Author Archives: افتخار اجمل بھوپال

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

بلاگران سے گذارش

عرصہ سے میں نے اس بلاگ کے حاشیہ میں مندرج روابط کی طرف توجہ نہیں دی تھی ۔ پچھلے دنوں کچھ بلاگ کھولنے کی کوشش کی تو ندارد جس سے اپنی بے توجہی کا احساس ہوا ۔ یعنی بلاگوں کے پتے تبدیل ہو چکے تھے ۔ ایک اور حقیقت سامنے آئی کی کچھ بلاگ جو پچھلے 2 سالوں میں نمودار ہوئے یا مجھے نظر پڑے وہ بھی درج نہیں ہیں ۔ چنانچہ جب وقت میسّر ہوا تو ان کے پتوں کی تلاش شروع کی جس میں کافی حد تک کامیابی ہوئی ۔ اب پرانے بلاگ حتی المقدور نئے پتوں کے ساتھ اور کچھ نئے بلاگ درج کر دیئے گئے ہیں ۔ وہ بلاگ جون پر پچھلے 2 ماہ میں کچھ تحریر نہیں کیا گیا اُنہیں شامل نہیں کیا گیا ۔ وہ بلاگ بھی شامل نہیں کئے گئے جو فلمی ہیں یا کاپی پیسٹ ہیں یا مشاعرہ ہیں

بلاگران سے گذارش ہے کہ توجہ فرمائیں اور نیچے دی گئی فہرست میں اپنے بلاگ کے عنوان پر کلِک کر کے کے دیکھ لیں کہ ان کے بلاگ کا پتہ درست درج کیا گیا ہے ۔ اگر کوئی صاحبہ یا صاحب متواتر لکھنے والے ہیں اور اُن کا بلاگ فہرست میں شامل نہیں وہ تبصرہ کے کے ذریعہ مطلع کر سکتے ہیں

ابو شامل
احمد عرفان شفقت
ارتقائے حیات
اسد حبیب
اظہارالحق
افتخار راجہ
اقبال جہانگیر (آوازِ پاکستان)۔
امتياز خان
چاچا ٹام
باذوق
باسم
بلا امتیاز
بلو بلا
تانیا رحمٰن
جاوید اقبال
جاوید گوندل
جعفر (حالِ دل)۔
جواد احمد
حجابِ شب
حرفِ دعا
حلیمہ عثمان (قلم کارواں)۔
حکیم خالد
حیدر آبادی
خاور کھوکھر
خرم شہزاد
راشد ادریس رانا
شازل
شاہ فیصل
شاہدہ اکرم
شعيب صفدر
شگفتہ
صدائے مسلم
ضیاء الحسن خان
عادل بھیّا
عدنان شاھد
عدنان مسعود
عمر فاروق
عمران اقبال
عمّار ابنِ ضیاء
لبنٰی مرزا
محمد بلال
محمد کاشف
میرا پاکستان
پروفیسر محمد عقیل
کائنات بشیر
کاشف نصیر
کوثر بیگ
یازگل
یاسر جاپانی

نیا چاند ۔ حدیث ۔ سائنس اور ہمارے دعوے

ایک قابلِ اعتماد ویب سائٹ ہے جو سائنس کے اصولوں کے مطابق نظامِ شمسی کا مطالعہ اور حساب و قیاس (deductions / calculations) رکھتی ہے اور بتاتی ہے کہ کس علاقہ میں نیا چاند کب اور کتنا نظر آئے گا اور کس وقت اس کا کتنا حصہ نظر آئے گا ۔ میں اس کے نتائج کو کئی سالوں سے بار ہا دیکھتا اور پرکھتا آ رہا ہوں ۔ کئی بار اس کا موازنہ یا تصدیق دوسرے ایسے اداروں کے حسابات سے بھی کی اور اس کے جوابات کو درست پایا ۔ امسال بھی ہمیشہ کی طرح میں نے عید الفطر سے 4 روز قبل پاکستان کے بڑے شہروں کے علاوہ دہلی (بھارت)۔ ڈھاکہ (بنگلہ دیش)۔ جکارتہ (انڈونیشیا)۔ ٹوکیو (جاپان)۔ کابل (افغانستان)۔ تہران (ایران)۔ دبئی (متحدہ عرب امارات)۔ جدہ (سعودی عرب)۔ قاہرہ (مصر)۔ انقرہ (ترکی)۔ لندن (برطانیہ)۔ نیویارک (امریکہ)۔ اٹلانٹا جارجیا (امریکہ) میں صورتِ حال کا مطالعہ کیا اور مختصر نتیجہ میں نے عیدالفطر سے قبل شائع کر دیا

