Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

کِنّے کِنّے جانا بِلو دے دے گھر

عمران خان کی سونامی کا حصہ بننے کيلئے تيار نوجوانو ۔ نواز شريف کے قدم بڑھانے والے جوانو ۔ جماعتِ اسلامی کے جلسے کو رونق بخشنے والے پِير و جواں اور اس ملک پاکستان سے محبت رکھنے والے باقی جوانو اور بزرگو

السلام عليکم

اين آر او عملدآمد کيس کے فيصلے ميں عدالتِ عظمٰی نے ايک اختيار يہ بھی رکھا ہے کہ اس ملک پاکستان کی قسمت کا فيصلہ اس ميں بسنے والے 8 کروڑ بالغ عورتيں اور مرد کريں

ايسا وقت اس سے پہلے مسلمانانِ ہند پر آيا تھا تو اُنہوں نے اپنا فرض احسن طريقہ سے نبھاتے ہوئے اپنی جانوں اور مال کی پرواہ نہ کی اور ہميں يہ ملک عطا کر گئے

اب اس ملک کی حفاظت اور پرورش ہم آپ کے ہاتھ ميں ہے

يہ امتحان ہم آپ پر آيا ہے ۔ آپ اگر چاہتے ہيں کہ آئين و قانون کی حکمرانی ہو تو ميدان ميں اُتريں اور حکمرانوں پر ثابت کر ديں کہ پچھلے کئی سالوں کی لوٹ مار اور ملکی اداروں کی بگڑتی ہوئی حالت کو مزيد برداشت نہيں کيا جا سکتا

مت بھوليں کہ يورپ کے ايک ملک ميں 35 ہزار افراد نے بغير ايک ٹہنی بھی توڑے اور بغير کسی کاغذ کو بھی آگ لگائے اپنے لُٹيرے صدر کو بھاگنے پر مجبور کر ديا تھا

ايسے مواقع بار بار نہيں آيا کرتے ۔ يہ وقت نکل گيا تو پھر اپنے ہاتھوں اپنی ہی تباہی کے سوا کچھ نہ ملے گا

مسٹر کلِين ؟ ؟ ؟

جنرل ريٹائرڈ پرویز مشرف پاکستان کے مسٹر کلین [دیانتدار شخص] ہونے کے دعویدار ہیں ۔ ريٹائر ہونے سے کچھ پہلے پرویز مشرف نے اپنی خود نوشت میں اعتراف کیا تھا کہ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا ۔ نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے چند ماہ بعد پرویز مشرف نے اپنے اثاثے ظاہر کئے تھے جن کے مطابق ان کے پاس بمشکل ہی نقد رقم اور ملک کے مختلف حصوں میں چند پلاٹ تھے

اب پرویز مشرف پاکستان میں موجود اپنے ذاتی ملازمین کو کم از کم 500000 روپے ماہانہ تنخواہ ادا کر رہے ہیں

مزيد پرویز مشرف نے غیر ملکی بینکوں میں اکاؤنٹس کے علاوہ غير ممالک میں سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ پرویز مشرف اور صہبا مشرف کے 8 مشترکہ اکاؤنٹ ہيں جن میں علی الترتيب
17000000 اماراتی درہم
535000 امريکی ڈالر
7600000 اماراتی درہم
8000000 اماراتی درہم
8000000 امريکی ڈالر
8000000 اماراتی درہم
8000000 اماراتی درہم
اور 130000 امريکی ڈالر موجود ہيں

مزيد دبئی کی ایک آن لائن ٹریڈنگ سروس میں پرویز مشرف نے گزشتہ سال کے وسط میں 1600000 ڈالر کی سرمایہ کاری کی

يہ عِلم ميں آنے والے اثاثے صرف متحدہ عرب امارات ميں ہيں
پاکستان ۔ امريکا ۔ برطانيہ يا دوسرے ممالک کے اثاثے اس کے علاوہ ہوں گے
پاکستان اور دوسرے ممالک ميں عالی شان مکانات بھی ہيں

تفصيلات يہاں اور يہاں کلک کر کے پڑھی جا سکتی ہيں

قديم اور جديد کا امتزاج

آجکل ٹی وی پر ايک گيت چلايا جا رہا ہے جو شہزاد رائے نے جديد موسيقی پر ترتيب ديا ہے ۔ اس ميں اہم کارمنصبی بلوچستان کے ايک گاؤں کے رہنے والے کا ہے ۔ اس گيت نے مجھے لڑکپن اور نوجوانی کی ياد دلا دی جب ايسے کردار کو بہت اہميت دی جاتی تھی اور سنجيدہ محفلوں ميں بھی انہيں سنا جاتا تھا ۔ يہ لوگ ايک لَے ميں اپنے ہی تيار کردہ گيت پيش کرتے تھے جو کہ ذومعنی ہوتے تھے اور معاشرے کی عکاسی کرتے تھے يا اصلاحِ معاشرہ کی ترغيب ديتے تھے

