شکست خوردہ قوم

ميرے ہموطنوں کی اکثريت کی يہ عادت بن چکی ہے کہ ہر آدمی اپنی کمزوری اور عِلّت کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا ہے ۔ قومی سطح پر بھی يہی صورتِ حال ہے کہ قصوروار کبھی امريکا و اسرائيل اور کبھی حکمران يا طالبان يا مُلا ہوتے ہيں يا اور کچھ نہيں تو اُن کا پاکستانی ہونا ہی بڑا قصور ہوتا ہے ۔ جسے ديکھو ذاتی غرض کے تحت پہاڑ کھودے گا اور غليظ کام کرنے کو بھی تيار ہوگا ليکن کسی ہموطن کی بھلائی کی خاطر ايک تنکا اُٹھانے کا روادار کم ہی ہو گا ۔ خود کچھ کرنے کا نہيں مگر کہتا پھرے گا کہ فلاں يہ کيوں نہيں کرتا اور فلاں وہ کيوں نہيں کرتا ؟ يا پھر کہے گا کہ يہ مُلک ہی خراب ہے

پچھلے دنوں کی بات ہے کہ کسی محفل ميں ايک شخص نے پاکستان کے چيف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کے عزم کی تعريف کی۔ ايک صاحب بولے “يہ سب کچھ وہ اپنی ذات کيلئے کر رہا ہے ۔ فلاں آدمی کو قتل کر ديا گيا ۔ اُس کا سوئو موٹو نوٹس کيوں نہيں ليا ؟”۔ جب اُن صاحب سے پوچھا گيا “آپ اتنے بڑے کھڑپينچ ہيں ۔ آپ بتايئے کہ آپ نے کسی کيلئے یا ملک کيلئے کيا کيا ہے ؟” تو وہ صاحب خاموش بيٹھ گئے

جب کبھی کبھار سڑک پر کار چلاتے ہوئے یا پيدل سڑک کو پار کرتے ہوئے کوئی کار والا راستہ دے ديتا ہے تو اُسی وقت دل و جان سے اُس کا اور اللہ کا شکر بے اختيار ادا ہو جاتا ہے کہ ہماری قوم ميں اِکّا دُکّا ہی سہی مگر کچھ انسان موجود ہيں ۔ ورنہ يہ حال ہے کہ ايک دن میں جا رہا تھا ۔ ايک سکول کے قريب بچے سڑک پار کر رہے تھے ۔ ميں نے کار روک لی ۔ ايک کار نے ميری گاڑی کو تيزی سے اوورٹيک کيا ۔ ايک آٹھ دس سالہ بچہ اُس کار کے نيچے آتا بچا ۔ قبل اس کے کہ ميں اپنی گاڑی سے اُتر کر اُس کار تک پہنچتا اُس کار کو چلانے والے نے اپنی کار سے نکل کر اُس بچے کی پٹائی کرتے ہوئے کہا “حرامزادے مرنا ہے تو کسی اور کے آگے آ کر مر”

ايک جگہ سڑک پر بھيڑ لگی تھی جا کر ديکھا تو ايک بچہ کسی گاڑی سے ٹکرا کر گرا پڑا ہے ۔ ٹانگ سے خون نکل رہا ہے ۔ ارد گرد کھڑوں ميں سے کوئی کار والوں کو گالی دے رہا ہے کوئی پوليس کو گالی دے رہا ہے کوئی پاکستان کو گالی دے رہا ہے کوئی مسلمانوں کو گالی دے رہا ہے مگر کسی نے جھُک کر بچے کو نہيں ديکھا اور نہ اسے طبی امداد پہنچانے کی فکر کی ۔ جب ميں بھيڑ ميں داخل ہوا اُسی وقت ايک اور شخص سامنی طرف سے آيا ہم دونوں نے بچے کو اُٹھايا ۔ وہ بچے کو لے ہسپتال روانہ ہوا اور ميں نے بچے کے گھر جا کر اطلاع کی

