اللہ جسے چاہے عزت دے

برطانیہ کے شہر ڈربی [Derby] سے تعلق رکھنے والے چھ سالہ مصنف بچے ليو ہنٹر [Leo Hunter] کی لکھنے کی صلاحیتوں نے اسے کئی کتابوں کی پبلشنگ کا معاہدہ دلوادیا ۔ ليو ہنٹر کا اپنے پالتو کتے کے ساتھ دوستی پر لکھاگیا چھوٹا سا ناول ” Me & My Best Friend Alsatian Kugar ” ایک امریکی فرم ” Strategic Book Publishing ” کو اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اس کے ساتھ مزید 23 ناول لکھوا کر پبلش کرنے کا معاہدہ کرلیا ہے ۔ اس معاہدے کے تحت ليو ہنٹر کو اپنے 10 سے 25 صفحات پر مشتمل کتابوں کی ابتدائی فروخت کا 20 فیصد حصہ دیا جائیگا لیکن اگر کتابیں 500 سے زائد فروخت ہوئیں تو منافع کا یہ حصہ 50 فیصد تک بڑھا دیا جائیگا

بشکريہ ۔ جنگ

اسلام میں وضع قطع کی اہمیت

جو لوگ مغربی تہذیب کے دلدادہ ‘ شیدائی اور اسلام کی حدود وقیود سے آزاد ہوناچاہتے ہیں‘ وہ سب سے پہلے عیسائیوں اور یہودیوں کی شکل و شباہت اپنانے‘ انہی جیسا لباس وپوشاک اختیار کرنے اور اپنی تمام ترسعی وکوشش دین اسلام کے تشخص کو مٹانے میں صرف کرتے ہیں‘ تاکہ آئندہ اقدامات کے لئے راہ ہموار اور راستہ صاف ہوجائے اور زبانی دعویٰ اسلام کے ساتھ مغربی تہذیب و تمدن اپنانے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ رہے یعنی نام کے اعتبار سے تو مسلمان کہلائیں لیکن رہن سہن ‘ وضع قطع‘ ہیئت ولباس اور شکل وصورت میں انگریز بنے رہیں۔ حضرات فقہاء ومتکلمین نے مسئلہ تشبہ بالکفار کو باب الارتداد میں شمار کیا ہے یعنی ایک مسلمان جن چیزوں سے دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے‘ ان میں سے ایک چیز تشبہ بالکفار بھی ہے‘ جس کے مختلف درجات و مراتب ہیں اور ہرایک کا حکم جدا گانہ ہے۔

تشبہ کی حقیقت

اللہ تعالیٰ شانہ نے زمین سے آسمان تک خواہ حیوانات ہوں یا نباتات و جمادات‘ سب کی صورت و شکل علیحدہ بنائی‘ تاکہ ان میں امتیاز رہے‘ کیونکہ امتیاز کا آسان ذریعہ ظاہری شکل وصورت اور ظاہری رنگ و روپ ہے‘ انسان اور جانور میں‘ شیر اور گدھے میں‘ گھاس اور زعفران میں‘ باورچی خانہ اور پاخانہ میں‘ جیل خانہ اور شفاء خانہ میں جو امتیاز ہے‘ وہ دوسری چیزوں کے علاوہ اس ظاہری شکل وصورت کی بنا پر بھی ہے‘ اگر کسی نوع کا کوئی فرد اپنی خصوصیات اور امتیازات چھوڑ کر دوسری نوع کی امتیازات وخصوصیات اختیار کرلے تو اس کو پہلی نوع کا فرد نہ کہیں گے‘ بلکہ وہ دوسری نوع کا فرد کہلائے گا۔مثلاً اگر کوئی مرد‘ مردانہ خصوصیات اور امتیازات چھوڑ کر زنانہ خصوصیات اختیار کرلے‘ عورتوں جیسا لباس ‘ انہی کی طرح بود وباش اور انہی کی طرح بولنے لگے‘ حتیٰ کہ اس مرد کی تمام حرکات وسکنات عورتوں جیسی ہوجائیں تو وہ شخص‘ مرد نہ کہلائے گا‘ بلکہ مخنث اورہیجڑا کہلائے گا ‘حالانکہ اس کی حقیقتِ رجولیت میں کوئی فرق نہیں آیا‘ اس نے صرف لباس وہیئت میں تبدیلی کی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اگر اس مادی عالم میں خصوصیات اور امتیازات کی حفاظت نہ کی جائے اور التباس واختلاط کا دروازہ کھول دیا جائے تو پھر کسی نوع کا اپنا علیحدہ تشخص اور وجود باقی نہ رہے گا۔ اسی طرح اقوام اور امم کے اختلاف کو سمجھنا چاہئے کہ مادی کائنات کی طرح دنیا کی قومیں اپنے معنوی خصائص اور باطنی امتیازات کے ذریعہ ایک دوسرے سے ممتاز اور جدا ہیں‘ مسلم قوم‘ ہندوقوم ‘ عیسائی قوم اور یہودی قوم باوجود ایک باپ کی اولاد ہونے کے مختلف قومیں کیوں اور کیسے بن گئیں؟ وجہ صرف یہی ہے کہ ہرقوم کا عقیدہ وعبادت‘ تہذیب وتمدن اور اس کا طرز لباس وپوشاک اور طریق خورد ونوش دوسری قوم سے جدا ہے‘ باوجود ایک خدا ماننے کے ہرایک کی عبادت کی شکل و صورت علیحدہ ہے‘ عبادات کی انہیں خاص خاص شکلوں اور صورتوں کی وجہ سے مسلم ‘ کافر سے اور موحد ‘ مشرک اور بت پرست سے علیحدہ جانا اور پہچانا جاتا ہے‘ اور ایک عیسائی ایک پارسی سے جدا ہے۔ جب تک ہرقوم اپنی مخصوص شکل اور ہیئت کی حفاظت نہ کرے‘ قوموں کا امتیاز باقی نہیں رہ سکتا‘ پس جب تک کسی قوم کی مذہبی اور معاشرتی خصوصیات باقی ہیں‘ اس وقت تک وہ قوم بھی باقی ہے اور جب کوئی قوم کسی دوسری قوم کی خصوصیات اختیار کرلے اور اس کے ساتھ خلط ملط اور مشتبہ ہو جائے تو یہ قوم اب فناء ہوگی اور صفحہٴ ہستی پر اس کا وجود باقی رہنا ناممکن ہوجائے گا۔

