کیا دین اس دنیا کے کاروبار سے لاتعلق ہے ؟

مادیت پرستی نے دنیا کو اتنا محسور کر دیا ہے کہ آج کے دور کا انسان حقائق کو تسلیم کرنا تو کُجا حقائق سمجھنے کی بھی کوشس نہیں کرتا اور صرف اپنے تخلیق کردہ مادہ اور اطوار کو ہی حقیقت سمجھتا ہے ۔ انسان کی دین سے دُوری کا بنیادی سبب بھی یہی ہے ۔ ہم لوگ طبعیات ۔ کیمیا ۔ ریاضی ۔ معاشی ۔ معاشرتی ۔ وغیرہ مضامین کی کتابوں کو جس انہماک اور محنت کے ساتھ پڑھتے اور یاد رکھتے ہیں اگر اسی طرح دین کی بنیادی کتاب “قرآن شریف” کو بھی پڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے سمجھ نہ سکیں ۔ جس قوم کے افراد کا یہ حال ہو کہ دوسرے مضامین کی سینکڑوں سے ہزاروں صفحات پر مشتمل غیر زبان میں لکھی کُتب کے مقابلہ میں اسلامیات کی پچاس صفحوں کی کتاب بھی بوجھل محسوس ہو ایسے افراد سے دین کو سمجھنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ۔

آمدن برسرَ مطلب ۔ دین ہے کیا ؟
دنیا میں ہر مصنوعی پرزہ کے استعمال کا طریقہ اس کے ساتھ لکھ کر دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی احتیاطی تدابیر [Procedure; Operation layout or Process chart; Does and don’ts; Warning, etc] ہوتی ہیں ۔ مختلف اداروں میں کام کرنے والوں کو بھی لکھا ہوا یا زبانی طریقہ کار [Job description] مہیا کیا جاتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ۔ اسی طرح ہر اچھے معاشرہ میں زندگی گذارنے کا طریقہ بھی مروّج ہوتا ہے ۔

ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہر کام کے کرنے کے طریقہ کو آج کی ترقی یافتہ دنیا نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اسے آئی ایس او [ISO 2000 to ISO 14000] میں شامل کر لیا ہے اور مشہور ادارے اور کارخانے اس کی سندیں حاصل کرتے پھر رہے ہیں ۔

دین یہ کہتا ہے کہ اچھی زندگی کس طرح گذاری جاتی ہے ۔ اپنے خاندان کے افراد سے ۔ رشتہ داروں سے ۔ محلے والوں سے ۔ ہمسفر سے ۔ مُحتاجوں سے ۔ اپنے افسر سے ۔ اپنے ماتحت سے غرضیکہ ہر انسان سے اچھی طرح پیش آنے کا دین حُکم دیتا ہے اور دین جسم کی صفائی ۔ لباس ۔ کھانا پینا ۔ چلنا پھرنا ۔ لین دین ۔ تجارت ۔ ملازمت ۔ زندگی کے ہر شعبہ اور ہر فعل کے متعلق خوش اسلوبی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ اور ہر بات تفصیل سے بتاتا ہے ۔

اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ چودہ صدیاں قبل قرآن شریف میں جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے احکام آئے آج کے جدید ترین انتظامی قوانین اُنہی سے ماخوذ ہیں مگر عمدگی میں اتنے کامل نہیں ہیں ۔ بات سمجھ سے باہر یہ ہے کہ اگر دین کو دنیا سے الگ ہی رکھنا ہے تو پھر دین کیا چوپایوں اور پرندوں کیلئے ہے ؟

توقعات یا پریشانی ؟

جب بات دسترست سے باہر ہو تو پریشانیوں سے بچنے کے لئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کیجئے

دنیا کیسی ہونا چاہیئے ؟ اس کا فیصلہ آپ کے ذمّہ نہیں
دوسروں کے چال چلن اور برتاؤ کے اصول مرتّب کرنا آپ کی ذمّہ داری نہیں

کيونکہ جب دنیا آپ کے بنائے اصولوں پر نہیں چلتی تو آپ کو پریشانی لاحق ہو جاتی ہے ۔

