حساب کی جادو گری

چھ دنوں کیلئے بہت مصروف ہوں ۔ اسلئے اپنی کالج کے زمانہ کی ڈائری سے کچھ نقل کر رہا ہوں ۔ میں نے 5 اگست 2006ء کو حساب کی جادو گری کے چند نمونے پیش کئے تھے ۔
اب کچھ اورمضروب 1 سے 9 کی طرف جاتا ہے اور حاصل ضرب 9 سے ایک کی طرف

1 x 8 + 1 = 9
12 x 8 + 2 = 98
123 x 8 + 3 = 987
1234 x 8 + 4 = 9876
12345 x 8 + 5 = 98765
123456 x 8 + 6 = 987654
1234567 x 8 + 7 = 9876543
12345678 x 8 + 8 = 98765432
123456789 x 8 + 9 = 987654321

مضروب 1 سے 9 کی طرف بڑھتا ہے مگر حاصل ضرب میں 1 بڑھتا جاتا ہے

1 x 9 + 2 = 11
12 x 9 + 3 = 111
123 x 9 + 4 = 1111
1234 x 9 + 5 = 11111
12345 x 9 + 6 = 111111
123456 x 9 + 7 = 1111111
1234567 x 9 + 8 = 11111111
12345678 x 9 + 9 = 111111111
123456789 x 9 +10= 1111111111

مضروب 9 سے 2 کی طرف لپکتا ہے مگر حاصل جمع میں 8 کا اضافہ ہوتا جاتا ہے

9 x 9 + 7 = 88
98 x 9 + 6 = 888
987 x 9 + 5 = 8888
9876 x 9 + 4 = 88888
98765 x 9 + 3 = 888888
987654 x 9 + 2 = 8888888
9876543 x 9 + 1 = 88888888
98765432 x 9 + 0 = 888888888

اب دیکھئے ایک نمونہ حاصل ضرب میں متناسب موزونیت کا جبکہ مضروب میں 1 کا اضافہ ہوتا ہے

1 x 1 = 1
11 x 11 = 121
111 x 111 = 12321
1111 x 1111 = 1234321
11111 x 11111 = 123454321
111111 x 111111 = 12345654321
1111111 x 1111111 = 1234567654321
11111111 x 11111111 = 123456787654321
111111111 x 111111111=12345678987654321

اسلام آباد سے پہلے

میں نے 30 اکتوبر کو جو وعدہ کیا تھا اللہ کے فضل و کرم سے اُسے پورا کرنے کیلئے قدم بڑھا رہا ہوں ۔ اللہ مجھے اس سلسلہ کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ تاخیر کی وجہ ملک کے حالات ہیں جو بہرحال سب سے اہم مسئلہ ہیں ۔ میں نہ تو صحافی ہوں نہ مصنف لیکن اللہ کی کرم نوازی دیکھئیے کہ پچھلی چار دہائیوں سے صحافی اور مصنف کہلانے والے مختلف حضرات مجھ سے مختلف موضوعات پر لکھنے کی فرمائش کرتے رہے ہیں ۔ بلاگ شروع کیا تو یہ فرمائشیں یہاں بھی شروع ہو گئیں جن میں سے کچھ پوری کر چکا ہوں اور کچھ ابھی باقی ہیں ۔ آج کی تحریر کو ترجیح دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس کیلئے میرے پاس بلاگرز کی طرف سے چوتھی فرمائش آ چکی ہے کہ اسلام آباد کی ترقی کے مدارج کے متعلق تاریخ کے جھروکے سے لکھوں ۔ اسلام آباد کے متعلق لکھنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ میرا اس شہر سے کیسے واسطہ پڑا اور یہاں پہلے کیا تھا ؟

