راستہ صرف ایک ۔ نہ کہ تين

میں سوچا کرتا تھا کہ مسلمان تنزّل کا شکار کیوں ہیں جبکہ غیر مُسلم ترقی کر رہے ہیں ؟
مارچ 1983ء سے ستمبر 1985ء تک میں پرنسپل ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ تھا ۔ 1983ء میں جدید ٹیکنالوجی سے لَیس انسٹیٹوٹ کی منصوبہ بندی کے دوران متذکرہ بالا سوال نے میرا ذہن کئی دنوں سے پریشان کر رکھا تھا کہ ایک دن مجھے آواز آئی ” اگر تُو نے اللہ کے خوف کو دل میں بٹھا کر پڑھی تو وہ ہے تیری نماز“۔

بولنے والا میرا چپڑاسی محمد شکیل تھا جو چوتھی جماعت پاس سابق فوجی تھا ۔ اللہ کریم نے مجھے بابا شکیل کے ذریعہ وہ بات سمجھا دی تھی جو کوئی پڑھا لکھا مجھے نہ سمجھا سکا تھا ۔ بلا شُبہ بابا شکیل دُنیاوی عِلم اور مال سے محروم تھا لیکن اللہ نے اُسے دینی عِلم و عمل سے مالا مال کر رکھا تھا

اللہ سُبحانُہُ و تَعالٰی نے ہمیں ایک راستہ دِکھایا [صِراطُ المُستَقِیم] اور ہدائت کی کہ ہمارا کھانا ۔ پینا ۔ اُٹھنا ۔ بیٹھنا ۔ سونا ۔ جاگنا ۔ مِلنا ۔ جُلنا ۔ اِخلاق ۔ لین ۔ دین ۔ کاروبار غرضیکہ ہر عمل دین اِسلام کے مطابق ہونا چاہیئے ۔ ویسے تو ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں کہتے ہیں ِاھدِنَا صِرَاطَ المُستَقِیم یعنی دِکھا ہم کو راہ سیدھی جو کہ ایک ہی ہو سکتی ہے لیکن اپنی عملی زندگی میں ہم نے تین راستے بنا رکھے ہیں ۔Three Paths

1 ۔ خانگی یا خاندانی معاملات کو ہم ایک طریقہ سے حل کرتے ہیں ۔

2 ۔ دفتر یا کاروبار کے معاملات کو ہم کسی اور نظریہ سے دیکھتے ہیں ۔

3 ۔ دین کو ہم نے بالکل الگ کر کے مسجد میں بند کر دیا ہے اور مسجد سے باہر صرف کسی کی موت یا نکاح پر استعمال کرتے ہیں ۔

ہماری حالت اُس شخص کی سی ہے جو ایک مقام سے ایک سِمت چلا ۔ بعد میں اُسے ایک اور کام یاد آیا ۔ چونکہ دوسرے کام کا راستہ مختلف تھا چنانچہ وہ واپس ہوا اور دوسرے کام میں لگ گیا ۔ پھر اُسے تیسرا کام یاد آیا اور اِس کا راستہ پہلے دو کاموں سے مختلف تھا چنانچہ وہ پھر مُڑا اور تیسرے کام کی طرف چل دیا ۔ اِس طرح وہ جس مقام سے چلا تھا اُسی کے گرد مُنڈلاتا رہا اور کسی سمت میں زیادہ پیشقدمی نہ کر سکا ۔
One Path
متذکّرہ بالا آدمی کے بر عکس ایک شخص نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے سارے کام ایک ہی طریقہ سے سرانجام دے گا چنانچہ وہ ایک ہی سِمت میں آگے بڑھتا گیا اور بہت آگے نکل گیا ۔ ملاحظہ ہوں دونوں صورتیں علمِ ہندسہ کی مدد سے ۔

غیرمُسلموں نے دین کو چھوڑ دیا اور اپنے خانگی اور کاروباری معاملات کو صرف نفع اور نقصان کی بُنیاد پر اُستوار کیا اور آگے بڑھتے چلے گئے گو دین کو چھوڑنے کے باعث اخلاقی اِنحطاط کا شکار ہوئے ۔ جب کہ بے عمل مسلمان نہ دین کے رہے نہ دُنیاوی کاموں میں ترقی کر سکے ۔ بقول شاعر ۔