خاور کھوکھر صاحب جو جاپان میں رہتے ہیں نے 19 اگست کو لکھا کہ “یہاں آج عید ہے“۔ اس پر میں نے اسی وقت کمپوٹر چالو کیا اور متذکرہ ویب سائٹ کھولی ۔ وہاں 18 اگست 2012ء کیلئے اب بھی لکھا ہے
Waxing Crescent, 0% of the Moon is Illuminated (بڑھتے چاند کا صفر فیصد حصہ روشن ہے) مطلب یہ کہ چاند نظر نہیں آئے گا

سوال یہ ہے کہ جب جاپان میں 18 اگست 2012ء کو چاند کا وہ حصہ جو جاپان کی طرف ہے وہ پورے کا پورا اندھیرے میں ہے یعنی اس پر سورج کی روشنی پڑ ہی نہیں رہی تو جاپان میں کس نے اور کیسے چاند دیکھا ؟ جس کے نتیجہ میں عیدالفطر 19 اگست کو منائی

18 اگست 2012ء کو ہمارے ملک کی صورتِ حال یہ ہے کہ 18 اگست 2012ء کو پورے پاکستان کی طرف چاند کا وہ حصہ نہیں ہونا تھا جس پر اُس وقت سورج کی روشنی پڑ رہی چنانچہ 18 اگست کو تو چاند نظر نہیں آیا تھا ۔ اگلے روز جب چاند 3 فیصد نظر آیا تو وہ بھی 6 بج کر 55 منٹ پر غروب ہو گیا تھا ۔ تو رات ساڑھے 9 بجے کیسے صوبہ خیبر پختونخوا کی روئتِ ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ ” مرکزی کمیٹی نے بہت پہلے کہہ دیا کہ پورے پاکستان میں کہیں چاند نظر نہیں آیا ۔ ہمارے پاس 23 شہادتیں پہنچی ہیں”۔حقیقت کے خلاف فرض کر لیتے ہیں کہ چاند نظر آیا تھا تو پھر اطلاع صوبائی روئتِ ہلال کمیٹی تک پہنچنے میں ڈھائی گھنٹے کیوں لگے ؟ آجکل تو پاکستان میں بڑے کیا بچوں کے ہاتھ میں بھی موبائل فون پکڑے ہوئے ہیں ۔ کمال در کمال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے ایک علاقہ میں عیدالفطر 18 اگست 2012ء کو منائی گئی ۔ اب اس پر کوئی کیا کہے

حدیث کے مطابق قمری مہینہ مغرب کے وقت یعنی غروبِ آفتاب کے فوری بعد نیا چاند نظر آنے پر نیا مہینہ شروع ہوتا ہے ۔ یہ کہیں نہیں لکھا کہ چاند دیکھنے کیلئے صرف انسانی آنکھ استعمال کی جائے چنانچہ اچھی سے اچھی اور بڑی سے بڑی دُوربین استعمال کی جا سکتی ہے اور کی بھی جاتی ہیں

سائنس کا طریقہ جس کے حوالے سے میرے کچھ ہموطن شور کرتے رہتے ہیں وہ تحلیلی اسلوب (analytical calculations) پر مبنی ہے اور ریاضی (mathematics) کے ذریعہ اخذ (derive) کیا جاتا ہے ۔ میں نے اعلٰی ریاضی (advanced mathematics) کی جو دو جماعتیں پڑھ رکھی ہیں ان کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں کے جہاں حاصل جواب سیدھا سادا نہ ہو وہاں فربت یا مشابہت (approximation) درست تصوّر کی جاتی ہے جس میں عملی حقیقت کے مقابلہ میں نتیجہ آگے پیچھے ہونے کی گنجائش ہوتی ہے ۔ زمین کے گرد چاند کی حرکت اور پھر دونوں کی سورج کے گرد حرکت کا بہت شاکلہ (complex) یعنی اُلجھا ہوا حساب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عملی حقیقت سائنسی طریقہ سے حاصل کردہ نتیجہ سے مختلف ہو سکتی ہے اسلئے ایسا تو ہو سکتا ہے کہ ریاضی کے ذریعہ اخذ کیا گیا نتیجہ بتائے کہ نیا چاند فلاں تاریخ کو فلاں علاقے میں نظر آئے گا مگر نہ نظر آئے ۔ اس کا سبب چاند کا ایک فیصد یا اس سے کم حصہ نظر آنے کی پیشگوئی کی گئی ہوتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ حسابی پیشگوئی نہ نظر آنے کی ہو اور چاند نظر آ جائے

نیا چاند نمودار ہونے کا حساب لگانا کتنا آسان ہے ۔ آخر میں دی گئی مختلف صورتوں کو لکھے گئے بیانات پر باری باری کلِک کر کے اس کی وڈیو دیکھیئے

