہ جنگجو خُفيہ طور پر مشرقی پاکستان ميں داخل کرنا شروع کر ديئے تھے جنہوں نے مُکتی باہنی بنائی جس ميں مشرقی پاکستان کے مسلمان بہت کم تھے

ان صاحب نے کئی چشم ديد واقعات سنائے جن ميں سے ايک يہ ہے ۔ جب وہ سلہٹ ميں تھے تو فوجی ايک آدمی کی تلاش ميں وہاں پہنچے جس کا اُنہيں صرف نام معلوم تھا چنانچہ وہ اس نام کے ايک جوان کو گرفتار کرنے اُس کے گھر پہنچ گئے ۔ محلہ والوں نے لاکھ سمجھايا کہ يہ جوان تو شريف اور محنتی ہے ۔ گھر سے باہر کبھی نہيں رہا تو دوسرے شہر جا کے اس نے کيسے کاروائی کی ؟ مگر فوجی نہ مانے اور اُسے پکڑ کر لے گئے جس کے بعد اُس کا سراغ نہ ملا ۔ بعد ميں انہی ميں سے ايک فوجی نے آ کر دُکھ کا اظہار کيا کہ اُن سے غلطی ہوئی مگر کمانڈر کا حُکم تھا ہم مجبور تھے

ب ۔ 5 ۔ ميں 1976ء ميں لبيا گيا تھا ۔ وہاں اپنے دوست بنگالی ڈاکٹر سے استفسار کرتا رہتا تھا ۔ اُس نے جو واقعات مجھے کئی ملاقاتوں کے دوران سنائے اُن سے اُوپر ب ۔ 3 کے تحت بيان کی گئی باتوں کی تصديق ہوئی مزيد کا خلاصہ يہ ہے

ہندو ساہوکار وں اور ڈھاکہ يونيورسٹی کے پروفيسروں نے پاکستان بننے کے بعد بھارت کو ہجرت نہ کی بعد ميں ہندو پروفيسروں کی تعداد ميں اضافہ ہوتا رہا

پھر 1969ء ميں خبر عام ہوئی کہ کچھ سالوں سے مشرقی پاکستان ميں بہت سے ايسے لوگ آ کر رہائش پذير ہو رہے ہيں جو کہ بنگالی بولتے ہيں مگر وہ مشرقی پاکستان کے رہنے والے نہيں ہيں ۔ يہ باتيں زبان زدِ عام تھيں اور عوام پريشان تھے مگر انتظاميہ ان سے قطع نظر اپنے آپ ميں مگھن تھی

مُکتی باہنی کے لوگ جن ميں مشرقی پاکستان کے لوگ بہت کم تھے بنگالی قوميت اُبھارتے ۔ مغربی پاکستان کے خلاف پنجابی کہہ کر پروپيگنڈا کرتے اور اس سلسلہ ميں اشتہار لگاتے اور بانٹتے تھے جن ميں10 بے بنياد دعوے تھے ۔ اس وقت مجھے ان دعوں ميں سے يہ ياد ہيں
1 ۔ افسر سب پنجابی ہيں جن کا مغربی پاکستان سے تعلق ہے
2 ۔ چاول سارا بنگال ميں پيدا ہوتا ہے اور اس ميں سے آدھا مغربی پاکستان کو بھيج ديا جاتا ہے جس کے بدلے وہاں سے کچھ نہيں آتا
3 ۔ پاکستان کا سارا زرِ مبادلہ صرف پٹ سن کی برآمد سے حاصل کيا جاتا ہے اور اسے مغربی پاکستان کی ترقی پر خرچ کيا جاتا ہے
4 ۔ مغربی پاکستان والے بنگاليوں کو اچھوت سمجھتے ہيں

مجيب الرحمٰن نے اس پروپيگنڈے سے اور ديہات کے غريب عوام کو دھمکياں دے کر ہی اليکشن جيتا تھا۔ اگر اليکشن سے قبل انتظاميہ اپنا فرض ادا کرتی تو مجيب الرحمٰن مشرقی پاکستان ميں اکثريت حاصل نہيں کر سکتا تھا

يہاں ميں يہ حقيقت بيان کر دوں کہ ايوب خان کی حکومت نے شروع ہی ميں يہ قانون بنايا تھا کہ
1 ۔ جو مغربی پاکستان کا رہنے والا مشرقی پاکستان ميں ملازمت کرے گا يا مشرقی پاکستان کا رہنے والا مغربی پاکستان ميں ملازمت کرے گا اُسے ماہانہ الاؤنس ديا جائے گا جو خاصہ تھا 20 يا 30 فيصد ۔ اس کے علاوہ ہر 3 سال کی ملازمت کے بعد ايک ماہ کی چھُٹی اور پورے خاندان کا ہوائی جہاز اور ريل کے سفر کا کرايہ ديا جائے گا
2 ۔ اسی طرح جو مغربی پاکستان کا رہنے والا مشرقی پاکستان کی لڑکی سے شادی کرے گا يا مشرقی پاکستان کا رہنے والا مغربی پاکستان کی لڑکی سے شادی کرے گا اُسے سپيشل الاؤنس ديا جائے گا
3 ۔ مشرقی پاکستان کے ايل ايس ايم ايف ڈاکٹر کو فوج ميں اُسی طرح بھرتی کيا جائے گا جس طرح مغربی پاکستان کے ايم بی بی ايس ڈاکٹر کو بھرتی کيا جاتا ہے