نہ خُدا ہی ملا نہ وصالِ صنم ۔ ۔ ۔ نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ۔

بیوی اور گدھے میں تقابل

ہماری حکومت پچھلے پانچ سال سے اسلام ۔ قرآن اور مُسلمان کا تيا پانچہ کرنے کيلئے تعليمی نصاب ميں غَلَط دَر غَلَط تبديليوں کے لطيفے چھوڑ تی رہتی ہے ۔ اس کے مقابلہ ميں بھارتی محکمہءِ تعليم حِسِ مزاح رکھتا ہے ۔ بھارت کے مغربی صوبہ راجستھان میں جہاں بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت ہے شائد نویں جماعت کے حکومت سے منظور شُدہ کورس کی کتاب میں لکھا ہے “گدھا بھی گرہستن عورت کی طرح ہے ۔ درحقیقت گدھا کچھ بہتر ہے ۔ کیونکہ گرہستن عورت کبھی کبھار شکائت کرتی ہے اور ناراض ہو کر اپنے میکے بھی چلی جاتی ہے لیکن آپ کبھی نہیں دیکھیں گے کہ گدھے نے اپنے مالک کے ساتھ بے وفائی کی ہو”۔

کتاب کے اِسی باب میں گدھے کا مقابلہ سیاستدانوں سے بھی کیا گیا ہے اور لکھا ہے ” گدھا سیاستدانوں کے مقابلے میں تنقید برداشت کر لیتا ہے”۔ ہميں يہ بات سمجھ نہيں آ سکتی کيونکہ ہمارے مُلک ميں جرنيل اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہيں اور سياستدانوں کی حثيت کچھ بھی نہيں ۔

اللہ کو کيسے مُخاطب کريں ؟

اِس سلسلہ ميں قرآن شريف کی متعلقہ آيات ميں سے کُچھ کا ترجمہ

سُورَة 7 الْأَعْرَاف آيت 180
اور اللہ ہی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں ۔ سو اسے ان ناموں سے پکارا کرو اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے انحراف کرتے ہیں ۔ عنقریب انہیں ان (اعمالِ بد) کی سزا دی جائے گی جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں

سُورَة الْاِسْرَء / بَنِیْ ِإسْرَآءِيْل 17 ۔ آيت 110
کہہ دیجئے کہ اﷲ کو پکارو یا رحمان کو پکارو ۔ جس نام سے بھی پکارتے ہو اچھے نام اسی کے ہیں

سُورة طٰہٰ 20 آيت 14
بیشک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری عبادت کیا کرو اور میری یاد کی خاطر نماز قائم کیا کرو

سُورَة النَّمْل 27 آيت 9
اے موسٰی! بیشک وہ میں ہی اللہ ہوں جو نہایت غالب حکمت والا ہے

سُورَة الْقَصَص 28 آيت 30
جب موسٰی وہاں پہنچے تو وادئ کے دائیں کنارے سے بابرکت مقام میں ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسٰی! بیشک میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا پروردگار

سُورَة الرَّحْمٰن 55 آيت 78
آپ کے رب کا نام بڑی برکت والا ہے ۔ جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ اِنعام و اِکرام ہے

سُورَة الْحَشْر 59 آيات 22 تا 24
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے ۔ وہی بے حد رحمت فرمانے والا نہایت مہربان ہے ۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ بادشاہ ہے ۔ ہر عیب سے پاک ہے ۔ ہر نقص سے سالم ہے ۔ امن و امان دینے والا ہے ۔ محافظ و نگہبان ہے ۔ غلبہ و عزّت والا ہے ۔ زبردست عظمت والا ہے ۔ سلطنت و کبریائی والا ہے ۔ اللہ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ اُس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ وہی اللہ ہے جو پیدا فرمانے والا ہے ۔ عدم سے وجود میں لانے والا ہے ۔ صورت عطا فرمانے والا ہے ۔ سب اچھے نام اسی کے ہیں ۔ اس کے لئے وہ (سب) چیزیں تسبیح کرتی ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ۔ اور وہ بڑی عزت والا ہے بڑی حکمت والا ہے