اپنے ملک ميں سڑک پار کرنے کيلئے کھڑے ہيں مگر مجال ہے کہ کوئی گاڑی والا راستہ دے ۔ اگر گاڑيوں کے درميان فاصلہ ہو تو پچھلی گاڑی والا ہارن بجا کر گاڑی تيز کر ليتا ہے ۔ دو سال قبل دبئی ميں ميں سڑک کے کنارے پٹڑی [foot path] پر کھڑا ہوا کہ گاڑياں گذر جائيں تو ميں سڑک پار کروں ۔ سب گاڑياں رُک گئيں اور اگلی گاڑی ميں بيٹھے شخص نے مجھے سڑک پار کرنے کا اشارہ ديا ۔ ہمارے مُلک ميں اپنی تيزی ميں سڑک کے کنارے کھڑے کو ٹکر مار کر بھاگ جاتے ہيں يا بھاگنے کی کوشش کرتے ہيں جيسا ميرے ساتھ پچھلے برس اٹھائيس ستمبر کو ہو چکا ہے

مُلک ميں چوربازاری عام ہے تو قصور امريکا يا اسرائيل کا ہے ۔ جوانوں کا چال چلن انحطاط پر ہے تو قصور دينی مدرسوں اور مُلا کا ہے ۔ آج کا مسلمان خود کو اسلام پر چلانے کی بجائے اسلام کو اپنے مطابق چلانا چاہتا اور اس خواہش کی تکميل ميں دينی مدرسہ اور مُلا کو راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہوئے اپنی تمام تر کوتاہيوں کا ملبہ اُن پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کچھ باريک بين مدرسہ اور مُلا کا تعلق امريکا سے دريافت کر ليتے ہيں

جسے ديکھو وہ دوسروں کو ٹھيک کرنے کيلئے لمبی تقارير کر رہا ہے اور تحارير لکھ رہا مگر چراغ تلے اندھيرا کی مصداق اپنے قول فعل کے تضاد پر نظر ڈالنے کی اُسے فرصت نہيں ہے ۔ کوئی صوبائی سطح پر بات کرتا ہے تو کوئی ضلعی سطح پر ۔ کوئی قبيلہ کی سطح پر تو کوئی لسانی سطح پر ۔ محدب عدسہ اور چراغ لے کر سورج کی روشنی ميں پاکستانی کو ڈھونڈنا پڑتا ہے

زندہ قوم کے افراد اجتمائی بہتری کا سوچتے اور اس کيلئے کام کرتے ہيں جبکہ شکست خوردہ قوم کے افراد صرف اپنے لئے کام کرتے ہيں اور صرف اپنی بہتری کا سوچتے ہيں خواہ دوسرے کی اس ميں حق تلفی ہو

خوشگوار حيرت

ميں نے اپنا انگريزی بلاگ “منافقت ۔ ۔ ۔ Hypocrisy Thy Name” کے نام سے ساڑھے چھ سال قبل بلاگر [Blogger] پر شروع کيا تھا ۔ بلاگر پر پابندی لگنے پر اسے ورڈ پريس [Wordpress] پر منتقل کر ديا تھا ۔ ميں نے جلد ہی “منافقت [Hypocrisy]” سے زيادہ دوسرے موضوعات پر لکھنا شروع کر ديا تھا تو قارئين کے اصرار پر اس بلاگ کا نام بدل کر ميں نے “حقيقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is Often Bitter” رکھ ديا

پونے چھ سال قبل ميں نے اپنا يہ اُردو بلاگ عليحدہ شروع کر ديا تھا اور اس پر پوری توجہ دے رہا تھا چنانچہ ميرا انگريزی کا بلاگ بے توجہی کا شکار رہا ۔ پچھلے سال کيلئے ورڈ پريس کی انتظاميہ نے پہلی بار بلاگز کی کار کردگی کا تخمينہ لگايا جس کے مطابق ميرا بلاگ زيادہ پڑھے جانے والے بلاگز ميں شمار ہوا

مجھے ورڈ پريس کی جو ای ميل جنوری کے شروع ميں موصول ہوئی وہ مندرجہ ذيل فقرہ سے شروع ہوتی ہے

Here is a high level summary of your overall blog health :

WOW
We think you did great !