میں 14 ۔ 15 اور 16 اگست 2007ء کو لکھ چکا ہوں کہ کس طرح ہمارا خاندان 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان پہنچا اور میں اور میری دو بڑی بہنیں [ 12 اور 15 سال] اپنے گھر والوں کے تقریباً دو ماہ بعد پہنچے ۔ سیالکوٹ میں کسی کے ہاں قیام کیا اور 1948ء کے آخر یا 1949ء کے شروع میں راولپنڈی کے جھنگی محلہ میں کرائے کے مکان میں رہنے لگے ۔ دوسال ہمیں راولپنڈی سے مانوس ہونے میں لگے ۔ 1951ء کی گرمیوں میں ہمیں جموں کی نہریں یاد آنے لگیں تو ہم راولپنڈی کے قریبی دریائے سواں پہنچے ۔ اس میں پانی گدلا تھا اور گہرائی اتنی کہ سارا جسم گیلا کرنے کیلئے ہمیں لیٹنا پڑا ۔ پھر کسی نے بتایا کہ نور پور شاہاں کے پاس پہاڑی نالہ ہے ۔ سوچا کہ پکنک منائیں گے اور شاہ عبداللطیف کی قبر پر فاتحہ بھی کہہ لیں گے ۔ نالہ تو قابلِ ذکر نہ پایا ۔ شاہ عبداللطیف کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر لوٹ رہے تھے کہ ایک شخص نے روک کر کہا “خوردہ لے لو”۔ وہ جلے ہوئے اوپلوں کی راکھ ہمیں بیچنا چاہتا تھا کہ شاہ عبداللطیف کا تبرک ہے ۔ ہم نے نہ لی تو اس نے ہمیں بہت بددعائیں دیں ۔ اس زمانہ میں شاھ عبداللطیف کی قبر پتھروں سے بنی تھی اور اردگرد پتھروں کی دو فٹ سے کم اونچی دیوار کے سوا کچھ نہ تھا ۔

پھر کسی نے بتایا کہ سیدپور میں چشمے ہیں ۔ ہمیں کشمیر کے چشمے یاد آئے اور ہم سیدپور پہنچ گئے ۔ وہاں ایک چشمے کے پانی کے آگے کوئی 6 فٹ اونچائی پر ایک پائپ لگایا گیا تھا جس میں سے پانی نل کی طرح گر رہا تھا ۔ بڑے چشمہ کی طرف جانے کی اجازت نہ تھی کیونکہ اس کا پانی پینے کیلئے راولپنڈی کو مہیا کیا جاتا تھا ۔ وہاں ایک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی تھا ۔ سید پور گاؤں میں ایک کُمہار [خاور صاحب نہیں] نے مٹی سے ریلوے انجن اور ڈبّے اور ریلوے لائین بنائی ہوئی تھی جو قابلِ دید تھی ۔ وہاں کے لوگوں سے پوچھ کر ہم نے ایک چٹان کے پیچھے پکنک منائی اور چشمے کا پانی پیا ۔ پھر کسی نے بتایا کہ راول میں پہاڑی نالہ ہے اس میں بہت پانی ہوتا ہے ۔ وہاں پہنچے ۔ پانی سواں سے زیادہ تھا اور صاف بھی مگر پینے کے قابل نہ تھا ۔ پانی کے اندر نوکیلی چٹانیں تھیں جس سے ایک ساتھی کا پاؤں زخمی ہو گیا ۔ بہر حال ہم نے پکنک منا ہی لی ۔ اس کے بعد چھتر کا علم ہو تو وہاں پہنچے ۔ وہاں ایک پہاڑی نالہ بہہ رہا تھا جس میں پانی تیرنے کیلئے ناکافی تھا البتہ چٹانیں نہیں تھیں ۔ اس علاقہ میں لوکاٹ کے بہت پودے تھے ۔ چھتر کے لوکاٹ چھوٹے چھوٹے مگر میٹھے ہوتے تھے ۔ یہ پکنک کیلئے اچھی جگہ تھی ۔ اس کے بعد ہم شاہدرہ گاؤں گئے ۔ وہاں کافی بڑا پہاڑی نالہ تھا ۔ جس میں نہانے کی اجازت نہ تھی اور نہ وہاں پکنک منانے کیلئے کوئی مناسب جگہ تھی ۔ شاہدرہ سے کچھ دُور ایک چھوٹا سا شفاف چشمہ کا نالہ بہہ رہا تھا جو کہ پینے کے قابل تھا ۔ وہاں پکنک منانے کی بہت اچھی جگہ تھی ۔ یہ جگہ اسلام آباد کی ڈویلوپمنٹ کی نظر ہو چکی ہے ۔

چھتر اور شاہدرہ اسلام آباد کے کنارے پر ہیں ۔ اسلام آباد کا اس وقت جو آباد علاقہ ہے اس میں سیدپور ۔ نورپور اور گولڑہ کے علاوہ درجنوں چھوٹے چھوٹے گاؤں تھے جہاں کیکر ۔ کہُو ۔ لوکاٹ ۔ تُوت اور بٹنّکیوں کے درخت اور پھلائی اور کوکن بیروں کی جھاڑیاں تھیں ۔ بٹنکی ناشپانی کی شکل کا چھوٹا سا پھل ہے جس کا زیادہ حصہ بیج ہوتے ہیں اور گودا بہت کم ہوتا ہے ۔ کوکن بیر اس قسم کے بیر ہوتے ہیں کہ گٹھلی کے اُوپر چھلکا ۔ ان دونوں کے کھانے سے گلا پکڑا جاتا ہے ۔