کانٹا يا کنويں کا کُتا

خاور صاحب نے ايک تُمہيد کے بعد يہ سوال پوچھا ہے ۔ ” اس بيمارى كو پيدا كرنے والاكانٹا كہاں چُبھا ہے يا كتّا كہاں سے نكالنا چاہيئے ـ آپ سب مجھے بتائيں ـ سوال يہ ہے كہ ان رسوم كی پيدائش كی وجہ كيا ہے؟ ميرا يہ سوال خاص طور پر ہے اجمل صاحب ۔ ميرا پاكستان والے افضل صاحب ۔ جناب شيخو صاحب ۔ اپنا ڈيره والے منير احمد طاہرصاحب ۔ كيفے حقيقت والے ضياء صاحب سے”

منير احمد طاہر صاحب اظہارِخيال کر چکے ہيں ۔ ٹھيک ہی کہتے ہيں کہ ہمارے ملک ميں ہر چيز ہی اُلٹ ہے ۔

يہ ٹھيک ہے کہ مسئلہ بہت گھمبير ہو چکا ہے بلکہ دن بدن گھمبير تر ہوتا جا رہا ہے ۔ شيخ سعدی صاحب نے چھوٹی چھوٹی مگر بڑی فلسفيانہ کہانياں لکھی ہيں ۔ “ايک صبح ايک آدمی حکيم کے پاس جا کر پيٹ درد کی شکائت کرتا ہے ۔ حکيم پوچھتا ہے کہ رات کو کيا کھايا تھا ؟ مريض کہتا ہے کہ جلی ہوئی روٹی ۔ حکيم اپنے نائب سے کہتا ہے آنکھوں کا دارو لاؤ ميں اس کی آنکھوں ميں ڈالوں تا کہ يہ ديکھ کر روٹی کھايا کرے”۔

ايک اور چيز ہے کہ درخت کے پتے بيمار ہو جاتے ہيں تو اپنے لوگ پتوں پر ولائتی دوائياں چھڑکنا شروع کر ديتے ہيں يہ کوئی نہيں سوچتا کہ کيڑا درخت کے تنے ميں لگا ہے يا جڑوں کو ديمک چاٹ رہی ہے اور يہ کہ ديسی درخت ہے تو علاج بھی ديسی طريقہ سے ہو سکتا ہے ۔ ہماری قوم کی تمام بيمارياں غيرمُلکی جراثيم کا نتيجہ ہيں ۔ ديسی حکيم چاہے حکيم سعيد ہو ۔ ڈاکٹر غلام مرتضٰے ملک ہو يا ڈاکٹر عبدالقدير خان يا اُنہيں مار کے دفن کر ديتے ہيں يا زندہ درگور کر ديتے ہيں ۔

آپ کہيں گے کہ اِدھر اُدھر کی ہانک رہا ہے بتاتا نہيں کانٹا يا کُتا کہاں ہے ؟ غير مُلکی حکمرانوں کے مُلک چھوڑ دينے کے باوجود ان کی وضع کردہ لادينی تعليم يافتہ مسلمانوں کی اکثريت کو اپنے دين سے بيگانہ کر ديا تھا ۔ جس کے زيرِاثر وہ سمجھنے لگے تھے کہ اسلام موجودہ زمانہ کی ترقی کا ساتھ نہيں دے سکتا ۔ اسلئے وہ تغيّرپضير زمانہ کو اس کی خاميوں اور خرابيوں کے ساتھ قبول کرتے گئے ۔ تحريکِ پاکستان کی بُنياد بلاشُبہ اسلام تھا جس کا عينی گواہ ميں خود بھی ہوں ۔ بدقسمتی سے جو بحث پاکستان بننے کے اعلان کے بعد انہيں تعليم يافتہ ميں سے کچھ نے شروع کی تھی آج بھی جاری ہے کہ کيا پاکستان ايک سيکولر سٹيٹ ہونا چاہيئے تھی يا پھر اسے ہندوستان ميں بسنے والے مسلمانوں کيلئے عليحدہ مملکت ہونا چاہيئے ۔ يہ ايک بڑی غلطی ہے جس کا خميازہ قوم بھُگت رہی ہے ۔

