میں نے فیس بُک پر یہ دیکھا تو سوچا کہ شاید میری کاوش سے ہی اس شخص کے وارثین کو اطلاع پہنچ جائے
دوست۔ آقا نہیں
اس سلسہ میں 9 واقعات بعنوانات ”گفتار و کردار“ ۔ ”پارسل“۔ ”گھر کی مرغی ؟“ ۔ ”میں چور ؟“ ۔ ”غیب سے مدد” ۔ ”کہانی کیا تھی“ ۔ ”یو اے ای اور لبیا کیسے گیا“ ۔ ”انکوائری ۔ تفتیش” اور ” ہمارے اطوار “ لکھ چکا ہوں
میں نے یکم مئی 1963ء کو پاکستان آرڈننس فیکٹریز (پی او ایف) میں ملازمت شروع کی ۔ 6 ماہ کیلئے مختلف فیکٹریوں میں تربیت حاصل کی ۔ پہلے 4 ہفتے سمال آرمز گروپ میں تربیت کے تھے ۔ مجھے کام سیکھنے کا شوق تھا اسی لئے ٹیکنیکل کالج راولپنڈی میں سینئر لیکچرر کی پوسٹ چھوڑ کر پی او ایف میں آیا تھا ۔ اس زمانہ میں سمال آرمز گروپ میں کوئی اسلحہ نہیں بن رہا تھا ۔ اینفیلڈ رائفل نمبر 4 مارک 2 کے چند سپیئر پارٹ بن رہے تھے ۔ میں مشینوں کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ ان پرزوں کی پروڈکشن کا بھی مطالعہ کرتا رہا ۔ جب 2 ہفتے گذر چکے تھے تو ایک فورمین صاحب جو پوری پی او ایف میں گھاک مانے جاتے تھے مجھے کہنے لگے ”ہماری مدد کریں ۔ ایک پرزہ ہے جس میں ٹیپر (taper) آ رہا ہے ۔ میں نے انکساری سے کہا ”آپ تو کام کے ماہر ہیں ۔ جو بات آپ کو سمجھ نہیں آئی وہ مجھے کیسے سمجھ آئے گی ؟“ بولے ”میں آپ کے عِلم سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہوں“۔ میں اُن کے ساتھ ورکشاپ میں گیا۔ ورکر نے پرزہ بنا کر دکھایا ۔ مستری بھی موجود تھا ۔ میں نے فورمین صاحب اور مستری سے پوری تاریخ معلوم کرنے کے بعد کچھ ھدایات دیں جن پر عمل کرنے سے پُرزے درست بننے شروع ہوگئے ۔ ایک دن بعد فورمین صاحب ایک اور پرزے کا مسئلہ لے آئے ۔ مطالعہ کے بعد ھدایات دیں تو اللہ کے کرم سے وہ پرزہ بھی درست بننے لگا۔ فورمین صاحب نے منیجر صاحب کو بتایا جنہوں نے مجھ سے ذکر کیا تو میں نے کہا ”کوئی بڑی بات نہ تھی آپ بھی اسے کر سکتے تھے“۔ میرے پاؤں کے نیچے سے اُس وقت زمین سِرکتی محسوس ہوئی جب منیجر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ”میں الیکٹریکل انجنیئر ہوں“۔
دوسرا واقعہ اُس دور کا ہے جب سمال آرمز گروپ بڑھ کر ویپنز فیکٹری بن چکا تھا اور میں پروڈکشن منیجر تھا ۔ ایک صاحب کسی دوسری فیکٹری سے تبدیل کر کے جنرل منیجر ویپنز فیکٹری تعینات کئے گئے ۔ میں اُنہیں پروڈکشن کے معاملات سمجھانے میں دقت محسوس کرتا رہا ۔ آدمی بہت اچھے تھے ۔ میں چند ماہ میں اُن سے بے تکلف ہو گیا ۔ ایک دن اُنہیں ایک بات سمجھ نہیں آ رہی تھی تو میں نے کہا ”انجیئرنگ کالج لاہور کے پڑھے مکینیکل انجنیئر کو تو یہ بات سمجھ لینا چاہیئے”۔ وہ بولے ”میں دراصل سِول انجنیئر ہوں“۔
ایک سینیئر انجیئر صاحب سے کچھ بے تکلفی تھی ۔ میں نے ان سے ذکر کیا ۔ اُنہوں نے بتایا کہ ابتداء میں پی او ایف کی پلاننگ اور انتظام انگریزوں کے پاس تھا ۔ اُنہوں نے حکومت سے منظوری لی کہ بھرتی پبلک سروس کمیشن کی بجائے خود کریں گے ۔ اخبار میں اشتہار دے دیا کہ بٰی ایس سی انجنیئر چاہئیں ۔ پھر مکینکل ۔ الیکٹریکل اور سول انجنئر بھرتی کر کے سب کو مزید تعلیم و تربیت کی غرض سے 3 سال کیلئے برطانیہ بھیج دیا ۔ واپس آنے پر کام زیادہ نہ تھا جس سے بے اطمینانی پیدا ہوئی ۔ کئی انجنیئر شور کرنے لگے کہ ”ہمیں ملازمت چھوڑنے کی اجازت دی جائے“۔ چیئرمین نے کہا ”جو جانا چاہتا ہے جا سکتا ہے“۔ اُن دنوں ملک میں انڈسٹری ترقی پا رہی تھی ۔ سب قابل اور ذھین انجنیئر چھوڑ کر چلے گئے ۔ پیچھے کچھ سول اور الیکٹریکل انجنیئر اور برطانیہ سے فیل ہو کر آنے والے مکینیکل انجنیئر رہ گئے ۔ البتہ 3 سول انجنیئرز میں سے 2 سمجھدار اور محنتی تھے اور محنت کرنے والے کی قدر اور حمائت کرتے تھے ۔ انجنیئرنگ فیکٹریز میں محنتی لوگوں میں سے زیادہ کی رپورٹیں خراب ہوتی رہیں اور نالائق مگر چاپلوس اور ذاتی خدمتگار ترقیاں پاتے رہے ۔ اس کے ذمہ دار وہ مکینکل انجنیئر تھے جو برطانیہ سے ناکام واپس لوٹے تھے یا پھر جو مکینیکل انجنئر نہ تھے سوائے 2 متذکرہ بالا سول انجنیئرز کے ۔ اس کے بر عکس ایکسپلوسِوز فیکٹری میں سارے انجینئر موجود رہے ۔ وہ سب برطانیہ سے کامیاب ہو کر واپس آئے تھے ۔ ایکسپلوسِوز فیکٹری میں کبھی کسی محنتی آفیسر کی رپورٹ خراب نہ ہوئی
ایک اور قابلِ ذکر حقیقت ہے کہ ازل سے برطانیہ اور امریکا نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان کسی بھی اسلحہ میں خود کفیل ہو سکے ۔ ہو سکتا ہے غلط بھرتی کی یہی وجہ ہو ۔ جب 1962ء میں کم از کم بنیادی اسلحہ میں خود کفیل ہونے کا منصوبہ بنایا گیا ۔ ابتداء جرمن رائفل جی 3 سے ہونا تھی ۔ امریکا نے اس کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے ایک لاکھ ایم 1 رائفلز دینے کی پیش کش کی ۔ افواجِ پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل موسٰی خود کفالت کے حق میں تھے فیصلہ سربراہِ مملکت جنرل محمد ایوب خان نے کرنا تھا جس نے کہا ” ہمیں دوست چاہیئں ۔ آقا نہیں“۔ موجودہ صحافی ہمایوں گوہر کے والد الطاف گوہر صاحب نے اسی عنوان (Friends, Not Masters) سے جنرل ایوب خان کی طرف سے کتاب لکھی تھی
آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکا نے این آر او کیوں کروایا ؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ این آر او کے نتیجہ میں آصف علی زرداری صدر بنا تو پاکستان میں کیا ہوا ؟
آپ کہیں گے ”مہنگائی ۔ لوڈ شیڈنگ ۔ دہشتگردی ۔ وغیرہ“
درست لیکن اس سے بھی بڑھ کر جو مہنگائی کا سبب بھی ہے اور دہشتگردی کا بھی
آج تک پرویز مشرف اور دیگر پاکستانی رہنما امریکا کے ساتھ ڈرون حملوں کے کسی معاہدے سے انکار کرتے رہے ہیں اور ان کا موقف رہا ہے کہ یہ حملے ان کی اجازت کے بغیر ہورہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں سابق صدر اور سابق جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ حکومت نے امریکا کو ایسے حملوں کی اجازت دی جن میں ہدف تنہا ہو اور بڑی تباہی کا امکان نہ ہو، حملوں سے قبل فوج اور خفیہ ایجنسیوں سے مشاورت کے بعد صرف ایسی صورتحال میں امریکی جاسوس طیاروں کو حملے کی اجازت دی گئی جب خود پاکستانی فورسزکے پاس کارروائی کا وقت نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا دویا تین بار ہی ہوا کیونکہ اس وقت صورتحال بہت نازک اور فوری کارروائی ناگزیر تھی ۔
پرویز مشرف نے اعتراف کیا کہ 2004 میں نیک محمدکو ڈرون حملے میں ہی ہلاک کیاگیا تھا
