رضا کار بھائیوں کے لئے مزید اہم معلومات

کچھ مشورہ کے لئے مجھے بلایا گیا تھا ۔ مشورہ کے بعد کچھ تشویشناک واقعات پر بھی غور ہوا ۔ متاءثرہ علاقوں سے اطلاعات ملی ہیں کہ کچھ لوگوں نے دکانوں کے دروازے توڑ کر اور گری ہوئی عمارتوں سے سامان چوری کیا ۔ چند افراد نے اپنی جسمانی طاقت کے بل بوتے پر ایک بار کی بجاۓ زیادہ بار امداد حاصل کر کے مستحقین کا حق مارا (ایک آدمی نے ازخود بتایا ہے کہ اس نے 5 خیمے حاصل کئے) ۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ امدادی سامان لانے والوں سے کچھ لوگوں نے زبردستی سامان چھینا ۔چوری کرنے والوں کے متعلق تو جیو کے مظفرآباد میں موجود نمائندے نے بتایا ہے کہ وہ لوگ مقامی نہیں ہیں ۔ باقی لوگوں کے متعلق صحیح معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون ہیں ۔ جس شخص نے خود پانچ خیمے لینے کا بتایا ہے وہ متاءثرین میں سے ہے ۔

ان حالات کی روشنی میں بہتر ہے کہ خیمے لوگوں میں تقسیم کرنے کی بجاۓ خود نصب کئے جائیں اور ان میں متاءثرین کو بسا کر ان کی ضروریات پوری کی جائیں ۔ اس طرح امداد کا ضیا‏‏ع نہیں ہو گا اور زیادہ سے زیادہ متاءثرین مستفید ہوں گے ۔

رضاکار بھائیوں کی خدمت میں

کچھ بھائیوں کے پاکستان اور غیر ممالک سے متاءثرین زلزلہ کی امداد کے سلسلہ میں استفسارات موصول ہوۓ ہیں ۔ بلاگرز میں اعجاز آسی (یا عاصی) صاحب کا بھی رات ٹیلیفون آیا ۔ اس سے پہلے حارث بن خرم صاحب آن لائین مل گۓ اور انہرں نے بھی اسی سلسلہ میں استفسار کیا ۔ میں ان سب حضرات کا ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے مشورہ کے قابل سمجھا ۔ چنانچہ میں بلاگ میں اس سلسلہ میں اپنی معلومات درج کر رہا ہوں ۔ میری تمام قارئین سے درخواست ہے کہ اگر وہ میری تحریر سے متفق ہوں تر اس کو پورے شدومد کے ساتھ ہوا کی طرح ہر طرف پھیلا دیں پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر بھی ۔

صورت حال

متاءثرہ علاقہ ہموار نہیں ہے بلکہ پہاڑوں پر واقع ہے ان علاقوں میں اکتوبر سردی کا مہینہ ہے ۔ گرمیوں میں بھی ان علاقوں میں سورج ڈھلتے ہی سردی ہو جاتی ہے ایسی سردی نہیں جیسے لاہور یا کراچی میں ہوتی ہے بلکہ حقیقی سردی ۔ سڑک پر چل رہے ہوں یا گلی میں کبھی چڑھائی چڑھ رہے ہوتے ہیں کبھی اتر رہے ہوتے ہیں ۔

مظفرآباد اور بالا کوٹ میں 80 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور جو بچ گئی ہیں وہ رہائش کے قابل نہیں ہیں ۔ راولا کوٹ اور باغ میں تقریبا تمام عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں ۔ مظفرآباد اور بالا کوٹ کے گرد و نواح کے علاقے مکمل تباہ ہو چکے ہیں ۔

متاءثرہ علاقہ کے ذی شعور حضرات کے مطابق 100000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ تعداد 150000 یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ابھی تک ملبہ کے نیچے دبے ہوۓ ہیں ۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارہ کے مطابق 40 سے 50 لاکھ تک افراد متاءثر ہوۓ ہیں ۔

متاءثرہ افراد کھلے آسمان کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں جبکہ سردی بڑھ رہی ہے ۔ بالاکوٹ کے پہاڑوں پر سیزن کی پہلی برفباری ہو چکی ہے جس نے سردی میں اضافہ کر دیا ہے ۔

