درویش اور کُتا

ماضی میں معاشرہ کا ایک اہم پہلو جو نمعلوم کیوں اور کس طرح غائب ہو گیا ۔ وہ ہے حکائت گوئی ۔ سردیوں میں چونکہ راتیں لمبی ہوتی ہیں اس لئے چھُٹی سے پچھلی رات سب لحافوں میں گھُس کر بیٹھ جاتے ۔ پلیٹوں میں خُشک میوہ لیا ہوتا اور ایک بزرگ کہانی سنانا شروع کرتے ۔ یہ بھی ایک ادارہ تھا جو نہ صرف بچوں بلکہ جوانوں کی بھی تربیت غیرمحسوس طریقہ سے سرانجام دیتا تھا ۔ کہانی چاہے جِن کی ہو یا شہزادہ شہزادی کی اسے اتنا دلچسپ بنا کر سنایا جاتا کہ خشک میوہ ہماری پلیٹوں ہی میں پڑا رہ جاتا ۔ ان سب کہانیوں میں قدرِ مشترک اس کا سبق آموز اختتام ہوتا جسے زور دے کر بیان کیا جاتا ۔

نیز ہمارے سکول اور کالج کے زمانہ میں چھوٹی چھوٹی کہانیاں پڑھی اور سنائی جاتی تھیں جو پانچ چھ سال کے بچے سے لے کر بوڑھوں تک میں مقبول ہوتی تھیں اور ہر ایک کو اُس کی عمر کے مطابق محسوس ہوتی تھیں ۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور شیخ سعدی صاحب کی گلستانِ سعدی کی کہانیاں تھیں ۔ یہ کتاب فارسی زبان میں تھی اور میں نے آٹھویں جماعت [1951] میں پڑھی تھی ۔ یہی کتاب ایم اے فارسی کے کورس میں بھی تھی ۔ میں نے اس سلسلہ میں اپنے ایک استاذ سے استفسار کیا تو اُنہوں نے بتایا “آپ کیلئے امتحان میں آٹھویں جماعت کی سطح کے سوال ہوتے ہیں اور اُن کیلئے اُن کی تعلیمی سطح کے مطابق”۔ اس کتاب کی دو کہانیاں درویش اور کُتے کی ۔

درویش اور کُتا ۔ پہلی کہانی ایک درویش کو ایک کُتے نے کاٹ لیا ۔ درد کے مارے درویش کے آنسو نکل آئے ۔ اس کی ننھی بیٹی پوچھنے لگی “بابا ۔ روتا کیوں ہے ؟” وہ بولا “کُتے نے کاٹا ہے”۔ بیٹی بولی “کُتا آپ سے بڑا تھا؟” درویش بولا “نہیں ۔ بیٹی”۔ پھر بیٹی بولی” تو آپ بھی اُس کو کاٹ لیتے”۔ درویش بولا”بیٹی ۔ میں انسان ہوں اسلئے کُتے کو نہیں کاٹ سکتا”۔

آج کتنے انسان ہیں جو اپنے ہر عمل سے پہلے اُسے انسانیت کی کَسوَٹی پر پرکھتے ہیں ؟

درویش اور کُتا ۔ دوسری کہانی ایک درویش نے ایک کُتا پال رکھا تھا ۔ بادشاہ کا وہاں سے گذر ہوا تو از راہِ مذاق درویش سے پوچھا “تم اچھے ہو یا تمہارا کُتا ؟” درویش نے کہا “یہ کُتا میرا بڑا وفادار ہے ۔ اگر میں بھی اپنے مالک کا وفادار رہوں تو میں اس کُتے سے بہتر ہوں کہ میں انسان ہوں ورنہ یہ کُتا مجھ سے بہتر ہے”۔

آج کتنے لوگ ہیں جو اپنے خالق و مالک کے وفادار ہیں ؟
اللہ ہمیں اصل کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے ۔