جديد موسقی کا عبادہ اوڑھے قديم روائتی گيت حاضر ہے جس ميں قديم گيت ہی چھايا ہوا ہے

بچپن کی ياد اور ہماری حالتِ زار

جب ميں سيکنڈ سٹينڈرڈ [شايد تیسری جماعت کے برابر] کا امتحان دے رہا تھا ۔ ميں نے اختياری مضمون موسيقی کا امتحان ديا تو جو گانا ميں نے موسيقی کے ساتھ گا کر اوّل انعام حاصل کيا تھا اْس کے بول يہ تھے

نگری ميری کب تک يونہی برباد رہے گی
دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی

2 جنوری کو ڈاکٹر عبدالقدير خان کی تحرير “اپنا ہُنر بيچتا ہوں” پڑھتے ہوئے مجھے معلوم ہوا کہ يہ گانا برصغیر کے مشہور اِنقلابی شاعر نواب شبّیر حسن خان جوش فلم ڈائريکٹر ڈبلیو زیڈ احمد کے اصرار پر انہوں نے فلم ”ایک رات“ کيلئے لکھا تھا ۔ ايک اور دلچسپ حقيقت يہ ہے کہ ڈبلیو زیڈ احمد صاحب اليکٹريکل انجيئر تھے اور انہوں نے ہميں انجيئرنگ کالج کے پہلے سال ميں پڑھايا بھی تھا ۔اس فلم کيلئے لکھنے پر معاوضہ ملا تھا جس کا نواب شبّیر حسن خان جوش صاحب کو قلق تھا اور انہوں نے يہ شعر لکھا

نہ ہوگا کوئی مجھ سا بھی تیرہ قسمت
میں کم بخت اپنا ہُنر بیچتا ہوں

انہوں نے ہندوستانیوں کی حالت زار بھی یوں بیان کی

سنا تو ہوگا تو نے ایک انسانوں کی بستی ہے
جہاں جیتی ہوئی ہر چیز جینے کو ترستی ہے

ڈاکٹر عبدالقدير خان لکھتے ہيں
چیزیں خریدی اور بیچی جاتی ہیں اسی لئے بیچنے والے کے نام سے اس کا پیشہ جُڑ جاتا ہے جیسے سبزی فروش، گندم فروش، موتی والا، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہمارے ملک میں ایک اور نہایت مکروہ اور قابل ہتک نام بھی ہے اور وہ ہے ”وطن فروش“ جسے عرف عام میں غدّار کہتے ہیں۔ بلکہ یہ نام یا لقب غدّار سے بھی زیادہ قابل نفرت ہے کیونکہ غدّار تو ایک گروپ، فرقہ یا چند لوگوں سے بے وفائی کرتا ہے لیکن وطن فروش تو اپنے ہم وطنوں کی عزّت، غیرت، حمیت، جان و مال کا سودا کردیتا ہے۔ تاریخ میں ایسے وطن فروشوں کی کئی کہانیاں ہیں جن کی وجہ سے نسلیں تا قیامت اُن پر لعنت بھیجتی رہینگی۔ سب سے مشہور مثال ہمارے سامنے بنگال کے میر جعفر اور دکن کے میر صادق کی ہے۔ جن کا ذکر علامہ اقبال نے بھی اپنے کلام میں یوں کیا ہے
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
میر جعفر نے اگر نواب سراج الدولہ کے ساتھ غدّاری نہ کی ہوتی تو ہماری تاریخ مختلف ہوتی اور تمام انگریز وہیں نیست و نابود کردیے جاتے۔ اسی طرح میر صادق نے ٹیپو سلطان کے ساتھ غدّاری کی اور جنوبی ہند پر انگریزوں کا راج قائم ہوگیا ۔ بڑی بڑی حکومتیں غدّاری کے سبب فنا ہوگئیں

پرویز مشرف کا دور آیا تو سیاسی لوگ اور بیورو کریٹس حکومت کے ہم نوا بن کر اقتدار اور دولت دونوں حاصل کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگ گئے۔ جس کی جیتی جاگتی مثال ایک صاحب ہیں جنھوں نے بھٹو صاحب کی پھانسی کے دن ہمارے سامنے مٹھائی بانٹی اور آج ان سے بڑا مخالفین کو لعن طعن کرنے والا ملک میں نہیں ۔ پرویز مشرف کے آرمی چیف بننے اور حکومت پر قبضہ کرنے سے پیشتر ہی فوج کو اور عوام کو اس کے کردار کے بارے میں تمام باتوں کا علم تھا۔ جوں ہی اس نے حکومت پر ناجائز قبضہ کیا تو اپنے ساتھ لٹیروں کا ایک گروہ ملا لیا۔ ملک کی عزّت و وقار کو چند ٹکوں میں بیچ دیا ۔ ہمیں امریکی کالونی بنادیا ۔ اپنے ہزاروں شہریوں کو قتل کردیا اور دوسروں سے کرایا۔ اپنے لوگ بیچ کر اس بارے میں اپنی کتاب میں فخریہ اس کی رقم وصول کرنے کا ذکر کیا۔ عورتیں، بچّے، علماء، بزرگ سیاستداں نواب اکبر بگتی وغیرہ کو شہید کیا۔ چوروں لٹیروں کے اربوں روپے کے قرضے معاف کردیئے