1970ء ميں يہ خبر پھيل گئی تھی کہ ڈھاکہ يونيورسٹی ميں مکتی باہنی کے نام کی ايک خفيہ جماعت قائم ہو چکی ہے اور يونيورسٹی کے فلاں ہوسٹل ميں اسلحہ اکٹھا کيا جا رہا ہے مگر نہ يونيورسٹی کی انتظاميہ نے اور نہ مشرقی پاکستان کی انتظاميہ نے اس پر کوئی توجہ دی ۔ اس کے نتيجہ ميں مختلف يونيورسٹيوں اور کالجوں کے محبِ وطن طلباء نے شمس اور بدر کے نام سے دو جماعتيں مُکتی باہنی کا مقابلہ کرنے کيلئے بنائيں ۔ 1971ء ميں جب مُکتی باہنی نے دھونس دھاندلی اور محبِ وطن بنگاليوں کا قتل شروع کيا تو شمس اور بدر کے جوانوں نے مُکتی باہنی کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پيش کيا جس کے نتيجہ ميں طلباء کے ساتھ دوسرے محبِ وطن بنگالی جوان بھی شامل ہونا شروع ہوئے ۔ جب فوجی کاروائی شروع ہوئی تو بجائے اس کے کہ شمس و بدر سے مدد لی جاتی يا اُن کی حوصلہ افزائی کی جاتی اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک کيا گيا جو مُکتی باہنی کے ساتھ ہونا چاہيئے تھا
لبيا ميں ميرے ايک پاکستانی ساتھی کو بھارتی ہندو نے ايک وڈيو دی تھی ۔ اس ميں دکھايا گيا تھا کہ ڈھاکہ ميں دوسری منزل کے ايک کمرے ميں خون آلود لاشيں پڑی ہيں اور خون بہتا ہوا سيڑھيوں سے نيچے تک چلا گيا ہے مگر لاشيں گرانے والے جو وہاں سے نکل رہے تھے اُن کے چہرے نہيں دکھائے گئے تھے ۔ ميں نے بنگالی دوست سے اس کا ذکر کيا تو اُس نے کہا “جس علاقے ميں کُشت و خون ہوا وہاں مجيب الرحمٰن کے مخالف لوگ رہتے تھے اور اس علاقہ ميں مکتی باہنی والوں نے قتلِ عام کيا تھا ۔ ايسی وڈيوز ميں دراصل محبِ وطن بنگاليوں کی لاشيں دکھا کر اُنہی کے خلاف پروپيگنڈا کيا گيا تھا
ميں نے پوچھا کہ انتظاميہ اور فوج کيا کر رہے تھے ؟ تو جواب ملا کہ انتظاميہ تو لگتا تھا کہ بزدل تھی اور فوجی اندھا دھند کاروائی کرتے تھے ۔ مجرم تو کاروائی کر کے بھاگ جاتے تھے اور بے قصور ہلاک ہوتے تھے جس سے عوام ميں بھی فوج کے خلاف بد دلی پيدا ہوئی
مجيب الرحمٰن کے بنگلہ ديش بنانے کے بعد بھی بنگاليوں کی اکثريت کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہی رہيں جس کا ثبوت وہ قرار داد ہے جو لاکھوں بنگاليوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو بھيجی تھی کہ بنگلہ ديش کو منظور نہ کيا جائے

ب ۔ 6 ۔ حمودالرحمٰن کميشن بنايا گيا جس نے اپنی رپورٹ براہِ راست ذوالفقار علی بھٹو کو دينا تھی ۔ رپورٹ دی گئی ۔ اس کا کچھ حصہ ذوالفقار علی بھٹو نے جلا ديا اور باقی رپورٹ بھی بغير کسی اور کے ديکھے غائب ہو گئی

سقوطِ ڈھاکہ کے وقت جو صاحب وہاں کمشنر تھے ۔ بھارت کی قيد سے رہائی پانے کے بعد جب وہ بقيہ پاکستان ميں پہنچے تو اُنہوں نے ايک کتاب سانحہ مشرقی پاکستان اور اس کی وجوہات پر لکھی ۔ شائع کرنے کی اجازت کيلئے اس کتاب کا مسؤدہ اُنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو ديا ۔ جو اُنہيں نہ واپس ملا اور نہ پتہ چلا کہ وہ کہاں گيا

دسمبر 1971ء کے آخری دنوں ميں ايک اعلٰی سرکاری عہديدار سے معلوم ہوا کہ 16 دسمبر 1971ء کو سکوتِ ڈھاکہ سے 2 دن قبل جنرل امير عبداللہ خان نيازی بار بار ٹيليفون کرتے رہے کہ اُس کی جنرل يحیٰ خان سے بات کرائی جائے مگر يحیٰ خان کا ٹيليفون ايک عورت اُٹھاتی جس کا لہجہ پاکستانی نہيں تھا وہ انگريزی ميں کہتی کہ يحیٰ خان کوئی کال لينا نہيں چاہتے
اپنی 15 دسمبر کو واپسی سے قبل مگر 12 دسمبر کے بعد ميں نے ٹرانزٹ کيمپ کراچی ميں بھی فوجی افسران کو پريشانی سے ايک دوسرے سے استفسار کرتے سُنا تھا کہ “چيف کہاں ہے ؟”