چیف جسٹس دہشتگردوں کے حمائتی

کسی مُلک کا صدر صرف اپنی کُرسی بچانے کیلئے اخلاقی طور پر اتنا گر جائے شاید دنیا کا ہوئی راہنما ماننے کیلئے تیار نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ پرویز مشرف نے ایسا کیا اور اپنے 3 نومبر 2007ء کا غیر قانونی اور غیر آئینی قدم اُٹھانے سے قبل انتہائی عیّاری اور مکّاری سے امریکی حکمرانوں کو باور کرایا کہ پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری دہشتگردو کے حمائتی ہیں ۔

پرویز مشرف نے اس کیلئے کیا طریقہ اختیار کیا ؟ یہاں کلک کر کے پڑھیئے ۔

کیا امریکا جنت نما ہے ؟

امریکا کے اندرونی حالات کے متعلق ہمارے ہموطنوں میں بہت آسودگی کا تصور پایا جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا میں بے تحاشہ دولتمند [جسے میرا ایک جرمن دوست کہا کرتا تھا filthy rich] بھی بستے ہیں اور دوسری طرف دو وقت کی روٹی کے محتاج بھی ۔ اگر ایک طرف علم کی بلندیوں کو پہنچ رہے ہیں تو دوسری طرف علم کے حصول کی طاقت نہ رکھنے والے بھی ہیں ۔ فحاشی عام ہے لیکن فحاشی سے نفرت کرنے والے بھی پیدا ہو گئے ہیں ۔ میرے پاس مختلف قسم کی ای میلز آتی رہتی ہیں ۔ مگر پہلی بار ایسا ہوا کہ مجھے کسی کی ای میل کا کچھ حصہ شائع کرنے کی اجازت مل گئی ۔ یہ 50 سالہ عورت جو اصلی امریکن ہے ایک بالغ بچی کی ماں ہے اور اپنے خاوند [بچی کے باپ] کے ساتھ ہی رہتی ہے ۔

I was told by an engineer’s wife when I arrived here, to expect appliances that touch the water to be replaced every two years. That means hot water heater, washing machine….even the faucets. This last machine lasted two months longer.

I knew about the arsenic (percentage in water) but the same engineer’s wife who informed me about my appliances also let me know the arsenic levels in the water. We try to have as little as possible to do with the water. We drink and cook with bottled water.

America is misunderstood worldwide. It is not what people think it is globally. I spent a month trying to explain the school system to a woman in India who insisted that everything was free as far as education went….and wanted India to follow the footsteps of American schools. It was as if she did not believe me how the taxes are distributed as to the population of an area. I told her that those school lunches that she thinks are free….are not free….and they are so loaded with fat and salt it would make the angels cry. They make the fast food restaurants look good. If I had a choice of serving my child school cafeteria food or McDonalds…..I would take her to McDonalds and get a salad. That is not saying anything good.

Our water system has been on the books for years, for filtration……..but due to greed…..the budget never seems to be able to handle the filtration system that would take the arsenic out or at least reduce it down.

The U.S. only cares about money….not people, not resources….nothing but money. What the U.S. has forgotten about since about the 1980’s is that it is people who built the country…..and companies used to be family oriented. That is no more.

Anyway….I am tired of American lifestyles….I cannot handle much more. The stress of everything is beginning to wear on me. My own family is falling apart. My daughter is doing her own thing….My husband is so obsessed with gambling that he got a special credit card for doing it. I have no choice but to leave….and to where I do not know….but America is killing me. I have to get out of here. I have done what I can.