امریکا کے ذرائع ابلاغ میں امریکی اہلکاروں کے بیان کئی بار آ چکے ہیں کہ ڈرون حملے حکومت پاکستان کی اجازت سے ہو رہے ہیں اور یہ بھی اخبارات میں چھپ چکا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے واقعہ تک ڈرون پاکستان کے ہی ملٹری اڈوں سے اُڑتے تھے
نیک محمد وہ شخص ہے جس کے ساتھ پاکستان آرمی نے بذریعہ کور کمانڈر پشاور (غالباً لیفٹننٹ جنرل صفدر حسین) امن معاہدہ کیا جس کے بعد نیک محمد بے فکر ہو کر اپنے کسی عزیز کے ہاں کسی کی وفات پر فاتحہ کہنے گیا تو ڈرون حملہ کر کے چھ سات انسانوں کو شہید کیا گیا جن میں نیک محمد اور اس گھر کی خواتین شامل تھیں ۔ دوسرا ڈرون حملہ ایک مدرسہ پر ہوا جس میں 80 کے قریب لوگ شہید ہوئے جن میں 69 طالب علم تھے ۔ ان واقعات کے بعد قبائلیوں میں اشتعال پیدا ہوا اور وہ حکومت پاکستان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ اس سے قبل قبائلی صرف امریکا اور اس کے مددگاروں پر حملے کرتے تھے
یہاں کلک کر کے دیکھیئے کہ 2004ء سے اب تک کتنے ڈرون حملے ہوئے اور ان میں بے قصور شہریوں اور معصوم بچوں کی تعداد کتنی زیادہ ہے
اگر زیادہ وقت دے سکتے ہوں تو یہاں کلک کر کے تفصیل پڑھیئے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے
چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ ازدواج
دولت ۔ کار ۔ کوٹھی سے بیوی کو کچھ خوشی تو مل جاتی ہے لیکن سکون نہیں
باہمی احترام اور مفاہمت سے بیوی محبت کا احساس پاتی ہے اور اسے سکون ملتا ہے
یہی اصول بیوی پر خاوند کیلئے منطبق ہوتا ہے صرف ”دولت کار کوٹھی“ کی جگہ ”حُسن اور جنسی خواہش“ لے لیتے ہیں
نظریہ پاکستان پر بحث کیوں ؟
اگرچہ پاکستان کے اسلامی نظریئے کے متعلق ابہام پیدا کئے جا رہے ہیں لیکن 1972ء میں کسی اور نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ نے واضح کردیا تھا کہ پاکستان کا اسلامی نظریہ 7 مارچ 1949ء کی قرار داد مقاصد کا جزو ہے اور یہی قرارداد ہمارے آئین کا اہم حصہ ہے
عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب کے فیصلے میں اس وقت کے چیف جسٹس حمود الرحمن اور دیگر ججوں بشمول جسٹس محمد یعقوب علی، جسٹس سجاد احمد، جسٹس وحید الدین احمد اور جسٹس صلاح الدین احمد پر مشتمل سپریم کورٹ بینچ نے فیصلہ سنایا تھا کہ
”پاکستان کی زمینی اقدار اس کے اپنے نظریئے میں موجود ہے کہ صرف اللہ تبارک و تعالٰی ہی پوری کائنات کا بلا شرکتِ غیرے حاکمِ مُطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے ۔ یہ ایک نا قابل تبدیل اقدار ہے جسے 7 مارچ 1949ء کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے واضح طور پر قرارداد مقاصد میں منظور کیا تھا“۔
فیصلے میں اس بات کا اقرار کیا گیا تھا کہ ”ریاست پاکستان دائمی اسلامی نظریئے کے تحت قائم ہوئی تھی اور اس ریاست کے امور انہی اصولوں کے تحت چلائے جائیں گے تاوقتیکہ (خدانخواستہ) پاکستان کا ڈھانچہ از سر نو غیر اسلامی طریقہ کار کے تحت تعمیر کیا جائے، جس کا مطلب ہے اصل تصور کی مکمل تباہی“۔