ہم لوگوں کی پریشانی کی وجہ عام طور پر یہی ہوتی ہے ۔ اِس پریشانی سے بچئیے

محنت ؟ ؟ ؟

ہم جب بچے تھے تو ایک مووی فلم بنی تھی جسے لوگ اشتراکیت کا پروپیگنڈہ کہتے تھے ۔ فلم تو میں نے نہیں دیکھی لیکن اس میں ایک گانے کے بول مجھے پسند تھے

محنت کی اِک سوکھی روٹی ۔ ہاں بھئی ہاں ہے
اور مُفت کی دودھ ملائی ۔ نہ بھئی نہ رے

“محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے” ۔ “محنت رائیگاں نہیں جاتی”۔ یہ محاورے نہ صرف وطنِ عزیز کی قومی زبان میں بلکہ تمام علاقائی زبانوں میں بھی مختلف طریقوں سے موجود ہیں ۔ شاید ہی کوئی ہموطن ایسا ہو جس نے یہ محاورے پڑھے یا سُنے نہ ہوں ۔ تعجب کی بات یہ ہے قوم کی اکثریت ان محاوروں کے مطابق عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتی ۔ اس کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محنت کا راستہ دُشوار گذار لگتا ہے ۔ شاید اس کی یہ وجہ ہے کہ انہیں ایک دوسرے محاورے نے زیادہ متاثر کیا ہے جو ہے “گھی سیدھی اُنگلی سے نہیں نکلتا”یعنی گھی نکالنے کیلئے اُنگلی ٹیڑھی کرنا پڑتی ہے ۔ آجکل تو اُنگلی سے گھی کوئی نکالتا ہی نہیں بلکہ اشتہاربازی کے زیرِ اثر زیادہ لوگ گھی کھاتے ہی نہیں ۔ تیل اور وہ بھی جس کے ساتھ کینولا لگا ہو استعمال کرتے ہیں ۔ مجھے اس سے نیولا یاد آتا ہے جو بڑی مہارت سے بڑے سے بڑے سانپ کو مات کر دیتا ہے ۔

میرا تجربہ یہ ہے کہ محنت کرنے والے کی قدر آج کی دنیا میں بہت کم رہ گئی ہے اور محنت کرنے والے کو کئی دُشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن محنت کرنے والا شخص جتنی پُراعتماد اور ذہنی سکون کی زندگی گذارتا ہے محنت کا راستہ اختیار نہ کرنے والا ایسی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔

لگ بھگ 4 دہائیاں پہلے کی بات ہے میرے محکمہ کے ایک ساتھی میرے دفتر میں آئے اور مجھے کہنے لگے “اجمل ۔ آپ صرف محنت کرتے ہو ۔ آج کی دنیا اشتہاربازی کی ہے ۔ میں تو ایک ہاتھ سے کام کرتا ہوں اور دوسرے ہاتھ سے ڈفلی بجاتا ہوں ۔ یہ افسران مجمع کے لوگ ہیں ۔ ان کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ڈفلی بجا کر مجمع لگانا ضروری ہے”۔

میں علامہ اقبال صاحب کو فلسفی سمجھتا ہوں ۔ اُن کا ایک شعر آٹھویں جماعت سے میرے لئے مشعلِ راہ رہا ہے

تُندیٔ بادِ مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تُجھے اُونچا اُڑانے کے لئے

چنانچہ میں نے اپنے محکمہ کے بظاہر کامیاب ساتھی کی بات نہ مانی اور اپنا سفر آہستہ آہستہ جاری رکھا ۔ تُند و تیز ہواؤں کا مقابلہ کرتے کرتے کبھی کبھی میرا جسم شَل ہو جاتا ۔ ساتھی ڈِپلومیسی اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ۔ میں اُن کی نصیحت کا شکریہ ادا کر دیتا لیکن جس خُو کو ساتھی ڈپلومیسی کا نام دیتے تھے وہ میرے لئے دوغلاپن یا منافقت تھی ۔ میرے دماغ اور دِل نے کبھی ہمت نہ ہاری اور اللہ کے فضل و کرم سے ہمیشہ سُکھ کی نیند سویا ۔ مجھے نان و نُفقہ کی کبھی فکر نہ ہوئی ۔ اگر کبھی فکر ہوئی تو صرف اس کی کہ میرے بچے کامیابی سے اپنے تعلیمی منازل طے کر لیں ۔ میں مالدار آدمی نہ تھا اور نہ ہوں لیکن اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے میرے ہر آڑے وقت کو کامیابی سے گذار دیا اور ہمیشہ آزادانہ زندگی بسر کی ۔ الحمدللہ رب العالمین کہ