ایک وقت تھا جب ہمارے یہاں سرفروشوں کی عزّت کی جاتی تھی مگر اب ہم ضمیر فروشوں ، غدّاروں اور منافقوں کو ہیرو بنائے پھرتے ہیں ۔ اب وطن فروشوں نے ملک کے اندر ایسی پالیسیاں اختیار کرلی ہیں کہ بجائے جنگ کے ہم اقتصادی ، مالی اوراخلاقی طور پر ختم ہو کر پرانے غدّاروں کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے

ڈاکٹر عبدالقدير خان نے ايک وطن فروش جماعت علی شاہ کا ذکر نہيں کيا جسے پرويز مشرف نے انڈس واٹر کميشن کا سربراہ بنايا تھاکہ پاکستان کے پانيوں کے حقوق حفاظت کرے اور وہ 30 ستمبر 2011ء کو ريٹائر ہوا ۔ جماعت علی شاہ پاکستان کے حق کی بجائے بھارت کے ناجائز اقدامات کی حفاظت کرتا رہا جس کے نتيجہ ميں بھارت نے 2002ء سے 2009ء تک مقبوضہ جموں کشمير کی سرزمين پر دريائے سندھ کا پانی روکنے کيلئے دو بڑے ڈيم بنا لئے ۔ ايک 57 ميٹر اُونچا نمُو بازگو کے مقام پت دريائے سندھ پر اور دوسرا 42 ميٹر اُونچا دريائے سندھ ميں شامل ہونے والی سورو ندی پر چتّر کے مقام پر ۔ ان 2 ڈيموں ميں 4238400000 مکعب فٹ پانی روکا جا سکتا ہے ۔ مزيد يہ کہ پاکستان کے ماحول کی حفاظت کے نام پر بھارت نے اقوامِ متحدہ سے 482083 ڈالر امداد بھی حاصل کر لی مگر جماعت علی شاہ اپنی قوم کو بيوقوف بناتے رہے کہ بھارت کچھ نہيں کر رہا ۔ کمال يہ ہے کہ 23 ستمبر 2011ء کو جماعت علی شاہ کی کارستانياں معلوم ہونے پر اُسے ايگزِٹ کنٹرول لسٹ پر رکھا گيا تھا مگر وہ کنيڈا جا پہنچا ہے

مقبوضہ جموں کشمير ميں بھارت کی طرف بنائے جانے والے ڈيموں کے متعلق ميں ماضی ميں اپنے بلاگ پر اور اخبار ميں لکھتا رہا ہوں ۔ ميں نے اس سلسلہ کی آخری تحرير اسی بلاگ پر 31 جولائی 2010ء کو لکھی تھی

آ بيل مجھے مار

شير محمد خان صاحب 15 جون 1927ء کو تحصيل پھلور ضلع جالندھر مشرقی پنجاب ميں پيدا ہوئے ۔ اُنہوں نے 1946ء ميں پنجاب يونيورسٹی سے بی اے پاس کيا ۔ پاکستان کے معرضِ وجود ميں آنے کے بعد کراچی ميں بسيرا کيا اور 1953ء ميں کراچی يونيورسٹی سے ايم اے پاس کيا ۔ وہ ايک بہترين مزاح نگار تھے اور کالم نويس بھی ۔ عمدہ شاعری کرتے تھے اور سفرنامے بھی خوب لکھتے تھے ۔ دنيا اُنہيں ” ابنِ انشاء ” کے نام سے جانتی پہچانتی ہے ۔ ہاجکنز لِمفوما ميں مبتلاء ہو کر 11 جنوری 1978ء کو لندن ميں وفات پائی اور کراچی ميں دفن ہوئے

ہوا يوں کہ ميں عنوان “نوکری” ديکھ کر جا پہنچا اُس تحرير پر جو ام تحريم صاحبہ نے “ابنِ انشاء” کی تصنيفات ميں سے اپنے بلاگ “ارتقاءِ حيات” پر نقل کی تھی ۔ دوسری غلطی يہ ہوئی کہ وہاں تبصرہ کے خانے ميں لکھ ديا کہ انشاء جی نے کہا کُوچ کرو اور خود کُوچ کر گئے ۔ خوب لکھا کرتے تھے ۔ ان کی آخری نظم يہاں ملاحظہ فرمايئے
https://theajmals.com/blog/2005/11/12