جيسا کہ اوپر ب ۔ 5 ميں ذکر ہے لاکھوں محبِ وطن بنگاليوں کے دستخطوں سے قراداد بذريعہ برطانيہ پاکستان ميں ذوالفقار علی بھٹو کو بنگلہ ديش نامنظور کرنے کيلئے بھيجی گئی تھی ۔ يہ قراداد ملنے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور ميں پيپلز پارٹی کے ايک بہت بڑے جلسے کا اہتمام کيا ۔ جلسہ شروع ہونے سے پہلے ہی پيپلز پارٹی کے کارکنوں ميں يہ خبر پھيل گئی کہ بنگلہ ديش منظور کيا جائے گا ۔ پيپلز پارٹی کی اکثريت کو يہ منظور نہ تھا ۔ بھٹو صاحب جلسہ گاہ ميں پہنچ گئے مگر حاضريںِ جلسہ نے اُنہيں تقرير نہ کرنے دی ۔ احتجاج ہوتا رہا ۔ 45 منٹ سے زائد کوشش کرنے کے باوجود بھٹو صاحب تقرير نہ کر سکے
اس کے بعد اسلامک کانفرنس کے اجلاس کا پاکستان ميں اہتمام کر کے بھٹو صاحب نے اس ميں بنگلا ديش منظور کرا ليا

معذرت ۔ مضمون کی طوالت کے باعث مجھے ايک اور قسط ميں جانا پڑا ہے جو آخری ہے

سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط ۔1 ۔ دوسرا سوال اور ذرائع

عدنان شاہد صاحب نے سانحہ مشرقی پاکستان کی وجوہات کے متعلق بروقت استفسار کيا تھا ليکن شب و روز محنت کر کے لکھ لينے کے باوجود شائع کرنے ميں تاخير کرنا پڑی جس کا سبب ميں 27 نومبر 2011ء کو بيان کر چکا ہوں ۔ اللہ کی مہربانی سے 16 دسمبر کو ميرا بلاگ نئے ميزبان پر منتقل ہو گيا تھا ليکن اس کی مکمل پڑتال کرنے کيلئے بھی کچھ وقت درکار تھا ۔ بہر کيف آج اس کا آغاز ہو ہی گيا

پہلے سوال کے بعد اب آتے ہيں عدنان شاہد صاحب کے دوسرے سوال پر
شیخ مجیب کے 6 نقاط میں سے وہ نقطہ بیان کیجیے جس کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہوا

شيخ مجيب الرحمٰن کے 7 نقاط تھے ۔اس وقت ميرے ذہن ميں صرف 3 آ رہے ہيں يہ ناقابلِ قبول اور پاکستان توڑنے کے مترادف تھے
1 ۔ خارجہ پاليسی ميں خود مُختاری
2 ۔ دفاع ميں خود مُختاری
3 ۔ کرنسی ميں خود مُختاری

سُنا گيا تھا کہ آخری ملاقات ميں باقی 4 نقاط پر اس وقت کے صدر محمد يحیٰ خان راضی ہوگئے تھے اور مجيب الرحمٰن مندرجہ بالا 3 نقاط کو ملتوی کرنے پر راضی ہو گئے تھے ۔ اِن نقاط سے قطع نظر کرتے ہوئے ميں صرف وہ کچھ مختصر طور پر لکھوں گا جو ميرے علم ميں ميرے ذاتی ذرائع سے آيا مگر ذرائع ابلاغ ميں کم ہی آيا

مناسب ہے کہ پہلے ميں اپنے ذرائع [الف] کا ذکر کروں پھر معلومات [ب] کا جو مجھے ان ذرائع سے حاصل ہوئيں ۔ آخر ميں اِن شاء اللہ اپنا مشاہدہ اور تجزيہ پيش کروں گا

الف ۔ ذرائع

الف ۔ 1 ۔ کسی بنگالی سے ميرا رابطہ پہلی بار 1957ء ميں بلال مسجد ۔ باغبان پورہ لاہور ميں ہوا جہاں انجنيئرنگ کالج کے ہم کچھ طلباء ہر جمعرات کو مغرب اور عشاء کی نمازيں چند ماہ پڑھتے رہے اور ان نمازوں کے درميان تقارير بھی سُنتے تھے جو دين اسلام ۔ دين پر عمل اور دين کيلئے سفر کرنے کے تجربات پر عمدہ عِلم کا ذريعہ ہوتی تھيں

الف ۔ 2 ۔ ميرا دوسرا واسطہ بنگالی بھائيوں سے 1963ء ميں پڑا جب ميں نے پاکستان آرڈننس فيکٹريز کی ملازمت اختيار کی ۔ ان ميں سے 2 کے ساتھ ميرے بہت دوستانہ تعلقات بن گئے
پھر 1967ء ميں 3 بنگالی مکينيکل انجينئر ہماری فيکٹری [ويپنز فيکٹری] ميں تعينات کئے گئے جنہيں ميں نے سکھانا اور تربيت دينا تھی تاکہ وہ اُس کارخانے کو چلا سکيں جو ڈھاکہ کے قريب غازی پور ميں بنايا جا رہا تھا
ميں چونکہ ايک اہم پروجيکٹ پر کام کر رہا تھا اسلئے مغربی پاکستان کے رہائشی ميرے ايک سينيئر اور کچھ جونيئر ساتھيوں کو 3 سال کيلئے مشرقی پاکستان بھيجا گيا تاکہ وہ مجوزہ کارخانہ کو قائم کر سکيں جو اواخر 1970ء ميں مکمل ہو گيا تھا

الف ۔ 3 ۔ پاکستان پی ڈبليو ڈی ميں کام کرنے والے ميرے ايک دوست سِول انجنيئر کو 1966ء ميں 3 سال کيلئے مشرقی پاکستان بھيجا گيا جس نے ڈھاکہ کے مضافات ميں ديہاتی علاقوں کے ڈويلوپمنٹ پروجيکٹ پر کام کيا