جاری ہے

اگر يہ سچ ہے تو ؟ ؟ ؟ ؟ ؟

آن لائين اخبار “ويٹيرنز ٹوڈے [Veterans Today]” کے مطابق 28 جولائی 2010ء کو ايئر بليو [Air Blue] کی ترکی سے براستہ کراچی اسلام آباد آنے والی پرواز ہائی جيکنگ کے نتيجہ ميں حادثہ کا شکار ہوئی تھی ۔ اس ہائی جيکنگ کا مقصد طيارہ کو پاکستان کی نيوکليئر فسلٹیٹی [Nuclear Facility] سے ٹکرانے کا منصوبہ تھا جو کہ ناکام ہو گيا

ويٹيرنز ٹو ڈے کے مطابق شکُوک اس وقت پيدا ہوئے جب امريکی ٹھيکيدار بليک واٹر يا زی [Blackwater/Xe] کے اہلکار حادثہ کے فوراً بعد جائے حادثہ پر ديکھے گئے اور انہوں نے بليک بکس اور دوسرے متعلقہ مواد قبضہ ميں لے ليا

ويٹيرنز ٹو ڈے کے مطابق ايک نجی ٹی وی چينل کے مطابق امريکی ٹھيکيداروں کے اس حادثہ سے تعلق کے سلسہ ميں تحقيقات ہو رہی ہيں
ويٹيرنز ٹو ڈے کے مطابق بليک واٹر کے چار مسلحہ اہلکار 2009ء ميں اسی نيوکليئر فسيليٹی کے قريب گرفتار کئے گئے تھے ۔ وہ جيپ پر سوار تھے اور اُن کے قبضہ سے اسرائيلی ساخت کے کڑی نگرانی اور جيمنگ کے جديد آلات [advanced surveillance and jamming equipment ] بھی برآمد ہوئے تھے ۔ يہ چاروں فر فر پشتو بولتے تھے اور لباس اور حُليئے سے طالبان لگتے تھے ۔ وفاقی وزيرِ داخلہ نے ان کی رہائی کا حُکم دے ديا تھا

ويٹيرنز ٹو ڈے کے مطابق حادثہ کا شکار ہونے والے طيارے ميں کم از کم دو امريکن بھی سوار تھے مگر بعد کی اطلاعات کے مطابق بليک واٹر کے کم از کم پانچ اہلکار سوار تھے مگر انہيں پہچاننا اسلئے دشوار ہے کہ وہ مقامی لوگوں کے لباس اور حُليے ميں تھے اور جعلی شناخت کے ساتھ سفر کر رہے تھے

تفصيلات يہاں کلِک کر کے پڑھی جا سکتی ہيں

سيلاب ۔ تحقيق ؟

دریائے سندھ کے بہاؤ سے متعلق ميرے پاس 1922ء سے سال بہ سال کی رپورٹ ہے یہ انداز اور رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر 9 سال میں جب 4 سال خشک سالی کے ہوں تو اگلا سال بہت زیادہ سیلاب کا ہوتا ہے۔ میں نے اسی تحقیق اور مطالعے کی بناء پر حکومت سندھ کے ذمہ داروں کو گزشتہ سال سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھالیکن کسی نے کوئی توجہ نہ دی۔ آخری خط جنوری 2010ء میں وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کیا ۔ صرف سندھ اسمبلی کے اسپیکر نثار کھوڑو حرکت میں آ گئے۔ انہوں نے متعلقہ وزیر اور سیکرٹری کو اور مجھے بھی بلایا۔ ایک میٹنگ میں تفیصل سے باتیں ہوئیں لیکن اس کے بعد کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پی پی پی سندھ کے سیکریٹری جنرل تاج حیدر کو بھی میں نے خط لکھا

