عيد ميلاد النبی

آنے والی کل کيلئے ہفتہ بھر سے چاروں طرف گہما گہمی ہے يعنی عيد ميلاد النبی منانے کی ۔ زبان زدِ عام قول ہے حُبِ رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم ۔ آج تک ميری سمجھ ميں نہيں آيا کہ ہمارے بھائی بند يعنی اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے محبت ۔ انس ۔ احترام يا عقيدت کسے کہتے ہيں ؟

رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم اُس زمانے کے قليل مسلمانوں سے اجتماعی ضروريات کيلئے کچھ مال لانے کا کہتے ہيں ۔ سب بقدرِ استطاعت لاتے ہيں ۔ رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہيں ” کيا لائے ؟”۔ وہ کہتے ہيں ” گھر ميں جو کچھ تھا اُس کا آدھا لے آيا ہوں”۔ پھر يہی ابو بکر صديق رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو اُنہوں نے کہا “گھر ميں جو کچھ تھا سب لے آيا ہوں”۔ رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم نے کہا ” کچھ بيوی بچوں کيلئے بھی چھوڑا ؟” تو ابو بکر صديق رضی اللہ عنہ نے کہا ” ہاں ۔ اللہ اور اس کا رسول”

رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم مسجد کے منبر پر تشريف فرما ہيں ۔ مسجد کے آخری حصے ميں کچھ مسلمان کھڑے ہيں ۔ رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم اُنہيں بيٹھنے کا کہتے ہيں ۔ سڑک پر مسجد کے پاس آتے ايک صحابی وہيں بيٹھ جاتے ہيں ۔ رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کہتے ہيں “ميں نے مسجد ميں کھڑے لوگوں کو بيٹھنے کا کہا تھا سڑک پر چلنے والوں کو نہيں”۔ صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہيں “درست ۔ ليکن يہ کيسے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ کے منہ سے بيٹھنے کا حکم نکلے اور ميں کھڑا رہوں”

ہمارے اجتماع نماز جمعہ و عيدين اور حج ہيں ۔ يہی ہمارے تہوار ہيں ۔ اس کے علاوہ کچھ نہيں ۔ باقی جلسے جلوس اللہ کے دين کا حصہ نہيں ہيں ۔ تھوڑا سا غور کيا جائے تو ہماری رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم سے محبت ۔ عقيدت اور احترام کا بھانڈہ ريزہ ريزہ ہو جاتا ہے ۔ ہم لوگوں نے محبت کو ميلوں ۔ جلوسوں اور مجلسوں ميں بند کر ديا ہے اور اپنے فرائض سے غافل ہيں جو اپنے مال اسباب اور اہل و عيال حتٰی کہ اپنی جان سے زيادہ اللہ اور اُس کے رسول سے محبت کے متقاضی ہيں

کچھ روز قبل ايک امريکی عيسائی دوست نے بتايا کہ کرسمس منانا عيسائيت کا حصہ نہيں ہے بلکہ منحرف لوگوں کی اختراع ہے اور ثبوت کے طور پر انجيل سے اقتباسات تحرير کئے ہيں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سيّدنا عيسٰی عليہ السلام کی پيدائش دسمبر کی سردی ميں نہيں ہوئی تھی بلکہ ايسے موسم ميں ہوئی تھی جب چرواہے اپنے ريوڑ رات کے وقت چرا رہے تھے ۔ يعنی جب رات کو سردی نہ تھی اور دن کو گرمی برداشت نہ ہوتی ہو گی ۔ ان اقتباسات کو ميں نے ” Why Christmas ? ” کے عنوان سے اپنے انگريزی بلاگ “حقيقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is Often Bitterپر نقل کيا تھا جسے ” Why Christmas ?” پر کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے

کارخانہ قدرت ۔ بلی کی آنکھوں والا لڑکا

ايک چينی لڑکے نَونگ يُو ہُوئی [Nong Youhui]کو اللہ سُبحانُہُ نے تعجب انگيز بصارت عطا کی ہے ۔ اس لڑکے کی آنکھيں چمکدار نيلے رنگ کی ہيں اور اندھيرے ميں بلی کی آنکھوں کی طرح دھمکتی ہيں ۔ نَونگ يُو ہُوئی دن ميں عام انسانوں کی طرح ديکھ سکتا ہے اور رات کے اندھيرے ميں بھی اسے دکھائی ديتا ہے

