طرزِ عمل

جنگ ہمیشہ آدمیوں کے درمیان ہوتی ہے ۔ جذبے یا تصوّر کو نہ تو ہلاک کیا جا سکتا ہے اور نہ یرغمال بنایا جا سکتا ہے

مُشکل دور عقدہ کُشائی مانگتا ہے نہ کہ نہ ختم ہونے والی مُشکلات کی تکرار

جو یقین رکھے کہ وہ بچ نہیں سکتا ۔ عام طور پر نہیں بچتا

کیا نیکی ابھی بھی زندہ ہے ؟

آدمی کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے واقعات ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی اور لمحہ بھر کیلئے ہوتے ہیں مگر یاد رہ جاتے ہیں

واقعہ
دس بارہ سال قبل میں اور چھوٹا بھائی راولپنڈی میں کچھ سودا سلف لینے گئے ۔ پرانی سبزی منڈی کے باہر بازار تلواڑاں میں ہم نے کار کھڑی کی اور پرانی سبزی منڈی میں داخل ہوئے ۔ ہم جا رہے تھے کہ ایک کار پیچھے سے آئی ۔ سب حیران ہو کر دیکھ رہے تھے کہ کار کیوں اس بھیڑ والے بازار میں آئی ہے ۔ چھابڑی والوں کو مشکل پڑی تھی ۔ چلانے والا نوجوان تھا اور گو آہستہ مگر کار کو دھنساتا ہی چلا جا رہا تھا ۔ میں ایک دم ایک طرف ہوا مگر اس نے خیال نہ کیا اور پہیہ میری ٹانگ سے ٹکرایا ۔ دوسری طرف چھابڑی تھی جس سے میری ٹانگ زخمی ہو گئی ۔ میں ٹانگ کو دیکھ رہا تھا کہ نوجوان نے کار کا شیشہ کھول کر کہا “اندھے ہو ۔ نظر نہیں آتا”۔ میں نے اس کے گال پر تھپڑ جڑ دیا ۔ کچھ دیر بعد ایک سفید ڈاڑھی والے صاحب نے آ میرا راستہ روکا اور بولے ” تم کون ہوتے ہو میرے بیٹے کو تھپڑ مارنے والے ۔ میں تمہیں مزا چکھاتا ہوں”۔ میرا بھائی بیچ میں آ گیا ۔ کچھ لوگ جوشاہد تھے وہ بھی بیچ میں آ گئے تو میں بچ گیا

وہاں سے ہم دوسرے بازار میں چلے گئے اور ایک دکان سے خریداری کر رہے تھے کہ وہی سفید داڑھی والے صاحب آئے اور معافی مانگتے ہوئے بولے ” مجھ سے غلطی ہوئی ۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے بیٹے کی گاڑی نے آپ کو ٹکر ماری تھی ۔ میں نے بیٹے سے پوچھا کہ ” اُنہوں نے تمہیں کیوں تھپڑ مارا ؟ تواس نے بتایا ۔ مجھے معاف کر دیجئے ۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا”۔

واپسی پر ہم دونوں بھائی کہہ رہے تھے کہ نیکی ابھی زندہ ہے

اُلجھن سے نکلیئے

آزادی کا مطلب جو چاہو سو کرو نہیں ہے ۔ آزادی کا مطلب دستِ نگر نہ ہونا ہے

ایک حکومت بننے سے آزادی کی ضمانت نہیں مل جاتی اور نہ ہی کوئی بہتری از خود آتی ہے ۔ بہتری کیلئے خلوصِ نیت سے لگاتار محنت ضروری ہے

کسی کو قصور وار ٹھہرانے کا فیصلہ اور مسئلے کا حل ایک ہی چیز نہیں ہیں ۔ مسئلے کا حل اپنے بہتر عمل اور دوسروں کی بہتری کی طرف مدد میں ہے

ہم قوم کو سُست ۔ بیوقوف یا کرپٹ ہونے پر بُرا کہتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم خود بھی اس میں شامل ہیں