تفصيل يہاں کلک کر کے پڑھی جا سکتی ہے ۔ ويسے بھی ميرے انگريزی بلاگ پر اُردو بلاگ سے مختلف عمدہ تحارير پڑھنے کو مليں گی

احوالِ قوم ۔ 7 ۔ عصرِ حاضر کا مسلماں

وہ قومیں جو سب راہیں طے کرچکی ہیں ۔ ۔ ذخیرے ہر اک جنس کے بھر چکی ہیں
ہر اک بوجھ بار اپنے سر دھر چکی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ہوئیں تب ہیں زندہ کہ جب مرچکی ہیں
اسی طرح راہِ طلب میں ہیں پویا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت دور ابھی ان کو جانا ہے گویا
کسی وقت جی بھر کے سوتے نہیں وہ ۔ ۔ ۔ ۔ کبھی سیر محنت سے ہوتے نہیں وہ
بضاعت کو اپنی ڈبوتے نہیں وہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کوئی لمحہ بے کار کھوتے نہیں وہ
نہ چلنے سے تھکتے نہ اکتاتے ہیں وہ ۔ ۔ ۔ بہت بڑھ گئے اور بڑھے جاتے ہیں وہ

مگر ہم کہ اب تک جہاں تھے وہیں ہیں ۔ ۔ جمادات کی طرح بارِ زمیں ہیں
جہاں میں ہیں ایسے کہ گویا نہیں ہیں ۔ ۔ زمانہ سے کچھ ایسے فارغ نشیں ہیں
کہ گویا ضرویری تھا جو کام کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سب کر چکے ایک باقی ہے مرنا

عمل جن کا تھا اس کلامِ متیں پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سر سبز ہیں آج روئے زمیں پر
تفوق ہے ان کو کہین و مہیں پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ مدار آدميّت کا ہے اب انہیں پر
شریعت کے جو ہم نے پیمان توڑے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ لے جاکے سب اہلِ مغرب نے جوڑے

سمجھتے ہیں گُمراہ جن کو مسلماں۔ ۔ ۔ ۔ نہیں جن کو عقبٰیٰ میں اُمیدِ غفراں
نہ حصہ میں فردوس جن کے نہ رضواں۔ ۔ نہ تقدیر میں حُور جن کے نہ غلماں
پس از مَرگ دوزخ ٹھکانا ہے جن کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حمیم آب و زقُّوم کھانا ہے جن کا
وہ ملک اور ملت پہ اپنی فدا ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب آپس میں ایک اک کے حاجت روا ہیں
اولوالعلم ہیں ان میں یا اغنیا ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طلب گار بہبود خلقِ خدا ہیں
یہ تمغا تھا گویا کہ حصہ انہیں کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ حُب الوطن ہے نشان مومنیں کا

اقتباس از مسدسِ حالی
مصنف ۔ خواجہ الطاف حسين حالی

رحم کرو ۔ خد اکے لئے اس ملک پہ رحم کرو

تمام قومی ادارے ہمیشہ قوم کے مجموعی مزاج کو ملحوظ رکھ کر تعمیر ہوتے ہیں جس طرح 1973ء کا آئین بھٹو نے بنایا تھا۔ تمام قوانین اسلام کے مطابق

عدل ہی معاشروں کو جما جڑا رکھتا ہے۔ آئین کے تحت ، قانون کے تحت۔ علّامہ جاوید غامدی یوں تو ادھورے آدمی ہیں۔ اسلام کی روح سے زیادہ الفاظ کے لیکن ایک بات ان کی سو فیصد درست ہے ” آئین کو اگر مقدس نہ مانا جائے گا تو ملک کو قرار حاصل نہ ہوگا”۔

سلمان تاثیر کیس میں ایک سے بڑھ کر ایک فلسفہ ہے لیکن کسی کو انصاف کی فکر بھی ہے؟

آسیہ بی بی کیس میں عدالت نے فیصلہ کیا تھا۔ گوارا یا ناگوار ، اسے قبول کیا جاتا یا اعلٰی تر عدالت سے رجوع۔ شک کا فائدہ دے کر اعلٰی عدالتیں ملزموں کو ہمیشہ بری کرتی آئی ہیں۔ اسّی کے اسّی مقدمات میں