جیکب آباد کے چاروں طرف پانی ہے۔ سڑک اور ریل کا راستہ مسدود ہے۔ سارا شہر خالی کروا لیا گیا ہے۔ صرف 5 فیصد کے قریب آبادی موجودہے جن میں، میں بھی شامل ہوں لیکن یہاں بجلی ہے نہ پینے کا پانی نہ دیگر ضروری اشیاء۔ ٹیلی فون لائن بھی بعض اوقات کئی کئی گھنٹے نہیں ملتی ہے۔ سندھ میں سیلاب سے اتنی بڑی تباہی پہلے کبھی نہیں ہوئی ہے کتنے شہر اور گاؤں ڈوب گئے ہیں یہ سراسر سندھ حکومت کی غفلت اور نااہلی کا نتیجہ ہے

انجینئر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اس کی دیکھ بھال کرے اور برسات سے پہلے اس کا باقاعدہ تفصیلی معائنہ بھی ہوتا ہے۔ اب یہ محسوس ہورہا ہے کہ اس کی دیکھ بھال کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ بجٹ تو مخصوص تھا۔ فائلوں میں پیسے خرچ بھی ہوئے ہوں گے

پانی میں گھرے جیکب آباد میں16 روز سے محصور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ، سابق وفاقی وزیر اور بلحاظِ پیشہ انجینئر الٰہی بخش سومرو صاحب سندھ کی تباہی پر انتہائی دل گرفتہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس سونے شہر میں اس لیے موجود ہوں کہ جتنے لوگ یہاں ہیں ان کی دل جوئی کر سکوں۔ حالت یہ ہے کہ واٹر پلانٹ کام نہیں کر رہا کیوں کہ اس کے اہلکاروں کو بھی شہر چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ میں یہاں اس لیے بھی بیٹھا ہوں کہ میرے شہر کے لوگوں کی دکانوں اور مال سامان کو وزیروں کے بندے لوٹ نہ سکیں

تفصيل يہاں کلک کر کے پڑھيئے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ اذان اور تکبير اقامت

اذان کب دی جاتی ہے اور تکبير اقامت کب کہی جاتی ہے اور کب نہیں ؟

کہنے کو یہ بہت آسان سوال ہے مگر عصرِ حاضر میں سوائے مُستند دينی مدارس کے فارغ التحصیل لوگوں کے اس کا جواب بہت کم مسلمان جانتے ہیں

نماز سے قبل اذان ضروری ہے ۔ اگر نماز کا وقت ہو جانے کے باوجود اس علاقہ میں کسی جگہ بھی اذان نہ ہو ئی ہو يا کم از کم آواز نہ سُنی گئی ہو تو پہلے اذان کہہ کر پھر نماز پڑھنا چاہيئے

باجماعت نماز کيلئے تکبير اقامت ضروری ہے

مندرجہ ذيل صورتوں ميں نہ اذان کہی جائے گی اور نہ تکبير اقامت

مسجد ميں کچھ لوگ نماز پڑھی جانے کے بعد پہنچیں اور باجماعت نماز پڑھيں
مسجد ميں کچھ لوگ کسی شرعی مجبوری کی وجہ سے مثال کے طور پر مسافر مقررہ وقت سے پہلے باجماعت نماز پڑھيں
مسجد کے علاوہ کوئی بھی جگہ جہاں باجماعت نماز ادا کر دی گئی ہو

مزيد
مسجد میں جہاں معمول کے امام کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے ہیں دوسری جماعت میں شامل نمازيوں کے امام وہاں کھڑے نہیں ہوں گے بلکہ کم از کم ايک صف پيچھے کھڑے ہوں گے

میں نے دينی مدرسہ ميں تعليم حاصل نہيں کی
اگر کسی قاری کو متذکرہ بالا بيان سے اختلاف ہو یا کوئی بات لکھنا رہ گئی ہو تو ميری رہنمائی فرمائيں

بے شک زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ميں ہے

آ سٹریلوی خاتون کيٹ اوگ [Kate Ogg] کے قبل از وقت پیداہونے والے بچے کو ڈاکٹروں نے مر دہ قرار دیا تاہم ڈاکٹروں کی پروا نہ کر تے ہو ئے کيٹ اوگ نے بچے کو اپنے سینے سے لگا ئے رکھا اور معجزانہ طور پر دو گھنٹے بعد بچے نے سانسیں لینا شروع کر دیا اور آنکھیں کھو ل کر اپنی ماں کی انگلی بھی پکڑ لی ۔ ڈاکٹر جو بچے کی زندگی سے مایوس ہو گئے تھے ماں کی محبت کا یہ مظاہر ہ دیکھ کر حیرا ن رہ گئے

بشکريہ ۔ جنگ