نَونگ يُو ہُوئی کے متعلق پہلی بار 2009ء ميں پتہ چلا جب اس کے باپ نَونگ شی ہُوآ [Nong Shihua] نَونگ يُو ہُوئی کی چمکدار نيلی آنکھوں کی وجہ سے پريشان ہو کر اُسے جنوبی چين کے شہر داہُوآ [Dahua] کے ہسپتال لے کر گيا ۔ ڈاکٹروں نے اُسے بتايا کہ “پريشانی کی ضرورت نہيں ۔ نَونگ يُو ہُوئی جب بڑا ہو گا تو اس کی آنکھيں ٹھيک ہو جائيں گی ۔ مگر کئی سال گذرنے کے باوجود نَونگ يُو ہُوئی کی آنکھوں ميں کوئی تبديلی نہ آئی اور نہ اس خصوصيت کی وجہ سے کوئی پريشانی لاحق ہوئی

باقی اس وِڈيو ميں ديکھا جا سکتا ہے

مقتدر کون اور استثنٰی کس کو ہے ؟

کچھ عرصہ سے حکمران کہہ رہے ہيں کہ پارليمنٹ مقتدر [sovereign] ہے ۔ جواز يہ پيش کيا جاتا ہے کہ آئين کی تشکيل اور ترميم پارليمنٹ کرتی ہے ۔ مطلب يہ ہوا کہ سب کو پارليمنٹ کی اطاعت يا تابعداری کرنا ہو گی

اس تصور يا بيان کی عملی صورت پر غور کيا جائے تو بات يوں بنتی ہے کہ پارليمنٹ يعنی اس کے ارکان کی اکثريت جو فيصلہ کر دے وہ اٹل ہے اور سب اس فيصلے پر عمل کے پابند ہوں گے ۔ گويا پارليمنٹ اگر کوئی فيصلہ ملک يا عوام کے خلاف بھی کر دے تو عوام اُسے ماننے کے پابند ہوں گے ۔ کيا يہ عقل ميں سمو سکتا ہے ؟

دوسری بات جو کہی جا رہی ہے يہ ہے کہ صدر کسی بھی معاملہ ميں کسی بھی عدالت کو جواب دہ نہيں ہے يعنی وہ کوئی بھی جرم کرے اُس کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہيں کی جا سکتی

گويا صدر چاہے ڈاکہ ڈالے يا قتل کرے تو بھی اُسے کچھ نہ کہا جائے ۔ پھر پرانے زمانہ کی بادشاہت اور دورِ حاضر کی جمہوريت ميں کيا فرق ہے ؟

آئين کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ آئين ميں کچھ باب ايسے ہيں کہ جنہيں پوری پارليمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کيا ہوا ہے ۔ يہ باب آئين کی بنياد يا اساس ہيں اور انہيں تبديل نہيں کيا جا سکتا ۔ ان ميں سے چند شقات درج ذيل ہيں

آئين کی تابعداری ہر شخص [خواہ وہ وزيرِ اعظم يا صدر ہی ہو] کی ناقابلِ خلاف ورزی ذمہ داری ہے [شق 5 ۔ 1 ]

5. Loyalty to State and obedience to Constitution and law.
(1) Loyalty to the State is the basic duty of every citizen.
(2) Obedience to the Constitution and law is the inviolable obligation of every citizen wherever he may be and of every other person for the time being within Pakistan.

اردو کيلئے ديکھيئے صفحہ 4 کا عکس

باب اول ۔ بنيادی ۔ آئين کی شق 25 [1] کے تحت تمام شہری قانون کی نظر ميں برابر ہيں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہيں ۔

25. Equality of citizens.
(1) All citizens are equal before law and are entitled to equal protection of law.

[اُردو کيلئے ديکھيئے صفحہ 15کا عکس]

آئين کی شق 2 الف بھی ناقابلِ خلاف ورزی ہے جس ميں قرار دادِ مقاصد کو آئين کا بنيادی جزو بتايا گيا ہے ۔ اس کے مطابق تمام قوانين اور طرزِ زندگی اللہ کے احکام کے تابع قرار ديا گيا ہے ۔ [اُردو کيلئے نيچے ديکھيئے صفحات 1 ۔ 2 اور 3 کے عکس]

2A. The Objective Resolution to form part of substantive provisions.
The principles and provisions set out in the Objectives Resolution reproduced in the Annex are hereby made substantive part of the Constitution and shall have effect accordingly.