الف ۔ 4 ۔ميرا ايک دوست جو وفاقی وزارتِ ماليات ميں اسسٹنٹ فائيناشل ايڈوائزر تھا اُسے 1968ء ميں 3 سال کيلئے مشرقی پاکستان بھيجا گيا

الف ۔ 5 ۔ ميں جب 1976ء ميں لبيا گيا تو بنگلہ ديش سے ڈيپوٹيشن پر آئے ہوئے ايک بنگالی آرتھوپيڈک سرجن سے دوستی ہو گئی اور يہ دوستی 1981ء ميں اس کی بنگلہ ديش واپسی تک جاری رہی

الف ۔ 6 ۔ سرکاری عہديدار ہونے کے ناطے مختلف متعلقہ حلقوں ميں جانے سے ميرے علم ميں آنے والے ايسے حقائق جو وقتاً فوقتاً اخبار ميں شائع ہوئے

جيسا کہ ميں کہہ چکا ہوں موضوع طويل عبارت کا حامل ہے ۔ ميں اسے کوزے ميں بند کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اس سے زيادہ اختصار مضمون کا مقصد کھو دے گا ۔ باقی اِن شاء اللہ چند دنوں ميں

امتحان

آج ميرا ارادہ سانحہ مشرقی پاکستان کے سلسہ ميں عدنان شاہد صاحب کے سوال کا جواب شائع کرنے کا ارادہ تھا ليکن احمد عرفان شفقت صاحب نے 18 دسمبر کو مطلع کيا کہ 15 دسمبر کے بعد کی ميری تحارير اُردو سيارہ پر نمودار نہيں ہو رہيں ۔ يہ ڈی اين ايس کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے ليکن ميں نے اُسی دن اُردو سيارہ کی انتظاميہ کی توجہ بھی اس طرف مبزول کرا دی تھی ۔ آج کی يہ تحرير ديکھنے کيلئے ہے کہ ميرا بلاگ اُردو سيّارہ پر نمودار ہو گيا ہے يا کہ نہيں

پيپلز پارٹی اور نصرت بھٹو

ايک کھلنڈرا نوجوان قائدِ عوام کيسے بنا ؟
پيپلز پارٹی کس کا تخيل تھا ؟
ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پيپلز پارٹی کيونکر قائم رہی ؟
بينظير کو سياست کس نے سکھائی ؟
مرتضٰے بھٹو کيوں قتل ہوا ؟

ميں اپنی پرانی ڈائريوں سے اس پر حقائق کافی حد تک جمع کر چکا تھا کہ ايک مختصر مگر جامع مضمون اسی کے متعلق شائع ہو گيا جو ميری معلومات سے ملتا جُلتا ہے ۔ ملاحظہ فرمايئے

میرا اُن کی شخصیت کے ساتھ پہلا تعارف روزنامہ مساوات میں کام کرنے والے صحافیوں اور کارکنوں کی وساطت سے ہوا۔ وہ اُن دنوں اس ادارے کی چیئرپرسن تھیں اور اُس کے معاملات میں دلچسپی لیتی تھیں۔ ایک روز میں نے اپنے ایک واقفِ کار سے جواسی اخبار میں کام کرتے تھے ۔ بیگم صاحبہ کے مزاج اُن کے رویوں کے بارے میں پوچھا تو اُس نے میری توقع کے بالکل برعکس اُن کی تعریف و توصیف شروع کر دی ۔ مجھے اُن کی باتیں سن کر حیرت انگیز خوشی ہوئی اور میں نے بیگم صاحبہ کی شخصیت کا بھٹو صاحب کی شخصیت سے ہٹ کر مطالعہ شروع کر دیا

اصفہان میں نصرت ایک امیر تاجر کے ہاں پیدا ہوئیں ۔ اُن کے والد کراچی منتقل ہونے کے بعد صابن سازی کا کارخانہ چلانے لگے۔ ایران کے حوالے سے اس خاندان کے تعلقات اسکندر مرزا کی اہلیہ ناہید سے قائم ہوئے جنہوں نے آگے چل کر نصرت اور بھٹو کو شادی کے بندھن میں پرو دیا ۔ اس طرح جوان سال بھٹو جو امریکہ سے تعلیم حاصل کر کے پاکستان آئے اُن کے بیگم نصرت بھٹو کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں صدر اسکندر مرزا سے مراسم پیدا ہوئے جن کی بدولت وہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد میں شامل کر لیے گئے۔

نصرت بھٹو اپنے شوہر کو سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار کر رہی تھیں۔ صدر اسکندر مرزا کے ذریعے مسٹر بھٹو جنرل ایوب خان سے متعارف ہوئے۔ جب اکتوبر 1958ء میں پہلا مارشل لاء لگا تو وہ لندن میں تھے۔ انہیں کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت آئی تو نصرت بھٹو نے اُنہیں یہ دعوت قبول کرنے کا مشورہ دیا چنانچہ اُنہی کے اصرار پر وہ کابینہ میں شامل ہوئے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بھٹو صاحب کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانے میں اُن کی اہلیہ نے ایک خاموش مگر انتہائی فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا جبکہ وہ خود تاریخ کی آنکھ سے چھپی رہی تھیں۔ مسٹر بھٹو ایوب خان کے دور میں وزیرِ خارجہ بنے اور بڑی شہرت پائی۔