کیا ہو گا کیسے ہوگا

ہم لوگ ہرروز کہتے اور سوچتے رہتے ہیں کہ “یہ ہو جائے گا ۔ وہ ہو جائے گا ۔ یہ کیسے ہو گا ؟ وہ کیسے ہو گا ؟ پتہ نہیں امریکہ کیا کرے گا ؟ پتہ نہیں ہماری حکومت کیا کرے گی ؟ پتہ نہیں ہمارے مُلک کا کیا بنے گا ؟ ” ایسے وقت ہم بھول جاتے ہیں کہ

سورت ۔ 3 ۔ آل عِمْرَان ۔ آیات ۔ 26 تا 28
کہہ دو ۔ “اے اﷲ ۔ سلطنت کے مالک ۔ تُو جسے چاہے سلطنت عطا فرما دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تُو جسے
چاہے عزت عطا فرما دے اور جسے چاہے ذلّت دے ۔ ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے ۔ بیشک تُو ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے ۔
تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تُو ہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اورمُردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے [اپنی نوازشات سے] بہرہ اندوز کرتا ہے”۔
مسلمانوں کو چاہیئے کہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کے لئے اﷲ [کی دوستی میں] سے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ تم ان [کے شر] سے بچنا چاہو ۔ اور اﷲ تمہیں اپنی ذات [کے غضب] سے ڈراتا ہے ۔ اور اﷲ ہی کی
طرف لوٹ کر جانا ہے

لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ

سورت ۔ 53 ۔ النَّجْم ۔ آیات ۔ 38 تا 41
کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔
اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہوگی ۔
اور یہ کہ اُس کی ہر کوشش عنقریب دکھا دی جائے گی ۔
پھر اُسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔

تصحیح

میں میلادُ النّبی پر اپنی تحریر میں ایک غَلَطِی کر گیا تھا اور عبات کو دوہرانے کے باوجود غَلَطِی کا احساس نہ ہوا ۔ اللہ الرحمٰن الرحیم میری خطائیں معاف کرے ۔ حیرت اس بات کی ہے کہ اسے درجنوں قارئین نے پڑھا لیکن غَلَطِی کی نشان دَہی نہ کی شاید میرے احترام میں یا مجھے مُعتبر سمجھتے ہوئے یا شاید تحریر پر خاص توجہ نہ دی ۔

میں انسان ہوں اور انسان سے کسی بھی وقت خطا ہو سکتی ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی میری رہنمائی فرمائے ۔ بہر حال اب میں نے تصحیح کر دی ہے اور صحیح صورتِ حال یہ ہے

فجر کی نماز کے بعد سے اشراق یعنی سورج اچھی طرح نکلنے تک ۔ سورج نصف النہار پر پہنچنے سے لے کر 30 منٹ بعد تک اور عصر کی نماز کے بعد سے مغرب کی نماز تک ا وقات میں نوافل نہ پڑھیئے ۔

بڑا آدمی

روس کے نئے منتخب ہونے والے صدر بیالیس سالہ دمتری میدوی ایدف ملک نے صدارت کے انتخاب سے دو ہفتے قبل روسی میگزین کو دیئےگئےانٹرویو میں کہا کہ ان کے آباؤ اجداد میں کاشتکار، لوہار اور ٹوپیاں بنانے والے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے عمارت بنانے والے مزدور کےعلاوہ اپنے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے لیےگلیوں میں جھاڑو تک لگایا۔

دمتری میدوی ایدف ملک کے سب سے اعلی عہدے پر فائز ہونے سے پہلے یونیورسٹی پروفیسر ۔ وکیل اور روس کے وزیر اعظم کے طور پر کام کر چکے ہیں ۔ دمتری میدوی ایدف روس کی سرکاری تیل کمپنی گیز پرام کے چیئرمین بھی رہے ہیں ۔

