ڈوگرہ حکومت کی مکّاری اور اعلانِ جہاد

تين ماہ سے پھر مقبوضہ جموں کشمير ميں ظُلم کا بازار گرم ہے اور آزادی کے متوالے اپنی جانوں کا نذرانہ پيش کر رہے ہيں ۔ اِن کيلئے يہ ظُلم کوئی نئی بات نہيں 1947ء سے سہتے آ رہے ہيں

اکتوبر 1947ء کے شروع میں ہی ڈوگرہ پولیس نے صوبہ جموں کے مسلمانوں کے گھروں کی تلاشی لے کر ہر قسم کا اسلحہ بشمول کلہاڑیاں ۔ چار انچ سے لمبے پھل والے چاقو چھُریاں سب ضبط کر لئے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی ہندو اکثریت والے دیہات میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا اور ان کے مکانوں اور فصلوں کو نظر آتش کیا جانے لگا ۔ قتلِ عام کرنے والوں ميں مقامی ہندو بہت کم تھے زيادہ تر ہندوستان سے نو وارد راشٹريہ سيوک سنگ اور ہندو مہاسبھا کے ہندو اور اکالی دَل کے سِکھ تھے ۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ ہندو کہتے ہیں مُسلے عید پر جانور قربان کرتے ہیں اس عید پر ہم مُسلے قربان کریں گے۔ پاکستان اور بھارت میں عید الاضحے اتوار 26 اکتوبر 1947ء کو تھی

اعلانِ جہاد ۔ بھارتی فوج اور برطانوی فضائیہ کے حملے

جمعہ 24 اکتوبر 1947ء کو جس دن سعودی عرب میں حج ہو رہا تھا جموں کشمیر کے مسلمانوں نے اپنے الله پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کر دیا اور مسلح تحریک آزادی ایک جنگ کی صورت اختیار کر گئی ۔ مجاہدین نے ایک ماہ میں مظفرآباد ۔ میرپور ۔ کوٹلی اور بھمبر آزاد کرا کے جموں میں کٹھوعہ اور کشمیر میں سرینگر اور پونچھ کی طرف پیشقدمی شروع کر دی ۔ یہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے چوتھی مگر پہلی مسلح تحریک آزادی تھی ۔ ان آزادی کے متوالوں کا مقابلہ مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ فوج سے تھا

27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے جموں کشمیر حکومت کی اجازت کے بغیر اپنی فوج بذریعہ سِوِلِیّن ہوائی جہازوں کے جموں چھاؤنی (ستواری) کی ایئرپورٹ پر اُتارنا شروع کر دی ۔ پہلا جہاز جموں کی فضا میں پہنچنے پر رن وے پر رکاوٹ کھڑی کی گئی لیکن جہاز لینڈ کر گیا اور ٹکر سے بچنے کیلئے داہنی طرف کو مڑنے کی کوشش میں اس کا داہنا پر زمین میں دھنس گیا مگر فوج اترنے میں کامیاب ہو گئی ۔ یہ کمانڈوز تھے ۔ اُنہوں نے آتے ہی ایئرپورٹ کا نظام سنبھال لیا اور وہاں موجود عملہ کو گرفتار کر لیا ۔ اس کے بعد دھڑا دھڑ بھارتی فوج اُترنے لگی۔ (ہم اُن دنوں ستواری (جموں چھاؤنی) میں تھے اور رہائش ایئر پورٹ سے ایک کلو میٹر کے فاصلہ پر تھی ۔ میں اور میرا کزن ارشد حفیظ جلانے کیلئے سوکھی تھوریں تلاش کرتے وہاں پہنچے تو ہم نے وہ جہاز دیکھا جس کا ایک داہنا پر زمین میں دھنسا ہوا تھا)

بھارتی فوج نے 30 اکتوبر 1947ء تک سارے جموں کی سرحدوں پر پھیل گئی اور پھر کشمیر اور پونچھ کی طرف رُخ کیا اور نومبر کے شروع میں بڑی تعداد میں کشمیر اور پونچھ کی سرحدون پر پہنچ گئی
بھارت کے برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے فضائی حملوں کے لئے برطانوی فضائیہ کو برما سے جموں کشمیر کے محاذ پر منتقل کروا دیا ۔ برطانوی فضائیہ کی پوری کوشش تھی کہ کوہالہ پُل توڑ دیا جائے لیکن الله سُبْحَانهُ وَ تعالٰی کو یہ منظور نہ ہوا