جاری ہے ۔ ۔ ۔

پی سی او قانونی لطیفہ

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس افتخار حسین چودھری کی سربراہی میں سہ رکنی فل بنچ نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کے درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے جسٹس ایم اے شاہد صدیقی سے سرکاری رہائشگاہ خالی کرانے پر ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے میں ناکامی پر چیف سیکرٹری پنجاب، کیپٹل سٹی پولیس چیف اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ 5 نومبر کی رات بعض شریر عناصر ٹولٹن روڈ پر جمع ہوئے اور آدھی رات کے وقت نعرے لگائے جس سے علاقے کا سکون برباد ہوگیا۔ ان افراد نے ججوں کی گاڑیوں سمیت دیگر گاڑیوں کو روکا اور الیکٹرنک میڈیا علاقے میں ان کارروائیوں کی کوریج کرتا رہا حالانکہ میڈیا کو اس علاقہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

ادھر جمعرات کو رات گئے پولیس نے جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کی سرکاری رہائشگاہ پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والے دو خواتین وکلاء سمیت دس افراد دس افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف خلاف ریس کورس تھانے میں اندیشۂ نقص امن اور پولیس کے کام میں بے جا مداخلت سمیت دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ وکلاء، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان نے ان گرفتاریوں کے خلاف پولیس سٹیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اس سے قبل سابق ججوں کی بیگمات، وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے جمعرات کی دوپہر جسٹس صدیقی کی رہائشگاہ کے باہر بھی مظاہرہ کیا تھا ۔

جسٹس ایم اے شاہد صدیقی دل میں تکلیف کے باعث مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ وکلاء ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے نوٹس کے اجراء کے بعد سے جسٹس صدیقی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ان کے گھر باہر جمع ہوتے رہے ہیں۔

ماسکو میں دہشتگردی شروع ہو گئی

ڈریئے نہیں ۔ صرف عنوان کو امریکیایا گیا ہے ۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں قائم کئے جانے والے پہلے مسلم اسپتال نے کام شروع کر دیا ہے۔ جدید سہولتوں کے حامل پہلے مسلم اسپتال کا افتتاح مفتیSheikh Ravil Gainutdin نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مسلم اسپتال بین الاقوامی برادری کے لیے مثال ہے کہ روس میں ہر شہری کو برابری کے حقوق حاصل ہیں ۔ 50 ڈاکٹرز اور نرسوں پر مشتمل اسپتال میں مسجد اور ہوٹل بھی قائم کیا گیا ہے۔ہوٹل میں حلال کھانا میسر ہوگا ۔ اسپتال کا نظام اسلامی اصولوں کے مطابق رکھا گیا ہے اور خواتین کے معائنے کے لئے اسکارف میں ملبوس خواتین ڈاکٹرز بھی متعین کی گئی ہیں

کیا مُلّا یا مَولوی جاہل ہوتے ہیں ؟

میں اس موضوع سے اپنے آپ کو دور لے جا چکا تھا لیکن ابو شامل صاحب کی ایک تحریر نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں اپنا تجربہ اس سلسلہ میں بیان کروں ۔ بطور تمہید اتنا عرض کر دوں مَولوی یا مُلّا دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک اصلی اور دوسرے نام نہاد ۔ ایک عالم ہے اور دوسرا دنیادار ۔ ایک اللہ کی خوشنودی کی کوشش کرتا ہے اور دوسرا لوگوں کی ۔ بدقسمتی سے عام آدمی کا واسطہ دوسری قسم سے زیادہ پڑتا ہے کیونکہ پہلی قسم والے اپنی اشتہاربازی نہیں کرتے اور اللہ کی خوشنودی کی طرف توجہ رکھتے ہیں ۔ ہماری مسجدوں میں بالخصوص دیہات اور قصبوں میں اکثریت دوسری قسم کی ہے ۔ اس کی وجوہات میں پہلے لکھ چکا ہوں

