ربّا سوہنیا ۔ میں کِتھے جاواں

ربّاسوہنیا ۔ میں کِتھے جاواں
کِنوں جا دل دا حال سُناواں
تیریاں نعمتاں نیں سجے کھبے
تیریاں برکتاں نیں اُتے تھلے
پر اساں کی ظلم کمایا اے
چور لفنگیاں نوں اُتے بٹھایا اے
اِک چڑھدی مہنگائی ستایا اے
اُتوں گرمی نے پرسیو وگایا اے
وڈیریاں دی واپڈا واہ وا موج بنائی اے
ساڈی بجلی تے لوڈ شیڈنگ لائی اے
پانی کدی غیب کدی آوے قطرہ قطرہ
بُڈھا کی ۔ جوان بھی ہو جاوے سترہ بہترہ
بِِل لَیوَن تِن مہینیاں دا ۔ روپیّہ سولاں سو
پانی نہ چھڈدے ۔ کہندے ٹینکر لَے لو

اُردو ترجمہ
میرے اچھے اللہ میں کہاں جاؤں
کسے جا کے دل کا حال سناؤں
تیری نعمتیں ہیں دائیں بائیں
تیری برکتیں ہیں اُوپر نیچے
لیکن ہم نے کیا گناہ کیا ہے
چور بدمعاشوں کو حاکم بنایا ہے
ایک روزافزوں مہنگائی نے ستایا ہے
اس پر گرمی نے بھی پسینہ نکالا ہے
بڑے لوگوں کو واپڈا نے آرام پہنچایا ہے
ہماری بجلی پر لوڈ شیڈنگ لگائی ہے
پانی کبھی نہ آئے اور کبھی آئے قطرہ قطرہ
بوڑھے کیا جوانوں کے بھی سر گھوم جاتے ہیں
بِل یہ لیتے ہیں تین ماہ کا روپے سولہ سو
پانی نہیں چھوڑتے اور کہتے ہیں ٹینکر لے لو

کہتا ہوں سچ

کہتا ہوں ميں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہيں مُجھے ۔ سچ بولنے والے کو نہ صرف آخرت ميں بلکہ اس دنيا ميں بھی فائدہ ہے ۔ جھوٹ بولنے والا گناہ کا مرتکب بھی ہوتا ہے اور اگر پکڑا نہ بھی جائے قابلِ اعتماد نہيں رہتا ۔ ميری زندگی کے کئی واقعات ميں سے صرف تين دلچسپ واقعات جن سے ميری حوصلہ افضائی ہوئی ۔ سبحان اللہ ۔

آدھی صدی سے زائد قبل ميں شايد ساتويں جماعت ميں پڑھتا تھا کہ ایک دن گھر سے سودا لينے نکلا ۔ ميرے پاس پانچ روپے کا نوٹ تھا بارش شروع ہو گئی تو ميں نے بھيگنے سے بچانے کيلئے نوٹ اپنی شلوار کے نيفے ميں دبا ديا اور بھاگنے لگا ۔ دکان پر پہنچ کر ديکھا تو نوٹ غائب ۔ واپس ہو کر تلاش کيا اور آس پاس کے دکانداروں سے بھی پوچھتا گيا لیکن نہ ملا ۔ میں گھر سے مزید پيسے لا کر جب واپس آ رہا تھا تو ميں نے سڑک پر ايک دس روپے کا نوٹ ديکھا ۔ مجھے قريبی دکاندار نے کہا “يہ نوٹ اُٹھا لو تم بھول گئے ہو گے تمہارے پاس دس کا نوٹ ہو گا” ليکن ميں نے نہ ليا تو دکاندار نے مجھے کہا “يہ پانچ روپے جو تمہارے گم ہوئے تھے اور پانچ روپے تمہارا انعام ۔ دیکھو اب یہ واپس نہیں کرنا ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گا”۔ اور دس کا نوٹ میری جیب میں ڈال دیا ۔ شائد وہ دس کا نوٹ اس دکاندار ہی نے میرا امتحان لینے کیلئے سڑک پر رکھا تھا ۔