اس دوران عائلی زندگی میں کئی نشیب و فراز لیکن نصرت بھٹو نے بڑی دانائی اور فراخ دلی سے کام لیتے ہوئے اپنے شوہر کے لیے کوئی مسئلہ پیدا کیا نہ اپنی جداگانہ شخصیت کا امیج بنانے کی ذرہ برابر کوشش کی۔ ان کی تمام تر توجہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر مرکوز رہی اور اُن کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ بھٹو صاحب عالمی سطح پر بلند پایہ لیڈر کے طور پر پہچانے جائیں اور پھر معاہدہٴ تاشقند کا سخت مرحلہ پیش آیا اور آخر کار صدر ایوب خان اور وزیرِ خارجہ زیڈ اے بھٹو کے راستے جدا ہو گئے اور وہ کابینہ سے نکال دیے گئے۔

آٹھ سال اقتدار میں رہنے کے بعد اُن کے لیے یہ ایک سخت جاں مرحلہ تھا جس میں بیگم نصرت بھٹو نے اُنہیں دلاسہ دیا اور بدلتے ہوئے ملکی حالات کے پیشِ نظر اپنی سیاسی جماعت بنانے کا مشورہ دیا چنانچہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور تین سال کے اندر
پاکستان کے پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور بعد ازاں وزیرِ اعظم کے منصب پر فائز ہونے میں کامیاب رہے۔

بیگم نصرت بھٹو کا پیپلز پارٹی کی تشکیل میں سب سے قابلِ قدر کارنامہ یہ تھا کہ اُنہوں نے اس میں خواتین کا ونگ قائم کیا تحصیل اور ضلع کی سطح پر انتخابات کرائے اور کارکنوں نے اُنہیں قومی سطح پر باقاعدہ منتخب کیا۔ وہ حقیقی معنوں میں جمہوریت کی علمبردار اور اسے سیاسی جماعتوں کے اندر نچلی سطح تک رائج کرنے کی زبردست حامی تھیں۔ اسی ونگ کے ذریعے اُنہوں نے بہت سا فلاحی کام کیااور عام لوگوں کے اندر سیاسی بیداری پیدا کی۔ اُن کے ہاں محبت اور خیر خواہی کا جذبہ گہرا اور ہمہ گیر تھا۔ وہ 1973ء سے 1977ء تک پاکستان کی خاتونِ اوّل رہیں مگر خود نمائی سے پرہیز کیا اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ ہر صبح ناشتے کی میز پر مسٹر بھٹو سے ملکی اور عالمی حالات پر تبادلہٴ خیال کرتیں لیکن امورِ ریاست میں مداخلت سے پرہیز کرتی رہیں۔

وہ اپنے شوہر کو سیاسی تقویت پہنچانے کے ساتھ ساتھ اب اپنی بیٹی بے نظیر کی تعلیمی اور ذہنی تربیت پر توجہ دے رہی تھیں جو مغرب کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم تھیں۔

1977ء میں حالات نے ایک بہت بڑا پلٹا اُن کے شوہر کی حکومت ختم ہو گئی اور فوج نے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ مسٹر بھٹو گرفتار کر لیے گئے اور پیپلز پارٹی کو کڑی آزمائش نے آ لیا۔ اس انتہائی نازک موقع پر بیگم نصرت بھٹو نے غیر معمولی تدبر تحمل اور فولادی عزم کا ثبوت دیا۔ اُن کی چھپی ہوئی صلاحیتیں بے پناہ توانائیوں کے ساتھ اُجاگر ہوئیں اور اُنہوں نے ظلم اور جبر کا ہر وار بڑی بہادری اور مردانگی سے برداشت کیا اور لازوال جدوجہد کے ذریعے جمہوریت کی شمع روشن رکھی۔ مسٹر بھٹو پر جب قتل کا مقدمہ چلنا شروع تو بیگم صاحبہ نے عدالتوں میں بھی
بڑے حوصلہ مندی سے جنگ لڑی اور سیاسی میدان میں ایک شیر کی طرح غاصبوں پر جھپٹی رہیں۔ اُنہوں نے قائدانہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیا اور عوام کے ساتھ اُنہوں نے جو ایک گہرا تعلق پہلے سے پیدا کر رکھا تھا اس کے ذریعے کارکنوں کے اندر مزاحمت کی روح پھونکی اور اُنہیں فوجی آمریت کے مدمقابل ایک مضبوط سیاسی قوت میں ڈھال دیا۔ مسٹر بھٹو کی پھانسی کا صدمہ بھی اُنہوں نے اس طرح برداشت کیا جیسے وہ ہمت و عزیمت کی ایک ناقابلِ تسخیر چٹان ہوں۔

اُن کی فہم و فراست کا سب سے بڑا شاہکار یہ تھا کہ اُنہوں نے اُن تمام عناصر کو بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں اپنے ساتھ شامل کیا جنہوں نے پی این اے میں مسٹر بھٹو کے خلاف عوامی تحریک چلائی تھی۔ اُنہیں سرطان کا مرض لاحق ہو چکا تھا اس کے باوجود اُنہوں نے تحریکِ مزاحمت کی قیادت کی۔ سندھ میں ایم آر ڈی ناکام رہیلیکن جنرل ضیاء الحق پر اس قدر دباوٴ بڑھا کہ انہیں انتخابات کرانا پڑے اور یہی انتخابات آگے چل کر 1988ء کے انتخابات پر منتج ہوئے جس میں پیپلز پارٹی نے قومی سطح پر واضح کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی بیگم نصرت بھٹو کی رہینِ منت تھی مگر اُنہوں نے اقتدار کا تاج اپنی بیٹی بے نظیر کے سر پر رکھا اور خود سینئر وزیر بننے پر اکتفا کیا۔