میں تیرہ سال کی عمر میں مُلّاؤں سے بدزن ہونا شروع ہوا تھا میں اس کی تفصیل بھی پہلے لکھ چکا ہوں ۔ جب گیارہویں جماعت میں تھا میں نے مسجد میں سوائے جمعہ کے نماز پڑھنا چھوڑ دیا تھا اور جمعہ کی نماز بھی محلے کی ایک چھوٹی سی مسجد میں پڑھتا ۔ انجنیئرنگ کالج لاہور میں داخل ہونے کے چند ماہ بعد میں ہوسٹل میں اپنے کمرہ میں بیٹھا تھا کہ کچھ سینئر طلباء آئے اور تعارف کے بعد کہا “آپ کمرہ میں پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں مسجد میں کیوں نہیں پڑھتے ؟ بہرحال انہوں نے مجھے قائل کیا کہ میں مسجد میں نماز پڑھا کروں ۔ کچھ دن بعد انہی طلباء کے کہنے پر میں محلہ میں قرآن شریف کے ترجمہ تفسیر کیلئے جانے لگا ۔ رفتہ رفتہ مجھ پر عیاں ہوا کہ دنیا وہ نہیں جو میں سمجھتا تھا اور مولوی وہ نہیں جنہیں میں سمجھ بیٹھا تھا ۔ اللہ کی کرم نوازی سے انجنیئرنگ کالج کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ مجھ پر عیاں ہوا کہ اللہ کے باعلم اور باعمل نیک بندے بھی اسی ملک پاکستان میں رہتے ہیں اور عالمِ دین وہ نہیں جنہیں مطلب پرست لوگوں نے مسجد کا امام بنا دیا ہے یا کسی کی قبر پر بٹھا دیا ہے بلکہ عالمِ دین وہ ہے جس نے باقاعدہ علمِ دین حاصل کیا ہو ۔ اور مَولوی یا مُلّا کا لقب ایسے شخص کو ہی دینا چاہیئے نہ کہ جس نے داڑھی رکھی وہ مولوی مُلّا یا مَولانا بن کیا ۔ ایک بات لکھ دوں ۔” مَولانا” کا مطلب ہوتا ہے “میرا مالک” ۔

انجنیئرنگ کی سند لینے کے بعد ملازمت اختیار کی چند سال دین کی تعلیم رکی رہی پھر اللہ کرم ہوا تو کچھ اور رہنما مل گئے جس سے تاریکی سے نکلنے اور بچنے میں مدد ملتی رہی ۔

مزید معلومات کیلئے میری مندرجہ ذیل تحاریر پر نظر ڈالئے
بتاریخ 8 اگست 2005ء
بتاریخ 11 اگست 2005ء
بتاریخ 16 اگست 2005ء
بتاریخ 24 اگست 2005ء
بتاریخ 28 اگست 2005ء
بتاریخ 15 جولائی 2005ء
بتاریخ 19 جولائی 2005ء
بتاریخ 23 جولائی 2005ء
بتاریخ 27 جولائی 2005ء

اردگرد کا ماحول اور ہماری مجبوریاں

شاہ فیصل صاحب کی تحریر کے حوالے سے میں 29 نومبر کو کچھ لکھ چکا ہوں ۔ اب اصل موضوع یعنی “ہمارے اردگرد کا ماحول اور ہماری معاشرتی مجبوریاں” کی طرف آتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں میری مندرجہ ذیل تحاریر ممد ثابت ہو سکتی ہیں ۔

بتاریخ 11 جون 2005ء
بتاریخ 3 جولائی 2005ء
بتاریخ 15 جولائی 2005ء

مجھے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے پاکستان سے باہر کم از کم درجن ممالک میں جانے کا موقع فراہم کیا اور ان کے علاوہ دس دوسرے ملکوں کے باشندوں سے واسطہ پڑا ۔ میں جہاں کہیں گیا یا جن لوگوں سے ملا اولین ترجیح ان کے معاشرہ کے مطالعہ کو دی ۔ عجیب بات ہے کہ ہمارے معاشرہ کی مثال شائد ہی دنیا میں کسی اور جگہ ہو ۔ ہمارے لوگوں کی اکثریت خیالی دنیا میں رہنا پسند کرتی ہے اور حقائق کا سامنا کرنے سے کتراتی ہے ۔ اپنی بہتری کیلئے محنت اور لگاتار کوشش کو اپنانے کی بجائے آسان اور بعض اوقات غیر قانونی یا غیر اخلاقی طریقے اپنانا عقلمندی یا بردباری گردانتی ہے ۔ ایسا کیوں ہے ؟ کچھ تو اس کا سبب ہونا چاہیئے ۔ میں نے اس جستجو میں سالہا سال مغز کھپائی کی مگر وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی ۔ اسلئے ہر قاری سے میری استدعا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے علم اور تجربہ سے میری رہنمائی کرے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ میں جس بنیاد پر مدد مانگ رہا ہوں اس کا خاکہ پیش کروں ۔