ميں انجنيئرنگ کالج لاہور ميں سيکنڈ ايئر ميں تھا ۔ چٹھيوں میں گھر آیا تھا اور چھٹیاں ختم ہونے پر کالج جانے لگا تو والدہ نے کہا يہ دس کلو چاول لے جاؤ ہوسٹل ميں معلوم نہيں کيسے چاول پکتے ہوں گے ۔ ميں بس پر لاہور جا رہا تھا تو گجرات کے قريب پوليس نے بس روک کر چيکنگ شروع کی ۔ ايک آدمی نے اپنی چادر ميں دو کلو چاول باندھے ہوئے تھے اسے بس سے نيچے اتار ليا گيا ۔ ميرا کنستر دروازے کے پاس ہی پڑا تھا ۔ پوليس والے نے پوچھا “يہ کس کا کنستر ہے ؟” ميں نے کہا “ميرا”۔ تو کہنے لگا “اس ميں کيا ہے ؟” ميں نے کہا “چاول”۔ تو وہ بس سے نيچے اُتر گيا ۔ چند منٹ بعد بس چل پڑی تو کنڈکٹر نے مجھے پوچھا “بابو جی ۔ اس کنستر ميں کيا ہے ؟” ميں نے کہا “چاول ہيں کھول کر ديکھ لو دس کلو ہيں”۔ اس پر پوری بس ميں زور دار قہقہہ پڑا اور ڈرائيور کہنے لگا “اس بابو کو اس کے سچ نے بچا ديا” ۔

ميں واہ کينٹ ميں رہتا تھا کہ دسمبر 1964 ميں ميرے ايک دوست حيدرآباد سے اور ایک راولپنڈی سے صبح سويرے آئے اور کہنے لگے طورخم چلنا ہے ۔ طورخم سے واپسی پر ہم لنڈی کوتل ٹھہرے اور دوپہر کا کھانا دنبے کی چربی ميں تلے ہوئے تکے اور نان کھايا ۔ قہوہ پيا اور لنڈی کوتل بازار ميں گھومنے لگے ۔ اس زمانہ ميں وہاں سمگل شدہ اشياء بہت سستی ملتی تھيں ۔ ميرے دوستوں نے ايک پريشر کُکر ۔ ايک ڈنر سيٹ ۔ ايک چھوٹا فرج اور کچھ ديگر چيزيں خريديں ۔ ميں نے ايک ڈبہ چين کی سبز چائے ۔ 3 جرابيں اور ايک درجن چاول کھانے کے چمچے خريدے ۔ یہ اشیاء قبائلی علاقہ سے باہر ليجانے پر پابندی تھی اور کبھی کبھی سخت چيکنگ ہوتی اور سارا سامان ضبط کر ليا جاتا ۔ ہماری جيپ جب اُس علاقہ سے باہر نکلی تو سڑک پر کسٹم پوليس نے تمام گاڑياں روکی ہوئی تھيں اور سواريوں کو اُتار اُتار کے چيکنگ ہو رہی تھی ۔ ہماری باری آنے ميں کافی دير کی اُميد تھی اور سردی تھی ميں جا کر گرم گرم چائے لے آيا اور ہم جيپ ميں بيٹھ کر پينے لگے ۔ ميں فرنٹ سيٹ پر بيٹھا تھا ۔ کسٹم پوليس والے نے مجھ سے پوچھا “کوئی سامان ہے ؟” ميں نے کہا “ہاں ہے”۔ تو اس نے پوچھا “کيا ہے ؟” ميں نے چيزوں کا نام لينا شروع کر ديا ۔ وہ پوری بات سُنے بغیر چلا گیا اور پتہ نہيں جا کر اپنے آفيسر سے کيا کہا کہ اس نے آ کر کہا ” آپ جا سکتے ہيں”۔ اٹک پُل [دریائے سندھ کا پل] کے قريب پہنچے تو گاڑيوں کی لمبی قطار ديکھ کر ميرا راولپنڈی والا دوست کہنے لگا “خدا کيلئے اب چُپ رہنا” ۔ ميں نے کہا “اگر مجھ سے پوچھا تو ميں جھوٹ نہيں بولوں گا” ۔ کوئی دس منٹ بعد انسپکٹر نے کہا کہ آپ اور پيچھے کی گاڑياں پُل کے پار چلے جائيں وہاں چيکنگ ہو گی ۔ پُل کے پار پہنچنے تک مغرب کی اذان ہو گئی تھی ميں نے کسٹم والے سے کہا “آپ گاڑی چيک کرو ميں نماز پڑھ کے ابھی آتا ہوں” ۔ ميں واپس آيا تو اس نے ہاتھ ملا کر مجھے اللہ حافظ کہا ۔ ميرے دوستوں نے بتايا کہ اس نے جيپ کے اندر ديکھا تھا مگر کچھ نہ کہا ۔