یہ کرم ہے میرے اللہ کا مجھ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے

وزیرِ خزانہ

ایک دس گیارہ سالہ بچے نے اپنے دوستوں کے ساتھ میلے پر جانے کا منصوبہ بنایا جس کیلئے اُسے پچاس روپے کی ضروت تھی ۔ گھر سے اُسے اتنے پیسے ملنے کی اُمید نہ تھی ۔ اُس نے بہت دعا کی ۔ جب کوئی صورت نہ بنی تو اُس نے ایک چِٹھی اللہ میاں کے نام لکھی کہ پیارے اللہ میاں مجھے پچاس روپے بھیج دیجئے میں ہمیشہ آپ کا کہنا مانوں گا ۔ اس چٹھی کو لفافہ میں ڈال کر ڈاکخانہ میں ڈال آیا ۔ ڈاکخانہ کے متعلقہ شخص نے لفافہ کھول کر چِٹھی پڑھی پھر لفافہ بند کر کے اسے وزیرِ خزانہ کے نام بھیج دیا ۔ وزیرِ خزانہ نے چِٹھی پڑھی ۔اس کو یہ مذاق پسند آیا اور اُس نے ایک لفافہ میں بیس روپے ڈال کر بچے کے پتہ پر بھیج دئیے ۔

بچے کو جب بیس روپے ملے تو اُس نے پھر اللہ میاں کو چِٹھی بھیجی جس میں لکھا

میرے پیارے اللہ میاں
السلام علیکم
آپ بہت اچھے ہو ۔ آپ سب کو سب کچھ دیتے ہو لیکن آئیندہ خیال رکھیئے گا پیسے وزیرِ خزانہ کی معرفت نہ بھیجئے گا ۔ آپ نے جو پچاس روپے بھیجے تھے اُس گدھے نے اس میں سے تیس روپے ٹیکس کاٹ لیا ہے

پھر نتھی کر دیا

مجھے اب اسلام آباد کے کسی سیکٹر یا گاؤں میں رہائش پذیر اکرم صاحب نے نتھی کر دیا ہے ۔ اتنی بار نتھی کیا جا چکا ہوں کہ اب نتھی کرنے کیلئے مزید کوئی جگہ نہیں بچی ۔

کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے۔
جس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے۔
سوالات کےآخر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے [آپ کی مرضی ہے] اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے۔

سوالات اور جوابات

1 ۔ ونڈوز یا لینکس؟
دونوں ہیں لیکن وِنڈوز استعمال کرتا ہوں

2 ۔ ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟
ہالی وُڈ تو امریکہ کا ایک شہر ہے یہ بالی وُڈ کیا ہے ؟

3 ۔ پیپسی یا کوک؟
نہ پیسی نہ کوک

4 ۔ سیب یا انگور؟
دونوں اگر عمدہ ہوں

5 ۔ کراچی یا لاہور؟
پورا پاکستان

6 ۔ پاپ میوزک یا راک
نہیں معلوم یہ کیا ہوتے ہیں

7 ۔ چائے یا کافی؟
چائے ہی کافی ہے ۔ وہ بھی دن میں ایک بار

8 ۔ عدنان سمیع یا عاطف اسلم؟
کس حوالے سے ؟ کیا موٹاپا ؟

9 ۔ نہاری یا حلیم؟
جو اچھی پکی ہو

10 ۔ لوو میریج یا ارینجڈ؟
جو والدین کی دعاوں اور ہونے والے دُلہا دُلہن کی مرضی سے ہو ۔ پتہ نہیں اُس کا کیا نام ہوتا ۔