یہ جانتے ہوئے کہ شادی پر کئے جانے والی کئی رسمیں صرف سچی یا جھوٹی شان دکھانے کیلئے ہوتی ہیں لوگ ان رسموں کو نہ خود ختم کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو ختم کرنے دیتے ہیں ۔ ایک شادی کی تیاریوں میں صاحب خانہ نے مجھ سے مشورہ مانگا تو میں کہا کہ ٹھیک ہے سب کچھ ایک دم ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ آپ شادی کے دن جو شو شا کرنا چاہتے ہیں کر لیں اور شادی کے پہلے اگر کچھ کرنا ضروری ہی سمجھتے ہیں تو آپ اور آپ کی بیوی کے بہن بھائی بچوں سمیت گھر کے اندر موج میلہ کر لیں اور ایک وقت میں صرف ایک کھانا پکوالیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے ۔ کہنے لگے کہ عزیز و اقارب مانتے نہیں ۔ کہتے ہیں سب ٹھیک ہے مگر رہنا تو اس دنیا میں ہے ۔

اب تو کسی کے مرنے پر بھی رسومات کے حوالے سے شادی کا سا شک ہونے لگا ہے ۔ ایک صاحب فوت ہو گئے ۔ ان کی سب اولاد باعمل مسلمان کہلاتی ہے ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ قُل ۔ جمعراتیں اور چالیسواں کرنے کیلئے رشتہ داروں کو بلانا ٹھیک نہیں ۔ اس سے بہتر ہے کہ غریب بچوں کی تعلیم کا خرچ یا کسی لاچار خاندان کا نان و نفقہ والد صاحب کے ترکہ سے حاصل ہونے والے منافع سے ادا کرتے رہیں گے ۔ جواب ملا لوگ کیا کہیں گے ۔ ہمارے والد غریب تو نہیں تھے ۔ جائیداد چھوڑ کر مرے ہیں تو ہم ان کیلئے اتنا بھی نہ کریں اور سب کچھ کیا گیا ۔

جھوٹ بولنا عیب نہیں سمجھا جاتا اور کئی لوگ تو جھوٹ کو بُردباری کا نام دیتے ہیں ۔ مزید کوئی بات یا واقعہ خود سے تصنیف کر کے دوسرے کے نام سے بیان کیا جاتا ہے ۔ سچ بولنے والے کو ناتجربہ کار ۔ بیوقوف یا اُجڈ سمجھا جاتا ہے ۔ میں خود کئی بار بیوقوف کا خطاب حاصل کر چکا ہوں ۔ میرے سامنے ایک خاتون نے دوسری سے کچھ پوچھا تو اس نے سچ بول دیا جو اُس کے اپنے ہی خلاف جاتا تھا ۔ جب وہ چلی گئی تو پوچھنے والی خاتون بڑبڑائی “ایسا بھی کیا سچ بولنا جس سے اپنا ہی نقصان ہو”۔

دو تین ساتھی بیٹھے ہیں اور کسی غیر حاضر ساتھی کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے یا اس کی برائیاں بیان کی جا رہی ہیں ۔ اتفاق سے وہ آ جاتا ہے اور پہلے والوں میں سے ایک چلا جاتا ہے تو اب جانے والے کی باتوں کا مذاق اُڑانا یا اس کی برائی کرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ دفتر میں کام کرتے ہوں تو باس کے سامنے اس کے سب سے زیادہ تابعدار بن جانا اور اور باس کی عدم موجودگی میں اس کی برائیاں کرنا حتٰی کہ گالیوں سے نوازنا ۔ دوسرے کی بات کا منفی یا اپنی مرضی کے مطابق مطلب نکالا جاتا ہے ۔

چھوٹا بچہ ناسمجھ ہوتا ہے ۔ اس کے سامنے کسی نے گالی دی ۔ وہ سیکھ رہا ہے اس نے گالی بھی سیکھ لی ۔ جب وہ دہراتا ہے تو اس پر قہقہے لگائے جاتے ہیں ۔ بچہ سمجھتا ہے کہ اس بات پر سب خوش ہوتے ہیں سو وہ بار بار گالی دہراتا ہے ۔ یہی بچہ جب بڑا ہو کر بہن بھائیوں یا ماں باپ کو گالی دیتا ہے تو غضب کا شکار ہوتا ہے ۔ مگر پھر بھی کوئی سبق نہیں سیکھتا ۔