تير تو ميری کمان سے نکل گيا تھا ۔ اب پچھتائے کيا ہو ۔ جواب ميں آيا ايک ميزائل ان الفاظ ميں ” ساتھ ہی اس کی ویڈیو بھی شیئر کرتے تو کیا ہی بات تھی

ميں ٹھہرا غيرتمند [:lol:]۔ ناک پر کبھی مکھی نہ بيٹھنے دی ۔ ہو گيا انٹرنيٹ کے گھوڑے پر سوار اور نکل گيا يوٹيوب کے جنگل کی طرف اور رکھ لی ميرے رب نے ميری عزت اور مل گيا مجھے جس کی تلاش تھی

انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو ۔ ۔ ۔ اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کوسکوں سے کیا مطلب ۔ ۔ ۔ جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں ۔ ۔ ۔ دیکھو توسہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوۓ ۔ ۔ ۔ اس جھولی کو پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا ۔ ۔ ۔ زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آۓ ہو ۔ ۔ ۔ سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں ۔ ۔ ۔ کیوں بن میں نہ جا بسيرا ہم کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے ۔ ۔ ۔ تو اور کرے دیوانہ کیا

ميمو گيٹ ۔ تازہ خبر

سپریم کورٹ نے میمو اسکینڈل کیس کے خلاف پٹیشنز کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیشن قائم کر دیا ہے ۔

سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بنچ نے میمو گیٹ اسکینڈل کے خلاف مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف اور پارٹی رہ نماؤں اسحاق ڈار، خواجہ آصف سمیت دیگر مدعيان کی درخواستوں کی سماعت کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پٹیشنز قابل سماعت ہیں، عدالت نے میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے
بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 4 رکنی عدالتی کمیشن قائم کر دیا ہے
کميشن کے باقی 3 اراکين يہ ہيں
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان،
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم
اسلام آباد کے سیشن جج جسٹس جواد عباس

عدالتی کمیشن کو 4 ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے
میشن اسلام آبا دہائی کورٹ میں کام کرے گا
عدالتی کمیشن ایڈووکیٹس اور فرانزک ماہرین کی خدمات حاصل کرسکے گا
صوبائی چیف سیکریٹریز ، برطانیہ اور کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمیشنز کو عدالتی کمیشن سے معاونت کا پابند بنایا گیا ہے
سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن لاجسٹک سپورٹ دے گا
امریکا میں پاکستانی سفیر، داخلہ، خارجہ اور کابینہ امور کے وفاقی سیکریٹریز، ڈی جی ایف آئی اے اورتمام آئی جیز پولیس کو کمیشن کی معاونت کا حکم دیا گیا ہے
کمیشن کو بیرون ملک سے بھی تحقیقات کرانے کا اختیار ہو گا
عدالتی کمیشن منصور اعجاز اور حسين حقانی کے درمیان ہونے والے بلیک بیری سے 89 ای میلز اور میسیجز کی بلیک بیری کمپنی سے تصدیق کرائے گا
حسين حقانی عدالتی اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جائیں گے
میمو پٹیشنز کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے صدر مملکت نے کوئی جواب داخل نہیں کیا
عدالت نے اپنے یکم دسمبر کے فیصلے کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے خلاف بھی حکم جاری کیا ہے ۔ عدالت نے بابراعوان اور وزراء کی تنقیدی نیوزکانفرنس کا تفصیلی تحریری متن طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقاتی عدالتی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد اس کیس کو دیکھا جائے گا

سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط ۔3 ۔ مشاہدہ اور تجزيہ

ميں اس سے قبل پہلا سوال ۔ دوسرا سوال ۔ ذرائع اور معلومات لکھ چکا ہوں

مشاہدہ

1970ء کے اليکشن ميں ذولفقار علی بھٹو کی پيپلز پارٹی اکثريت حاصل نہيں کر سکی تھی اور اس نے مغربی پاکستان ميں سادہ اکثريت حاصل کی تھی جو مغربی پاکستان کے کُل ووٹوں کے 33 فيصد کی حامل تھی اور مغربی پاکستان کی بقيہ 67 فيصد ووٹ لينے والی آدھی درجن جماعتوں کا اتحاد ٹوٹنے کا نتيجہ تھی

مجيب الرحمٰن کی عوامی ليگ جو مشرقی پاکستان میں بھاری اکثريت سے جيتی تھی نے قومی سطح پر بھی اکثريت حاصل کر لی تھی اسلئے قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس مشرقی پاکستان ميں بُلايا گيا تھا مگر ذوالفقار علی بھٹو نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور جلسہ عام ميں کہا تھا کہ “جو مشرقی پاکستان اسمبلی کے اجلاس ميں شريک ہونے کيلئے جائے گا ہم اُس کی ٹانگيں توڑ ديں گے”۔ اور مزيد کہا تھا “اُدھر تم اور ادھر ہم”۔