يہاں يہ بتانا بے جا نہ ہو گا کہ بھارتی حکومت جو ہميشہ سے کہتی آئی ہے کہ جموں کشمير کے راجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کيا تھا يہ سراسر جھوٹ ہے اور اس کا کوئی تحريری يا غيرتحريری ثبوت موجود نہيں ۔ اگر کوئی ثبوت ہوتا تو جب بھارتی وزيرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو رياست کے مجاہدين کی فتوحات سے گبھرا کر بھاگتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے دفتر پہنچے تھے وہاں وہ ثبوت سلامتی کونسل کے سامنے پيش نہ کرتے ؟ ديگر ميں خود اس واقعہ کا گواہ ہوں کہ جب بھارت کا پہلا ہوائی جہاز جموں چھاؤنی ستواری کی فضا ميں پہنچا تو اسے اُترنے کی اجازت نہ دی گئی اور رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ۔ زبردستی اُترتے ہوئے ہوائی جہاز کا ايک پر زمين ميں دھنس گيا تھا ۔ اس ميں سے فوجی نکلے اور اُنہوں کے ايئرپورٹ پر قبضہ کر ليا کيونکہ وہاں رياست کی کوئی فوج نہ تھی

اس جنگ آزادی میں حصہ لینے والے مسلمان دوسری جنگ عظیم میں یا اس کے بعد برطانوی یا مہاراجہ کی فوج میں رہ چکے تھے اور جنگ کے فن سے واقف تھے البتہ ان کے پاس زیادہ تر پہلی جنگ عظیم میں استعمال ہونے والی طرّے دار بندوقیں تھیں اور دوسری جنگ عظیم کے بچے ہوئے ہینڈ گرنیڈ تھے ۔ توپیں وغیرہ کچھ نہ تھا جبکہ مقابلہ میں بھارتی فوج ہر قسم کے اسلحہ سے لیس تھی اور برطانوی فضائیہ نے بھی اس کی بھرپور مدد کی ۔

بے سروسامانی کی حالت میں صرف الله پر بھروسہ کر کے شہادت کی تمنا دل میں لئے آزادی کے متوالے آگے بڑھنے لگے ۔ وزیرستان کے قبائلیوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کے لئے جہاد کا اعلان کر دیا اور ان کے لشکر جہاد میں حصہ لینے کے لئے جموں کشمیر پہنچنا شروع ہوگئے ۔ کئی پاکستانی فوجی چھٹیاں لے کر انفرادی طور پر جہاد میں شامل ہو گئے ۔ پھر اللہ کی نُصرت شامل حال ہوئی اور ڈوگرہ اور بھارتی فوجیں جن کو برطانوی ایئر فورس کی امداد بھی حاصل تھی پسپا ہوتے گئے یہاں تک کہ مجاہدین پونچھ کے کافی علاقہ کو آزاد کرا کے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف پیشقدمی کرتے ہوئے کٹھوعہ کے قریب پہنچ گئے