اُن کا خلوص اور اُن کا ایثارآگے چل کر اقتدار کی کشمکش میں اُن کے لیے بڑی اذیت کا باعث بنا۔ 1993ء میں انتخابات ہوئے تو ماں نے بیٹی سے کہا کہ میرا اصل جان نشین میرا بیٹا میر مرتضیٰ بھٹو ہے جو اس وقت جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہا ہے اسے پاکستان میں آنے اور انتخابات میں آنے کی اجازت دی جائے۔ اُن کی خواہش تھی کہ اسے سندھ کی وزارتِ اعلیٰ کا منصب ملنا چاہیے مگر وزیرِ اعظم بے نظیر
نے اس خیال کی مخالفت کی تاہم بڑی رودکد کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو پاکستان آگئے اور وہ عظیم اور بیدار مغز ماں جس نے بے نظیر بھٹو کو اقتدار میں لانے کے لیے راہ ہموار کی وہ اپنی بیٹی کی کرپٹ حکومت سے بیزار ہوتی گئی اور وہ اپنے بڑے بیٹے کی سیاسی حمایت میں اسی طرح سرگرم ہوگئیں جس طرح اُنہوں نے اپنے شوہر کی جان بچانے اور پیپلز پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے تگ و دو کی تھی۔

بیگم نصرت بھٹو نے اپنی بیٹی وزیرِ اعظم بے نظیر سے کہا کہ میر مرتضیٰ بھٹو کے دو مطالبات ہیں۔ ایک یہ کہ پارٹی میں انتخابات کرائے جائیں
اور دوسرا یہ کہ حکومت کو بدترین کرپشن سے پاک صاف کیا جائے۔ یہ دونوں مطالبات درست ہیں اور اُنہیں تسلیم کیا جائے۔ اس دوٹوک اعلان کے بعد 70 کلفٹن کے سامنے میر مرتضیٰ بھٹو گولیوں سے بھون دیئے گئے کیونکہ وہ جناب آصف زرداری اور بے نظیر کے اقتدار کو چیلنج کر رہے تھے

پھر نہ کہيئے گا خبر نہ ہوئی

اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کيا جائے کم ہے کہ ميرا وعدہ بخير و خوبی پورا ہوا ۔ کل ميری بيٹی نے ميرا يہ بلاگ نئے عملی ميزبان [Web Hosting] پر منتقل کر ديا ۔ اُن تمام محترم بہنوں بھائيوں بھتيجيوں بھتيجوں بھانجيوں بھانجوں جنہيں شکائت تھی کہ کبھی ميرا يہ بلاگ کھُلتا ہے اور کبھی نہيں يا بمُشکل کھُلتا ہے سے التماس ہے کہ ميرے بلاگ کو کھول کر ديکھئيے اور از راہِ کرم مندرجہ ذيل ميں سے کسی ايک پتہ پربرقيہ [e-mail] ارسال کيجئے کہ کھُلا يا نہيں تاکہ مجھے اطمينان ہو کہ ميری يہ خدمت رائيگاں نہيں گئی
iftikharajmal@gmail.com
iabhopal@yahoo.com

آپ سب کے تعاون کا طلبگار
افتخار اجمل بھوپال

احوالِ قوم ۔ مايوسی گناہ ہے

خواجہ الطاف حسين حالی صاحب نے مسلمانانِ ہِند کی حالتِ زار بيان کرنے کے بعد اُنہيں مايوس ہونے سے بچانے اور ترقی کی راہ پر چلنے کا راستہ بھی بتايا ۔ مسدسِ حالی کے اس حصہ کا نام ” ضميمہ ” ہے

بس اے نااُمیدی نہ یوں دل بُجھا تُو ۔ ۔ ۔ جھلک اے اُمید اپنی آخر دکھا تُو
ذرا نا امیدوں کی ڈھارس بندھا تو ۔ ۔ ۔ فسردہ دلوں کے دل آکر بڑھا تو
ترے دم سے مردوں میں جانیں پڑی ہیں ۔ جلی کھیتیاں تو نے سر سبز کی ہیں

بہت ڈوبتوں کو ترایا ہے تو نے ۔ ۔ ۔ بگڑتوں کو اکثر بنایا ہے تونے
اکھڑتے دلوں کو جمایا ہے تونے ۔ ۔ ۔ اجڑتے گھروں کو بسایا ہے تونے
بہت تونے پستوں کو بالا کیا ہے ۔ ۔ ۔ اندھیرے میں اکثر اجالا کیا ہے

نہیں فکر تو دل بڑھاتی ہے جب تک ۔ دماغوں میں بو تیری آتی ہے جب تک
یہ سچ ہے کہ حالت ہماری زبوں ہے ۔ عزیزوں کی غفلت وہی جوں کی توں ہے
جہالت وہی قوم کی رہنموں ہے ۔ ۔ ۔ تعصب کی گردن پہ ملت کا خوں ہے
مگر اے امید اک سہارا ہے تیرا ۔ ۔ ۔ کہ جلوہ یہ دنیا میں سارا ہے تیرا