چنانچہ يہ کانٹا غلام محمد اور اُس کے بابو ساتھيوں نے 1953 عيسوی میں چبھويا تھا ۔ اس کے بعدجس نے کانٹا نکالنے کے نام پر جراحی کی وہ تھوڑی سی روئی يا پٹی کا ٹکڑا يا جراحی کا اوزار اندر چھوڑ گيا ۔ آج کا نحيف مريض جب نوجوان اور توانا تھا کافی عرصہ تکليف برداش کر گيا ۔ رفتہ رفتہ زخم ميں پڑی پيپ کا زہر سارے جسم پر اثرانداز ہوا تو جسم لاغر ہوتا گيا اور تکليف بھی بڑھتی گئی ۔

دوسرے الفاظ ميں کُتا کنويں ميں پھينک ديا اور بعد ميں آنے والوں نے کُتے کو تو کنويں سے نہ نکلا البتہ پانی کے بوکے نکال نکال کر کنواں خشک کر ديا دوسرے مردہ کُتے کی سڑاند نے کنويں کو گندا بنا ديا ۔ جنابِ والا ۔ يہ مريض يا کنواں پاکستان ہے اور کاٹنا جو چبھويا گيا يا کتا جو گہرے کنوئيں ميں پھينکا گيا وہ اسے دينی اور دُنيوی عِلم سے دور کرنے کا عمل ۔

ہمارے ملک ميں تعليم کے ساتھ جو کچھ آدھی صدی سے ہوتا چلا آ رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ 1972 عيسوی تک تو صرف اتنا تھا کہ تعليم کی طرف توجہ نہ دی گئی مگر جو تھا وہ چلتا رہا ۔ گو دينی تعليم نہ ہونے کے برابر تھی ۔ 1972 تعليمی ادارے قوميا کر اعلٰی معيار قائم کرنے کے بہانے ان کا جو حشر کيا گيا وہ کسی دوشيزہ سے بدکاری کرنے سے کم نہ تھا ۔ اُس کے بعد دو معيار کے تعليمی ادارے بنانے کی حوصلہ افزائی کی گئی جو آج تک جاری ہے ۔ اس کا مقصد قوم کو دو طبقوں ميں تقسيم کرنا تھا ۔ حاکم اور محکوم ۔ سو يہ مقصد بڑے کرّوفر کے ساتھ حاصل کيا جا چکا ہے ۔

يہ کانٹا چبھونے کے بعد جراحی يہ ہوتی رہی کہ ايسے قانون اور اصول وضح کئے گئے جس کے نتيجہ ميں امير امير تر ہوئے اور متوسط طبقہ غريب ہوتا گيا اور اب معمولی استثنٰی کے ساتھ دو طبقے تقريباً بن گئے ہيں ۔ ايک بہت امير اور دوسرا غريب ۔ مگر اوّلالذکر طبقہ کی نقل ميں کچھ متوسط طبقہ نے اپنے لوازمات اپنی اوقات سے کہيں زيادہ بڑھا لئے ہيں جو اُنہيں بھی لوٹ مار پر اُکساتے رہتے ہيں ۔ علم سے بے بہرہ اور دين سے بيگانہ ہو کر اچھی زندگی گذارنے کے بہانے لوگ اپنے ہی بھائيوں کا گلا کاٹنے اور لوٹ مار ميں لگ چکے ہيں ۔ پہلے ہماری عِلمی حقيقتوں سے عاری اور فلمی دنيا ميں گُم رہنے والی قوم بے خيالی ميں ہندوانہ رسوم اپنائے جا رہی تھی اور ہمارے ملک کی آزاد خيال اين جی اوز اس سلسہ ميں اُن کی حوصلہ افزائی کرتی رہتی تھيں ۔ اب موجودہ حکومت کی روشن خيالی نے وارے نيارے کر ديئے ہيں ۔ روشن خيالی کے نرغے ميں آئے ہوئے لوگ نہ صرف ہندوانہ اور مغربی رسوم اپنانا قابلِ فخر سمجھنے لگ گئے ہيں بلکہ رشوت اور لوٹ مار کو حق اور دھوکہ دہی و دوسری خرافات کو ہوشياری کا نام دے ديا ہے اور عُريانی اور جنسی اظہار کو ترقی کی نشانی قرار دے ديا ہے ۔