ایک دلچسپ واقعہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زبانی

جب میں 1953ء میں کراچی ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج میں فزکس کا پریکٹیکل کر رہا تھا۔ ہمارے ڈیمانسٹریٹر نئے تعلیم یافتہ مرزا عبدالباقی بیگ تھے یہ ذہین انسان تھے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ جانے کے منتظر تھے۔ ہم کو ورنیئر کیلیپرس [Vernier Callipers
] اور مائیکرو میٹر [Micrometer] دیئے گئے تھے کہ ان کی مدد سے دھات کی شیٹ کے ایک ٹکڑے کی موٹائی اور ایک تار کا قطر معلوم کرنا تھا۔ ہمیں سکھایا گیا تھا کہ کس طرح ان آلات کا صحیح استعمال کیا جا سکتا تھا اور صحیح طریقے سے پیمائش کی جا سکتی تھی۔عبدالباقی بیگ سامنے ٹیبل و کرسی پر بیٹھے تھے تھوڑی دیر میں ہمارے پروفیسر ڈی سوزا [De Souza] آگئے اور عبدالباقی بیگ کے سامنے بیٹھ گئے۔ انہوں نے میز پر رکھے کیلیپر اور مائیکرومیٹر کو اٹھا کر عبدالباقی بیگ سے اس کو استعمال کرنے کا طریقہ دریافت کیا ۔ عبدالباقی بیگ جواب نہ دے سکے اور نہ ہی صحیح طریقہ سے استعمال کر سکے، پروفیسر ڈی سوزا نے پھر ان کو ان آلات کے استعمال کرنے کا طریقہ کار بتایا ۔ عبدالباقی بیگ نے بعد میں امریکہ میں فزکس میں پی ایچ ڈی کی اور نیویارک کے راکیفیلر انسٹی ٹیوٹ [Rockefeller Institute] میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بن کر دنیا میں نام پیدا کیا ان کا کام بہت اعلیٰ تھا اور انہوں نے بہت شہرت حاصل کی ہماری بدقسمتی کہ وہ نوبل انعام حاصل نہ کر سکے اور صرف 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

مرحوم آغاشاہی نے 1976ء کے اواخر میں ان سے ملاقات کی تھی اور انہیں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا چیئرمین بننے کی پیشکش کی تھی چونکہ مرحوم وزیراعظم بھٹو منیر احمد خان کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ پروفیسر عبدالباقی بیگ زمانہ شناس اور سمجھدار تھے انہوں نے نرمی سے یہ پیشکش نامنظور کر دی او ر پاکستان نہ آئے۔

احوالِ قوم ۔ 4 ۔ کردار

زمانے میں ہیں ایسی قومیں بہت سی۔ ۔ ۔ ۔ نہیں جن میں تخصیص فرماں دہی کی
پر آفت کہیں ایسی آئی نہ ہوگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کہ گھر گھر پہ یاں چھا گئی آکے پَستی
چکور اور شہباز سب اَوج پر ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ایک ہم ہیں کہ بے بال و پر ہیں

وہ ملت کہ گردُوں پہ جس کا قدم تھا۔ ۔ ۔ ۔ ہر اک کھونٹ میں جس کا برپا علَم تھا
وہ فرقہ جو آفاق میں محترم تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اُمت لَقَب جس کا خَیرُ الاُمَم تھا
نشاں اس کا باقی ہے صرف اس قدریاں۔ ۔ کہ گِنتے ہیں اپنے کو ہم بھی مسلماں
وگرنہ ہماری رگوں میں لہو میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارے ارادوں میں اور جستجو میں
دِلوں میں زبانوں میں اور گفتگو میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طبعیت میں فطرت میں عادت میں خُو میں
نہیں کوئی ذرّہ نجابت کا باقی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر ہو کسی میں تو ہے اتفاقی

ہماری ہر اک بات میں سفلہ پن ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ کمینوں سے بدتر ہمارا چلن ہے
لگا نامِ آبا کو ہم سے گہن ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا قدم ننگِ اہلِ وطن ہے
بزرگوں کی توقیر کھوئی ہے ہم نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرب کی شرافت ڈبوائی ہے ہم نے
نہ قوموں میں عزت، نہ جلسوں میں وقعت۔ ۔ نہ اپنوں سے اُلفت، نہ غیروں سے ملت
مزاجوں میں سُستی، دماغوں میں نخوت۔ ۔ ۔ ۔ خیالوں میں پَستی، کمالوں سے نفرت
عداوت نہاں ۔ دوستی آشکارا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ غرض کی تواضع ۔ غرض کی مُدارا

نہ اہلِ حکومت کے ہمراز ہیں ہم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ درباریوں میں سرافراز ہیں ہم
نہ عِلموں میں شایانِ اعزاز ہیں ہم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ صنعت میں حرفت میں مُمتاز ہیں ہم
نہ رکھتے ہیں کچھ مَنزلت نوکری میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ حصہ ہمارا ہے سوداگری میں
تنزل نے کی ہے بُری گَت ہماری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت دور پہنچی ہے نکبت ہماری
گئی گزری دنیا سے عزت ہماری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں کچھ ابھرنے کی صورت ہماری
پڑے ہیں اک امید کے ہم سہارے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ توقع پہ جنت کی جیتے ہیں سارے