جب يحیٰ خان تنازعہ کے حل کيلئے مشرقی پاکستان ميں مجيب الرحمٰن سے بات چيت کر کے واپس آ رہے تھے تو ڈھاکہ ايئر پورٹ پر اُنہوں نے واضح الفاظ ميں کہا تھا کہ
“ميں مجيب الرحمٰن کو حکومت بنانے کی دعوت دوں گا”۔
مغربی پاکستان پہنچنے پر يحیٰ خان ذوالفقار علی بھٹو سے ملے ۔ اس کے بعد مشرقی پاکستان ميں فوجی کاروائی شروع ہو گئی جو ناقابلِ فہم تھی

ميں دسمبر 1971ء کے شروع ميں ايک اہم قومی کام کے سلسلہ ميں پروازيں بند ہونے کے باعث ٹرين پر راولپنڈی سے کراچی روانہ ہوا ۔ ٹرين ڈھائی دن بعد کراچی پہنچی ۔ ميرا قيام فوج کے ٹرانزٹ کيمپ ميں رہا جہاں فوجی افسران کے ساتھ تبادلہ خيال ہوتا رہا ۔ باخبر رہنے کيلئے ميں ايک اچھی قسم کا ٹرانسسٹر ريڈيو ساتھ لے کر گيا تھا جس پر ميں صبح 6 بجے سے رات 12 بجے تک خبريں سُنتا رہتا تھا ۔ اعلان ہوا کہ 12 دسمبر کو صدرِ پاکستان محمد يحیٰ خان قوم سے خطاب کريں گے ۔ نہ صدر کی تقرير نشر ہوئی اور نہ کسی نے تقرير نشر نہ کرنے کے متعلق کوئی اعلان کيا
مگر ڈھاکہ پر 16 دسمبر کو بھارت کا قبضہ ہونے کے بعد صدر يحیٰ خان کی ايک تقرير نشر کی گئی جو حالات سے کوئی مطابقت نہ رکھتی تھی ۔ اس ميں يہ بھی کہا گيا تھا کہ “پاکستان کے دفاع کيلئے ہم خون کا آخری قطرہ تک بہا ديں گے” ۔
اگر اس تقرير کو 16 دسمبر سے قبل يا يوں کہيئے کہ جيسا کہ اعلان ہوا تھا 12 دسمبر کو ہی نشر کيا جاتا تو يہ تقرير وقت کے مطابق نہائت موزوں ہوتی

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے نمائندہ کے طور پر اقوامِ متحدہ ميں جنگ بند کروانے کيلئے گئے مگر زکام کا بہانہ کر کے ہوٹل ميں پڑے رہے
اقوامِ متحدہ ميں شايد پولينڈ نے ايک قراداد پيش کی تھی جو پاکستان کے حق ميں تھی ۔ ذوالفقار علی بھٹو اجلاس ميں گئے بھی تو اداکاری کرتے ہوئے ايسے ہی کوئی کاغذ پھاڑ کر يہ تاءثر ديا کہ اُنہوں نے قرارداد پھاڑ دی ہے اور غصہ دکھاتے ہوئے اجلاس سے باہر نکل گئے

يہاں ذکر کرنا بيجا نہ ہو گا کہ کچھ سالوں سے وطنِ عزيز ميں بڑے ماہرانہ انداز ميں ڈھاکہ يونيورسٹی کے طلباء سے خطاب کے حوالے سے ايک غلط واقعہ پھيلايا جا رہا ہے جو کہ کبھی ہوا ہی نہيں کہ ”مشرقی پاکستان کی عليحدگی کا عمل تو اُس وقت شروع ہو گيا تھا جب محمد علی جناح نے بنگاليوں پر اُردو زبان تھوپ دی تھی“۔
يہ يقينی طور پر پاکستانيوں کو گمراہ کرنے کی معاندانہ کوشش ہے ۔ حقيقت يہ ہے کہ پاکستان بننے سے قبل ہی بنگال سے چوٹی کے 3 رہنما قائد اعظم کے پاس بمبئی ميں پہنچے اور اُن سے درخواست کی کہ وفاق کو مضبوط رکھنے کيلئے يہ ضروری ہے کہ اُردو کو قومی زبان بنايا جائے کيونکہ يہی ايک زبان ہے جسے مسلمانانِ ہند کے مجوّزہ وطن کے تمام علاقوں ميں سمجھا جاتا ہے ۔ ميں اس وقت متعلقہ دستاويزات پيش نہيں کر سکتا ۔ اتنا ضرور کہوں گا کہ اس سلسلہ ميں مولانا محمد علی جوہر کا ايک مضمون بھی ہے جو 1970ء کی دہائی اور شائد 1980ء کی دہائی ميں بھی ۔ اُردو کے تعليمی نصاب کا حصہ تھا ۔ 3 دہائياں قبل اس سلسلہ ميں تحقيق کے بعد ميں نے بھی ايک مضمون لکھا تھا ۔ کاش اُس کا مسئودہ مجھے مل جائے