گو ہمارے مُلک میں اب بھی ایسے لوگ ہیں جو اپنے علاوہ دوسرے کی خدمت کی غرض سے بھی چھوٹے سے چھوٹا کام کر لیتے ہیں لیکن اکثریت اپنے گھر میں جاڑو دینا بھی عیب گردانتی ہے ۔ ہمیں اپنے پیارے نبی سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے شیدائی ہونے کا دعوٰی ہے مگر ہم نے کبھی اس عظیم ہستی جس پر لاکھوں سلام ہوں کے روز مرّہ کے کردار کو اپنانے کی کوشش نہیں کی ۔ نبی آخر الزماں سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ہر کام کر لیتے تھے اُنہوں نے اپنے دستِ مبارک سے اپنے جوتے بھی مرمت کئے ۔ میں نے لبیا میں دیکھا تھا کہ لوگ روزانہ جب اپنے گھر کی صفاتی کرتے تھے تو اپنے گھر کے سامنے گلی کی بھی صفائی کرتے تھے ۔ ہمارے ہاں گھر سے باہر کی صفائی معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن گلی میں کوڑا کرکٹ پھینکنا معیوب نہیں سمجھا جاتا ۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

پٹرول ۔ روٹی ۔ بھرا خزانہ اور جگا ٹیکس

میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں پٹرول بہت مہنگا ہو گیا ہے تو جواب ملتا ہے کہ ساری دنیا میں مہنگا ہو گیا ہے ۔ 12 اکتوبر 1999ء کو جب پرویز مشرف نے پاکستان پر ناجائز قبضہ کیا تھا تو پاکستان میں 90 اَوکٹن پٹرول کے ایک لیٹر کی قیمت 22.63 روپے تھی جو کہ اب اسلام آباد میں 62.88 روپے ہے باقی شہروں میں کچھ زیادہ ہے ۔ موجودہ قیمت مختلف پیمانوں سے اور سِکّوں میں مندرجہ ذیل ہے ۔

قیمت بحساب ۔ پاکستانی روپے ۔ ہندوستانی روپے ۔ برطانوی پاؤنڈ ۔ امریکی ڈالر
فی لیٹر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 62.88 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 38.58 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0.50 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1.00
فی امپیریل گیلن ۔ 285.85 ۔ ۔ ۔ ۔ 175.37 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2.28 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.55
فی امریکی گیلن ۔ ۔ 238.03 ۔ ۔ ۔ ۔ 146.03 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1.90 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3.79

پاکستانی عوام کی طاقتِ خرید کا اندازہ مندرجہ ذیل اعداد و شمار سے ہوتا ہے ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان ۔ ۔ ہندوستان ۔ ۔ ۔ برطانیہ ۔ ۔ ۔ ۔ امریکہ
فی کس سالانہ آمدن ۔ ۔ 690 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 720 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 37600 ۔ ۔ ۔ 43740
غربت کی سطح ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 140 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 137 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 10 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 6

اُمید کرتا ہوں کہ قارئین جو پاکستان سے باہر رہائش پذیر ہیں وہاں 90 اَوکٹین پٹرول کی قیمت سے آگاہ فرمائیں تاکہ موازنہ کیا جا سکے ۔ [پٹرول کو گیسولین یا موٹر سپرٹ بھی کہا جاتا ہے] ۔ قیمت فی لیٹر یا فی امپیریل گیلن یا فی امریکن گیلن بتائی جا سکتی ہے ۔ جو قارئین ہندوستان ۔ برطانیہ یا امریکہ کے علاوہ کسی ملک میں رہائش پذیر ہیں وہ قیمت امریکی ڈالر میں لکھیں ۔

روٹی

روٹی جو جنوری 2000ء میں ڈیڑھ روپے کی تھی اب 5 روپے کی ہے ۔ ڈبل روٹی 13 روپے کی تھی اب 36 روپے کی ہے ۔ آٹا چکی کا پسا ہوا 10 روپے کلو تھا اب 25 روپے کا ہے ۔ بہترین چاول 32 روپے کلو تھے اب 90 روپے کے ہیں ۔ بناسپتی گھی 56 روپے کلو تھا اب 130 روپے کا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