ہم ترقی چاہتے ہيں ؟؟؟

آج بلکہ يوں کہنا چاہيئے کہ پچھلی کئی دہائيوں سے ہم لوگ مُلک و قوم کے دن بدن رُو بتنزل ہونے کا ہر محفل ميں رونا روتے ہيں ۔ تنزل کا مُوجب کوئی سياستدانوں کو قرار ديتا ہے تو کوئی فوجی آمروں کو اور کچھ ايسے بھی ہيں جو مُلا يا مُلا کے پڑھائے ہوئے اُن 18 فيصد افراد کو قرار موردِ الزام ٹھہراتے ہيں جنہوں نے مُلک ميں خواندگی کی شرح کو 17 سے 35 فيصد بنايا ہوا ہے ۔ آخرالذکر ميں اپنے کو زيادہ ذہين سمجھنے والےکچھ ايسے افراد بھی ہيں جو مروجہ بدحالی کا سبب دين اسلام کو قرار ديتے ہيں

ہموطنوں ميں پڑھے لکھوں سميت اکثريت کا يہ حال ہے کہ انہيں مطالعہ کا شوق نہيں ۔ وہ صرف نصاب کی کتب پڑھتے ہيں اسناد حاصل کرنے کيلئے اور بعض تو نصاب کی کُتب بھی پوری نہيں پڑھتے ۔ تعليميافتہ بننے يا اچھی عملی زندگی گذارنے کيلئے نصابی کُتب کے ساتھ ساتھ تاريخ ۔ معاشرتی اور معاشی علوم کا مطالعہ ضروری ہوتا ہے اور يہ عادت نمعلوم کيوں ہموطنوں کی بھاری اکثريت ميں نہيں ملتی ۔ ہماری قوم کی ريخت و ناکامی کا يہی بڑا سبب ہے

دُور کيوں جايئے ۔ پڑھے لکھے ہموطنوں کی بھاری اکثريت کو 6 دہائياں پرانی اپنے ہی مُلک کی تاريخ کا ہی عِلم نہيں تو اور کيا توقع کی جائے ۔ اسی لئے يہ لوگ شکائت کرتے ہيں کہ مُلک ميں کسی نے 64 سال سے کچھ نہيں کيا ۔ صرف معاشی پہلو ہی کو ديکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہماری دِگرگوں حالت ہموطنوں کی بلاجواز شاہانہ عادات کا نتيجہ ہے ۔ آج کے دور ميں کسی سرکاری دفتر ميں چلے جائيے اور صرف قلم اور کاغذ کے استعمال کا تخمينہ لگايئے ۔ پھر اس کا مقابلہ کيجئے اُن لوگوں کے طريقے سے جنہوں نے اس مُلک کو حاصل کيا اور ترقی کی راہ پر ڈالا تھا

ميں نے پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں يکم مئی 1963ء ميں ملازمت شروع کی ۔ مجھے اُس وقت کے سمال آرمز گروپ [جو 1967ء ميں ويپنز فيکٹری بنا] ميں تعينات کيا گيا ۔ سمال آرمز گروپ کے سربراہ ورکس منيجر تھے جن کے ماتحت ميرے سميت 2 اسسٹنٹ ورکس منيجر اور ايک سيکشن آفيسر ايڈمن تھے ۔ سيکشن آفيسر کے برابر عہدے کے 8 فورمين متذکرہ 2 اسسٹنٹ منيجرز کے ماتحت تھے پھر اُن کے ماتحت اسسٹنٹ فورمين ۔ چارجمين ۔ سپروائزر اور ورکمين وغيرہ تھے

ميں نے ديکھا کہ ہمارے دفاتر ميں کوئی ايسا کاغذ جس کے ايک طرف لکھا ہوا ہو اور اس کی ضرورت نہ رہی ہو تو اُسے ضائع نہيں کيا جاتا تھا بلکہ لکھائی پر صرف ايک کاٹا لگا کر اس کے دوسری طرف لکھنے کيلئے استعمال کی جاتی تھی ۔ اسی طرح جو لفافہ ڈاک ميں موصول ہو اُس پر جہاں پتہ لکھا ہوتا تھا ايک پرچی چپکا کر لفافہ دوبارہ استعمال کيا جاتا تھا ۔ کاغذوں کو نتھی کرنے کيلئے لوہے کے پِن کی بجائے کانٹے استعمال کئے جاتے تھے جو قريب ہی اُگے کيکر کے درخت سے اُتارے جاتے تھے ۔ ہماری فيکٹری ميں صرف ايک ٹائپسٹ تھا اور ايک ہی ٹائپ رائٹر اسلئے کئی خطوط نب ہولڈر يا پکی پنسل سے ہی لکھے جاتے تھے

گليوں اور سڑکوں پر لگی بتياں کوئی توڑتا نہيں تھا ۔ نہ کوئی دوسری املاک کو نقصان پہنچاتا تھا ۔ طلباء اور طالبات اپنی چھٹيوں کے دوران دشمن کے ہوائی حملے سے بچنے اور اس کے بعد پيدا ہونے والی صورتِ حال سے نپٹنے ۔ ابتدائی طبی امداد اور دوسرے فلاحی کورس کرتے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ معلوماتِ عامہ کے امتحاں پاس کرتے تھے