برادری نظام ۔ دوسری اور آخری قسط

پہلی قسط 24 مئی 2013ء کو لکھی تھی
میرے دادا کے دور میں دو بہت کٹھن معاملات بطور چوہدری اُن کے سامنے آئے ۔ ایک بھتیجی کی طلاق اور ایک دوسری بھتیجی کی شادی کا ۔ پہلی بھتیجی کی شادی ہونے کے بعد اس کا خاوند گھر سے بھاگ گیا اور کچھ دن بعد اس کا خط اس کے سسرال میں موصول ہوا کہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کو ہمیشہ اپنی بہن سمجھتا رہا اسلئے اُسے اپنی بیوی نہیں سمجھ سکتا اور اسے طلاق دے رہا ہے ۔ پنچائت بلائی گئی جس میں فیصلہ ہوا کہ لڑکے کے والدین کا تین ماہ کیلئے حقہ پانی بند کیا جائے اور تین ماہ ختم ہونے سے پہلے وہ مطلقہ لڑکی کی شادی کا مناسب بندوبست کریں ورنہ اُنہیں برادری سے نکال دیا جائے گا ۔ یہ واقعہ میرے والد صاحب کی طالب علمی کے زمانہ کا ہے

میرے نانا کے تین بھائی اور ایک بہن تھی جو میری دادی تھیں ۔ جب میری والدہ پیدا ہوئیں تو میری دادی نے اپنے اکلوتے بیٹے کیلئے اپنی بھتیجی کو چُن لیا ۔ جب میرے والد نے میٹرک کرنے کے بعد میرے دادا کا کاروبار سنبھالا تو میرے دادا کی بھابھی نے اپنے خاوند کو کہا کہ اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے کرو ۔ میرے دادا سے بات کرنے پر اُنہیں معلوم ہوا کہ میری دادی اپنے بیٹے کا رشتہ اپنی بھتیجی سے طے کر چکی ہے ۔ اس پر میرے دادا کے بھائی جو میرے دادا سے بڑے تھے نے کہا کہ ہمارے فلاں رشتہ دار کے بیٹے کا کاروبار بھی اچھا چل رہا ہے وہ لوگ تمہاری بات مان لیں گے ۔ تم اس لڑکے کے ساتھ میری بیٹی کا رشتہ طے کرا دو جو کہ میرے دادا نے کرا دیا ۔

متذکرہ بالا لڑکے کی ماں جس نے دوسری بھتیجی کو طلاق دی تھی اور دادا نے جس بھتیجی کی شادی کرائی اس کی ماں آپس میں بہنیں تھیں ۔ اُن کے خاندان نے میرے دادا کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ۔ صحت کے علاوہ میرے دادا کی سُبکدوشی کی وجہ یہ تھی

برادری نظام میں کبھی کبھی دلچسپ واقعات بھی ہوتے ۔ جب میرے دادا نے چوہدری کی ذمہ داری سے سُبکدوشی اختیار کی تو جس شخص کو چوہدری بنایا گیا وہ متذکرہ بالا طلاق دینے والے لڑکے کا چھوٹا بھائی تھا کیونکہ میرے دادا سے پہلے اُن کے والد برادری کے چوہدری تھے اور اُن کے عزیز و اقارب ہی میرے دادا کے خلاف شور کئے ہوئے تھے ۔ وہ اُنہی دنوں سوڈان میں اپنا کارو بار اپنے بڑے بیٹے کے حوالے کر کے وطن واپس آئے تھے ۔۔ یہ واقعہ پاکستان بننے سے چند سال پہلے کا ہے ۔ بہرکیف چوہدری بننے کے بعد بھی وہ اپنے قریبی عزیزوں کو درست نہ کر سکے