گورنر سلمان تاثير کو پریس کانفرنس نہ کرنی چاہئیے تھی۔ یہ نہ کہنا چاہئیے تھا کہ “صدر صاحب آسیہ بی بی کو معاف کر دیں گے”۔ عدالت رہا کرتی اور یہ تو ہولناک تھا کہ قانون ناموسِ رسالت کو “کالا قانون” کہا

اب سبھی مانتے ہیں کہ قانون درست ہے اور معاملہ بے حد نازک۔ وزیر داخلہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ان کے سامنے کوئی توہینِ رسالت کرے تو وہ اسے گولی مار دیں [قانون ہاتھ میں لینے کا جواز کیا ہوگا؟]
وزيرِ قانون بابر اعوان کہہ چکے کہ ان کے جیتے جی کوئی اس قانون میں ترمیم نہیں کر سکتا
پیپلز پارٹی اور اس کے ترقی پسند دانشوروں کی طرف سے پیش کئے جانے والے مؤقف کا کھوکھلا پن اور تضاد آشکار ہے

سانحہ کے بعد حکمران جماعت کے دو ہدف ہیں ۔ ایک مذہبی پارٹیاں اور دوسرا شریف خاندان
انصاف نہیں ۔ قاتل کو سزا نہیں ۔ حریفوں سے وہ بدلہ چاہتے ہیں ۔ بابر اعوان ۔ راجہ ریاض اینڈ کمپنی نے کسی دلیل کے بغیر شریف برادران کو مجرم قرار دے دیا ۔ یہ تکرار البتہ جاری رہے گی کہ مفاہمت ان کی سیاسی پالیسی ہے۔سبحان اللہ، سبحان اللہ۔

اسلام آباد انتظامیہ کے اعلٰی افسر گورنر سلمان تاثير کی میت لے کر لاہور پہنچے تو گورنر کے خاندان نے مقدمہ درج کرانے سے انکار کر دیا

عاصمہ جہانگیر کو بلایا گیا تو انہوں نے مذہبی جماعتوں کے خلاف مقدمہ داغنے کا مشورہ دیا ۔ وہی برصغیر کا مقدمہ بازی کا مزاج کہ حادثہ ہو جائے تو ہر اس شخص کو پھنسا دیا جائے جس سے “ذاتی” یا “نظریاتی”عداوت ہے

محترمہ عاصمہ جہانگیر سے پوچھيئے “کیا قتل کے قانون کی وجہ سے ہر سال ہزاروں بے گناہوں کی زندگیاں برباد نہیں ہوتیں؟ کیا اسے ختم کر دیا جائے؟ کون سا قانون ، کون سا دفتر، کون سا ادارہ اور منصب ہے جو منفی مقاصد کے لیے برتا نہیں جاتا۔ خود ریاست بھی ۔ کیا سب کی بساط لپیٹ دی جائے؟”

مرحوم گورنر کی پریس کانفرنس اور شیریں رحمٰن کے مسوّدہ قانون جمع کراتے ہی آشکار تھا کہ طوفان اٹھے گا۔ بزرجمہر جو نہیں جانتے کہ معاشرے اتفاقِ رائے میں جیتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔ قومی اور مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ لگانی چاہئیے۔ ضد ایسی شدید کہ طوفان دیکھ کر بھی نہیں ٹلتے۔ معاشرہ منقسم ہے ، معیشت برباد، سیاست بے حد اُلجھی ہوئی، ملک کا مستقبل داؤ پر لیکن جذبات کا کھیل جاری ہے ۔ ہر شخص اپنے تعصبات کے پھریرے لہراتا ہوا نظر آتا ہے

اسلام کی اساس دو چیزیں ہیں۔ قرآن اور سنت

رحمتہ اللعالمین کی توہین ، اسلام کی عمارت کے دو ستونوں میں سے ایک کو گرا دینے کے مترادف ہے۔ جذبات کا نہیں ، یہ عقیدے کا معاملہ ہے ۔ ایمان کا معاملہ ہے ۔ پانچ کے پانچ [حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اورجعفریہ] مکاتبِ فکر سو فیصد اس پر متفق ہیں۔ اقبال سے بڑھ کر کسی مفکر پر اتفاقِ رائے نہ ہوا، وہ بھی

بات سمجھ میں نہیں آتی تو ناموسِ رسالت کے قانون پر ریفرنڈم کرا لیجئے۔ کسی ایک شہر میں کوئی ادارہ سروے کرلے۔ 90 فیصد لوگ اس قانون کے حامی ہیں۔ جو دانشور معترض ہیں، ان میں لاہور والوں کو میں جانتا ہوں۔ اقبال اور قائداعظم ہی نہیں ، اسلام کا بھی وہ مذاق اڑاتے ہیں۔ سوال بالکل سادہ ہے “آپ لوگ اپنی رائے ہم پر مسلّط کیسے کر سکتے ہیں؟”

دانا اتنے ہیں کہ زندگی کے اولین سوال پر غور کرنے کی کبھی فرصت نہ پا سکے ۔ اس حیات اور کائنات کو کس نے پیدا کیا ؟ شرعی قوانین سے بحث کرتے ہیں حالانکہ قرآن کریم، حدیث اور اسلام کی علمی روایت کو چھُوا تک نہیں

درختوں کی جڑیں زمین اور اداروں کی جڑيں قومی مزاج ، تمدن ، تاریخ اور روایات میں ہوتی ہیں۔ مغربی تحریکوں کے زیرِ اثر یہ مفکرین ہوا میں جھُولتے ہیں اور قوم سے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ بھی خلاء میں معلّق رہے۔ عام لوگوں کا اندازِ فکر عملی ہوتا ہے ۔ وہ احساسِ کمتری سے اُگنے والے فلسفوں کے جنگلوں میں نہیں جِیا کرتے

اب دوسری طرف آئیے
مولانا فضل الرحمٰن کو سرکار سے جو کچھ سمیٹنا تھا ، سمیٹ کر باہر نکلے اور تحریکِ ناموسِ رسالت کا اعلان ہوگیا۔ ٹی وی پر اور اس کالم میں بار بارعرض کیا: جذبات کی آگ مت بھڑکائیے ، جلسہ جلوس کی ضرورت کیا ہے ؟ ناموسِ رسالت کے قانون کو کون چھیڑ سکتا ہے۔ بحث مطلوب ہے تو اٹھارویں ترمیم کی طرح پارلیمنٹ ہاؤس کے کسی بند کمرے میں کر لیجئے۔ مشاورت کا دائرہ بتدریج بڑھا کر اتفاقِ رائے پيدا کيجئے۔ بعض مقدمات عدالتیں بند کمروں میں سنا کرتی ہیں۔ یہ ویسا ہی معاملہ ہے۔ مسئلہ ہے قانون کے غلط استعمال کا۔ روکا جا سکتا ہے۔ بدنیتی سے الزام لگانے والے کے لیے سزا کا تعین ، ایک نئے قانون سے

لیڈروں اور دانشوروں پہ خدا رحم کرے۔ سب کے سب معاشرے کو ادھیڑنے پر تُلے ہیں۔ ترقی پسندوں کو اپنی دانائی اورعلماءِ کرام کو اپنے ایمان اور تقویٰ پر فخر بہت ہے ۔ غور لیکن وہ ہرگز نہ فرمائیں گے۔ اللہ کی کتاب سچ کہتی ہے : “انسان بڑا ہی ظالم اور جاہل ہے” ۔ اپنے آپ پر زعم ، اپنے فرض کی اہمیت سے بے خبر

سوچا ۔ علماءِ کرام سے پوچھوں “اللہ کے نام پر بننے والے ملک کی آپ نے کیا خدمت کی؟” یاد آیا کہ ان میں جو زیادہ موثر ہیں، وہ تو پاکستان بنانے کے مخالف تھے۔ ریاست کو وہ مانتے نہیں، دہشت گردوں، حتٰی کہ خود کش حملہ آوروں کی مذمت سے گریز

ترقی پسند فرماتے ہیں “سیکولر ازم اختیار کیا جائے”۔ کوئی انہیں تاریخ پڑھائے کہ مغرب میں ظالم چرچ حکمران تھا، جس کے خلاف بغاوت ہوئی۔ جیسا کہ قائداعظم بار بار کہتے تھے “اسلام میں پاپائیت کا وجود ہی نہیں”۔ مسلم عوام علماء کو کارِ سیاست سے الگ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ دو آدمیوں پر اتفاقِ رائے ہوا۔ اقبال اور قائداعظم