صاحبِ خانہ سے کوئی ملنے آتا ہے اور وہ ملنا نہیں چاہتے ۔ اپنے بچے کو کہتے ہیں کہ جا کرکہہ دو کہ ابا ۔ بابا یا ڈیڈی یا ابو گھر میں نہیں ہیں ۔ یہ بچہ بڑا ہو کر جھوٹ بولتا ہے تو والدین سیخ پا ہوتے ہیں مگر کوئی اس سے سبق نہیں سیکھتا ۔

سولہ سترہ سالہ بیٹا کسی لڑکی کی چھیڑ چھاڑ کر آتا ہے گھر میں شکائت آتی ہے ۔ شکائت کرنے والے کی بے عزتی کی جاتی ہے ۔ جب اسی بچے کی عادات کی وجہ سے والدین پر آفت پڑتی ہے تو کہتے ہیں “کسی نے دشمنی لی یا اللہ کی یہی مرضی تھی”۔ کیا اللہ نے انہیں بچے کی صحیح تربیت سے منع کیا تھا ؟

ہر عمل یا بات میں صرف اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کی کوشش کرنا اور یہ جانتے ہوئے کہ دوسرا سچا ہے اسے غلط قرار دینا ۔ مزید دوسرے کے مال پر ہوشیاری یا ہیرا پھیری سے قبضہ کرنا اپنی بہادری یا عقلمندی سمجھنا ۔

دوسرے کی تکلیف کو تکلیف نہ سمجھنا اور اپنا رونا ہر حال میں روتے رہنا ۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کسی بیمار عورت کی مزاج پُرسی کیلئے آئی عورتیں بیمار کی کم سُنتی ہیں اور اچھی خاصی صحتمند ہوتے ہوئے اپنی درجن بھر بیماریاں گِنوا دیتی ہیں ۔

اپنے دیس کی بنی مصنوعات پر غیر ملکی مصنوعات کو اور اپنے ہموطنوں پر غیرملکیوں کو ترجیح دینا خواہ اپنی مصنوعات اور اپنے ہموطن غیرملکیوں سے بہتر ہوں ۔ غیرملکی مصنوعات کھا کر یا پہن کر یا گھر میں رکھ کر اس پر فخر کرنا ۔

اپنے آپ کو پکے مسلمان کہتے ہوئے ٹی وی اور مووی فلموں میں سے فیشنوں کو اپنانا جو عام طور پر عُریاں ہوتے ہیں ۔ اگر اعتراض کیا جائے تو جواب ملتا ہے “کیا کریں ۔ ماحول کے مطابق چلنا پڑتا ہے”۔ یہ ماحول بناتا کون ہے ؟

کبھی مجبوری کے تحت یا کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کیلئے میکڈانلڈ ۔ کے ایف سی ۔ ہوٹل یا ریستوراں سے کچھ کھا لینے میں تو کوئی ہرج نہیں لیکن اکثریت صرف اپنی بڑائی جتانے کیلئے ایسا کرتی ہے اور بہانے بہانے سے گفتگو میں اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ آج سے 20 سال قبل گھر کا پکا نہ کھانے والے کو گنوار سمجھا جاتا تھا ۔ اب اسے بڑے لوگوں کی نشانی سمجھا جاتا ہے ۔ ان لوگوں نے کبھی سوچا کہ ہمارے ملک میں کم از کم چوتھائی لوگ ایسے ہیں جن کو دو وقت کی روٹی میسّر نہیں ہے ؟