غلط پروپیگنڈہ کی وجہ سے اُن کے خاندان کے ساتھ ہمارے خاندان کی بول چال بند ہو گئی ۔ کچھ سال بعد شائد 1950ء کی بات ہے اُنہوں نے کسی ذریعہ سے والد صاحب کو مع بیوی بچوں کے اپنے گھر ضیافت پر بُلوایا ۔ جب ہم سب کھانا کھا چکے تو انہوں نے اپنی پگڑی اُتار کر میرے والد صاحب کے سر پر رکھ دی اور کہا “بھائی ۔ یہ پگڑی آپ ہی کے سر پر اچھی لگتی ہے ۔ آپ یہ ذمہ داری سنبھالیں ۔ مجھے حالات معلوم نہ تھے ۔ آپ لوگ سچے ہیں اور میرے خاندان والے جھوٹے ۔ انہوں نے مجھے بہکا دیا تھا”۔

میں جب انجنیئرنگ کالج میں فرسٹ ایئر میں تھا تو جن صاحب نے چوہدری کی پگڑی میرے والد کے سر پر رکھی تھی اُن کی پوتی کی شادی ہونا تھی ۔ اُنہوں نے میرے والد صاحب سے کہا کہ آ کر سارا بندوبست کریں ۔ اُن دنوں والد صاحب کی صحت ٹھیک نہ تھی سو اُنہوں نے معذرت کی ۔ انہوں نے کہا “اجمل کو بھیج دیں” ۔ والد صاحب نے کہا “اجمل ابھی بچہ ہے” تو اُنہوں نے کہا “جس کا دادا برادری کا بہترین چوہدری تھا اور باپ بھی چوہدری ہے وہ انتظام اچھا کر سکتا ہے ۔ آگے دو چھٹیاں اکٹھی آ رہی ہیں ۔ ہم اس کی سہولت کی خاطر شادی ان چھٹیوں میں رکھ دیتے ہیں”۔ والد صاحب نے حُکمنامہ جاری کر دیا اور مجھے وہاں اپنے انتظامی جوہر دکھانا پڑے لیکن میری کامیابی کا سبب وہ بزرگ ہی تھے

انگریز حُکمرانوں کی سازش اور مادہ پرستی کی وجہ سے برادری نظام میں خودغرضی عود آئی اور یہ نظام بدنام ہو گیا ۔ اس کے باوجود اگر یہ نظام بحال رہتا تو فعال بن سکتا تھا ۔ لیکن جدیدیت کے شوق نے جوانوں کو غلط راستے پر دھکیل دیا اور یہ نظام عملی طور پر ختم ہو گیا گو کہ برائے نام برادریاں ابھی چل رہی ہیں ۔ بہت سے جدیدیت کے پرستار راہی ءِ مُلکِ عدم ہو چکے ہیں جو باقی ہیں وہ اب صرف سُہانے وقتوں کی کہانیاں سُنا کر شائد اپنے دل کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں

ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو برادری نظام ایک فطری نظام تھا اور دین سے بھی اس کی قربت تھی جس کا اشارہ قرآن شریف میں ملتا ہے

سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت ۔ 35 اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو اللہ ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت ۔ 59مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب امر ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں اللہ اور اس کے رسول [کے حکم] کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی اچھا ہے

مسلمان کا مطلب کیا ہے ؟

دو پاکستانی لڑکیاں ریحانہ کوثر اور ثوبیہ کمار حصول تعلیم کی غرض سے برطانیہ گئی تھیں
ریحانہ کوثر اور ثوبیہ کمار جن کی عمریں اب بالترتیب 34 سال اور 29 سال ہیں نے چند ہفتے قبل لیڈز (برطانیہ) میں سول پارٹنر شپ رجسٹرڈ کرالی یعنی ہم جنس شادی رچا لی
اخبار کے مطابق وہ برطانیہ میں شادی کے بندھن میں بندھ جانے والی پہلی مسلمان ہم جنس پرست خواتین بن گئیں
ریحانہ کوثر اور ثوبیہ کمار نے حکومتِ برطانیہ کو پناہ (Asylum) کیلئے درخواست دیتے ہوئے کہا ہے کہ
”پاکستان واپسی پر ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے“۔
مزید ریحانہ کوثر کا کہنا ہے کہ اس ملک (برطانیہ) نے ہمیں ہمارا حق دیا اور ہم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی ذاتی ہے ہم نجی زندگی میں کیا کرتے ہیں کسی اور کو اس میں مداخلت کا حق نہیں