11 ۔ فورمز یا بلاگ؟
بلاگ ۔ اپنا جو ہوا

12 ۔ نواز شریف یا آصف زرداری؟
بخشو بی بِلی چوہا لنڈورا ہی بھلا

13 ۔ دوست یا کزنز؟
جو مُخلص ہو

14 ۔ کرکٹ یا فٹ بال؟
دیکھنے کے لحاظ سے فُٹ بال ۔ کھیلنے کے لحاظ سے دونو نہیں

15 ۔ پرسکون یا پریشان؟
اللہ کے فضل سے ہمیشہ پُر سکون

میں کسی کو نتھی نہیں کر رہا کیونکہ سب کی دعاؤں کا متمنی ہوں

محاورے جو پہلے سمجھ نہ آئے تھے

ہمیں سکول کے زمانہ میں اُردو اور انگریزی میں بہت سے ضرب المثل پڑھائے گئے تھے جن میں کچھ ایسے تھے جو مشاہدہ یا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری سمجھ میں نہیں آئے تھے ۔ ان میں سے اُردو کے مندرجہ ذیل اکیسویں صدی میں یعنی پچھلے سات آٹھ سالوں میں سمجھ میں آئے ہیں

اُلٹی گنگا
اُلٹے بانس بریلی کو
اُلٹا چور کتوال کو ڈانٹے
سُنیں سب اُسکی جو ڈُگڈُگی بجائے
آنکھ کے اندھے نام نین سُکھ
چور اُچکا چوہدری ۔ لُنڈی رَن پردان
اُونٹ رے اُونٹ تیری کونسی کل سیدھی
ناچ نہ جانے ۔ آنگن ٹیڑا
کوّا گیا مور بننے ۔ نہ مور بنا نہ کوا رہا
پڑے گرمی مریں غریب ۔ پڑے پالا مریں غریب
[سخت سردی میں گھاس پر رات کے وقت برف سی جم جاتی ہے اسے پالا کہتے ہیں

طالبان اور پاکستان آخری قسط ۔ ذرائع ابلاغ کا کردار

کسی بھی مُلک ۔ قوم یا تحریک کو صحیح خطوط پر چلانے میں ذرائع ابلاغ اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اِس کیلئے خلوص اور بے لوث خدمت لازمی ہوتی ہے اور ذرائع ابلاغ کا غلط کردار مُلک یا قوم کو تباہی کے کھڈ کے کنارے پہنچا دیتا ہے ۔

آجکل چار ذرائع ابلاغ ہیں ۔ 1 ۔ اخبار ۔ رسالے اور کتابیں ۔ 2 ۔ ریڈیو ۔ 3 ۔ ٹی وی 4 ۔ انٹرنیٹ ۔
تحقیق بتاتی ہے کہ
صرف آنکھوں سے دیکھی ہوئی چیز یعنی پہلی قسم کا 10 فیصد دماغ میں محفوظ ہوتا ہے ۔
سُنی ہوئی بات یعنی دوسری قسم کا 20 فیصد یاد رہتا ہے ۔
جو سنا جائے اور دیکھا بھی جائے یعنی تیسری قسم کا 30 فیصد یاد رہتا
چوتھی قسم یعنی انٹرنیٹ جدید اور اچھوتا ہونے کے باعث انسان اسے زیادہ انہماک سے دیکھتا۔ پڑھتا ۔ سُنتا ہے دیگر جو کچھ بھی ہو وہ چونکہ انٹر نیٹ پر موجود رہتا ہے اور بار بار دیکھا نہ جائے تو بھی دل کو تسلی ہوتی ہے کہ کسی وقت دیکھا جا سکتا ہے سو ماہرین بتاتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر لکھے گئے یا دکھائے گئے کا 50 فیصد انسان کے ذہن میں رہتا ہے ۔

