بانانا ریپبلِک بھی کیا ہے ؟

بانانا ریپبلک [Banana Republic] کی بہت مشہوری سُنی تھی مگر ہمارا زِیرو کمانڈو جنرل پرویز مشرف تو سب حدیں پھلانگ گیا ہے ۔ پڑھیئے رؤف کلاسرہ کی رپورٹ ۔ بشکریہ جنگ اخبار

ایک سابق سینئر بیوروکریٹ اعجاز رحیم نے نگران وفاقی کابینہ میں وفاقی وزیر صحت کے طور پر حلف اٹھایا تھا لیکن انہوں نے ابھی تک پلاننگ ڈویژن کے رکن کی اپنی پرانی حیثیت کو ترک نہیں کیا ہے۔ پلاننگ ڈویژن کے سربراہ کا رتبہ وفاقی وزیر کے برابر ہے اور یہ وفاقی سیکریٹری پلاننگ کے کنٹرول میں ہے پیر کو وفاقی وزیر نے اپنی ذمہ داریاں اس وقت وزیر مملکت کے جونیئر کے طور پر انجام دیں جب اسلام آباد میں سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس منعقد ہورہا تھا۔ وزیر مملکت نے اجلاس کی صدارت کی جبکہ وفاقی وزیر نے اجلاس کے شرکاء میں غور و خوض کے لئے دستاویزات تقسیم کیں۔ نئے وفاقی وزیر اپنی نچلے درجہ کی (جونیئر) پلاننگ کمیشن کی ملازمت بظاہر اس وجہ سے نہیں چھوڑنا چاہتے کہ یہ ملازمت بہت منفعت بخش ہے ان کی ماہانہ تنخواہ 4 لاکھ روپے ہے ۔

دوہری ذمہ داریوں کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بطور وزیر صحت اعجاز رحیم اربوں روپے کے سوشل سیکٹر سے متعلق منصوبے سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے سامنے منظوری کے لئے پیش کریں گے اور پلاننگ ڈویژن کے رکن کے طور پر وہ انہی منصوبوں کا تخمینہ لگارہے ہوں گے اور سی ڈی ڈبلیو پی سی سے ان منصوبوں کی کلیئرنس کی منظوری دے رہے ہوں گے۔

دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعجاز رحیم نے تصدیق کی کہ انہوں نے کابینہ میں شمولیت سے قبل پلاننگ ڈویژن کے رکن کی حیثیت سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اپنی ملازمت سے استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں ہے چونکہ ایک بار وزیر بننے کے بعد وہ پلاننگ ڈویژن کے رکن نہیں رہے جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ پلاننگ ڈویژن کے رکن کی حیثیت سے یا پھر وفاقی وزیر کی حیثیت سے تنخواہ لے رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک انہوں نے دونوں ملازمتوں سے کوئی تنخواہ نہیں لی ہے تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ اب بھی ممبر پلاننگ کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پلاننگ ڈویژن کے سیکریٹری غیاث الدین نے تصدیق کی کہ اعجاز رحیم نے ابھی تک پلاننگ ڈویژن کے رکن کی حیثیت سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ غیاث الدین نے یہ تصدیق بھی کی کہ اعجاز رحیم پیر کو سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں موجود تھے جہاں انہوں نے پلاننگ کمیشن کے رکن کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیئے۔

اللہ تعالٰی اب بھی ہمکلام ہوتے ہیں

یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے چھٹیوں می ایک دینی مدرسے میں جانا شروع کیا ۔ ایک دن معلِم نے بتایا کہ الہام اب بھی ہوتا ہے یعنی اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی اب بھی انسانوں سے ہم کلام ہوتے ہیں بشرطیکہ انسان کی نیت نیک ہو ۔ نوجوان بہت حیران ہوا ۔ مدرسے سے گھر کو روانہ ہوا تو کار میں بیٹھتے ہوئے امتحان کی خاطر اس نے دعا کی “یا اللہ ۔ آپ میرے ساتھ بات کریں تو میں میں آپ کا تابعدار بن جاؤں گا”۔

وہ کار چلاتے جا رہا تھا کہ اس کے ذہن میں آیا “کیوں نہ میں اگلے چوک سے داہنی طرف طرف مُڑ جاؤں”۔ اس پر وہ ہنسا اور خود سے کہنے لگا “پاگل ہو گئے ہو کیا؟ یہ سڑک تو تمہیں نمعلوم کہاں لے جائے گی”۔ اور وہ چوک سے گذر گیا لیکن داہنی طرف مُڑنے کا خیال اُسے تنگ کرنے لگا ۔ آخر اس نے اگلے چوک سے کار کو واپس موڑا اور پہلے والے چوک پر پہنچ کر بائیں جانب مڑ گیا ۔

تھوڑی دیر بعد وہ ایک چھوٹے قصبے کی دکانوں کے سامنے سے گذر رہا تھا ۔ وہاں دکانوں پر دودھ کے بڑے پیکٹ دیکھ کر اس کے ذہن میں آیا کہ ایک بڑا پیکٹ دودھ کا خرید لوں تو اس نے کہا “یا اللہ ۔ کیا یہ آپ نے مجھے کہا ہے ؟”۔ کوئی جواب نہ آنے پر وہ کار چلاتا رہا ۔ لیکن پھر ایک اور دودھ کی دکان دیکھ کر اس کے ذہن میں وہی خیال آیا ۔ اس نے سوچا کہ دودھ کہیں نہ کہیں کام آ ہی جاتا ہے اور بُڑبڑایا “اللہ جی ۔ آپ کہتے ہیں تو دودھ لے لیتا ہوں” ۔ اس نے دودھ خریدا اور چل پڑا ۔

دکانیں ختم ہونے کے بعد ابھی تین بلاک فلیٹوں کے گذرے تھے کہ اس نے بے خیالی میں بریک لگا دی ۔ گاڑی کھڑی ہو گئی تو وہ خال ذہن سے بائیں طرف کے فلیٹوں کو دیکھنے لگا ۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ اپنے گھر سے بہت دور نکل گیا ہے اور رات بھی کافی گذر چکی ہے ۔ اس نے گھڑی دیکھی تو گیا بجے تھے ۔ کار موڑنے لگا تو اس کی دودھ کے پیکٹ پر نظر پڑی ۔ اس کے ذہن میں آیا کہ “میں تو دودھ پیتا نہیں ۔ کیوں نا یہ دودھ سامنے والے فلیٹ میں دے دوں” پھر بڑبڑایا “یا اللہ ہے کیا آپ کا حکم ہے ؟ لیکن آدھی رات ہونے کو ہے اور لگتا ہے سب سوئے ہوئے ہیں اگر فلیٹ والا مجھ پر برس پڑا تو “۔ لیکن تحریک مظبوط تھی اور وہ بادلِ نخواستہ دودھ کا پیکٹ تھامے کار سے نکلا اور سامنے والے فلیٹ کی گھنٹی بجا دی ۔

دروازے پر لگا گھنٹی کا بٹن دبا کر وہ ڈر سے بھاگنے ہی والا تھا کہ اندر سے آواز آئی “تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو ؟” وہ رُک گیا اور جونہی ایک مرد دروازے میں نمودار ہوا اُس نے دودھ کا پیکٹ اس کے ہاتھ میں تھما دیا ۔ اندر سے آنے والا مرد اسے رُکنے کا کہہ کر اندر کی طرف بھاگا ۔ ایک منٹ بعد اس نے ایک عورت کو دودھ کا پیکٹ پکڑے باورچی خانہ کی طرف تیزی سے جاتے دیکھا اور وہ مرد اس عورت کے پیچھے ایک دو تین سالہ بچے کو اٹھائے آ رہا تھا ۔ اس نے عورت کی آواز سُنی “میں اللہ سے دعا کر رہی تھی کہ یا اللہ بچہ کل سے بھوکا ہے تو رحیم ہے کریم ہے اور رازق بھی ۔ سب کچھ تیرے اختیار میں ہے ۔ ہم بھوکے رہ لیں گے لیکن اس بلکتے بچے پر اپنا کرم فرما ۔ انسانی وسیلے ہمارے ختم ہو چکے ہیں ۔ تو کسی فرشتے کو ہی اس بچے کی مدد کیلئے بھیج دے”۔ چند منٹ بعد مرد نے آ کر اُسے بتایا کہ اس کی تنخواہ اس ماہ یوٹیلیٹی بل زیادہ ہونے کی وجہ سے ختم ہو گئی اور وہ دو دن سے بھوکے ہیں مگر بچے کا بھوک سے بِلکنا اُن سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔

اُس نے اپنی جیبوں سے تمام نقدی نکال کر اُس مرد کے ہاتھ میں تھمائی اور تیزی سے اپنی کار میں بیٹھ کر سٹارٹ کر دی ۔ وہ جذبات سے مغلوب آنسو بہاتا ہوا اللہ سے اپنے پچھلے گناہوں کی معافی مانگتا گھر پہنچا اور بغیر کچھ کھائے پئیے اُسی طرح پڑ کر سو گیا ۔ اگلے دن وہ اپنے آپ کو بہت سکون میں محسوس کر رہا تھا ۔

دھماکوں کی مزید تفصیل

راولپنڈی پولیس کے ایک اعلٰی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ دونوں دھماکوں میں تیس افراد مارے گئے ہیں۔ چشم دیدگواہوں کے مطابق حملے کا نشانے بننے والی بس جب کیمپ کے اندر داخل ہوئی تو ایک چھوٹی گاڑی بھی اس کے پیچھے اندر چلی گئی، پھر زوردار دھماکہ ہوا اور بس کو آگ لگ گئی۔ نشانہ بننے والی بس بری طرح جل چکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق جس وقت یہ دھماکہ ہوا تو اس وقت گاڑی میں 40 سے زائد افراد سوار تھے اور ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں قابل شناخت نہیں رہیں۔

دھماکے کے بعد جب مختلف ہسپتالوں کی ایمبولنس گاڑیاں وہاں پہنچیں تو موقع پر تعینات فوجی اہلکاروں نے انہیں کیمپ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی اور صرف فوج کی ایمبولنس گاڑیوں کو لاشیں اُٹھانے کی اجازت دی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق بیالیس تابوت اوجڑی کیمپ میں بھیجے گئے ہیں اور اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے کسی شخص کی لاش کو جی ایچ کیو نہیں بھیجا گیا۔

دوسرا دھماکہ جی ایچ کیو کے داخلی دروازے کے پاس ہوا جس میں ایک شدت پسند نے اپنی گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی جس سے شدت پسند سمت دو افراد ہلاک ہوگئے۔

ان دھماکوں کی کوریج کے لیے جب میڈیا کے لوگ وہاں پہنچے تو حساس اداروں کے اہلکاروں نے ان سے کیمرے چھین لیے۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران راولپنڈی میں پاکستانی فوج پر پانچ خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ذیادہ تعداد فوجی اہلکاروں کی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تاحال ان حملوں کا سراغ نہیں لگا سکے۔

راولپنڈی میں بم دھماکے

آج صبح سویرے راولپنڈی میں دو بم دھماکے ہوئے ۔ پہلادھماکہ فیض آباد کے علاقے میں مری روڈ پر آئی ایس آئی کے دفتر کے پاس حسّاس ادارے کی بس پر ہوا ۔ دھماکے کے بعد بس میں آگ لگ گئی اور بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی ۔ اس میں مرنے والوں کی تعداد آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد نے 15 بتائی ہے جو کہ بہت بڑھ سکتی ہے کیونکہ بس میں 50 سے زائد افراد سوار تھے ۔ متعدد زخمی بتائے گئے ہیں ۔ دوسرا دھماکہ جی ایچ کیو کے قریب فوجی چیک پوسٹ پر ہوا جس میں ایک سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے ۔ دھماکے اتنے طاقتور تھے کہ ان کی آواز دور دور تک سنائی دی ۔

دھماکوں کے بعد سیکورٹی فورسز نے ان علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ۔ وقوعہ کی جگہ دونوں طرف قناتیں لگا کر مری روڈ بند کر دی گئی ہے کسی صحافی کو جائے وقوعہ کے قریب نہیں جانے دیا گیا ۔ جی ایچ کیو کے گرد کا علاقہ تو پہلے سے ہی عام آدمی کیلئے ممنوعہ ہے ۔ حملے کی خبر سن کر بڑی تعداد میں صحافی وہاں پہنچ گئے جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا سامان بھی چھینا گیا۔