ہميشہ سچ بولئے اور مزے اُڑائيے ۔

کیا مدرسوں میں پڑھے جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ؟

نام نہاد روشن خیال کہتے ہیں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات سائنسی دنیا کے لحاظ سے جاہل ہوتے ہیں اور مدرسے ان کو دہشت گرد بناتے ہیں ۔ موجودہ حکومت نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے پاکستان میں لڑکیوں کا سب سے بڑا مدرسہ ۔ جامعہ حفصہ اسلام آباد تباہ کر دیا ہے اور پاکستان میں لڑکوں کے چند بڑے مدرسوں میں سے ایک ۔ جامعہ فریدیہ کو حکومت نے ختم کر دیا ہے ۔ سینکڑوں طالبات و طلباء مار دیئے جو باقی بچے وہ قید میں ہیں اسلئے اُن میں پڑھنے والے طالبات اور طلباء کے بارے معلومات حاصل کرنا بہت مشکل ہے ۔ البتہ اسلام آباد میں 1999 میں قائم ہونے والے ایک چھوٹے سے مدرسہ ۔ ادارہ علومِ اسلامیہ ۔ کے فیڈرل بورڈ کے چند نتائج نمونہ کے طور پر نقل کر رہا ہوں ۔ عمدہ کارکردگی اس مدرسے کا اول روز سے معمول ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان مدرسوں میں لڑکے لڑکیاں اپنے شوق سے پڑھتے ہیں بڑا افسر بننے کیلئے نہیں ۔

اس سال یعنی 2007ء میں 25 طلباء نے ا انٹرمیڈیٹ [بارہویں جماعت] کا امتحان دیا جن میں سے 3 نے گریڈ اے وَن ۔ 18 نے گریڈ اے اور 4 نے گریڈ بی حاصل کیا ۔
سن 2006ء میں ا انٹرمیڈیٹ جنرل گروپ میں پہلی اور تیسری سے دسویں پوزیشنیں اسی مدرسہ کے طالب علموں نے حاصل کیں ۔
سن 2005 میں میٹرک کے امتحان میں لڑکوں میں پہلی گیارہ پوزیشنیں اس مدرسہ کے طلباء نے حاصل کیں ۔
سن 2004 میں میٹرک کے امتحان میں لڑکوں میں پہلی چودہ پوزیشنیں اس مدرسہ کے طلباء نے حاصل کیں اور حافظ حارث سلیم نے جنرل سائنس میں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے ۔ اس مدرسہ کا کوئی طالب علم آج تک فیڈرل بورڈ کے امتحان میں فیل نہیں ہوا ۔