ان تمام ذرائع میں سے زیادہ تر پر ایک خاص قسم کے لوگوں کا قبضہ ہے جن کو صرف دولت جمع کرنے سے غرض ہے ۔ وہ اپنا اُلو سیدھا رکھتے ہیں اور ہر طرح سے مال کماتے ہیں ۔ کسی کی جان جائے اُن کی بلا سے ۔ کوئی شہر اُجڑے اُنہیں کیا ۔ کوئی قوم تباہ ہو اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ چنانچہ مالدار اور طاقتور آج کی دنیا میں سچا ثابت کیا جاتا ہے اور سچے عام آدمی کو جھوٹا ۔

ذرائع ابلاغ دن کو رات اور اندھیرے کو اُجالا ثابت کرنے کا کمال رکھتے ہیں ۔

جارج واشنگٹن اپنے وطن کیلئے غیرمُلکی قابضوں سے لڑا اور اُسے دہشتگرد قرار دیا گیا پھر وہی جارج واشنگٹن آزاد امریکہ کا پہلا صدر بنا تو دہشتگرد قرار دینے کی وجہ بننے والے کردار ہی کے باعث ہیرو بنا دیا گیا ۔

نیلسن منڈیلا اپنے وطن اور قوم کیلئے غیرمُلکی قابضوں سے لڑا اور اُسے دہشتگرد قرار دے کر 25 سال قید میں رکھا گیا گیا ۔ پھر وہی نیلسن منڈیلا اپنے مُلک کا صدر بن گیا اور اُسے دہشتگرد قرار دینے والوں نے ہی اُسی جدوجہد کی بنا پر جس کی وجہ سے 25 سال قید کاٹی تھی نوبل کا امن انعام دیا ۔

سن 1965ء کی جنگ میں جب بھارتی فوجوں نے اچانک پاکستان پر یلغار کی تو ذرائع ابلاغ ہی تھے جنہوں نے عوام کو یقین دِلانے کی کوشش کی کہ پاکستان کے فوجی اپنے سینوں سے بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے اور مُلک کو بچا لیا ۔ ایک شاعر صاحب نے اس پر ایک نظم بھی داغ دی جو پی ٹی وی پر بجائی جاتی رہی ۔ یہ سب من گھڑت کہانی تھی اور فوج یا حکومت کی طرف سے نہیں پھیلائی گئی تھی ۔ ایک آدھ اخبار میں اس من گھڑت کہانی کی تردید چھپی لیکن جمہوریت کا شور کرنے والے اکثریت کی بات مانتے ہیں چاہے غلط ہو

مندرجہ بالا کے علاوہ کم از کم دو ایسے انفرادی قسم کے واقعات ۔ ایک راولپنڈی میں اور ایک اسلام آباد میں ۔ میری نظروں کے سامنے ہوئے ۔ ہر ایک کے اگلے دن اخبارات میں جو کہانیاں چھپیں اُن کا حقیقت سے رَتی بھر بھی تعلق نہ تھا

یہ بھی ذرائع ابلاغ ہی کا کرشمہ ہے کہ دوسروں کو ان کے گھر میں جا کر ہلاک کرنے والے اور دوسروں کو اُن کے گھروں سے نکال کر اُن کے گھروں پر قبضہ کرنے والے تو جمہوریت پسند اور انسان دوست کہلاتے ہیں اور مظلوموں اور محروموں کو انتہاء پسند اور دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے ۔ قبائلی علاقوں کے خلاف جو پروپیگنڈہ پچھلے چھ سات سال سے کیا جا رہا ہے اُس میں حقیقت بہت کم ہے اور غیر مُلکی پروپیگنڈہ کے تحت جھوٹ بہت زیادہ ۔

ذرائع ابلاغ کا کردار اُس زمانہ میں بھی مؤثر رہا جب صرف چند اخبار اور رسالے ہوا کرتے تھے مگر فی زمانہ پوری دنیا کے انسانوں کی اکثریت ذرائع ابلاغ کی پیروکار ہے ۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ ذرائع ابلاغ کی شائع کردہ معلومات کو قرآن شریف کی آیات کا درجہ دیتے ہیں اور کچھ اس سے بھی زیادہ مستند سمجھتے ہیں ۔ حقائق کو ذاتی طور پر جاننے کی بجائے اخبار ۔ ٹی وی ۔ انٹرنیٹ کی نوشت کی بنیاد پر تحقیقی مقالے لکھتے ہیں ۔ کوئی اپنے ذاتی مشاہدے کے مطابق اظہارِ خیال کرے تو اُس کو حوالہ [اخبار یا انٹرنیٹ کا] دینے کا کہا جاتا ہے ۔ کیا اخبار یا انٹرنیٹ والوں کے پاس اللہ کی وحی آتی ہے جو غلط نہیں ہو سکتی ؟