اس میں مزید کہا گیا تھا کہ ”قرارداد مقاصد صرف ایک روایتی حوالہ نہیں ہے ۔ اس میں پاکستان کی آئینی اور بنیادی اقدار کی روح شامل ہے“۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ کسی بھی صورت میں بنیادی اقدار لازمی ہیں، اس کی کھوج کیلئے پاکستان کو مغربی قانونی نظریہ کار کی جانب نہیں بلکہ قرارداد مقاصد کی جانب دیکھنے کی ضرورت ہے
سپریم کورٹ نے یہ بھی فیصلہ دیا تھا کہ ”اسلامی اصول قانون میں، حاکم اعلٰی کی خواہش، چاہے وہ بادشاہ ہو، صدر یا پھر چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، قانون کا ذریعہ نہیں ہے“۔
تحریر ۔ انصار عباسی
ایک خواہش
شاعر نے کہا تھا
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
دم نکلنا تو بہت بڑی بات ہے میں نے کبھی ایسی خواہش کی ہی نہیں کہ جس کے پورا ہونے میں کوئی اور فرد شامل ہو ۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ میرے بزرگوں کی تربیت کا اثر ہے یا کہ میرے اساتذہ کی تعلیم کا یا دونوں کا کہ میرے دل و دماغ میں زیادہ تر ایک خواہش ہی رہی ہے جو اُس وقت پیدا ہوئی جب میں چھٹی جماعت (اواخر 1948ء) میں پڑھتا تھا ۔ اس خواہش کے سبب مجھے کبھی ذہنی اور کبھی مالی زک اُٹھانا پڑی ۔ اس کے باوجود یہ خواہش الحمدللہ بدرجہ اتم موجود رہی اور اب تک قائم ہے
اس خواہش کو بیان کرنے کیلئے مجھے دو دہائیاں قبل مناسب زبان مل گئی اور میں نے اِسے جلی حروف میں لکھ کر اپنے مطالعہ کے کمرے میں نمایاں جگہ پر لگا دیا ۔ آتے جاتے نہ صرف میری نظر اس پر پڑتی بلکہ جو بھی اس کمرے میں داخل ہوتا اُس کی نظر اس پر پڑتی
ہم جولائی 2009ء میں لاہور چلے گئے اور فروری 2011ء میں واپس آئے ۔ مجھے شدید کالا یرکان (Hepatitis C) ہو جانے کی وجہ سے میں جون 2011ء تک زیرِ علاج رہا ۔ قبل ازیں 28 ستمبر 2010ء کو سر پر شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے میرا حافظہ بگڑ چکا تھا چنانچہ جب میں اپنے مطالعہ کے کمرہ میں گیا تو مجھے یاد نہ تھا کہ میں نے کوئی کاغذ الماری کے شیشہ پر چپکایا تھا ۔ خواہش باقی تھی لیکن وہ کاغذ الماری کے شیشے اور میرے ذہن دونوں سے غائب ہو چکا تھا
سردیوں سے قبل میں الماری میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا کہ وہ کاغذ مجھے ملا ۔ میں نے سنبھال کر رکھا کہ اسے نئے کاغذ پر لکھ کر لگانا ہے ۔ حافظہ نے پھر ساتھ نہ دیا ۔ اب مجھے کچھ اور تلاش کرتے ملا تو میں نے اپنے بلاگ پر محفوظ کرنے کا سوچا
میری خواہش
اے خدا جذبہءِ اِیثار عطا کر ہم کو
جو گُفتار ہے وہ کردار عطا کر ہم کو
زندگی اِک نعمتِ رَبّانی ہے
آؤ اِس کی کچھ تعظیم کریں
اسے تھوڑا تھوڑا دوسروں میں تقسیم کریں
چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ غَلَطی
کوئی شخص ایک ہی غَلَطی دو بار نہیں کرتا
کیونکہ
دوسری بار غلطی نہیں ہوتی بلکہ انتخاب ہوتا ہے
اب بھی سنبھل جائیں تو سب کچھ درست ہو سکتا ہے
عقلمندی کا ثبوت دیجئے اور 11 مئی کو ہونے والے قومی اور صوبائی انتخابات میں پچھلی غلطی نہ دہراتے ہوئے اور ذاتی رنجشوں اور ذاتی مفاد سے مبرّا ہو کر صرف مُلک کی بہتری کیلئے ایسے اُمیدواروں کو ووٹ دیجئے جنہوں نے آپ کی اپنی نظر میں پچھلے کم از کم 5 سال میں دیانتدار ہونے کا ثبوت دیا ہو اور قوم کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں

