دورِ جديد واويلے کا دور ہے ۔ جتنا زيادہ اور جتنا بلند آواز واويلا کيا جائے اتنا ہی کامياب رہتا ہے ۔ عصرِ حاضر کا تعليم يافتہ آدمی جو کمپيوٹر کے ذريعہ دنيا بھر کی تمام معلومات رکھنے کا اپنے تئيں بھرم رکھتا ہے وہ بھی اس واويلے کے سامنے ڈھير ہو جاتا ہے اور وہی آوازيں لگانا شروع کر ديتا ہے ۔ سياسيات تو ايک طرف اس واويلے سے ادارے اور عدالتيں بھی محفوظ نہيں
اگست 2010ء ميں صوبہ پنجاب کے شہر سيالکوٹ ميں دو بھائيوں مغيث اور منيب کو بر سرِ عام زد و کوب کيا گيا تھا جس کے نتيجہ ميں دونوں ہلاک ہو گئے تھے ۔ اس پر صوبہ سندھ کے شہر کراچی سے واويلا شروع ہوا جو سارے سندھ ميں پھيلنے کے بعد اسلام آباد ميں بھڑک اُٹھا تھا ۔ اسلام آباد کے ہلکارے اسے لے کر پنجاب کے شہر شہر ميں بھی تقسيم کرتے رہے تھے ۔ “اپنی مثال آپ” قائد نے تو فوجی کاروائی کا سنديسہ بھی دے ديا تھا
سيالکوٹ ميں مغيث اور منيب کی ہلاکت کے مقدمہ ميں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج نے فیصلہ سنایا جس کے مطابق 7 ملزموں کو چار چار بار سزائے موت سنائی گئی ہے جبکہ 6 ملزموں کو چار چار مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ سابق ڈی پی او وقار چوہان ۔ سابق ایس ایچ او رانا الیاس اور دیگر 7 اہلکاروں کو تین تین سال قید اور پچاس پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے ۔ کُل 28 ملزموں میں سے 22 کوسزا سنائی گئی ہے، 5 ملزم بری کئے گئے ہیں جبکہ ایک ملزم کی چند دن قبل دوران حراست طبعی موت واقع ہو گئی تھی
دوسری طرف صوبہ سندھ کے شہر کراچی ميں امن و امان کی حالت دِگرگُوں تھی اور سال بھر اُس وقت تک دِگرگُوں رہی جب تک عدالتِ عظمٰی کراچی ہی ميں نہ بيٹھ گئی مگر مُجرموں کے خلاف آج تک کوئی کاروائی عمل ميں نہيں لائی گئی اور عدالتِ عظمٰی کے سامنے ٹسوے بہانے کئے جا رہے ہيں
سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی ٹارگیٹ کلنگ ازخود نوٹس کیس میں کہا ہے کہ بھتہ مافیا اب بھی سرگرم ہے ۔ عدالت میں ایس ایچ او کی روز مرہ کی تیار کردہ رپورٹ پیش کی جا رہی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ہمیں نتیجہ خیز رپورٹ چاہيئے ۔ عدالت کو وہ رپورٹس نہیں چاہئیں جو آرمی میں سِک رپورٹس [Sick Reports] کہلاتی ہیں ۔ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ کتنے ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں ؟ اور کتنوں کو جیل بھیجا گیا ؟ اور کتنے مقدمات میں پیشرفت ہوئی ہے ؟ پولیس تمام سیاسی مصلحتوں سے آزاد ہوکر ملزمان کے خلاف کارروائی کرے ۔ ہمیں اس طرح کی تفتیش چاہيئے جیسے سانحہ سیالکوٹ میں کی گئی ۔ 85 فیصد مقدمات میں درست خطوط پر تفتیش نہ ہونے کے باعث ملزمان بچ جاتے ہیں پولیس میں بھرتیوں کے عمل کو شفاف بنایا جائے