مثل مشہور ہے کہ آئينے ميں اپنا ہی چہرہ نظر آتا ہے اسلئے ہمارے حکمران جو عُلم کو اپنا غلام اور دِين کو اجنبی سمجھتے ہيں کو قوم کے مال پر عياشياں کرتے ہوئے سب عوام خوشحال نظر آتے ہيں ۔ جہاں تک قوم کا تعلق ہے کچھ کو لوٹ مار سے فرصت نہيں ۔ کچھ امير بننے کی دوڑ ميں سرگرداں ہيں اور کچھ ايک وقت کی روٹی مِل جانے کے بعد اپنے بچوں کے لئے دوسرے وقت کی روٹی کيلئے اتنے پريشان ہيں کہ گردوپيش کا ہوش نہيں ۔ نتيجہ ظاہر ہے کہ کوئی تحريک ظُلم اور اجاراداری کے خلاف نہيں اُٹھتی ۔

کانٹے يا کنويں کے کُتے کی نشاندہی ميں نے کر دی ہے ۔ کانٹا يا کُتا نکالا کيسے جائے ؟ يہ ايک تفصيلی موضوع ہے انشاءاللہ آئيندہ ۔

چُٹکلے

ہفتہ کو اسلام آباد ميں درجہ حرارت 43 ڈگری سيلسِيئس تک گيا اتوار کو صبح نو بجے ہی بہت گرمی تھی ۔ اتوار بازار ہمارے گھر سے ايک ڈيڑھ کلوميٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ ميں سودا لينے گيا تو وہاں ايک دکان پر کچھ لوگ گرمی کی شدّت کا ذکر کر رہے تھے ۔ مجھے آمد ہوئی ميں نے ايک صاحب کو مُخاطب کر کے پوچھا “بھائی صاحب ۔ اگر آپ کے ساتھ کو ہيراپھيری کرے تو؟” وہ صاحب کچھ پريشان ہوئے پھر بولے “ظاہر ہے گرمی آئے گی” ميں بولا “جب سب ہيراپھيری ميں لگے ہيں تو گرمی کی شکائت کيوں ؟”

اتوار بازار سے واپسی پر ايک کرائے کی پِک اَپ پر لکھا شعر پڑھا ۔

ميرے خلوص کی قيمت بھی کم نہ تھی
وہ کم انديش لوگ تھے سو دولت پہ مرگئے

ايک شعر ميرے بچپن کا

ہو جُون کا مہينہ خُنکی سی پڑ رہی ہو
بارہ بجے ہوں دن کے اور اوس پڑ رہی ہو

مزيد بابت خُدا حافظ اور عربی کا قصور ؟

سيّدہ مہر افشاں صاحبہ نے ميری تحرير پر تبصرا کرتے ہوئے لکھا “- – ليکن ايک بات ميری سمجھ ميں نہيں آتی جو اللہ حافظ کہنا چاہتے ہيں اُن پر اِتنی تنقيد اور جو خُدا حافظ کہنے کيلئے صفحوں پر صفحے سياہ کئے جاتے ہيں کيا وہ شدّت پسندی ميں مُبتِلا نہيں ہيں ؟ جب يہ طے ہو گيا کہ جس کو جو اچھا لگے وہ وہی کہے تو احمد بشير ۔ انتظار حسين اور دوسرے اُن جيسی سوچ رکھنے والوں کو کيا کہا جائے ۔ ۔ ۔ ؟ “