میرا مسلک یہ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی ہر بات میں حکمت ہے ۔ چنانچہ لاکھ سائنسی ترقی ہو جائے اور لاکھ آلات اور حسابات بن جائیں مسلمان کو قرآن اور حدیث پر عمل کرنا ہے ۔ اور چاند دیکھنے کے سلسلہ میں سائنس کے وسیع مطالعہ اور مکمل استعمال کے ساتھ ساتھ یہ عمل جاری رکھنا ہے
وما علینا الا بلاغ المبین

چاند کی زمین کے گرد اور زمین کی سورج کے گرد حرکت چاند کو ساتھ لئے ہوئے

اس میں چاند اور زمین کا سورج کی روشنی سے روشن حصہ نظر آتا ہے

دیکھیئے زمین سورج کے گرد کیسے گھومتی ہے

یہ نمونہ سمجھانے کی خاطر سادہ کیا گیا ہے

تیری سادگی پہ نہ مر جائے کوئی

سندھ کے موجودہ وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے 30 جولائی 2012ء کو پریس کانفرنس میں نیچے درج انکشافات کئے جو درحقیقت انکشافات نہیں تھے کیونکہ یہی سب کچھ ان سے قبل اُس وقت کی وزیر اطلاعات شازیہ مری نے وسط جنوری 2012ء میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا جس کا خلاصہ راقم الحروف نے شائع بھی کیا تھا

شازیہ مری کے بیان کے بعد شرجیل انعام میمن کے بیان دینے تک 6 ماہ گذر چکے تھے اور اب 7 ماہ سے زائد ہو چکے ہیں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
آج تک اس کی اصلاح کیوں نہیں کی گئی ؟
یا ان چھ سات ماہ میں درستگی کیلئے کیا اقدامات بروئے کار لائے گئے ؟
کیا یہ ہیرا پھیریاں اور غلط کاریاں بار بار سنسنی خیزی طاری کر کے بیان دینے سے از خود ختم ہو جائیں گی ؟
درستگی میں آخر کونسی چیز آڑے آ رہی ہے ؟ جبکہ صوبہ سندھ اور مرکز دونوں میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہے اور شرجیل انعام میمن صاحب اسی جماعت کے پُرجوش اور منہ زور رُکن ہیں

شرجیل انعام میمن کی پریس کانفرنس کا خلاصہ
صوبہ سندھ میں کُل 401000 سرکاری ملازمین ہیں جن میں سے صرف 328000 کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ہیں
بقیہ 73000 ملازمین کے شناختی کارڈوں مین بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں
21438 ملازمین کا ریکارڈ ہی موجود نہیں
338 سرکاری ملازمین مر چکے ہیں لیکن اُنہیں 12 سال سے متواتر تنخواہیں دی جا رہی ہیں
12ہ46 ایسے ملازمین ہیں جو دو دو تنخواہیں وصول کر رہے ہیں یعنی ایک ہی وقت میں دو دو سرکاری دفاتر میں کام کر رہے ہیں

عیدالفطر مبارک

کُلُ عام انتم بخیر

تمام مسلم محترم بزرگوں ۔ بہنوں ۔ بھائيوں اور پيارے بچوں بالخصوص قارئین اور ان کے اہلِ خانہ کی خدمت ميں عيدالفطر کا ہديہِ تبريک پيش کرتا ہوں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے

اللہ سبحانُہُ و تعالٰی آپ سب کے روزے اور عبادتيں قبول فرمائے اور آپ سب کو دائمی عمدہ صحت ۔ مُسرتيں اور خوشحالی سے نوازے ۔ آمين ثم آمين ۔

آیئے سب انکساری ۔ رغبت اور سچے دِل سے دعا کریں
اے مالک و خالق و قادر و کریم
رمضان المبارک میں ہمارے روزے اور دیگر عبادتیں قبول فرما
اپنا خاص کرم فرماتے ہوئے ہمارے ہموطنوں کو آپس کا نفاق ختم کر کے ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرما
ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھ
ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنا دے
ہمارے حکمرانوں کو سیدھی راہ پر چلا اور اگر وہ اس قابل نہیں تو ان سے ہماری خلاصی کرا دے
اور ان کی جگہ دیانتدار حکمران نصیب فرما
اور اسے صحیح طور مُسلم ریاست بنا دے
آمین ثم آمین

عیدالفظر کس دن ہو گی ؟

وطن عزیز میں ہر سال روئتِ ہلال اور اس کے نتیجہ میں عید کے دن کا ابہام پیدا کیا جاتا ہے مگر جب سے انٹرنیٹ شروع ہوا ہے ابہام ہونا نہیں چاہیئے لیکن کچھ خود پسند یا مصنوعی جدّت پسند لوگ رولا ڈال کر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر راقم الحروف ایسے ابہام میں کبھی مبتلا نہیں ہوا اور اب تو انٹرنیٹ کی مدد سے با آسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ کس جگہ کس دن نیا چاند نطر آئے گا ۔ لیجئے حاضر ہے اس سال کی صورتِ حال

افغانستان ۔ ایران ۔ متحدہ عرب امارات ۔ سعودی عرب ۔ افریقہ ۔ برطانیہ ۔ یورپ ۔ امریکا وغیرہ میں بتاریخ 18 اگست 2012 بروز ہفتہ مغرب کے وقت ۔ ۔ ۔ ایک فیصد چاند نظر آئے گا

پاکستان میں بتاریخ 18 اگست 2012ء بروز ہفتہ کسی جگہ چاند نظر نہیں آئے گا
اسی طرح جاپان ۔ انڈونیشیا ۔ آسٹریلیا ۔ فلپین ۔ روس ۔ چین ۔ میانمار ۔ بنگلا دیش ۔ بھارت ۔ سری لنکا وغیرہ میں 18 اگست 2012 بروز ہفتہ کسی جگہ چاند نظر نہیں آئے گا

اسلام آباد ۔ لاہور ۔ کراچی ۔ پشاور اور کوئٹہ میں بتاریخ 19 اگست 2012 بروز اتوار مغرب کے وقت ۔ ۔ 3 فیصد چاند نظر آئے گا

جاپان ۔ انڈونیشیا ۔ آسٹریلیا ۔ فلپین ۔ روس ۔ چین ۔ میانمار ۔ بنگلا دیش ۔ بھارت ۔ سری لنکا وغیرہ میں بھی بتاریخ 19 اگست 2012 بروز اتوار مغرب کے وقت ۔ ۔ ۔ 3 فیصد چاند نظر آئے گا

نادر گائے کا بچھڑا

وسطی سربيا کے جيليکا پہاڑ کے علاقہ ميں کاکاک کے نزديک جزدِينا نامی گاؤں ميں بھُورے رنگ کی گائے نے ايک بچھڑا جنا جس کا رنگ سفيد اور جامنی ہے جس ميں جامنی غالب ہے ۔ اس گائے نے پہلے جو بچھڑے جنے اُن ميں کوئی خاص بات نہ تھی

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ http://iabhopal.wordpress.com/
Reality is often Bitter

” پچھلے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ 2010ء ميں ورڈ پريس نے اسے 10 بہترين بلاگز ميں سے ايک قرار ديا تھا

ہموطن جوانوں کے نام

میں نے دیکھا ہے کہ یومِ آزادی پر کچھ جوان مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ مایوسی گناہ ہے اور یہ آدمی کی اپنی کمزوریوں سے جنم لیتی ہے ۔ میں اس موقع پر صوفی غلام مصطفٰے تبسّم کے کلام کو دہرانا چاہتا ہوں جو اُنہوں نے ماضی میں ایسے ہی ایک موقع پر پیش کیا تھا گو وہ موقع اتنا گھمبیر نہ تھا جتنے آجکل کے حالات ہیں

قدم بڑھاؤ ساتھیو ۔ قدم بڑھاؤ ساتھیو
قدم بڑھاؤ ساتھیو ۔ قدم بڑھاؤ ساتھیو

تم وطن کے شیر ہو ۔ شیر ہو دلیر ہو
تم اگر جھپٹ پڑو تو آسماں بھی زیر ہو

تمہارے دم سے ہے وطن یہ مرغزار یہ چمن
دہک اُٹھے دمن دمن وہ گیت گاؤ ساتھیو

یہ زمیں ۔ یہ مکاں ۔ یہ حسین کھیتیاں
ان کی شان تم سے ہے تُمہی ہو ان کے پاسباں

بچاؤ ان کی آبرو ۔ گرج کے چھاؤ چار سُو
جو موت بھی ہو روبرو تو مسکراؤ ساتھیو

ظلم کو پچھاڑ کے ۔ موت کو لتاڑ کے
دم بدم بڑھے چلو صفوں کو توڑ تاڑ کے

گھڑی ہے امتحان کی ۔ دکھاؤ وہ دلاوری
دہک رہی ہو آگ بھی تو کود جاؤ ساتھیو

قدم بڑھاؤ ساتھیو ۔ قدم بڑھاؤ ساتھیو
قدم بڑھاؤ ساتھیو ۔ قدم بڑھاؤ ساتھیو