کلام خواجہ الطاف حسين حالی

قربانی ۔ ؟ ؟ ؟

سيّدنا ابراھيم عليہ السلام نے ہميں کيا اسی قربانی کا سبق ديا تھا ؟
ايسا ايک ہی شہر ميں کيوں ہوتا ہے ؟
کسی کے پاس ہے اس کا مدلل جواب ؟

کراچی 17 نومبر 2010ء ۔ میں عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالیں چھیننے کے دوران فائرنگ کے واقعات میں تین افراد ہلاک دس زخمی ہوگئے ۔ پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری میں نیازی چوک پر قربانی کے جانور کی کھالیں مانگنے کیلئے مسلح افراد آئے لیکن علاقے کے لوگوں نے کھالیں دینے سے انکار کر دیا ، جس پر مسلح افراد نے مکینوں سے تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کردی۔ فائرنگ کی زد میں آکردوبچوں سمیت10 افراد زخمی ہو گئے جبکہ دو افراد جاں بحق ہو گئے ۔زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انھیں طبی امداد دی گئی واقع کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جہاں قانون نافذ کرنے والوں نے متاثرہ علاقے کو گھیر لیا اور سرچ اپریشن کیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔گلشن اقبال بلاک سترہ کے اشرف اسکوائر میں قربانی کی کھالیں چھیننے کے دوران ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے جھگڑے کے بعد فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ان کا اپنا ساتھی افتخار شدید زخمی ہوگیا جو بعد میں جناح اسپتال میں ہلاک ہوگیا ،پولیس واقع کی تفتیش کررہی ہے

عيد مبارک

آج يہ ورد کرتے ہوئے حجاج منٰی سے حرم کعبہ مکہ کی طرف رواں دواں ہيں

لَبَّيْکَ اَللَّہُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لاَ شَرِيْکَ لَکَ لَبَّيْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَة لَکَ وَالْمُلْکَ لاَ شَرِيْکَ لَکَ

میں حاضر ہوں یااﷲ میں حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ميں حاضر ہوں ۔ تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لئے ہیں اور ملک بھی ۔ تیرا کوئی شریک نہیں

باقی لوگ عيد سے پچھلی رات مغرب کی نماز کے بعد سے عيد کے تيسرے دن نصف النہار تک يہ ورد رکھيں کم از کم ہر نماز کے بعد ايک بار

اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیرہ والحمدُللہِ کثیِرہ و سُبحَان اللہِ بکرۃً و أصِیلا

جنہوں نے حج کی سعادت حاصل کی ہے ان کو حج مبارک اور اللہ ان کا حج قبول فرمائے
سب مسلمانوں کو عیدالاضحٰے مبارک ۔ اللہ سب مسلمانوں کو اپنی شريعت پر قائم کرے اور شيطان کے وسوسوں سے بچائے
جنہوں نے سیّدنا ابراھیم علیہ السلام کی سُنّت کی پيروی کرتے ہوئے قربانی کی ہے اللہ اُن کی قربانی قبول فرمائے

جدِ امجد کی قربانیاں

خلیل اللہ سیّدنا ابراہیم علیہ السّلام کی ایک قربانی سے مسلمان آگاہ ہیں ۔ جو ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر واجب کر دی گئی اور ہر سال ذوالحج کی 10 تاریخ سے 12 کے نصف النہار تک بکرہ ۔ دُنبہ ۔ گائے یا اونٹ ذبح کئے جاتے ہیں ۔ سیّدنا ابراہیم علیہ السّلام اللہ کے دین کی خاطر کئی قربانیاں اس سے قبل دے چکے تھے