عرضِ بلاگر
میرا پہلا سوال یہ ہے کہ ان عورتوں کو مسلمان کس بنا پر کہا گیا ؟

اگر بنیاد نام ہے تو ایک لڑکی کے نام کے ساتھ ”کمار“ لکھا ہے جو ہندوؤں کا نام ہے چناچہ وہ غیر مُسلم ہو سکتی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ عرب ۔ افریقہ ۔ امریکہ اور یورپ میں بھی ایسے غیر مُسلم بستے ہیں جن کے نام مسلمانوں جیسے ہیں ۔ بارک حسین اوبامہ کو ہی لے لیجئے

فرض کیجئے کہ وہ مسلمان والدین کے گھروں میں پیدا ہوئیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ مسلمان کا بچہ بھی مسلمان ہو ؟
سیّدنا نوح علیہ السلام اور طوفان میں غرق ہونے والے اُن کے بیٹے کی مثال ہمارے سامنے ہے

میرے مطالعے اور تجربے کے مطابق مسلمان یا مُسلم اُسے کہا جاتا ہے جو اللہ کا مُسلم یعنی تابع ہو اور جو اللہ کے چند بڑے احکام میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی کرے اور توبہ نہ کرے یا اس کی تکرار کرے وہ مسلمان نہیں ہوتا
ان عورتوں نے جس عمل کی بنیاد ڈالی ہے اس بناء پر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے سیّدنا لوط علیہ السلام کی پوری قوم کو نیست و نابود کر دیا تھا ۔ ان میں سیّدنا لوط علیہ السلام کی بیوی بھی شامل تھی جس نے ایسے لوگوں کی صرف حمائت کی تھی

جب یہ عورتیں مسلمان ہی نہیں تو کسی مسلمان کو حق نہیں پہنچتا کہ اُن کے معاملات میں مداخلت کرے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کردار

بند کمرے میں ہوں تو
جس طرح چھوٹے چھوٹے سوراخوں میں سے آتی سورج کی کِرنیں سورج کے مزاج کا پتا دیتی ہیں

اسی طرح انسان کی چھوٹی چھوٹی باتیں اُس کے کردار کو عیاں کرتی ہیں

اپنے کہے الفاظ اور حرکات جنہیں آپ معمولی سمجھتے ہیں اِن پر نظر رکھیئے یہی آپ کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں

برادری ۔ چوہدری ۔ پنچائت ۔ خُوبیاں اور خامیاں

برادری نظام افریقہ اور ایشیا کا قدیم معاشرتی نظام تھا ۔ انگریز جہاں بھی پہنچا اُس نے اسے سب سے پہلے نشانہ بنایا کیونکہ اُن کے اجارہ داری نظام کی راہ میں یہ نظام ایک بڑی رکاوٹ تھا ۔ ہندوستان میں عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے برادری نظام کے مقابلے میں اُنہوں نے لمبرداری یا نمبرداری نظام تشکیل دیا جس میں لمبردار یا نمبردار برطانوی حکومت کا نمائندہ ہوتا تھا اور اُسے عوام کو لوٹنے اور تنگ کرنے کے کئی اختیارات سونپے گئے تھے ۔ اس مصنوعی نظام نے برادری نظام کو کمزور کرنے میں اور برادریاں توڑنے اور ہندوستان پر انگریزوں کی گرفت مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ انگریز کے بنائے نظام میں بھی ایک چوہدری ہوتا تھا جو برادری کا قابلِ احترام بزرگ ہونے کی بجائے انگریز کا پِٹھو جاگیردار ہوتا تھا جسے اپنی قوم سے غداری کے عوض جاگیر ملی ہوتی تھی