سواۓ چند لوگوں کے جن کے پاس کچھ امداد پہنچ گئی ہے متاءثرین کے پاس وہی کپڑے ہیں جو انہوں نے زلزلہ کے وقت پہنے ہوۓ تھے ۔ نہ ان کے پاس کوئی برتن ہے ۔ نہ کھانا پکانے کا کوئی انتظام نہ سونے کا ۔ کھلے آسمان کے نیچے ننگی زمین پر ہی بیٹھتے اور لیٹتے ہیں

اشیاء ضرورت

خیمے ۔ پاکستان میں ختم ہو چکے ہیں پاکستان سے باہر رہنے والے ہموطنوں سے درخواست ہے کہ فوری طور پر خیمے بھجوائیں ۔ پی آئی اے سے بھجوائیے وہ ریلیف گڈز کا کرایہ نہیں لیں گے ۔ خیمے کم از کم ڈھائی تین لاکھ افراد کے لئے چاہیئں ۔ خیمے چھوٹے سائز کے ہوں مثلا پانچ افراد والے اور کم والے ۔ بڑے خیمے تیز ہواؤں کے سامنے ٹھہر نہیں سکیں گے ۔

کمبل ۔ رضائیاں ۔ گدیلے ۔ دریاں (بستر کے لئے اور زمین پر بچھا کر بیٹھنے کے لئے) ۔ تکئے چاہیئں ۔ کمبل اور رضائیوں کی بھی بہت قلّت ہے ۔ پاکستان سے باہر رہنے والے ہموطنوں سے درخواست ہے کہ فوری طور پر کمبل اور رضائیاں بھجوائیں

سلے ہوۓ کپڑے ۔ شلوار قمیض ۔ سویٹر ۔ گرم کوٹ ۔ جرابیں ۔ گرم ٹوپیاں ۔ کچھ گرم پتلونیں اور جینز بھی بھیجی جا سکتی ہیں مگر بھاری اکثریت شلوار قمیض پہنتے ہیں

خوراک ۔ آٹا ۔ چاول ۔ چینی ۔ نمک ۔ مرچ ۔ دالیں ۔ گھی ۔ پکانے کا تیل ۔ بسکٹ ۔ رس (پاپے) ۔ کھجوریں ۔ خشک دودھ ۔ وغیرہ

دوائیں ۔ اینٹی بائیوٹکس ۔ پیناڈول ۔ پونسٹن ۔ پونسٹن فورٹ ۔ کھانسی نزلہ کی دوائیں جیسے بیناڈرل سرپ ۔ گلوکوز ڈرپ ۔ مرحم پٹی کا سامان ۔ مزید کسی تجربہ کار ڈاکٹر سے مشورہ کریں ۔

رضا کار بھائیوں کی خدمت میں

رضاکار بھائیوں سے درخواست ہے کہ جو کچھ وہ جمع کر رہے ہیں اسے بھجوانے کے لئے اچھی طرح تسلّی کر لیں کہ امداد پوری کی پوری مستحقین تک پہنچ جاۓ گی ۔ جن اداروں کا میں خدمتگار ہوں انہوں نے امداد تقسیم کرنے کے لئے اپنے نمائندے متاءثرہ علاقوں میں بھیجے ہوۓ ہیں ۔ پھر بھی انہیں تسلّی نہیں ہو رہی تھی سو کل فیصلہ کیا گیا تھا کہ خیمے لیجا کر اپنے نمائندے ایک چھوثی خیمہ بستی بنائیں گے ۔اس میں گنجائش کے مطابق متاءثرین کو بسائیں گے اور ان کی تمام ضروریات پوری کرنے کی کوشش کريں ۔ ساتھ ہی دوسری خیمہ بستی شروع کرنے کی کوشش کی جاۓ گی اور یہ عمل جاری رکھنے کی کوشش کی جاۓ گی ۔ اللہ مدد فرماۓ اور اس نیک کام میں انہیں کامیابی عطا فرماۓ ۔