ANNEX [Article 2(A)] The Objectives Resolution

Whereas sovereignty over the entire universe belongs to Allah Almighty alone and the authority which He has delegated to the State of Pakistan, through its people for being exercised within the limits prescribed by Him is a sacred trust;

This Constituent Assembly representing the people of Pakistan resolves to frame a Constitution for the sovereign independent State of Pakistan;

Wherein the State shall exercise its powers and authority through the chosen representatives of the people;
Wherein the principles of democracy, freedom, equality, tolerance and social justice as enunciated by Islam shall be fully observed;

Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam as set out in the Holy Quran and the Sunnah;

Wherein adequate provision shall be made for the minorities to profess and practice their religions and develop their cultures;
Wherein the territories now included in or in accession with Pakistan and such other territories as may hereafter be included in or accede to Pakistan shall form a Federation wherein the units will be autonomous with such boundaries and limitations on their powers and authority as may be prescribed;

Wherein shall be guaranteed fundamental rights including equality of status, of opportunity and before law, social, economic and political justice, and freedom of thought, expression, belief, faith, worship and association, subject to law and public morality;

Wherein adequate provisions shall be made to safeguard the legitimate interests of minorities and backward and depressed classes;

Wherein the independence of the Judiciary shall be fully secured;

Wherein the integrity of the territories of the Federation, its independence and all its rights includ-ing its sovereign rights on land, sea and air shall be safeguarded;

So that the people of Pakistan may prosper and attain their rightful and honored place amongst the nations of the World and make their full contribution towards international peace and progress and happiness of humanity.



يہ بھی پڑھ ليجئے “صدارتی عہدے کی اہليت کے متعلق درخواست ۔ عدالت نے امريکی صدر اوبامہ کو طلب کر ليا

لاجواب يا لاثانی ؟ ؟ ؟

1 ۔ صوبہ سندھ کے سرکاری ملازمين ؟

صوبہ سندھ جس ميں عوام دوست ہونے کی دعويدار پی پی پی ۔ ايم کيو ايم اور اے اين پی کی حکومت ہے کے کُل401388 سرکاری ملازمين ہيں ۔ ان کی پڑتال کے پہلے مرحلے ميں معلوم ہوا ہے کہ 108545 يعنی 27 فيصد سے زائد بھوت پريت [Ghost] ہو سکتے ہيں مگر انسان نہيں
اس طرح قوم کا 100000000 [10 ارب] روپيہ سالانہ ضائع ہو رہا ہے
دوسرے مرحلے ميں کيا ہو گا کچھ کہا نہيں جا سکتا

ابتدائی مرحلے کی تفصيل کچھ يوں ہے

ابتدائی مرحلے ميں 21438 افراد کا کمپيوٹر اندراج [کمپيوٹرائزڈ ڈيٹا] جعلی [Bogus] نکلا

دستور العمل [Manual] ميں 20456 ملازمين کا اندراج [Registration] ہی نہيں ملا

381 ايسے ملازمين ہيں جو انتقال کرگئے ليکن ان کی تنخواہيں دی جارہی ہيں

1264 ملازمين دوہری ملازمت يعنی ايک وقت ميں 2 ملازمتيں کر رہے ہيں

60000 سے 65000 ملازمين نے ملازمت کيلئے اپنی عمريں غلط لکھوائی ہوئی ہيں

يہ سب کچھ حکومتِ سندھ کی وزير شازيہ مری نے بتايا ہے کسی پنجابی نے نہيں بتايا :lol:

2 ۔ بينظير بھٹو انکم سپورٹ پروگرام

بينظير انکم سپورٹ فنڈ کے تحت مستحق افراد کو 1000 روپيہ ماہانہ ديا جاتا ہے ۔ اس کيلئے کچھ رقم يو ايس ايڈ ديتا ہے ۔ يو ايس ايڈ نے آڈيٹ کيا تو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو ماہانہ 1000 روپيہ ادا کيا جا رہا ہے ان ميں سے 4200000 [42 لاکھ] کا اس دنيا ميں وجود ہی نہيں ۔ اس طرح صرف پچھلے ايک سال ميں 50400000000 [50 ارب 40 کروڑ] روپے مستحقين کے نام پر خُرد بُرد کئے گئے يعنی پيپلز پارٹی کی حکومت کے پچھلے ساڑھے 3 سالوں ميں 176400000000 [1 کھرب 76 ارب 40 لاکھ] روپے خُرد بُرد کئے گئے

عورتيں کيوں روتی ہيں ؟

ايک بچہ اپنی ماں سے “آپ روتی کيوں ہيں ؟”
ماں “کيونکہ ايسی ضرورت پڑتی ہے”
بچہ ” مجھے سمجھ نہيں آئی”
ماں نے بچے کو سينے سے لگا کر پيار کرتے ہوئے کہا “تمہيں سمجھ آئے گا بھی نہيں”

پھر بچے نے اپنے باپ سے سوال کيا “ماں بغير وجہ کيوں روتی ہے ؟”
باپ نے لاپرواہی سے جواب ديا “سب عورتيں بلاوجہ روتی ہيں”
بچہ مخمصے ميں رہا ۔ کچھ دن بعد بچے کی ايک عالِم سے ملاقات ہوئی ۔ بچے نے سوچا “سب لوگ عالِم سے عِلم حاصل کرتے ہيں ۔ انہيں ضرور پتہ ہو گا کہ عورتيں کيوں روتی ہيں”
بچہ نے عالِم سے کہا “يا شيخ ۔ عورتيں اتنی آسانی سے کيوں رونے لگ جاتی ہيں ؟”

عالِم نے جواب ديا
“جب اللہ نے عورت کو بنايا تو اس پر خاص توجہ دی
اللہ نے عورت کے کندھے اتنے مضبوط بنائے کہ وہ دنيا کا وزن اُٹھا سکيں اور ساتھ اتنے نجيب کہ آرام پہنچا سکيں
اللہ نے عورت ميں اندرونی طاقت اتنی بھری کہ بچے کے حمل سے لے کر اُس ناپسنديدگی کو برداشت کر سکے جو بعض اوقات اُس کی اپنی اولاد ہی کی طرف سے ہوتی ہے
اللہ نے عورت کو کڑاپن عطا کيا کہ جب باقی سب ہار جاتے ہيں وہ بغير شکائت اپنے خاندان کی بيماری اور مشکلات کے دوران ديکھ بھال کرتی رہتی ہے
اللہ نے عورت ميں اپنے بچوں سے محبت کا احساس رکھا کہ وہ اُن سے ہر حال ميں محبت کرتی ہے خواہ بچے اُسے دُکھ ہی ديں
اللہ نے عورت کو طاقت بخشی ہے کہ اپنے خاوند کی تمامتر خاميوں کے ساتھ گذر کرتی ہے ۔ اور اللہ نے اسے مرد کی پسلی سے اُس کے دل کی حفاظت کيلئے پيدا کيا ہے
اللہ نے عورت ميں جاننے کی عقل رکھی ہے کہ اچھا خاوند بيوی کو دُکھ نہيں ديتا بلکہ اللہ کبھی کبھار خاوند کا ساتھ دينے ميں عورت کی مضبوطی اور قوتِ ارادی کا امتحان ليتا ہے
اور سب سے بڑھ کر اللہ نے عورت کو آنسو عطا کئے جو عورت کا طُرّہ امتياز ہيں جنہيں وہ جب چاہے جہاں چاہے بہائے ۔ اس کيلئے کسی وضاحت کی ضرورت نہيں کيونکہ يہ اُس کی خاص ملکيت ہيں
ديکھا بيٹا ۔ عورت کا حُسن اُن کپڑوں ميں نہيں جو وہ پہنتی ہے ۔ نہ اُس کے چہرے کی رنگت يا خد و خال ہيں ۔ نہ اُس کے بال ہيں ۔
بلکہ عورت کا حُسن اُس کی پرہيزگاری ہے جو اُس کی آنکھوں سے جھلکتی ہے کيونکہ وہی دل کی راہداری ہيں ۔ دِل جس ميں محبت گھر کرتی ہے”