قبائلی علاقہ کے دہشت گرد ؟

کنور ادریس صاحب جو کہ روشن خیال شخص ہیں اور سابق بیوروکریٹ ہیں لکھتے ہیں کہ کسی زمانہ میں وہ قبائلی علاقہ میں تعینات تھے ۔ اس قیام کے دوران وہ قبائلیوں کی قانون کی پاسداری سے بہت متأثر ہوئے ۔ میں خود 1964 سے 1975 تک قبائلی علاقوں میں دور تک اندر جاتا رہا ہوں اور اس کے بعد مختلف سرکاری اور غیر سرکاری معاملات میں قبائلیوں سے واسطہ پڑتا رہا ۔ میں نے جتنا ان لوگوں کو انسانیت کے قریب پایا اتنا پاکستان کے کسی اور علاقہ میں بسنے والوں کو نہیں پایا ۔ ان جیسا حسنِ سلوک بھی پاکستان کے دوسرے علاقوں میں کم کم ہی ملتا ہے ۔ پچھلے چند سال سے ہمارے حکمران اپنے آقا کو خوش کرنے کیلئے ۔ ان محبِ وطن غریب لوگوں کو بم برسا کر مار رہے ہیں ۔ پچھلے ماہ میں کسی کام سے اسلام آباد کے ایک سرکاری دفتر گیا وہاں ایک آفیسر قبائلی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ میں نے خیریت دریافت کی تو کہنے لگے “خیریت کیا ؟ ظلم ہو رہا ہے ۔ ہماری حکومت امریکا کی خوشنودی کیلئے محبِ وطن اور پاکستان کے محافظ لوگوں کو بیوی بچوں سمیت مار مار کر ختم کر رہی ہے ۔ آج تک انہی لوگوں نے بغیر حکومت کی مدد کے ملک کی حفاظت کی ہے”۔ میں نے کہا “حکومت کہتی ہے وہ تاجک ہیں”۔ اس پر اس نے کہا ” اس سال کے شروع میں جب سی ڈی اے والے بُلڈوزر لے کر جامعہ حفصہ کو گرانے آئے تھے تو طالبات ایک دو دن ڈنڈے لے کر سڑک پر کھڑی ہوئی تھیں ۔ اس کی فلم کئی ماہ ٹی وی پر چلتی رہی ۔ اگر ایک بھی تاجک مارا گیا ہوتا تو اس کی تصویر حکمران ٹی وی پر نہ دکھاتے ؟”

میری یادیں 1947ء کی ۔ تيسری اور آخری قسط

Flag-1
پہلی قسط یہاں پر کلِک کر کے پڑھیئے

دوسری قسط یہاں پر کلِک کر کے پڑھیئے

پہلے واقع کے تین دن بعد يعنی 9 نومبر کو ایک ادھیڑ عمر اور ایک جوان خاتون اور ایک سترہ اٹھارہ سال کی لڑکی آئے ۔ جوان خاتون کی گردن میں پچھلی طرف ایک انچ چوڑا اور کافی گہرا زخم تھا جس میں پیپ پڑ چکی تھی ۔ یہ لوگ جموں میں ہمارے محلہ دار تھے ۔ لڑکی میرے ہم جماعت لڑکے ممتاز کی بڑی بہن تھی جوان خاتون اُس کی بھابھی اور بڑی خاتون اُس کی والدہ تھیں ۔ اُن کا پورا خاندان 6 نومبر والے قافلہ میں تھا ۔ انہوں نے دیکھا کہ جوان لڑکیوں کو اُٹھا کر لے جا رہے ہیں ۔ وہ بس سے نکل بھاگے ۔ ممتاز کی بھابھی اور دونوں بہنوں نے اغواء سے بچنے کے لئے نہر میں چھلانگیں لگائیں ۔ چھلانگ لگاتے ہوئے ایک کافر نے نیزے سے وار کیا جو بھابھی کی گردن میں لگا ۔ خون کا فوارہ پھوٹا اور وہ گر کر بیہوش ہوگئی ۔ پھر گولیاں چلنی شروع ہو گئیں ۔ ممتاز کی والدہ گولیوں سے بچنے کے لئے زمین پر لیٹ گئی اس کے اُوپر چار پانچ لاشیں گریں اُس کی ہڈیاں چٹخ رہی تھیں مگر وہ اُسی طرح پڑی رہی ۔ اُس نے دیکھا کہ ایک بلوائی نے ایک شیرخوار بچے کو ماں سے چھین کر ہوا میں اُچھالا اور نیزے سے ہلاک کر دیا ۔