جو بھائی متاءثرہ علاقوں میں خود جا کر خدمت کرنا چاہتے ہیں

وہ ضرور جائیں لیکن ذہن میں رہے کہ شکاری ہرن کے شکار کے لئے شیر سے مڈبھیڑ کی تیاری کر کے نکلتا ہے ۔ ہر رضاکار اپنے لئے خیمہ ۔ دری ۔ سلیپینگ بیگ ۔ گرم کپڑے ۔ مفلر ۔گرم ٹوپی ۔ بارش یا کیچڑ سے بیکار نہ ہونے والے بوٹ ۔ کھانے کا اور پکانے کا سامان ساتھ لے کر جائے ۔ وہاں مٹی کا تیل تو کیا ماچس بھی نہیں ملے گی ۔ بارش سے بچنے کے لئے رین کوٹ بھی چاہیئے ۔ چھتری نہیں چلے گی وہاں ہوائیں بہت تیز چلتی ہیں ۔

مزید جو مجھے یاد آۓ گا یا جو اطلاع موصول ہو گی میں لکھتا جاؤں گا ۔

صورت حال ۔ مزید اطلاعات ۔ امدادی کاروائی

راولاکوٹ شہر مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے جبکہ بالاکوٹ ۔ باغ اور مظفرآباد کے ساتھ ساتھ درجنوں بستیوں کا نام و نشان مٹ گیا ہے ۔ امدادی کارروائیاں شروع ہوچکی ہیں اور کچھ افراد کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے لیکن اب بھی سینکڑوں یا ہزاروں افراد ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔ منگل کو بارش کے باعث بعض علاقوں میں امدادی کارروائی میں خلل آیا تھا اور کچھ سڑکیں بھی بند ہو گئی تھیںبالاکوٹ میں رات گئے برفباری سے سردی میں شدید اضافہ ہوگیا ۔ مظفرآباد کے برعکس جہاں لوگ کھانے اور پانی کا مطالبہ کرتے رہے بالاکوٹ میں لوگ کمبل اور ٹینٹ مانگ رہے ہیں ۔ متاثرہ لوگوں میں مایوسی اور حکومت کے خلاف غصے کے جذبات میں وقت گذرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ لوگ مسلسل چار راتیں تقریبا کھلے آسمان تلے گزار چکے ہیں اور پینے کے صاف پانی اور کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہے ۔

ضلع باغ میں مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ قبریں کھودتے اور لاشیں دفناتے تھک گئے ہیں گو ہلاک ہونے والوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے ۔ بیشتر مکانات، مساجد اور دکانیں تباہ ہوچکی ہیں اور شہر کے پانچ تعلیمی اداروں سمیت کئی منہدم عمارتوں اور مکانوں کے ملبے تلے سینکڑوں لوگ دبے ہوئے ہیں ۔ گرلز ڈگری کالج، گرلز ہائی سکول، سپرنگ فیلڈ سکول، پوسٹ گریجوئیٹ بوائز کالج اور بوائز پرائمری سکول کی زمین بوس عمارتوں میں ملبے تلے دبے طلبا اور طالبات کی لاشوں کی بو پھیلی ہوئی ہے ۔ کوہالہ پل سے باغ شہر تک سڑک کے دونوں کناروں پر بیشتر مکانات اور دکانیں منہدم ہوئی ہیں اور زلزلے سے بچے ہوئے مرد، خواتین اور بچے ملبے تلے اپنے پیاروں کی لاشین ڈھونڈ رہے ہیں ۔ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ مقامی شہری ملبہ ہاتھوں سے ہٹا رہے تھے ۔ قریب ہی سسکیاں لیتی تین بچیاں اپنی ماؤں کے ہمراہ کھڑی تھیں جنہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سو کے قریب بچیاں تین کلاسوں میں تھیں جس میں سے صرف پانچ بچیاں بچیں ہیں اور باقی ملبے تلے دبی ہیں۔