ہماری فيکٹری ميں سيکشن آفيسر ايڈمن 50 سالہ اشرف علی صاحب تھے جو 1947ء ميں وسط بھارت سے ہجرت کر کے آئے تھے ۔ چونکہ وہاں پر وہ سرکاری سيکرٹيريئٹ کے ملازم تھے اسلئے پاکستان پہنچنے پر اُنہيں کراچی ميں سيکرٹيريئٹ ميں ملازمت دی گئی ۔ وہاں سے 1953ء ميں اُن کا تبادلہ پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں ہوا تھا ۔ ميں نے اشرف علی صاحب کو ديکھا کہ ردّی کاغذ کی نلکی بنا کر ايک چھوٹی سی پنسل کے پيچھے لگا کر اسے لمبا کيا ہوا تھا کہ لکھنے کيلئے ہاتھ ميں آ سکے ۔ مجھے کام شروع کرنے کيلئے ايک ماہ کيلئے 2 پنسليں ملی تھيں ۔ ميرے پاس لکھنے کا کام کم تھا سو ميں نے ان ميں سے ايک اشرف علی صاحب کو پيش کی تو اُنہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ يہ کہا “بھائی ميں چند سال ميں ريٹائر ہونے والا ہوں اور اپنی عادت خراب نہيں کرنا چاہتا کہ ريٹائرمنٹ کے بعد مجھے صرف پنشن پر گذر کرنا ہے”۔

اس کے بعد اُنہوں نے جو کچھ کہا وہ دورِ حاضر کے ہموطنوں کو اگر ہوش ميں نہ لائے تو پھر وہ اسی کے مستحق ہيں جو کچھ آجکل ہو رہا ہے ۔ اور عمران خان تو کيا شايد کوئی فرشتہ بھی آ کر اس مُلک و قوم کو درست نہ کر سکے ۔ اشرف علی صاحب نے مجھے جو بتايا تھا اُس کا خلاصہ يہ ہے

“جب پاکستان بنا تو ہم سی پی سے لُٹے پُٹے کراچی پہنچے سرحد پر نام اور دوسرے کوائف درج کئے جاتے تھے سو ہم نے لکھوا ديا ۔ کچھ دن ہميں کراچی مہاجرين کيمپ ميں رکھا گيا ۔پھر جوں جوں ضرورت ہوتی آدميوں کو ان کی تعليم اور تجربہ کے مطابق چھوٹی موٹی ملازمت دے دی جاتی سو ہميں بھی سيکرٹيريئٹ ميں ملازمت مل گئی ۔ وہاں نہ کوئی کرسی تھی نہ کوئی ميز ۔ کچھ کاغذ جن کی ايک طرف کچھ لکھا تھا اور ايک پکی پنسل دے دی گئی ۔ ايک ساتھی جو پہلے سے موجود تھے اور ايک پيٹی [wooden crate] کو ميز بنائے بيٹھے تھے کہنے لگے کہ آج چھٹی کے بعد ميرے ساتھ چليں ۔ وہ چھٹی کے بعد مجھے کيماڑی لے گئے ۔ وہاں خالی پيٹياں پڑی تھيں ۔ ہم نے ايک چھوٹی اور ايک بڑی اُٹھا لی ۔ اگلے روز ہم دفتر ميں ميز لگا کر کرسی پر بيٹھے ۔ ہميں 3 ماہ تنخواہ پيسوں ميں نہيں ملی بلکہ چاول ۔ آٹا اور دال وغيرہ دے ديا جاتا تھا اور سب خوش تھے ۔ اپنا کام بڑے شوق اور انہماک سے کرتے تھے ۔ ايک دوسرے کا خيال بھی رکھتے تھے ۔ کسی کو کوئی پريشانی نہ تھی ۔ ہم پيدل ہی دفتر آتے جاتے تھے ۔ جن لوگوں کی رہائش دور تھی وہ صبح تڑکے گھر سے نکلتے تھے ۔ ہميں جو پنسل ملتی تھی اُسے ہم آخری حد تک استعمال کرتے تھے ۔ کوئی 6 ماہ بعد ہميں سياہی کا سفوف ۔ دوات ۔ نب اور ہولڈر مل گئے ۔ ليکن پکی پنسل ساتھ ملتی رہی کيونکہ نب سے کاپياں نہيں بن سکتی تھيں”۔

يہاں يہ ذکر بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان بننے کے بعد بھارت ميں گندم کی شديد قلت پيدا ہوئی تو مہاتما کرم داس موہن چند گاندھی نے پورے بھارت کا دورہ کيا اور خود آلو کی روٹی کھا کر عوام کو بھی آلو کی روٹی کھانے کی ترغيب دی تھی جو آج کی اُن کی ترقی کا پيش خيمہ ثابت ہوئی

ملک فيروز خان نون 1957ء ميں پاکستان کے وزير اعظم رہے ہيں ۔ اُن کا گھر ميں دفتر ايک چھوٹی سی ميز اور ايک کرسی پر مشتمل تھا جو اُنہوں نے اپنے سونے کے کمرے ہی ميں لگائی ہوئی تھی ۔ ايک دن ان کی بيوی بيگم وقارالنساء نون نے ذاتی خط لکھا اور اُسی ميز پر رکھ ديا ۔ جب وقت کے پاکستان کے وزير اعظم گھر آئے تو بيوی نے کہا يہ خط ڈاکخانے ميں ڈال آئيں
وزير اعظم نے پوچھا “يہ کاغذ کہاں سے ليا ہے ؟”
بيوی “آپ کی ميز سے”
وزير اعظم “اور يہ سياہی”
بيوی ” آپ کی ميز سے”
وزير اعظم غصے ميں” نہ يہ کاغذ تمہارے خاوند کا ہے اور نہ سياہی ۔ يہ دونوں بلکہ يہ دفتر وزيرِ اعظم پاکستان کا ہے ۔ اب يہ کمی پوری کرنا ہو گی”

کاش کہ تيرے دِل ميں اُتر جائے ميری بات