احمد بشير اور اِنتظار حسين صاحبان کے مضامين جن پر مہر افشاں صاحبہ نے رائے طلب کی ہے ميں نے اپنے بڑے بيٹے زَکَرِيّا کی تحرير پر سپاہی صاحب [sepoy] کے تبصرہ کے حوالہ سے پڑھے تھے ۔ ميں ايسے لوگوں کو بُرا نہيں کہتا کيونکہ اوّل تو يہ فرض اللہ نے مجھے تفويض نہيں کيا۔ دوم ۔ اگر ايسے لوگ نہ ہوتے تو ميرے دِل ميں عِلمِ دين کی جُستجُو کيسے پيدہ ہوتی؟ سوم ۔ اُنہيں بُرا کہنے سے اُن کا تو کُچھ نہيں بگڑے گا البتہ ميری زبان مَيلی ہو گی ۔

احمد بشير صاحب نے اللہ حافظ کہنے کی مُخالفت کرتے ہوئے لکھتے ہيں کہ اُنہوں نے پاکستان ۔ برطانيہ ۔ متحدہ عرب امارات اور امريکہ کے کئی شہروں ميں بہت سے احباب سے ٹيلفون پر بات کی اور سب نے کلام کے اختتام پر اللہ حافظ کہا ۔ ثقافت اور رسم و رواج کے حامی جمہوريت کے دِلدادہ بھی ہوتے ہيں مگر سو فيصد جمہور کا فيصلہ احمد بشير صاحب نہ ماننے پر بضد ہيں ۔ پوٹھوہاری زبان کا ايک مقولہ ہے ” تُساں نا آکھا سِر مَتھّے اَساں نا پرنالہ اُتھے نا اُتھے” [ترجمہ: آپ کہتے تو صحيح ہيں مگر ہم وہی کريں گے جو ہم کر رہے ہے] مزيد احمد بشير صاحب فرماتے ہيں کہ “خُدا” فارسی کے لفظ “خُود” سے نکلا ہے اور اس کا مطلب ہے “خُود بخُود پيدا ہوا “۔ سُبْحان اللہ ۔ ميں نے اپنی سابقہ تحرير ميں مثال دی تھی ” لکھے مُو سا پڑھے خود آ ” کو بنا ديا گيا “لکھے موسٰی پڑھے خُدا “۔ معلوم ہوتا ہے احمد بشير صاحب نے کہيں يہ پڑھ رکھا ہو گا ۔ ورنہ فارسی سے استنباط نہ کرتے ۔

اِنتظار حسين صاحب نے Prof Ralph Russell کی تحرير کی بنياد پر اُردو کے اعلٰی و عُمدہ ترين اداروں [مُقتدرہ قومی زبان پاکستان اور دارُالترجمہ عُثمانيہ يونيورسٹی حيدرآباد دکن بھارت] اور ان اداروں ميں کام کرنے والے عُمدہ اُردودانوں کو غلط قرار ديتے ہيں تو پھر اِنتظار حسين صاحب کے ساتھ بحث کرنے کی کون جُراءت کرے ۔ اِنتظار حسين صاحب کہتے ہيں کہ جب انگريزی سے اُردو ميں ترجمہ کرتے ہوئے عربی اور فارسی کے اُصُول اپنانا ہيں تو انہيں انگريزی ہی ميں رہنے ديا جاۓ ۔ جو شخص يہی بھول جائے کہ اُردو کے ماں باپ عربی اور فارسی ہيں اُسے کوئی کيا کہے ۔ مزيد خُدا حافظ کہنے کے متعلق احمد بشير صاحب کی تائيد ميں کہتے ہيں کہ ” خُدا ايک پاک نام ہے جسے مسلمان شعراء ۔ مفکّرِين اور عُلماء نے مذہبی احساسات اور سوچ کو جذب کر کے استعمال کيا ہے اور عام مسلمانوں کی مُجتمع سوچ بھی يہی ہے” ۔ يہ اِستدلال ميری سمجھ ميں نہيں آيا کہ سارے مذہبی احساسات اور سوچ صرف لفظ خُدا ميں کيوں کر جذب ہو کر رہ گئے اور لفظ اللہ ميں کيوں نہ ہو سکے ؟ احمد بشير اور اِنتظار حسين صاحبان کا يہ اِستدلال بھی صحيح نہيں کہ جنرل ضياءالحق کے دور ميں لوگوں نے اللہ حافظ کہنا شروع کيا ۔ کيا مارشل لاء کا کوئی حُکمنامہ تھا کہ سب اللہ حافظ کہيں ؟