بالاکوٹ کاغان روڈ بری طرح تباہ ہوئی ہے اور اس کو کھولنے میں خاصا عرصہ لگ سکتا ہے۔ کاغان اور مضافات میں بڑی تباہی ہوئی ہے اور بچ جانے والے لوگ سو سے زیادہ کلو میٹر کا سفر پیدل طے کر کے بالا کوٹ پہنچ رہے ہیں ۔ ضلع مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے دور دراز کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں کے رہنے والے یا تو مر گئے یا زخمی اور بے گھر ہوگئے لیکن وہ اب تک مناسب توجہ حاصل نہیں کرسکے اور نہ ان جگہوں پر قابل ذکر امدادی کاروائیاں شروع ہوسکی ہیں ۔

صوبہ سرحد میں جو اضلاع متاثر ہوئے ہیں ان میں ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام اور کوہستان نمایاں ہیں۔ ان علاقوں میں متاثرہ افراد کی تعداد کا اندازہ تقریباً پانچ لاکھ لگایا گیا ہے۔ کچھ علاقوں کو جانے والی سڑکیں لینڈ سلائڈ سے بند ہیں اور کچھ کھول دی گئی ہیں ۔ مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے علاقوں الائی، پٹن، داسو، بٹل، شنکیاری، وادی کونش، وادی پکھل وادی سرن، وادی بھوگڑ منگ، کاغان، ناران، گڑھی دوپٹہ، گلیات اور سرکل بکوٹ میں شدید تباہی ہوئی ہے لیکن ان جگہوں پر امدادی کام شروع نہیں ہوسکا یا نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ایبٹ آباد کے علاقہ چہانگل گاؤں میں لڑکیوں کے ایک اسکول کی عمارت گرنے سے پچاس طالبات ہلاک ہوئی ہیں۔ وادی پکھل میں سینکڑوں کچے مکانات منہدم ہوگئے ہیں ۔ مانسہرہ ضلع میں ہزاروں کی تعداد میں مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں جن کی لاشیں گلنا سڑنا شروع ہوگئی ہیں اور جگہ جگہ بدبو پھیل رہی ہے۔

منگل کی صبح اسلام آباد سے مظفرآباد کے لیے امدادی سامان کے تیس ٹرک روانہ کیے گئے جس میں خیمے، سلیپنگ بیگ اور کمبل شامل تھے ۔ پیر کو بھیجا جانے والا امدادی سامان منگل کی صبح مظفرآباد پہنچ گیا تھا ۔متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں خوراک بھی روانہ کی گئی جبکہ بالاکوٹ کے لیے بھی کئی ٹرک روانہ کیے گئے ۔ اس کے علاوہ پینتالیس سے زائد ہیلی کاپٹر امدادی کاروائی میں حصہ لے رہے ہیں تاہم متاثرہ علاقوں میں ہموار زمین نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہیلی کاپٹر یہ سامان اوپر سے گرا رہے ہیں ۔ نجی رفاہی اداروں کی امداد اس کے علاوہ ہے ۔

ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کی استعداد سے زیادہ مریض وہاں زیرعلاج ہیں۔ ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلکس میں خیموں میں مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے

ٹمٹماتی روشنی اور گٹاٹوپ اندھیرا

یوں لگتا ہے زلزلہ سے متاءثر آج ہماری ہر بہن ہر بھائی ہر بچہ ہماری طرف دونوں باہیں پھیلا کر کہہ رہا ہے ۔کیا کہوں اے دنیا والو کیا ہوں میں
دیکھ لو مجھ کو کہ تم جیسا ہوں میں
جب مجھے تم نہیں پہچانتے
غیر اپنے آپ کو لگتا ہوں میں