بھرا ہوا خزانہ

پچھلے 8 سال میں پرویز مشرف نے اپنے وزیرِ اعظم شوکت عزیز اور آقا امریکہ کے مشوروں سے خزانہ بھرنے کا فن سیکھا کہ قرضے جو 2001ء کے آخر تک لئے تھے اُن کی واپسی 5 سال کیلئے متأخر اور مزید قرضے لو ۔ مُلک سے باہر رہنے والے پاکستانیوں نے امریکہ کے ہاتھوں ساری عمر کی کمائی منجمد ہو جانے کے ڈر سے اپنے حسابات پاکستان منتقل کر دیئے تو اس زرِ مبادلہ کو بھی حکومتی خزانہ میں شمار کر لیا گیا ۔ باقی قصر عوام کے استعمال کی ہر چیز پر ٹیکس لگا کر پوری کی گئی ۔ یہ قرضے اب 18 فروری 2008ء کو منتخب ہونے والی حکومت کو “سر منڈاتے ہی اَولے پڑے” کے مصداق ادا کرنا ہوں گے ۔

جگا ٹیکس

اِس زُمرے کے ٹیکس جو میرے علم میں ہیں ۔

ہر چیز جو خریدی جائے اس پر 15 فیصد بکری ٹیکس [sales tax] ہے ۔ یہ کئی اشیاء پر 65 فیصد تک ہو جاتا ہے اس طرح کہ کارخانہ دار یا درآمد کنندہ نے دیا پھر تھوک فروش نے دیا پھر پرچون فروش نے دیا پھر استعمال کرنے والے نے دیا ۔
بِکری ٹیکس خدمات پر بھی ہے ۔ اگر کسی کو آمدن ہو تو اس سے آمدن ٹیکس بھی لیا جاتا ہے ۔ اسلئے مریض ڈاکٹر کی فیس اور دوا دونو میں علیحدہ علیحدہ بکری ٹیکس دیتا ہے اور ڈاکٹر کے آمدن ٹیکس کا بھی حصہ دار بنتا ہے ۔
نام سے تو یہی ظاہر ہے کہ آمدن ٹیکس [income tax] آمدن پر ہوتا ہے لیکن بجلی ۔ ٹیلیفون اور گیس کے بِل جو اخراجات ہیں آمدن نہیں اِن پر صارفین سے بِکری ٹیکس اور آمدن ٹیکس دونو لئے جاتے ہیں ۔
اگر کوئی بنک میں اپنے حساب سے ایک لاکھ روپے نکلوائے تو اس کے حساب میں سے 200 روپے آمدن ٹیکس کٹ جاتا ہے ۔ زیادہ نکلوائے تو اِسی حساب سے کٹیں گے ۔
جنوری 2008 کے ایک حکمنامہ کے تحت اگر آپ کا نادرا کا شناختی کارڈ ایک شہر کا بنا ہوا ہو اور آپ اس کی کاپی کسی دوسرے شہر میں کسی حکومتی دفتر میں پیش کریں تو وہ اس وقت تک قبول نہیں کی جائے گی جب تک آپ نادرا سے تصدیق [verification] نہ لے کر آئیں ۔ اس کیلئے آپ کو ایک دن ضائع کرنا پڑے گا اور 50 روپے نادرا کو ادا کرنا ہوں گے ۔
جب مُلک میں ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے کوئی پاکستانی کسی دوسرے مُلک میں ملازمت تلاش کر لے تو وہ ہوائی جہاز پر نہیں بیٹھ سکتا جب تک وہ پاسپورٹ پر محافظ مُہر [protector stamp] نہ لگوائے ۔ اس کیلئے سرکار نے وکیل [agent] مقرر کر رکھے ہیں ۔ انہیں پانچ سات ہزار روپیہ دے کر کام کروایا جا سکتا ہے ۔ اگر خود کروانا ہو تو کئی چکر لگوائے جاتے ہیں ۔ اور پھر بھی ترجمہ کے 500 روپے فی صفحہ ۔ بہبود کے 1050 روپے ۔ انشورنس کے 650 روپے اور مُہر کے 2500 روپے دینا پرتے ہیں ۔