بھٹو 35فیصد ووٹ لے کر جیتے، وہ بھی بھارت اور امریکی استعمار کے خلاف نعرہ زن ہو کر۔ غریب آدمی کے جذبات جگا کر۔ اعلان کیا کہ اسلام ہمارا دین ہے ۔ سوشلزم ترک کر کے مساوات محمدی کی اصطلاح وضع کی۔ قادیانیوں کو اقلیت کیا، حج کا کوٹہ ختم کر دیا۔ قوم کو مطمئن رکھنے کے لیے عالمِ اسلام سے قریبی روابط استوار کئے۔ دہلی کی دائم مخالفت کرتے رہے ۔ ان کے وارث دوسرا ہی راگ الاپتے ہیں۔ پہلے ماسکو اور اب واشنگٹن کا گیت

اسلام آباد کے وکیلوں نے کمال کر دیاکہ قاتل پر پھول برسائے۔ وہ کیا چاہتے ہیں؟ انارکی؟ قانون کا خاتمہ؟
وزیر داخلہ کا بھی جواب نہیں کہ صبح سویرے ریمانڈ کی بجائے معاملے کو ملتوی کرتے رہے۔ کئی ایک بزرجمہر پولیس کو گالی دیتے رہے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ مرحوم گورنر نے اسلام آباد پولیس کو دورے سے مطلع ہی نہ کیا تھا۔ پولیس کا قوم کو شکر گزار ہونا چاہئیے ۔ اوسطاً ہر ہفتے دو خودکش حملہ آور دارالحکومت میں داخل ہوتے ہیں۔ ڈیڑھ سو گرفتار ہوئے ۔ تحسین کی بجائے پوليس کی مذمت ؟
پولیس کو حکومت اور بارسوخ لوگوں نے برباد کیا ۔ قوانین کے تحت آزادی سے کام کرنے دیا جائے تو آدھے جرائم فوراً ختم ہو جائیں۔ یہاں مگر بھرتی میں سفارش، مناصب میں سفارش اور ایک ایک کیس میں سفارش۔ اس کے بعد شکوہ کيسا ؟

رہنما اوردانشور پہلے ہی قوم کو تقسیم کر چکے، مزید تقسیم نہ کریں۔ اسے اعتدال پر رہنے دیں جو اس کا مزاج ہے اور جس پر بقا کا انحصار۔ آئین اور قانون کی اہمیت اُجاگر کریں۔ طعنہ زنی کی بجائے دلیل دیں۔ پہلے ہی چوہدری، نواز شریف اور صدر آصف علی زرداری، جناب الطاف حسین اور حضرت مولانا فضل الرحمٰن اس کے مقدر میں ہیں۔ معیشت برباد، لوٹ مار بے حد چنانچہ استعمار پہ انحصار ۔۔۔ اب اورکیا ؟

رحم کرو ، خدا کے لئے اس ملک پر رحم کرو

بشکريہ ۔ جنگ

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ شادی خانہ آبادی يا ۔ ۔ ۔

شادی کا لفظ نکلا ہے شاد ۔ شاداں يا شادمانی سے يعنی خوشی ۔ عقد النکاح کا نام شادی رکھنا تب درست معلوم ديتا ہے جب خانہ آبادی ہو ورنہ بربادی کو شادی کہنا کہاں کی عقلمندی ہے
:lol:
ويسے اس نہائت اہم سلسلہ ميں ہماری قوم کی اکثريت عقلبندی کا مظاہرہ کرتی ہے عقلمندی کا نہيں ۔ شادی تو بعد کی بات ہے اسے خانہ بربادی بنانے کا بندوبست اُسی وقت شروع کر ديا جاتا ہے جب کسی لڑکے کی شادی کی منصوبہ بندی شروع ہوتی ہے

کسی نے کہہ ديا “بيٹے سے پوچھ ليا ؟” تو جواب ملا “اے ہے ۔ ہمارا بيٹا ہے ۔ بڑے لاڈ چاؤ سے پالا ہے ۔ کيسے نہ پسند ہوگی اُسے”۔ اگر لڑکے کا باپ مداخلت کی کوشش کرے تو جواب ملتا ہے “تمہيں کيا معلوم کہ گھر کيسے چلتا ہے ۔ تم تو سارا دن باہر رہتے ہو ۔ بہو کے ساتھ سارا دن ميں نے گذارنا ہے”