عجیب کیفیت ہے کہیں کوئی بچہ کوئی بہن کوئی بھائی ٹنوں ملبہ کے نیچے سے زندہ برآمد ہوتا ہے تو مایوسیوں کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں امید کی ایک کرن پھوٹتی ہے جو لمحہ بھر میں غائب ہو جاتی ہے اور پھر گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ امید و یاس کی اس فضا می نہ رات کو آرام نہ دن کو چین ۔ ہفتہ 8 اکتوبر سحری کے وقت سے اب تک میں کل دس گھنٹے آرام کر سکا ہوں ۔ کام کا حساب لگاتا ہوں تو سمندر میں ایک قطرہ محسوس ہوتا ہے ۔گذشتہ رات اور اس پچھلی رات مرگلہ ٹاورز پر جذباتی صورت پیدا ہوئی ۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک امدادی کارکن کو مدھم سی آواز سنائی دی “مجھے نکالو میں زندہ ہوں” ۔ وہاں ایک چھوٹا سوراخ کر کے ایک مائیک لٹکایا گیا تو صاف آواز سنائی دی “میں زندہ ہوں ۔ میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ مجھے نکالو” ۔ ملبہ میں ایک طرف سے سرنگ کھودی گئی جس میں دو تین گھنٹے بعد جب حماد نامی بائیس تیئس سالہ لڑکے کو باہر نکالا تو وہ بلند آواز میں اللہ اکبر اللہ اکبر کہتا جا رہا تھا ۔ اس پر تمام امدادی کارکن اور اپنے عزیزون دوستوں کے نکلنے کی آس میں کھڑے لوگوں نے یک زبان ہو کر نعرہ لگایا ” نعرہء تکبیر ۔ اللہ اکبر” گذشتہ رات ایک عراقی خاتون اور اس کے شیر خوار بچے کو نکالا گیا تو لوگوں نے نعرے لگاۓ “برطانوی مددگار زندہ باد” عراقی عورت نے بتایا کہ “میں نے تو کچھ نہیں کھایا پیا لیکن میں اپنے بچے کو اپنا دودھ پلاتی رہی اور وہ کھیلتا رہا” ۔ سبحان اللہ ۔

اب تک وقفے وقفے سے جھٹکے محسوس کئے جا رہے ہیں ۔ آج دو بج کر دس منٹ پر ذرا تیز تھا ۔ آج تنبہہ کی گئی ہے کہ رات آٹھ اور بارہ بجے کے درمیان زلزلے کے تیز جھٹکے آ سکتے ہیں ۔ اللہ سب کو خیریت سے رکھے ۔ ہمارا مالی بتا رہا تھا کہ گاؤں پیر سوہاوہ میں جو مکان اس نے پچھلے سال بنایا تھا اس میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور اس کے بھائی کا مکان گر گیا ہے ۔ اس مکان کے لئے بیچارے نے بڑی مشکل سے پیسے اکٹھے کئے تھے اور خود بھی تعمیر میں حصہ لیا تھا ۔ اور کہہ رہا تھا کہ زلزلے کے بار بار جھٹکوں سے اس کی بیٹی اتنی ڈر گئی ہے کہ تین دن سے سوئی نہیں ہے اور ہر وقت دروازے میں کھڑی رہتی ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جہاں اتنی تباہی ہوئی ہے ۔

ہمارے ایک عزیز اسی سال اگست میں لیبیا گئے اور اپنے 16 سالہ بیٹے ذھیر اقبال کو اپنے بڑے بھائی کے پاس تعلیم کی خاطر چھوڑ گئے ۔ ہفتہ کے روز اس کی لاش مرگلہ ٹاورز کے ملبہ سے نکلی تھی ۔ انا للہ و انّا الہہ راجعون ۔ بعد میں اس کی تائی صاحبہ کو زخمی حالت میں نکالا گیا ۔ تایا صاحب کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں ۔

آج صبح اطلاع ملی کہ جن علاقوں میں اب جا سکتے ہیں وہاں بھی پینے کا پانی نہیں ہے اور لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں تو تین سے دس لیڑ کی بوتلوں میں پانی کا ایک ٹرک بھجوایا ۔ ہم اتوار سے کوشش کر رہے ہیں ابھی تک صرف 250 تھیلے آٹا اکٹھا ہوا ہے ۔ مل والے کہتے ہیں گندم نہیں مل رہی ۔ راولپنڈی سے کمبل اور رضائیاں اتوار کو جو ملیں اس کے بعد نہیں مل رہے ۔ بھنے چنے جتنے ملے لے لئے ۔کل 7 سے 10 من کا وعدہ ہے اس کے بعد پتہ نہيں ۔ چھوٹے چھوٹے اداروں کی پہنچ اتنی ہی ہوتی ہے ۔ لپٹن نے مشہوری کے لئے پیکٹ بناۓ تھے جس میں بسکٹ اور ایوری ڈے وائٹنر ہے وہ سب اٹھا لئے ۔ جوں ہی ایک ٹرک کے قابل سامان بنتا ہے بھیج دیا جاتا ہے ۔ آج دوپہر تک مظفرآباد جانے کا راستہ بذریعہ ایبٹ آباد تھا ۔ الحمدللہ مری والا راستہ بھی آج کھل گیا ہے ۔ اب دبے ہوؤں کو نکالنے کے لئے فوجی بھی کام کر رہے ہیں ۔ خوراک بھی کچھ پہنچنا شروع ہو گئی ہے ۔