صحافی ۔ مصنف اور شاعر ذرائع ابلاغ کے مائی باپ ہوتے ہیں ۔ پاکستان بننے کے بعد جو لوگ مشہور ہوئے ان کی اکثریت افسانہ نویس ہے یعنی اُنہوں نے دلچسپ کہانی لکھنا ہوتی ہے کہ کتاب ۔ رسالہ یا اخبار زیادہ بِکے اور ان کی جیب میں بھی زیادہ مال جائے ۔
ایک صاحب اسلامی تاریخی ناول نگاری میں مشہور ہوئے اور اسلام کے نام کے غلط استعمال سے مال کمایا ۔
سن 1965ء کی جنگ کے بعد جب بھارت کے شاعر ۔ آرام ہے حرام بھارت کے نوجوانوں ۔ شمع کے پروانوں اور اُس مُلک کی سرحد کو کوئی چھُو نہیں سکتا ۔ جس مُلک کی سرحد کی نگہبان ہوں آنکھیں ۔ لکھ کر اپنی قوم میں عزم و ولولہ پیدا کر رہے تھے ۔ وطنِ عزیز کے شاعر ۔ لالہ جی جان دیو ۔ لڑنا کی جانو تُسی مُرلی بجاون والے ۔ اور میریا ڈھول سپاہیا اور میرا ساجن رنگ رنگیلا نی جرنیل نی کرنیل نی ۔ لکھ کر اور فتح کے شادیانے بجا کر قوم کو سونے کیلئے محسور کر رہے تھے

پاکستان ایک خاص نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا ۔ ایک نظریاتی مُلک کی اس سے بڑھ کر بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے اپنے ذرائع ابلاغ کی اکثریت مُلک کے نظریہ کی عملی صورت کی مخالف ہو ؟

اس سے بھی دو قدم آگے وطنِ عزیز کے اربابِ اختیار ہیں جو اتنا سچ نہیں بولتے جتنا جھوٹ بولتے ہیں ۔ ان کی خود غرضی نے ایک ایسے مُلک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جس کی پہلی حکومت نے بے سر و سامان ہوتے ہوئے نہ صرف بھارت سے زبردستی نکالے گئے لاکھوں لُٹے پُٹے مہاجرین کو خود کفیل ہونے میں مدد دی بلکہ ملک کو تیز رفتار ترقی کی شاہراہ پر ڈال دیا تھا ۔ وہ مُلک جو خوراک میں نہ صرف خود کفیل تھا بلکہ خوراک برآمد کرتا تھا آج گندم ۔ دالیں ۔ آلو ۔پیاز اور پھل درآمد کر رہا ہے ۔ آج سے 40 سال قبل ایک امریکی ڈالر 4 پاکستانی روپے میں ملتا تھا اور اچھا آٹا ایک روپے کا ساڑھے تین کلو گرام تھا ۔ آج پاکستانی روپے کی قدر اتنی کم ہوئی کہ 72 روپے میں ایک امریکی ڈالر مل رہا ہے ۔ آٹا اُس معیار کا تو دیکھنے کو ترس گئے ہیں اور جو ملتا ہے وہ 26 روپے کا ایک کلو گرام ہے ۔

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے پیارے رسول سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی حدیث ہے کہ ایک آدمی کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ایک بات سُنے اور بغیر تصدیق کئے آگے بیان کر دے ۔
کبھی کسی نے سوچا کہ جھوٹ بولنا تمام بُرائیوں کی جڑ ہے ؟
اور میرے ہموطن جھوٹ بولنے والے کو ہوشیار [tactful] کہتے ہیں ۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھائے ۔ آمین ۔