تجزيہ

گرچہ بُت ہيں جماعت کی آستينوں ميں
مجھے ہے حکمِ اذاں لا اِلَهَ اِلاَلله

ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا کہنا ”جو مشرقی پاکستان اسمبلی کے اجلاس ميں شريک ہونے کيلئے جائے گا اُس کی ہم ٹانگيں توڑ ديں گے“ اور ”اُدھر تم اور ادھر ہم“۔ کيا ہر قيمت پر بادشاہ بننے کی خواہش نہ تھی ؟

يحیٰ خان شرابی اور زانی تھا ايک الگ بات ہے ليکن اُسے جاننے والوں اور 2 بار ميرا اُن سے سرکاری طور پر واسطہ پڑا کے مطابق وہ بھولنے والا شخص نہيں تھا اور بات کا پکّا تھا ۔ جب اس نے اعلان کر ديا تھا کہ ”ميں مجيب الرحمٰن کو حکومت بنانے کی دعوت دوں گا“ تو پھر اپنا قول نبھانے کی بجائے مشرقی پاکستان ميں فوجی کاروائی کيوں کی ؟ اس کا جواب صرف مجبوری ہی ہو سکتا ہے

ذوالفقار علی بھٹو کی اتنی زيادہ بات کيوں مانی گئی ؟ ظاہر ہے کہ اُس کے پيچھے کوئی ايسی طاقت تھی جس نے يحیٰ خان جيسے آدمی کو قابو کيا ہوا تھا ۔ آخر وہ کون تھا يا تھے؟

12 دسمبر کے بعد صدرِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے کمانڈر اِن چيف يحیٰ خان کہاں تھے ؟ خيال رہے چيف آف آرمی سٹاف کے ماتحت صرف آرمی ہوتی ہے جبکہ کمانڈر اِن چِيف کے ماتحت تمام افواجِ پاکستان ہوا کرتی تھيں

جيسا کہ ب ۔ 6 سے بھی اخذ کيا جا سکتا ہے واضح طور پر يحیٰ خان 12 دسمبر 1971ء سے صدر نہيں رہے تھے
يحیٰ خان کو 12 دسمبر کو گرفتار کر ليا گيا تھا ۔ گرفتار کرنے والے 6 سِنيئر جرنيل تھے [4 آرمی کے اور 2 ايئر فورس کے] ۔ يہ سب مرزائی تھے ۔
ذوالفقار علی بھٹو کو اقوامِ متحدہ کے اجلاس کيلئے صدر يحیٰ خان نے نہيں بلکہ ان قابض جرنيلوں نے بھيجا تھا
بھٹو صاحب امريکا پہنچ کر زکام کے بہانے ہوٹل ميں اسلئے پڑے رہے کہ ڈھاکہ پر بھارت کا قبضہ ہو جانے تک اقوامِ متحدہ کی کاروائی نہ ہو سکے ۔ بعد ميں جب اجلاس ميں قرارداد پيش کی گئی جس کی ايک شق يہ تھی کہ فوجيں اپنی حدود ميں جائيں پھر بنگلہ ديش کا حل تلاش کيا جائے تو بھٹو صاحب گرمی دکھا کر اجلاس سے باہر نکل آئے تاکہ بنگلہ ديش کا معاملہ پکا ہو جائے اور اُن کو آدھے پاکستان کی بادشاہی مل سکے
انہی جرنيلوں نے بعد ميں ذوالفقار علی بھٹو [ايک سوِلين] کو ملک کا چيف مارشل لاء ايڈمنسٹريٹر بنايا جو کسی قانون کے مطابق جائز نہ تھا

اگر بھٹو سانحہ مشرقی پاکستان ميں ملوّث نہيں تھے تو حمود الرحمٰن کميشن رپورٹ اور کمشنر ڈھاکہ کی کتاب کا مسؤدہ کيوں ضائع کئے ؟

سانحہ مشرقی پاکستان کا آخر کوئی تو ذمہ دار تھا ۔ ذمہ دار فوجی يا سويلين کے خلاف کاروائی کيوں نہ کی گئی ؟

ميرے متذکرہ بنگالی دوست آرتھوپيڈک سرجن تھے اور 1971ء ميں پاکستان آرمی ميں ميجر تھے اور جنوری 1972ء سے بنگلہ ديش آرمی ميں ۔ ميرے اس بنگالی دوست نے مجھے 1978ء ميں کہا تھا ”مشرقی پاکستان کو بنگلہ ديش بنانے کی سازش ميں 3 ليڈر شريک تھے جن میں 2 پاکستانی تھے ۔ ایک کو اُس کی فوج کے ميجر نے ہلاک کر ديا (شيخ مجيب الرحمٰن) اور دوسرے کا حال اِن شاء الله ان سے بھی بُرا ہو گا“۔
ميں نے کہا ” دوسرا یحیٰ خان ؟“
جواب ملا ”ذوالفقار علی بھٹو“۔