ہاتھ جوڑ کر پاؤں پکڑ کر التجا کرتا ہوں

انّا للہ و انّا الہہ راجعون ۔ ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جانا ہے ۔ اللہ الرحمان الرحیم ہمارے گناہ معاف کرے اور ہماری مدد فرماۓ آمین ۔مجھ سے شکائت تھی کہ میں کبھی خشک اور کبھی سخت تحاریر لکھتا ہوں ۔ سو میں نے نرم و ملائم اور خوشگوار لکھنے کی کوشش کی ۔ لیکن کیا کروں اپنے ارد گرد کے ماحول اور اس کے اثرات کا ۔ میں تین دن سے اپنے اوپر جبر کر کے چپ بیٹھا تھا ۔ آج فجر کی نماز کے بعد مسجد ہی میں وہ مصنوعی بند ٹوٹ گیا جو میں نے باندھا تھا ۔ قدرتی آفت سے جو کچھ ہوا اس پر آنکھیں برسات برساتی رہیں اور دل خون کے آنسو روتا رہا لیکن لب پر تالا ڈالے رکھا اب قدرتی آفات سے بچ جانے والے بہن بھائیوں اور بچوں کو آفت زدہ علاقہ سے دور بیٹھی اپنی قوم کی بیوقوفیوں کے باعث مرتے ہوۓ نہیں دیکھا جاتا ۔ رات بھر اللہ سے گڑگڑا کر دعا کرتا رہا کہ میری ریڑھ کی ہڈی میں جو نقص اس سال جنوری میں پیدا ہوا اسے ٹھیک کر دے تا کہ میں اپنی کار میں جتنی خشک تیار خوراک بھر سکوں بھر لوں اور متاءثرین کو پہنچاؤں ۔ شائد میری وساطت سے چند انسانوں میں زندگی باقی رہے ۔

اسلام آباد سے لے کر کراچی تک سب (بمع ان اداروں کے جن کے لئے میں کام کر رہا ہوں) خیمے اور دوائیاں اکٹھی کر رہے ہیں ۔ شائد ایدھی ٹرسٹ کا کفن اکٹھے کرنا صحیح قدم ہے کیونکہ قدرتی آفات میں دب کے مرنے والوں کو تو کفن پہنانا فرض نہیں جب خدانخواستہ قدرتی آفات سے بچ جانے والے تین لاکھ افراد بھوک سے مر جائیں گے تو کفنوں کی ضرورت پڑے گی ۔

پیر مورخہ 10 اکتوبر کی شام تک آزاد جموں کشمیر کے متاثرین کو کچھ کھانے کے لئے نہیں ملا ۔ وہ سب ہفتہ 8 اکتوبر کی سحری کے بعد سے بھوکے ہیں اور ہم سب صرف امداد اکٹھا کرنے میں لگے ہیں اور بہت خوش ہیں کہ ڈھیر لگ گئے ہیں ۔ابھی تو امداد پہنچنے کی صرف باتیں ہی ہیں اگر یہ امداد پہنچ بھی گئی تو تین لاکھ متاثرین کے لئے اونٹ کے منہ میں ذیرہ سے بھی کم ہو گی ۔

میرے محترم و مکرم حضرات اور خواتین ۔ ابھی فوری طور پر رس (جنہیں کراچی میں پاپے کہتے ہیں) ۔ بسکٹ ۔ بھنے ہوۓ چنے ۔ کھجوریں ۔ خشک دودھ اور اسی طرح کی غذائی اشیاء فوری طور پر متاءثرہ علاقہ میں پہنچائیں ۔ اور آٹا ۔ چاول ۔ چینی ۔ گھی وغیرہ خریدنا شرو‏ع کردیں اور ساتھ وہ بھی بیجھیں ۔