پہلی قربانی ۔ سیّدنا ابراہیم علیہ السّلام ابھی نوجوان ہی تھے کہ بتوں کی پوجا کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اُن کے ہموطنوں نے اُنہیں آگ میں پھینکنے کا فیصلہ کیا جس کیلئے بہت بڑا الاؤ تیار کیا گیا ۔ عام آدمی ایسی صورت میں شہر سے بھاگ جاتا یا کہیں چھپ جاتا لیکن سیّدنا ابراہیم علیہ السّلام اللہ کے دین کی خاطر آگ میں زندہ جلنے کیلئے تیار ہو گئے ۔ جب اُنہیں آگ میں پھینکا گیا تو اللہ کے حُکم سے وہ سیّدنا ابراہیم علیہ السّلام کیلئے ٹھنڈی ہو گئی ۔ اسی کے متعلق علامہ اقبال صاحب نے لکھا ہے

بے خطر کُود گيا آتشِ نمرود ميں عِشق
عقل ہے محوِ تماشہ لبِ بام ابھی

دوسری قربانی مُلک بدری ہے ۔ کُفّار کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور اُنہوں نے سیّدنا ابراہیم علیہ السّلام کو مُلک بدر کر دیا

تیسری قربانی ۔ ایک اور امتحان سیّدنا ابراہیم علیہ السّلام پر آیا جب اللہ نے اُنہیں اپنی بیوی اور ننھے بچے سمیت اُنہيں مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت کا حُکم دیا اور اُنہوں نے بغیر پس و پیش اس پر عمل کیا۔ یہ ننھا بچہ سیّدنا اسمٰعیل علیہ السّلام تھے

چوتھی قربانی ۔ مکہ مکرمہ اس زمانہ میں بے آب و گیاہ صحرا تھا ۔ وہاں پہنچ کر سیّدنا ابراہیم علیہ السّلام کو اللہ کی طرف سے حُکم ہوا کہ بیوی اور بچے کو وہیں چھوڑ کر واپس چلے جائیں ۔ اُن کے چلے جانے کے بعد اُن کی واجب صد احترام بیوی ہاجرہ نے بچے کو ایک جگہ لٹا دیا اور خود اس کیلئے پانی کی تلاش کرنے لگیں ۔ اسی جُستجُو میں وہ قریب ہی ایک چھوٹی سی پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ گئیں جب پانی نظر نہ آیا تو نیچے اُتر کر دوسری چوٹی کی طرف گئیں ۔ اس طرح اُنہوں نے سات بار کیا ۔ اس کے بعد بی بی ہاجرہ نے دیکھا کہ جہاں اُن کے ننھے بچے نے ایڑیاں ماری تھیں وہاں سے چشمہ پھوٹ پڑا ہے ۔ اُنہوں نے آ کر پانی کو اکٹھا کرنے کیلئے روکنے کی کوشش کی اور اپنی زبان میں زم زم کہا یعنی رُک جا ۔ اللہ نے اس چشمہ کو ہمیش کر دیا اور پانی کو متبرک بنا دیا ۔ یہ چوٹیاں صفا اور مروہ ہیں ۔ اللہ نے بی بی ہاجرہ کے عمل کو ہر عمرہ یا حج کرنے والے پر فرض کردیا

پانچویں قربانی جس کا شروع ميں ذکر ہو چکا ہے ۔ جب سیّدنا اسمٰعیل علیہ السّلام نو سال کے ہو گئے تو سیّدنا ابراہیم علیہ السّلام نے تین راتیں متواتر خواب میں دیکھا کہ بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں ۔ نبی کا خواب مُہمل نہیں ہوتا اسلئے وہ اپنے بیٹے کو لے کر چل دیئے کہ اللہ کا حُکم پورا کریں ۔ منٰی کے میدان میں پہنچے تو شیطان نے ورغلانے کی کوشش کی ۔ آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ۔ چند قدم چل کر پھر شیطان نے ورغلانے کی کوشش کی ۔ اُنہوں نے پھر سات کنکریاں ماریں ۔ مزید چند قدم چلے تو شیطان نے تیسری بار ورغلانے کی کوشش کی اور آپ نے پھر سات کنکریاں شیطان کو ماریں ۔ اس کے بعد بیٹے کو لٹایا ۔ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی مبادہ ترس آ جائے ۔ چھُری چلانے لگے تو اللہ کا حُکم آ گیا “ہم نے تیرا عمل قبول کر لیا”۔ چھُری اللہ کے حُکم سے سیّدنا اسمٰعیل علیہ السّلام کے گلے پر پھرنے کی بجائے فرشتوں کے لائے ہوئے دُنبے کے گلے پر پھر گئی ۔ اللہ نے سیّدنا ابراہیم علیہ السّلام کے کنکریاں مارنے کے عمل کو حج کا رُکن بنا دیا اور قربانی ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر واجب کر دی