شور شرابا ختم ہونے پر اُس خاتون کو خیال ہوا کہ بلوائی چلے گئے ۔ بڑی مشکل سے اُس نے اپنے آپ کو لاشوں کے نیچے سے نکالا اور اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے لگی ۔ لاشوں پر اور اپنی بے چارگی پر آنسو بہاتی رہی ۔ اچانک بہو اور بیٹیوں کا خیال آیا اور دیوانہ وار نہر کی طرف بھاگی ۔ بہو نہر کے کنارے پڑی ملی اس کے منہ میں پانی ڈالا تو اس نے آنکھیں کھولیں ۔ تھوڑی دیر بعد بڑی بیٹی آ کر چیختی چلّاتی ماں اور بھابھی کے ساتھ لپٹ گئی ۔ اُس نے بتایا کہ چھوٹی بہن ڈوب گئی ۔ وہ نہر کی تہہ میں تیرتی ہوئی دور نکل گئی تھی اور واپس سب کو ڈھونڈنے آئی تھی ۔

ماں بیٹی نے زخمی خاتون کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور اس کے بازو اپنی گردنوں کے گرد رکھ کر چل پڑے ۔ ایک نامعلوم منزل کی طرف ۔ رات ہو گئی تو جنگلی جانوروں سے بے نیاز وہیں پڑ رہیں ۔ صبح ہوئی تو پھر چل پڑیں ۔ چند گھنٹے بعد دور ایک کچا مکان نظر آیا ۔ بہو اور بیٹی کو جھاڑیوں میں چھپا کر بڑی خاتون مکان تک گئی ۔ کھانے کو کچھ نہ لائی ۔ جیب خالی تھی اور مانگنے کی جرأت نہ ہوئی ۔ جموں چھاؤنی کا راستہ پوچھا تو پتا چلا کہ ابھی تک سارا سفر غلط سمت میں طے کیا تھا ۔ چاروناچار اُلٹے پاؤں سفر شروع کیا ۔ بھوک پیاس نے ستایا تو جھاڑیوں کے سبز پتے توڑ کے کھا لئے اور ایک گڑھے میں بارش کا پانی جمع تھا جس میں کیڑے پڑ چکے تھے وہ پی لیا ۔ چلتے چلتے پاؤں سوج گئے ۔ مزید ایک دن کی مسافت کے بعد وہاں پہنچے جہاں سے وہ چلی تھیں ۔ حد نظر تک لاشیں بکھری پڑی تھیں اور ان سے بدبو پھیل رہی تھی ۔ نہر سے پانی پیا تو کچھ افاقہ ہوا اور آگے چل پڑے ۔ قریب ہی ایک ٹرانسفارمر کو اُٹھائے ہوئے چار کھمبے تھے ۔ ان سے ایک عورت کی برہنہ لاش کو اس طرح باندھا گیا تھا کہ ایک بازو ایک کھمبے سے دوسرا بازو دوسرے کھمبے سے ایک ٹانگ تیسرے کھمبے سے اور دوسری ٹانگ چوتھے کھمبے سے ۔ اس کی گردن سے ایک کاغذ لٹکایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا یہ ہوائی جہاز پاکستان جا رہا ہے ۔

چار ہفتوں میں جو 6 نومبر 1947 کی شام کو ختم ہوئے بھارتی فوج ۔ راشٹریہ سیوک سنگ ۔ ہندو مہا سبھا اور اکالی دل کے مسلحہ لوگوں نے صوبہ جموں میں ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب مسلمانوں کو قتل کیا جن میں مرد عورتیں جوان بوڑھے اور بچے سب شامل تھے ۔ سینکڑوں جوان لڑکیاں اغواء کر لی گئیں اور لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا ۔ تیس ہزار سے زائد مسلمان صرف نومبر کے پہلے چھ دنوں میں ہلاک کئے گئے ۔