آج ميں سوچتا ہوں کہ بنگالی ڈاکٹر نے درست پيشين گوئی کی تھی
ذرا غور فرمايئے
ذوالفقار علی بھٹو کو بطور قاتل پھانسی ہوئی
چھوٹا بيٹا اچانک کيسے مر گيا آج تک واضح نہيں ہوا
بڑے بيٹے کو اس کے اپنے بہنوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کے داماد نے ہلاک کروا ديا
بڑی بيٹی کو اس کے خاوند [ذوالفقار علی بھٹو کے داماد] کی ملی بھگت سے ہلاک کر ديا گيا
بيوی کو سونے کيلئے ٹيکے سالہا سال لگائے جاتے رہے بالآخر وہ اس دنيا کو چھوڑ کر سُکھی ہوئی
چھوٹی بيٹی باپ کی جائيداد سے محروم پرديس ميں بيٹھی بمشکل اپنے اور اپنے بچوں کے اخراجات پورے کر رہی ہے
پوتی اور پوتا دادا کی ہر قسم کی وراثت سے محروم خوف ميں زندگی بسر کر رہے ہيں

آخر ميں يہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہماری قوم [گُستاخی معاف ۔ قوم تو ہے ہی نہيں ۔ ايک بے ہنگم ہجوم ہے] نے اس اتنے بڑے سانحہ سے کوئی سبق نہيں سيکھا ۔ لوگ آج کہيں سندھی ۔ کہيں پختون ۔ کہيں پنجابی ۔ کہيں مہاجر ۔ کہيں خدائی خدمتگار ۔ کہيں آزاد خيال ۔ کہيں لاشاری ۔ کہيں بھٹو ۔ کہيں سيّد ۔ کہيں گُوجر ۔ کہيں طالبان ۔ کہيں کسی اور قوميت کا رولا رَپا ڈالے ہوئے ہيں
کوئی پاکستانی خال خال ہی نظر آتا ہے
کيا يہ لوگ مُلکی حالات کو سابق مشرقی پاکستان کے حالات سے زيادہ خراب نہيں کر چکے ؟

کسی سيانے کہا تھا
عقلمند دوسروں کے تجربہ سے سبق ليتا ہے
عام آدمی اپنے تجربہ سے سبق ليتا ہے
احمق اپنے تجربہ سے بھی سبق نہيں ليتا

ميرے ہموطن فلمی کہانيوں اور ناولوں پر تو يقين کر ليتے ہيں ۔ سيانوں کی باتوں کو قابلِ غور نہيں سمجھتے

دعا

اے ميرے الله تو ہی ہے بنانے والا ۔ امان دینے والا ۔ پناہ میں لینے والا۔ زبردست دباؤ والا۔ صاحب عظمت ۔ ميرے اور ميرے ہموطنوں کے دل سے فانی طاقتوں کا خوف نکال کر اپنی اطاعت بھر دے
اے ميرے الله مہربان رحم کرنے والے ۔ قادر و کريم ۔ تو ہی بادشاہ ہے اور پاک سب عیبوں سے ۔ ميرے اور ميرے ہموطنوں کے دل ميں مادی محبت کی جگہ اپنے رسول کی محبت بھر دے
اے ميرے الله تو ہی صورت گری کرنے والا اور زبردست حکمتوں والا ہے اور جانتا ہے جو پوشیدہ ہے اور جو ظاہر ہے ۔ ميرے اور ميرے ہموطنوں کے دل سے نفاق کو نکال کر اللہ کے بندوں کی محبت بھر دے
اے ميرے الله ميرے اور کُل کائنات کے خالق ۔ مالک ۔ رازق اور حازق ۔ سب کی دعائيں سننے والے ۔ ميری اور ميرے ہموطنوں کی تمامتر خاميوں سے درگذر فرماتے ہوئے يہ عاجزانہ عرض سُن لے
ميرے اور ميرے ہموطنوں کے دل ميں اپنے اس وطن کی جو آپ ہی نے عطا کيا تھا خدمت کا جذبہ پھر سے جگا دے

يہ بھی پڑھ ليجئے


DAWN, 25th March, 2004, Thursday, 03 Safar, 1425
BD: who cast the first stone?


By Akhtar Payami

The sky lit up with fire-balls amidst the deafening sound of gun-shots. The dark night was pierced by multi-coloured searchlight leaving no room even for a shadow to escape.

Simultaneously, microphones blared to announce that an indefinite curfew had been imposed on the unfortunate city of Dhaka. It was a full-fledged battle against invisible enemies. Nobody cared to count the dead. This happened about the midnight of March 25, 1971. The following day, on March 26, the independence of Bangladesh was proclaimed by word of mouth and through a clandestine radio broadcast. This was the beginning of the end.