آخر ہماری قوم کو کب سمجھ آئے گی ؟ کیا طالبان ان سب خرابیوں کا ردِعمل نہیں ہیں ؟

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے ہمکلام ہونے کے اسلوب

میں یہ وضاحت کرنے پر مجبور ہوا ہوں کہ جو مضمون میں خود سے لکھتا ہوں وہ فی البدیع نہیں ہوتا بلکہ حتی الوسع کافی مطالعہ اور چھان بین کے بعد لکھتا ہوں ۔ علم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور علم حاصل کرنے کیلئے تَن دہی کے ساتھ مطالعہ ضروری ہوتا ہے ۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں علم کے حصول کو اتنا آسان بنا دیا گیا ہے گھر بیٹھے بٹن دبایا اور مونیٹر کی سکرین پر دنیا جہاں کا علم حاصل کر لیا ۔ کہاں ہمارا زمانہ کہ استاذ نے کتاب بتا دی اور سارے شہر کے کتاب گھر چھان مارے ۔ لائبریریوں پر بھی دستک دی مگر کتاب نہ ملی ۔ پھر پانچ سات ہم جماعت مل کر پیشگی قیمت ادا کر کے مختلف کتابوں کی ایک ایک جلد آرڈر کرتے جو چھ سے آٹھ ہفتے بعد ملتیں ۔ باری باری ہر کتاب پڑھی جاتی اور امتحان کے قریبی دنوں کیلئے ہر لڑکا اپنے نوٹس تیار کر لیتا کہ ہر ایک کو ایک ہی وقت ایک ہی کتاب دستیاب نہ ہو سکتی تھی ۔ آج اتنی سہولیات کے باوجود جب کوئی میرے جیسا کم علم اپنی ادنٰی معلومات یا تجربات کو پیش کرنے کی جرأت کرتا ہے تو ہاہا کار مچ جاتی ہے ۔ کوئی اتنی بھی کوشش نہیں کرتا کہ پہلے
متعلقہ کتاب یا کُتب کا مطالعہ کر لے ۔

قوموں کی ترقی کا راز کتابیں پڑھنا ہی ہے لیکن صرف فلمی کہانیوں کی نہیں ۔ میں نے اپنی تحریر بعنوان ” اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی اب بھی ہمکلام ہوتے ہیں ” اس امید سے لکھی تھی کہ ترقی یافتہ جدید دور کے جواں دماغ میری رہنمائی کریں گے لیکن بغیر دین کی سب سے مستند کتاب ” قرآن شریف ” [جوکہ اللہ سُبحانُہُ بعَدَدِ خَلقِہِ کا اپنا فرمان ہے] کا صحیح طور مطالعہ کئے ۔ فتاوٰی نازل ہونے شروع ہو گئے ۔ میں نے کچھ حوالے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے کلام سے دیئے مگر صورتِ حال میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہ آئی ۔

ہمکلام ہونا تین طرح کا ہے ۔ ایک ۔ جس کا نتیجہ مکالمہ ہو یعنی دونوں اطراف سے کلام ہو ۔ اس میں براہِ راست یا آمنے سامنے بات چیت یا آجکل ٹیلیفون پر بات کرنا شامل ہے ۔ دوسرا ۔ یکطرفہ یعنی پیغام کسی ذریعہ سے پہنچا دینا ۔ اس کی بھی دو قسمیں ہیں ۔ ایک جس میں صرف پیغام دینا مقصود تھا جواب کی ضرورت نہ تھی ۔ دوسرا ۔ جس کا پیغام وصول کرنے والے نے جواب نہ دیا ۔ اس آخری قسم کی بھی دو شاخیں ہیں ۔ ایک یہ کہ پیغام وصول کرنے والے کو پیغام کی سمجھ ہی نہ آئی ۔ دوسرے یہ کہ سمجھ آئی مگر جواب دینا مناسب نہ تھا ۔ کچھ اور نہ سہی اگر ہم صرف قرآن شریف کا ہی صحیح طرح مطالعہ کر لیں تو یہ ساری صورتیں واضح ہو جاتی ہیں ۔ اللہ سُبحانُہُ بعَدَدِ خَلقِہِ نے ہمیں سب کچھ بتا یا ہے اور بار بار غور کرنے کی تلقین بھی کی ہے ۔

میں نے جان بوجھ کر لفظ ” وحی ” کی بجائے ” ہمکلام ” استعمال کیا تھا کہ ” وحی ” لکھنے سے ڈر تھا کہ کوئی طوفان نہ اُٹھ کھڑا ہو اور کہیں میری گردن زدنی کا فتوٰی نہ جاری ہو جائے ۔ اُردو دائرہ معارف اسلامیہ [Urdu Encyclopedia of Islam] کے مطابق ” وحی ” کے معنی ہیں ۔ لطیف اور مخفی اشارہ ۔ پیغام [رسالت] ۔ دِل میں ڈالنا [الہام] ۔ چھُپا کر بات کرنا [کلامِ خفی] ۔ کتابت [لکھنا] ۔ کتاب یا مکتوب ۔ جو کچھ دوسرے کے دل یا ذہن میں ڈال دیا جائے ۔
اہلِ لغت کے نزدیک ” وحی ” کے معنی یہ ہیں کہ کسی سے اس طرح چپکے چپکے باتیں کی جائیں کہ کوئی دوسرا سن نہ پائے
عام زبان میں ہم لوگ وحی سے صرف وہ کلام لیتے ہیں جو اللہ سُبحانُہُ بعَدَدِ خَلقِہِ سے انبیاء علیہم السلام کو پہنچا ۔