آج فجر کی نماز کے بعد سے عازمينِ حج مکہ مکرمہ سے مُنی کی طرف رواں دواں ہيں ۔ عيد پر گوشت کھايئے ليکن قربانی کا مقصد بھی ياد رکھيئے

اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیرہ والحمدُللہِ کثیِرہ و سُبحَان اللہِ بکرۃً و أصِیلا

میری ہتھیلیوں ميں کانٹے

ہمارے ہمسایہ عبدالمجید ریاست کی فوج میں کرنل تھے اور اُن دنوں اُن کی تعیناتی برفانی علاقہ گلگت بلتستان میں تھی ۔ آخر ستمبر 1947 ء میں پتہ چلا کہ ان کے بیوی بچے ستواری (جموں چھاؤنی) جا رہے ہیں ۔ ہمارے بزرگوں کے کہنے پر وہ لوگ ہم 6 بچوں کو ساتھ لے جانے کو تیار ہو گئے ۔ اگلی رات ایک اور دو بجے کے درمیان ایک فوجی ٹرک پر میں ۔ میری دونوں بہنیں (بڑی) ۔ دو سيکنڈ کزن اور ايک اُن کی پھوپھی [16 سولہ سال کی] ان کے ساتھ چلے گئے ۔ جو کچھ گھر ميں موجود تھا اُس ميں سے کچھ آٹا چاول ۔ دالیں ۔ ایک لٹر تیل زیتون اور کچھ پیسے ہمیں دے دیئے گئے

چھاؤنی میں بعض اوقات رات کو “جے ہند” اور” ست سری اکال” کے نعروں کی آوازیں آتیں جو کہ کبھی بہت قریب سے ہوتیں ۔ پتہ چلا کہ مسلح ہندو اور سکھ پچاس یا زیادہ کے جتھوں میں مسلمانوں پر حملے کرنے کے لئے کبھی وہاں سے بھی گذرتے ہیں ۔ حفاظت کا معقول انتظام نہ ہونے کے باعث ہم ہر وقت موت کے لئے تیار رہتے

کھانا پکانے کے لئے میں اپنے سيکنڈ کزن کے ساتھ باہر سے سوکھی تھور توڑ کے لاتا تھا جس سے میری ہتھیلیاں کانٹوں سے چھلنی ہوگئیں تھیں ۔ جب تک ہم واپس نہ آتے ہماری بہنیں ہماری خیریت سے واپسی کی دعائیں مانگتی رہتیں ۔ ايک دن تو ہم واپس آئے تو ہماری بہنوں سميت سب خواتين کو نماز جيسی حالت ميں ديکھا ۔ وجہ ہميں کسی نے نہ بتائی ۔ دروازہ ميری سيکنڈ کزن نے کھولا جو ہم چھ ميں سے سب سے بڑی [17 سال کی] تھيں ۔ مجھے پيار کيا پھر ميرے دونوں ہاتھوں کی ہتھليوں کو چوما اور چند لمحے ديکھتی ہی رہ گئيں ۔ ميں نے ديکھا اُن کی آنکھوں سے برسات جاری تھی ۔ اچانک اُنہوں نے منہ پھير کر آنسو پونچھے اور پھر اپنے بھائی کو گلے لگايا ۔ اسی لمحے کرنل عبدالمجيد صاحب کی بيوی آئيں اور ميرے اور پھر ميرے سيکنڈ کزن کے سر پر ہاتھ پھير کر دعائيں ديں

ہمارے پاس کھانے کا سامان تھوڑا تھا اور مزید لانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا اس لئے ہم تھوڑا ہی کھاتے ۔ جب زیتون کا تیل ختم ہو گیا تو اُبلے ہوئے پھیکے چاولوں پر بغیر پیاز لہسن نمک مرچ مصالحہ صرف اُبلی ہوئی دال ڈال کر کھا لیتے