کيا ہر کام کيلئے امريکا جانا پڑتا ہے

کہيں وسليے کی شکائت ہے تو کہيں دولت کی کمی کی ليکن اصل بات ہے ہمت اور محنت کی مگر حرام سے بچتے ہوئے ۔ پاکستان بلند ترين گليشيئروں ۔ بلند ترين پہاڑوں ۔ درميانے پہاڑوں ۔ سطح مرتفع ۔ ميدان اور صحرا کا مجموعہ ہے اور اس کے بطن ميں چٹيل پہاڑ ۔ سرسبز پہاڑ ۔ صحرا اور سرسبز ميدان پائے جاتے ہيں ۔ ايسے جغرافيے اور ايسی آب و ہوا والا قطع زمين ہو تو اس ميں بسنے والے ذہين اور جفاکش ہوتے ہيں ہماری خود غرضی اور نا اتفاقی نے ہميں ناکارہ بنا ديا ہے ۔ پھر بھی “ذرا نم ہو تو يہ مٹی بڑی زرخيز ہے ساقی” کے مصداق غبار ميں چھپے لعل گاہ بگاہ اپنی چمک دکھاتے رہتے ہيں

کيا ارفع کريم والدين کی طفيلی تھی

خاور کھوکھر صاحب نے قوم کی حالت زار پر لکھتے ہوئے دنیا کی کم ترین عمر کی مائیکروسوفٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم رندھاوا نامی لڑکی کا حوالہ ديا ۔ خاور کھوکھر صاحب کے بلاگ پر اظہارِ خيال کرنا شروع کيا جو طوالت پکڑ رہا تھا چنانچہ اسے اپنے بلاگ پر منتقل کرنے کا فيصلہ کيا ۔ اس کا اضافی فائدہ يہ ہو گا کہ زيادہ خواتين و حضرات اسے پڑھ سکيں گے اور ہر دو خيالات پر اپنی رائے کا اظہار بھی کر سکيں گے

اوّل بات يہ ہے کہ ہم الحمدللہ مسلمان ہيں اسلئے ہميں اللہ کے فرمودات کو کبھی نہيں بھولنا چاہيئے بلکہ ان پر عمل پيرا ہونا چاہيئے

سورت 3 ۔ آلِ عِمرَان ۔ آيت 26 ميں اللہ کا ايک فرمان رقم ہے
قُلِ اللَّھُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ ۔ آپ کہہ دیجئے اے اللہ ۔ اے تمام جہان کے مالک ۔ تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ۔ تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں ۔ بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے‏

سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ
ترجمہ ۔ اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے

سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39 ۔ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَی
ترجمہ ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

ارفع کے والدين کی مالی حالت اور خواہش کے بغير ارفع کا يہ اعزاز حاصل کرنا مشکل تھا ليکن زيادہ سبب ارفع کی شب و روز محنت اور اساتذہ کی رہنمائی اور تدريسی قابليت ہے ۔ اپنے ہموطنوں کا رويّہ اپنی جگہ ليکن ذہانت اللہ کی دين ہے اور ذہانت کو مؤثر بنا کر اس سے اچھا نتيجہ حاصل کرنا آدمی کی اپنی محنت اور طريقہءِ کار پر منحصر ہے ۔ جہاں تک ارفع کا تعلق ہے [جو اس فانی دنيا سے رُخصت ہو چکی ہے] وہ ايک ريٹائرڈ ليفٹننٹ کرنل [Liutinant Colonel] کی بيٹی تھی ۔ ليفٹننٹ کرنل کوئی بڑی بلا نہيں ہوتا اور پھر جو ريٹائر ہو چکا ہو اُسے ہمارے معاشرے ميں عام طور پر اچھا مقام نہيں ديا جاتا ۔ ميں ايسے ذہين اور کامياب طُلباء کو جانتا ہوں جن کی مالی حالت کو مدِ نظر رکھا جاتا تو وہ 10 جماعتيں بھی نہ پڑھ پاتے ليکن وہ انجيئر بنے ۔ ميرا ايک ہمجماعت جو اليکٹريکل انجيئر بنا اُس کی والدہ نے لوگوں کے کپڑے سی کر اور برتن دھو کر اُسے پالا اور پڑھايا تھا ۔ اُس نے پہلا ميرٹ کا وظيفہ ميٹرک کے امتحان ميں ليا اور پھر ہر امتحان ميں وظيفہ حاصل کرتا رہا ۔ ايسے کچھ اور لڑکوں کو بھی ميں جانتا ہوں