يہ بات جاہلوں يا کم پڑھے لکھوں کی نہيں ہو رہی ۔ بڑی بڑی پڑھی لکھیاں جب ماں بنتی ہيں تو عقلبند ہو جاتی ہيں ۔ عورت بہو کی تلاش ميں نکلتی ہے تو پہلی شرط چاند سا مکھڑا ہوتی ہے جب مل جائے تو اُس کے باپ کی جائيداد يا عہدے کا حساب لگنا شروع ہو جاتا ہے ۔ شادی ہو جانے پر پتہ چلتا ہے کہ بيٹا مشرق کی طرف جا رہا ہے اور بہو مغرب کی طرف پھر وہی چاند سا مکھڑا گہنا جاتا ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ شادی نہيں خانہ بربادی ہوئی ہے

ہمارے ہاں ايک رواج بيٹے برآمد [export] کرنے کا بھی چل رہا ہے ۔ برطانيہ يا امريکا ميں لڑکی پسند کی اور بہو گھر لانے کی بجائے بيٹے کو بہو کے گھر بھيج ديا ۔ دل ميں لڈو پھوٹتے ہيں کہ بيٹا برطانوی يا امريکی شہری بن جائے گا تو گويا بادشاہت مل جائے گی ۔ بھلا ہو امريکا کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ورنہ بڑے فخر کے ساتھ کہا جاتا تھا ہمارے بيٹے کے پاس گرين کارڈ ہے يا ہمارے بيٹے کے پاس لال پاسپورٹ ہے ۔ ايسے لڑکے عام طور پر ساری عمر بيوی کی غلامی ميں گذارتے ہيں کيونکہ امريکا اور برطانيہ کے قانون کے مطابق اُن کی بيوياں جب چاہيں اُنہيں مُلک سے نکلوا سکتی ہيں ۔ تو کيا يہ شادی ہوئی يا خانہ بربادی

انسان اور درندہ

چيتا ايک جنگلی جانور ہے جسے اس کی تيز رفتاری اور اعصاب کی مضبوطی کی وجہ سے بہت خوننخوار درندہ سمجھا جاتا ہے

کمال يہ ہے کہ ہر جنگلی جانور اصولوں کا پابند ہوتا ہے چاہے وہ چيتا ہی کيوں نہ ہو مگر انسان جو اپنے آپ کو اشرف المخلوقات کہتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے اسے اصولوں کا پابند بنانا بہت مُشکل ہے ۔ کيا عجب کہ اپنے آپ کو انسان سمجھنے والا خونخوار سے بڑھ کر خونخوار ہو

چيتے کی اصول پسندی کا مظاہرہ

ہم ۔ ہماری باتيں اور ہمارا عمل

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کی حفاظت کرنے والے ایلیٹ فورس کے سکواڈ میں شامل جوان ممتاز قادری نے ہلاک کر ديا

نتيجہ ۔
ہميشہ کی طرح عوام کی آپس ميں لے دے ۔ فضول بحث اور ايک دوسرے پر تہمت طرازی
سوال ہے ۔ کيا ہميں اس سے بہتر کوئی کام نہيں آتا ؟

[ميں شروع ہی ميں واضح کر دوں کے ميری سوچ کے مطابق ممتاز قادری ملک کے قانون کا مجرم بنا ہے ۔ اللہ کا مجرم بنا ۔ يا نہيں ۔ وہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ميں دو جماعت پاس کيا کہہ سکتا ہوں ؟]

جسے ديکھو وہ قرآن شريف اور حديث سے بالا بالا اپنی مخصوص رائے رکھتا ہے جسے وہ اصلی اسلام منوانے پر تُلا بيٹھا ہے ۔ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم سے محبت صرف يہ سمجھ ليا گياہے کہ ميلادالنبی کا جلوس نکالا جائے محفل ميلاد رچائی جائے ۔ ان ميں نعت کے عنوان سے شرک کی حديں پار کی جائيں مگر اپنی زندگی ميں صرف وہاں نبی کی پيروی کی جائے جہاں آسانی ہو يا اپنی مطلب براری ہوتی ہو ۔ اور جب توہينِ رسالت کی بات آئے تو “قانون امتناع توہينِ رسالت” کو ظالمانہ يا کالا قانون کہا جائے ۔
يا
رحمت للعالمين کی حيات طيّبہ ميں سے چند مثاليں دے کر توہين کرنے والے کی معافی کا جواز نکالا جائے