It is not yet known who cast the first stone. Sheikh Mujibur Rahman’s daughter and former prime minister of Bangladesh, Sheikh Hasina, claims that the announcement was contained in a hand- written press statement by the Sheikh himself.

Thereafter copies of the statement were distributed all over East Pakistan. On the other hand, General Ziaur Rahman’s party, the Bangladesh Nationalist Party, maintains that it was the general who proclaimed independence.

It is one of those secrets with which Pakistan’s chequered history is littered. It is not yet clear who drafted the Lahore Resolution which is a major historical document.

Chaudhry Khaliquzzaman and Nawab Ismail are said to be the two persons who generally drafted all resolutions of the All-India Muslim League. But none of them was present when the resolution was for the first time presented before the March 23 meeting in Lahore.

It is still believed by some that the term ‘states’ mentioned in the original resolution was a typographical mistake which was later corrected by Muslim League legislators in 1946. But were the legislators competent to amend a resolution adopted by the Muslim League Council? This is another story.

Similarly the authorship of Sheikh Mujib’s famous Six Points is still shrouded in mystery. Several unconfirmed stories are in circulation. The text of the Six Points was amended several times as tension mounted in the unhappy relationship between East Pakistan and the central government.

The Awami League leaders insisted on maximum autonomy for the eastern wing. Even at that stage when a revolutionary situation was already in the making nobody talked of independence. Sheikh Mujib’s famous speech of March 7 at the Race Course ground fell short of a call for independence.

But it would be presumptuous to think that the people of the former East Pakistan had launched a movement for the implementation of the Lahore Resolution.

The issue was never raised by the leading politicians of the eastern wing. They had their own grievances, some of which were genuine and should have been thoroughly examined. At a much later stage, however, the Lahore Resolution did provide an impetus to the people of East Pakistan in their struggle for independence.

When the people and the rulers were locked in confrontation and all top leaders of the Awami League had left for Calcutta where they had formed a government in exile, Sheikh Mujib chose to stay back in his Dhanmandi house. He waited for the Pakistan Army and offered no resistance. He was promptly arrested and taken to West Pakistan.

The widely reported famous dialogue between Zulfikar Ali Bhutto and Mujib further strengthens the argument that Mujib believed in the federal structure of Pakistan and sought constitutional remedy of the problem. When Bhutto informed the Sheikh (he had been in solitary confinement for a long time) that he (Bhutto) was the president of Pakistan, Mujib replied: “How can you be the president of Pakistan? I am the leader of the majority party.” Till that moment, it can be argued, Mujib had faith in the unity of the country and did not know that Bangladesh had already emerged as an independent state.

Although Mujib was personally grateful to India for all the assistance that it had offered to his people in their hour of trial, in his heart of hearts, he nursed a feeling of bitterness for New Delhi. He had told some trusted journalists that he could easily achieve freedom with India’s support, “but I would never go to a banya (trader).”

Even after liberation, there were fewer Hindu ministers in his first cabinet than were in the Pakistan days. The Indian army, after its victory, had plans for a longer stay in Bangladesh. But Mujib felt the pulse of the people who were opposed to the presence of the conquering army.

He rushed to New Delhi, met Mrs Indira Gandhi and expedited an early withdrawal of Indian troops. Even when National Awami Party leader Maulana Abdul Hamid Khan Bhashani had strongly advocated complete independence, the Awami League did not endorse his views. Maulana Bhashani had a much better understanding of the people’s choice.

He knew that in this unpredictable situation, nothing less than independence would satisfy them. It was a struggle against the injustices meted out to the people of the eastern wing over more than two decades. It is a fact that they suffered neglect and apathy at the hands of those who wielded power in West Pakistan.

On one occasion when East Pakistan chief minister Ataur Rahman Khan returned from Rawalpindi, he told correspondents at Dhaka airport that he could not get approval for an important project from the central government “as it was easy to convince the minister but difficult to please the section officer.” Such was the hostile relationship between the administrations in the two wings.

It was only during the brief period of General Yahya Khan that some measures were contemplated and taken for ameliorating the conditions of East Pakistan.The headquarters of several government corporations were shifted to Dhaka. A few promotions were made in the superior services cadre. But these measures were much too late and could not serve any purpose.

The army action of March 25 put the final seal on the fate of united Pakistan. It created a bitterness which was not easy to remove. In that hostile environment, it was impossible to think that the situation would improve with the help of any military intervention. Even at that time many sensible people had warned the authorities against taking harsh actions.

The situation needed political measures. Instead a harsh policy was devised. The only political step taken was to hold by- elections for the seats vacated en masse by the elected representatives of the people in East Pakistan. It was indeed a futile exercise as the voters completely boycotted it.

When a full-scale war began in December 1971, the Pakistan Army had to confront the entire population of East Pakistan. And those who did not join the “rebels” were termed collaborators by the new power wielders of the eastern wing and “Muslims of Indian origin” by successive governments in Pakistan.