ميں کسی دنياوی وسيلے والے کی حمائت نہيں کرنا چاہتا ۔ ميں نے زندگی کی 6 سے زائد دہائياں اس ملک پاکستان ميں گذاری ہيں ۔ اس ميں سے جو وقت ملک کے باہر گذارا وہ 8 سال سے کم ہے اور اُس ميں سے بھی ساڑھے 7 سال حکومت کے حُکم کے تحت ملک سے باہر گيا اور وہاں رہا ۔ اصول پسندی اور سچ کا ساتھ دينے کے نتيجہ ميں نہ صرف بڑی کرسی والوں نے بلکہ ساتھيوں اور ماتحتوں نے بھی مجھے اتنا تنگ کيا کہ بالآخر 60 سال کی عمر پوری کرنے کی بجائے پونے 52 سال کی عمر ميں ريٹائرمنٹ مانگ لی جبکہ کہ روزگار کا کوئی اور دنياوی وسيلہ نہ تھا

پاکستان بننے کے بعد 1953ء تک والد صاحب کو محنت کا پھل ملتا رہا پھر دنياوی وسيلے والوں کا دور شروع ہوا اور ہماری تنگدستی کے دن . نوبت يہاں تک پہنچی کہ جب ميں انجنيئرنگ کالج لاہور ميں پڑھتا تھا تو ميرے پاس سستے کپڑے کی 2 پتلونيں 2 قميضيں 2 قميض پاجامے اور ايک بغير آستين کا سويٹر تھا ۔ ايک سال اسی طرح گذارا پھر ايک لنڈے کا کوٹ ليا ۔ ميں نے ان حالات ميں انجيئرنگ پاس کی اور بعد ميں بچت کر کے وہ قرض اُتارا جو ميری انجيئرنگ کالج کی پڑھائی کے آخری سال ميں لينا پڑا تھا ۔ انجنيئر بن کے افسر لگنے کے بعد بھی 3 سال لنڈے کا کوٹ پہنا ۔

ہماری قوم کا الميہ نہ فوج ہے نہ تاجر اور نہ حکمران ۔ ان بُرے حکمرانوں کو ہم ہی ووٹ دے کر حکمران بناتے ہيں اور ووٹ دينے والوں ميں 90 فيصد وہی ہوتے ہيں جو بعد ميں نان نُفقے کو ترستے ہيں ۔ اصل مسئلہ ہماری قوم کی غلط سوچ اور بُری عادات ہيں ۔ ہم لوگ اپنے ملک کے اندر رہتے ہوئے محنت کرنے سے کتراتے ہيں ۔ اپنے گھر يا دفتر ميں جھاڑو دينا اپنی توہين سمجھتے ہيں ليکن برطانيہ جا کر بيت الخلا صاف کرنا گوارا ہوتا ہے ۔ ہم لوگ اپنی ہر غلطی کا سبب دوسرے کو ٹھہراتے ہيں ۔ اپنے آپ کو درست کرنے کے روادار نہيں البتہ دوسروں ميں ہميں عيب ہی عيب نظر آتے ہيں

دراصل ہميں اللہ پر زبانی يقين ہے مگر عملی طور پر نہيں ہے ۔ ہم اللہ کو ماننے کا دعوٰی کرتے ہيں ليکن اللہ کی کوئی بات ماننے کو تيار نہيں ہيں ۔ جب ہم من حيث القوم اللہ پر يقين کامل کرتے ہوئے حق حلال کمانے کيلئے محنت شروع کريں گے اور ناحق کی کھانا چھوڑ ديں گے تو يہی ملک پاکستان دن دُونی رات چوگنی ترقی کرنے لگے گا اور دنيا کی ہر آسائش ہميں ميسّر ہو جائے گی