ميں ايک عام سا انسان ہوں اور ہر بات کو اس نظر سے ديکھتا ہوں جيسا کہ ميرا اپنا عمل ہے ۔ اگر کوئی ميری بے عزتی کرے تو ميں اُسے معاف کر سکتا ہوں اور يہ حقيقت ہے کہ ميں نے اپنی زندگی ميں ہميشہ ايسے لوگوں کو معاف کيا بھی بلکہ ايک بار حالات کی سازگاری کے پيشِ نظر ايک سِنيئر افسر ہوتے ہوئے ايک ورکر سے سب کے سامنے معافی مانگی ليکن ميں اپنے والدين کی توہين برداشت نہيں کر سکتا چاہے ميری جان جائے ۔ ايک بار ايک شخص نے يہ حرکت کی تھی اور وہ پہلی اور آخری بار تھی کہ لوگوں نے مجھے بپھرا ہوا ديکھا تھا ۔ ميں نے اپنے سے زيادہ جسمانی لحاظ سے طاقتور توہين کرنے والے کے دو چار ہاتھ ايسے رسيد کئے کہ وہ پريشان ہو گيا تھا ۔ اس کے بعد آج تک کسی کو جراءت نہيں ہوئی کہ وہ ميرے ماں باپ کے خلاف بولے

کيا يہ حقيقت نہيں ہے کہ کوئی شخص مُسلمان ہو ہی نہيں سکتا جب تک اُسے نبی سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم اپنی عزيز ترين چيز حتٰی کہ اپنے والدين سے بھی زيادہ عزيز نہ ہو جائيں ؟

پھر کہاں رہ جاتی ہے ہماری مسلمانی جب کوئی ملعون توہنِ رسالت کا مرتکب ہوتا ہے ؟

کيا ہمارا حال کچھ اس طرح نہيں جس طرح گارڈن کالج راولپنڈی ميں ہمارے پروفيسر جناب وی کے مل صاحب نے انگلش پوئٹری پڑھاتے ہوئے بتايا تھا “ايک جوان اپنی محبوبہ کو بتا رہا تھا کہ وہ اس سے بہت زيادہ محبت کرتا ہے يہاں تک کہ اس کيلئے اپنی جان تک قربان کر سکتا ہے ۔ اسی اثناء ميں ايک بھينسا اُن کی طرف بھاگتا ہوا آيا تو جوان نے اپنی محبوبہ جس نے سُرخ رنگ کا سکرٹ پہن رکھا تھا کو اُٹھا کر بھينسے کے سامنے کر ديا”

يہ کہنا درست ہے کہ ممتاز قادری نے سلمان تاثير کو قتل کر کے ملک کے قانون کی خلاف ورزی کی ۔ اس پر بہت شور شرابا ہے ۔ ملک ميں اس سے زيادہ قانون کی خلاف ورزياں ہو رہی ہيں ۔ ان پر خاموشی ہے ۔ کيوں ؟

سلمان تاثير نے قانون امتناع توہينِ رسالت کو “کالا قانون” کہہ کر نہ صرف ملک کے قانون کی خلاف ورزی کی تھی بلکہ توہينِ رسالت کا بھی مرتکب ہوا تھا

اس پر ملک کے وزيرِ اعظم سيّد يوسف رضا گيلانی نے يہ کہہ کر کہ يہ حکومت کی پاليسی نہيں ہے ايک گڑوی پانی سے اشنان کر ليا تھا ۔ توممتاز قادری کے بارے ميں بھی ايک گڑوی پانی سے اشنان کر لينے ميں کيا مانع ہے ؟

اس سے اُن کی اپنی جماعت اور حواری زد ميں آتے ہيں اور اُنہيں اپنی کرسی چھننے کا خدشہ ہے