حقيقت يہ ہے کہ لوگ پہلے بھی اللہ حافظ کہتے اور لکھتے تھے پھر جب 1970 عيسوی ميں پاکستان کی طِبّبی ۔ فنّی اور عسکری جماعتيں سرکاری طور پر عرب ملکوں کو لمبے دورانيوں کيلئے جانا شروع ہوئيں ۔ 1973 عيسوی سے مہنگائی اور بے روزگاری کا آغاز ہوا جو دن بدن بڑھتا گيا چنانچہ انفرادی طور پر بھی لوگوں نے عرب ممالک کا رُخ کيا جس کے باعث عربی کے کئی الفاظ اُردو ميں ضم ہوئے ۔ لوگوں نے اپنے بچوں کے نام بھی عربی ميں رکھنے شروع کئے ۔ کئی لوگوں کے تلفُّظ ميں بھی تبديلی آئی ۔ اس کے علاوہ عربی کھانے بھی پاکستان ميں رائج ہوئے مثلاً فُول مدمّس ۔ شورما ۔ جُبنہ بيضاء ۔ بقلاوہ وغيرہ ۔

ميری زندگی ميں کچھ لوگوں کا اس طرح کا رويّہ پہلا واقع نہيں ۔ اللہ جلِّ شانُہُ کی کرم نوازی ہے کہ مجھے بہت سے تجربوں سے گُذارا اور ثابت قدم رکھا ۔ اِن مخالف رويّوں بلکہ تجربوں نے اپنے مالک و خالقِ حقيقی کو پہچاننے ميں ميری مدد کی ۔ ميرا سب سے کٹھن وقت وہ تھا جب 51 سال قبل ميں گارڈن کالج راولپنڈی ميں ايف ايس سی کا طالب علم تھا اور بائبل کی کلاس ميں امريکن اُستاد کے مذہبی حملہ کے سامنے سوائے ايک طالب علم [مصطفٰے صدّيقی] کے ميرے سميت مسلمان کہلانے والوں کی پوری جماعت گُنگ ہو کر رہ گئی تھی ۔ اس حادثہ کے زيرِ اثر ميں نے انجيل مکمل [زبور ۔ تورات اور انجيل] کا اچھی طرح مطالعہ کيا پھر قرآن شريف سمجھنے کے پيچھے پڑ گيا ۔ اُن دنوں راولپنڈی ميں قرآن شريف کی اُردو ميں تفسير تو کيا مُستند دينی کُتب بھی ناياب تھیں چنانچہ ميں نے اچھے عالِموں کو ڈھونڈنے اور اُن سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ اس سعی ميں مجھ پر عياں ہوا کہ جو بہت سے لوگ بظاہر عالِم تھے اُن ميں حقيقی عالِم خال خال ہی تھے باقی اسلئے مسجد يا گدّی سنبھالے بيٹھے تھے کہ اُن کے بزرگوں کا يہی پيشہ انگريزوں کے وقت سے چلا آرہا تھا بہرحال کچھ عالِم مل گئے جنہوں نے ميرا قِبلہ درُست کيا ۔

اُنہی دنوں ايک ترقی پسند تحريک اُبھری جو اپنی چکاچوند کے باعث بہت جلد پھيل گئی ۔ ميں بھی اس ميں شامل ہو گيا ۔ اس کے رہبروں نے ترقی کے لبادے ميں اسلام کے بخيئے اُدھيڑنے شروع کئے تو اُن کی اصليت اُجاگر ہوئی ۔ 1956 عيسوی ميں انجنئرنگ کالج ميں داخل ہوا تو لاہور ميں مجھے کچھ مُستند دينی کُتب دستياب ہوئيں اور ميں نے انہماک کے ساتھ دين کو سمجھنا شروع کيا ۔ بعد ميں اپنی زندگی کے مراحل طے کرتے ہوئے کبھی اسلامی سوشلِزم کبھی ترقی پسند اسلام وغيرہ ديکھتا رہا اور اب ساڑھے چھ سال سے روشن خيال اسلام ديکھ رہا ہوں ۔