ایک کہانی ۔ ایک سبق

ایک خُوبرُو جوان کی شادی ایک بہت ہی حسیِن لڑکی سے ہو گئی ۔ شادی کے بعد دونوں پیار و احترام سے رہنے لگے ۔ زندگی ہنسی خوشی گذر رہی تھی کہ بیوی کو ایک جِلدی بیماری ہو گئی جس نے اُس کی خوبصورتی کو گہنانا شروع کر دیا ۔ جب اُس کے چہرے پر اثر بڑھنے لگا تو چند دنوں کیلئے خاوند دَورے پر چلا گیا ۔ واپس آنے پر اُس نے بتایا کہ ایک حادثے کے نتیجہ میں وہ بینائی سے محروم ہو گیا ہے ۔ بہر کیف میاں بیوی کی محبت میں کوئی فرق نہ آیا اور زندگی کی گاڑی حسبِ معمول چلتی رہی

وقت گذرتا گیا اور کچھ سال بعد بیوی اس دُنیا سے رُخصت ہو گئی ۔ بیوی کی موت سے خاوند کو بڑا صدمہ ہوا ۔ بیوی کے کفن دفن سے فارغ ہو کر اُس نے اعلان کیا کہ اس مکان اور اس شہر میں نہیں رہ سکتا کہ ان کی ایک ایک چیز اُسے بہت تڑپائے گی ۔ اس لئے وہ شہر چھوڑ کر جا رہا ہے

جنازے کے ساتھ آئے لوگوں میں سے ایک بولا ” دوسری جگہ جا کر آپ زندگی کیسے گذاریں گے ؟ جب سے آپ کی آنکھیں خراب ہوئیں مرحومہ آپ کو ہر جگہ لے کر جاتی تھی اور ہر کام مین آپ کی مدد کرتی تھی“۔
مرحومہ کے خاوند نے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا ” میں نابینا نہیں ہوں ۔ مجھے بالکل درست نظر آتا ہے ۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ اپنی خوبصورتی کو زائل ہوتا دیکھ کر مرحومہ غمگیں سی ہو گئی تھی ۔ وہ بہت اچھی بیوی تھی اور مجھ سے والہانہ محبت کرتی تھی ۔ اُس کی صحت کی خاطر میں نابینا بن گیا تھا جس کا اُس پر اچھا اثر پڑا“۔

سبق ۔ آپس کے تعلقات اچھے رکھنے کی خاطر دوسروں کی کمزوریوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے یعنی سب کچھ دیکھتے ہوئے ہمیں نابینا بننا پڑتا ہے

اللہ کریم ہمیں دوسروں کی خامیوں سے درگذر کرنے کی توفیق عطا فرمائے

ہمارے دعوے اور حقیقت

ہم میں سے ہر ایک کا دعوٰی یہ ہے کہ ”مجھ جیسا کوئی نہیں“۔
اگر یہ کہہ دیا جائے ”مجھ جیسا کوئی نہ پیدا ہوا ہے اور نہ پیدا ہو گا“
تو شاید حقیقت سے قریب تر ہو
میں ایسے مُلک کے باشندوں جنہیں ہم جاہل یا کم علم یا ظالم سمجھتے ہیں کا دوسروں کے ساتھ سلوک کے اپنے چند تجربات بیان کرتا ہوں ۔ اِنہیں پڑھ کر ہم سب کو اپنے کردار و عمل کا جائزہ لینا چاہیئے

1 ۔ جس عمارت کے ایک اپارٹمنٹ میں ہم رہائش پذیر ہیں ۔ اس کے درمیان میں بہت بڑا صحن ہے جس میں 2 سوِمِنگ پُول اور بچوں کیلئے پلے لینڈ ہیں جن کے آس پاس کافی کھُلی جگہ ہے ۔ درمیان والی جگہ پر باربِیکیو کرنے کا بندوبست ہے اور وہاں 6 میزیں اور 24 سے زیادہ کرسیاں پڑی رہتی ہیں ۔ بچے اور بڑے شام کو یہاں آتے ہیں ۔ کچھ لوگ جاتے ہوئے اپنی کئی چیزیں وہاں چھوڑ جاتے ہیں ۔ کوئی چوکیدار یا گارڈ وغیرہ وہاں نہیں ہوتا ۔ یہ چیز یں ایک سے 4 دن تک وہاں پڑی رہتی ہیں ۔ مجال ہے کہ بڑا تو درکنار کوئی بچہ بھی اِن میں سے کِسی چیز کو اُٹھانا تو درکنار ہاتھ بھی لگائے

2 ۔ ایک دن ہم کسی کی مزاج پُرسی کیلئے ہسپتال گئے ۔ واپسی پر سڑک کے کنارے ٹیکسی کی انتظار میں کھڑے تھے ۔ ایک کار ہمارے پاس آہستہ ہوئی اور مناسب جگہ پر جا کر کھڑی ہوئی ۔ اس میں سوار صاحب نے آ کر ہمیں پوچھا ” کیا آپ ٹیکسی کی انتظار میں کھڑے ہیں ؟“
ہم نے کہا ”ہاں“۔
پھر وہ صاحب بولے ” یہاں ٹیکسی آسانی سے نہیں ملے گی ۔ آپ نے کہاں جانا ہے؟“
ہمارے بتانے پر کہا ” معذرت ۔ میں مخالف سمت میں جا رہا ہوں ۔ مال آف ایمِیریٹس کے پاس بڑا ٹیکسی سٹیڈ ہے ۔ میں آپ کو وہاں پہنچا دیتا ہوں“۔ اور پہنچا دیا
(ہم شہر سے باہر نئی آبادی میں رہتے ہیں جو شہر سے بہت دُور ہے)۔

3 ۔ ہمارے پوتا پوتی سکول سے بس پر پونے 4 بجے واپس پہنچتے ہیں ۔ اُنہیں لینے کیلئے میں اور بیگم نیچے جاکر فُٹ پاتھ پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ کئی بار راہ گذر پوچھتے ہیں ”میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا / سکتی ہوں ؟“

4 ۔ میں سڑک کے کنارے پیدل جاتے ہوئے سڑک پار کرنے کیلئے سڑک ک طرف منہ کر کے سڑک کے کنارے کھڑا ہوتا ہوں اگر گاڑیاں تیز جا رہی ہیں تو ایک دو گذرنے کے بعد باقی کھڑی ہو جائیں گی ورنہ پہلی گاڑی کھڑی ہو جائے گی اور میرے سڑک کے پار پہنچنے تک سب گاڑیاں کھڑی رہیں گی

5 ۔ یہاں سڑک پر گاڑیاں داہنی طرف چلتی ہیں ۔ اگر میں کار پر جا رہا ہوں تو ہر چوک (چوراہے یا چورنگی) پر میرے داہنی جانب سے آنے والی سب گاڑیاں رُک کر مجھے جانے دیں گی

6 ۔ سڑک پر کوئی گاڑی بغیر اشارہ دیئے اور میرے اُس کو راستہ دیئے بغیر بائیں یا داہنی جانب سے میری گاڑی کے سامنے آنے کی کوشش نہیں کرے گی

پکی بات

کوئی ہے جو روزانہ بیان بازی کرنے والے اِن نام نہاد سیاسی لیڈروں کو سمجھائے کہ تقریر کرنے بیان داغنے اور الز امات لگانے سے صرف ماحول پراگندہ ہوتا ہے ۔ کچھ حاصل کرنے کے لئے خود کام کرنا پڑتا ہے

خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں
وقت کی شاخ کو دوست تا دیر ہلانا ہو گا
کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو بُرا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا سب کو خود ہی جلانا ہو کا

درگذر اور اتحاد کِسے کہتے ہیں

ہمارے دانت کئی بار ہماری زبان کو زخمی کر دیتے ہیں ۔ اس کے باوجود دونوں ہمارے منہ میں اکٹھے ہی رہتے ہیں
یہی درگذر کی روح ہے

ہماری دونوں آنکھیں ایک دوسری کو دیکھتی نہیں ہیں لیکن دونوں ہر چیز کو اکٹھے دیکھتی ہیں ۔ اکٹھے جھپکتی ہیں اور اکٹھے آنسو بہاتی ہیں
اِس کو باہمی اتحاد کہتے ہیں

اللہ کریم میرے ہموطنوں کو درگذر اور آپس میں اتحاد کی توفیق عطا فرمائے

ایک اور خاتون جنرل بن گئی

کچھ روز قبل ترقی پا کر خاتون بریگیڈیئر نگار جوہر میجر جنرل بن گئی ہیں ۔ 3rd-lady-maj-gen پاکستان آرمی کی تیسری میجر جرنل بننے والی نگار جوہر صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ صوابی کی پہلی خاتون جنرل بنی ہیں ۔ صوابی ایک غیر ترقی یافتہ اور بالخصوص قدامت پسند لوگوں کا علاقہ سمجھا جاتا ہے

حال ہی میں ایک خاتون نے Bomb Disposal Squad میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا

اب کیا کہیں گے روشن خیال اور ترقی یافتہ یا ترقی پسند ؟
اپنے وطن میں Women Libration کے نعرے لگانے والے لوگ بالخصوص عورتوں کو کچھ تو شرم آنا چاہیئے اور معلوم ہونا چاہیئے کہ ترقی Five Star ہوٹلوں میں meeting کر کے نہیں ہوتی بلکہ گلیوں اور محلوں میں اور کھیتوں کے درمیان ہوتی ہے جہاں کبھی یہ لوگ بھولے سے بھی نہیں جاتے