میری سب سے درخواست ہے کہ میری اس التجا کو اپنی بنا کر اپنے تمام جاننے والوں تک پہنچا دیں ۔ اللہ سبحانہ و تعالی آپ کی مدد فرماۓ آمین

سلوک ۔ برتاؤ

ہم رمضان کے مہینہ میں روزے رکھتے ہیں ۔ چاہے تنہا ہوں کچھ کھاتے پیتے نہیں اور نہ کوئی برا یا غلط کام کرتے ہیں صرف اس لئے کہ اللہ تعالی دیکھ رہے ہیں ۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ باقی سارا سال ہمیں کیوں یاد نہیں رہتا کہ اللہ دیکھ رہے ہیں اس لئے برے یا غلط کام نہ کریں ؟

سورۃ 2 البقرۃ آیۃ 263 ۔ ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ ہو ۔
اللہ بے نیاز ہے اور بردباری اس کی صفت ہے ۔

>سورۃ 4 النّسآء آیۃ 36 ۔ اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ۔ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ۔ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ۔ اور پڑوسی رشتہ دار سے ۔اجنبی ہمسایہ سے ۔ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں احسان کا معاملہ رکھو ۔ یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ۔

سورۃ 25 الفرقان آیۃ 68 ۔ جو اللہ کے سوا کسی اور کو معبود نہیں پکارتے ۔ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا ۔

بلاگرز سے دست بستہ درخواست

آپ سب انسانیت کے علمبردار ہیں اور انسانیت کے حق میں بہت کچھ لکھتے رہتے ہیں ۔ آج آپ کے امتحان کا وقت ہے کہ آپ ثابت کریں کہ آپ حقیقی طور پر انسانیت دوست ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ واقعی انسان دوست ہیں ۔ آگے بڑھئیے اور اسے عملی طور پر ثابت کیجئے ۔ ہزاروں کی تعداد میں بچے بوڑھے جوان عورتیں اور مرد آزاد جموں کشمیر اور صوبہ سرحد میں بے خانماں پڑے ہیں ۔ نہ سر پر چھت ہے نہ ان کے پاس سردی سے بچنے کے لئے کپڑے ہیں اور نہ کچھ کھانے کو ہے ۔ عزیزوں کی اچانک موت کے ساتھ ساتھ ان کا سب کچھ تباہ ہو چکا ہے ۔ ان لوگوں نے 8 اکتوبر کی صبح سحری کھائی تھی اس کے بعد سے کچھ نہ کھایا نہ پیا ۔ کھائیں کہاں سے سب کچھ ملبے کے نیچے دب گیا ۔اپنے گھروں کی الماریوں اور صندوقوں کی تلاشی لیجئے ۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ کا گذارا پانچ جوڑوں ۔ دو سویٹروں ۔ دو کوٹوں اور ایک کمبل یا رضائی سے ہو سکتا ہے مگر آپ کے پاس اس سے زیادہ یا بہت زیادہ چیزیں ہیں ۔ ان زائد کپڑوں ۔ کمبلوں اور رضائیوں کا اس سے بہتر کوئی استعمال نہیں کہ انہیں زلزلہ کے متاءثرین کو دے کر اپنی انسانیت کا ثبوت دیں اور ان کی دلی دعائیں بھی حاصل کریں ۔

جب آپ اپنے گھر سے سامان دے چکیں تو پھر اپنے رشتہ داروں ۔ دوستوں اور محلہ داروں کو اس نیک کام میں بھرپور حصہ لینے کی نہ صرف ترغیب دیں بلکہ ان سے کپڑے ۔ کمبل اور رضائیاں اکٹھے کر کے مناسب طریقہ سے متاءثرین تک پہنچانے کا بندوبست کیجئے ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشی اس سلسہ میں مجھ سے ٹیلیفون نمبر 2252988 اور 03215102236 پر رابطہ کر سکتے ہیں ۔ میں سامان ان کے گھر سے اٹھانے کے لئے بھی تیار ہوں ۔ میں سامان پہنچانے والے کچھ با اعتماد اداروں کو جانتا ہوں