لیکن کیا کیا جائے ان الفاظ کا جو پیدا کرنے والے کے ہیں ۔ اپنے مطالعہ اور ہمت کے مطابق قرآن شریف کی چند آیات پیشِ خدمت ہیں [اور بھی کئی ہیں] ۔ ان آیات میں لفظ ” وحی ” لُغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ مذکورہ آیات میں اس کے مفہوم میں مخفی تلقین ۔ فطری تعلیم ۔ لطیف و خفیہ اشارے ۔ فطری حُکم ۔ دِل میں بات ڈالنا اور وَسوَسہ پیدا کرنا شامل ہیں ۔

سورت ۔ 5 ۔ الْمَآئِدَہ ۔ آیت ۔ 111 ۔ وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَی الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُواْ بِي وَبِرَسُولِي۔ ۔ ۔

[اس آیت میں ” أَوْحَيْتُ ” وحی سے بنا ہے]
اور جب میں نے حواریوں کے دل میں [یہ] ڈال دیا کہ تم مجھ پر اور میرے پیغمبر [عیسٰی علیہ السلام] پر ایمان لاؤ

سُورت ۔ 6 ۔ الْأَنْعَام ۔ آیت ۔ 121 ۔ وَلاَ تَأْكُلُواْ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ وَإِنّہُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَی أَوْلِيَآئِہِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوھُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ ۔ ۔ ۔

[اس آیت میں ” لَيُوحُونَ ” وحی سے بنا ہے]
اور تم اس (جانور کے گوشت) سے نہ کھایا کرو جس پر [ذبح کے وقت] اﷲ کا نام نہ لیا گیا ہو اور بیشک وہ [گوشت کھانا] گناہ ہے ۔ اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کے دِلوں میں [وَسوَسے] ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم ان کے کہنے پر چل پڑے [تو] تم بھی مشرک ہو جاؤ گے

سُورت ۔ 16 ۔ النَّحْل ۔ آیت ۔ 68 ۔
وَأوْحَی رَبُّكَ إِلَی النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ۔ ۔ ۔

[اس آیت میں ” أوْحَی ” وحی سے بنا ہے]
اور آپ کے رَب نے شہد کی مکھی کے دل میں [خیال] ڈال دیا کہ تو بعض پہاڑوں میں اپنے گھر بنا اور بعض درختوں میں اور انگور کی بیلوں میں

سُورت ۔ 28 ۔الْقَصَص ۔ آیت ۔ 7 ۔ وَ أَوْحَيْنَا إِلَی أُمِّ مُوسَی أَنْ أَرْضِعِيہِ ۔ ۔ ۔

[اس آیت میں ” أَوْحَيْنَا ” وحی سے بنا ہے]
اور ہم نے موسٰی [علیہ السلام] کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم انہیں دودھ پلاتی رہو

سُورت ۔ 41 ۔ فُصِّلَت / حٰم السَّجْدَہ ۔ آیت ۔ 12 ۔ و اُوْحَی فِي كُلِّ سَمَاءٍ اَمْرَھَا ۔ ۔ ۔

[اس آیت میں ” اُوْحَی ” وحی سے بنا ہے]
اور اللہ نے ہر آسمان [کی مخلوق] کو اس کے حُکم بھیجے

سُورت ۔ 99 ۔ الزَّلْزَلَة / الزِّلْزَال ۔ آیات 4 ، 5 ۔ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَھَا ۔ بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَی لَہَا ۔ ۔ ۔

[اس آیت میں ” أَوْحَی ” وحی سے بنا ہے]
اس دن زمین اپنی خبریں بیان کرگذرے گی ۔ یہ اسلئے کہ آپ کے رَب نے اسے یہی حکم دیا ہے ۔

سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔ صَدَقَ اللہُ العَظِیم ۔ ۔ ۔

ترجمہ : تیری ذات (ہر نقص سے) پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اُسی قدر جو تُو نے ہمیں سِکھایا ہے، بیشک تُو ہی (سب کچھ) جاننے والا حکمت والا ہے