نئی اچھی چیزیں اپنانا انسانی بہتری کیلئے لازم ہے لیکن یہ رویہ بھی غلط ہے کہ جدیدیت کو اپناتے ہوئے اپنے قدیم اچھے اوصاف سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے ۔ برادری نظام جس میں عدالت کا کام پنچائت کرتی تھی اپنی کمزور ترین حالت میں آدھی صدی قبل تک رائج تھا ۔ یہ نظام گو اپنی خُوبیوں میں سے اکثر کھو چکا تھا پھر بھی موجودہ انگریزی نما آدھا تیتر آدھا بٹیر نظام سے بدرجہا بہتر تھا ۔ میں صرف اپنے خاندان کے برادری نظام کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں جو کہ اب مرحوم ہو چکا ہے

ہماری برادری دوسری برادریوں سے ایک لحاظ سے مختلف تھی کہ اس میں اپنے ہی خاندان میں شادی کرنے کی پابندی نہ تھی البتہ ترجیح ضرور تھی ۔ جس دوسرے خاندان میں شادی ہوتی اُسے اُن کی رضامندی سے اپنی برادری میں شامل کر لیا جاتا ۔ جہاں تک میرا خیال ہے کہ اس سوچ کے نتیجہ میں ہماری برادری کا بہت زیادہ پھیل جانا بھی اس برادری نظام کے خاتمہ کی دو بڑی وجوہات میں سے ایک ہے ۔ دوسری بڑی وجہ جدیدیت کا بخار ہے جس نے 1950ء کی دہائی میں جوان ہونے والی نسل کو خودسر بنا دیا تھا

برادری کا ایک چوہدری ہوتا تھا جسے برادری کے بزرگ چُنتے اور وہ اُس وقت تک چوہدری رہتا جب تک وہ صحت یا کسی اور خاص وجہ سے معذوری ظاہر نہ کرتا ۔ چوہدری کے خلاف کوئی بڑی شکائت ملنے پر پنچائت بُلائی جاتی جس کی صدارت تو چودری ہی کرتا لیکن اسے بولنے کا اختیار صرف اس وقت ہوتا جب پنچائت اسے کسی خاص بات کی وضاحت کرنے کو کہے ۔ اگر چوہدری کے خلاف شکایات بڑھ جاتیں تو چوہدری خود ہی کسی غیرمتنازعہ شخص کو اپنی ذمہ داری سونپ کر الگ ہو جاتا

جو خاندان اپنے باہمی فیصلے نہ کر پاتے وہ چوہدری سے رجوع کرتے اور اگر چوہدری اس کا متفقہ فیصلہ نہ کر پاتا تو معاملہ پنچائت تک پہنچایا جاتا ۔ شادی کی بات پکی کر کے چوہدری کو اطلاع دی جاتی ۔ کچھ لوگ شادی کی بات پکی کرنے سے قبل ہی چوہدری کو اعتماد میں لیتے اور کچھ ایسے بھی ہوتے جو اپنے بیٹے یا بیٹی کا رشتہ طے کرنا چوہدری کے ذمہ کر دیتے ۔ شادی کی تاریخ مقرر ہو جانے پر چوہدری سب مہمانوں کو مطلع کرنے کا ذمہ دار ہوتا یہ کام وہ اس کام کیلئے مقرر ایک خاندان سے کرواتا جس کی کُنیت بھَٹ تھی ۔ کسی کی وفات کی صورت میں بھی بھَٹ کو اطلاع دی جاتی جو گھر گھر جا کر وفات کی اطلاع کے ساتھ نماز جنازہ کے وقت اور دفن کی جگہ کی اطلاع دیتا ۔ اس کے علاوہ بھی سب اجتماعی ۔ معاشرتی اور انفرادی مسائل میں چوہدری سے مشورہ کیا جاتا اور اہم معاملات میں پنچائت بُلائی جاتی ۔ چوہدری گاہے بگاہے اپنے انفرادی طور پر کئے ہوئے فیصلوں پر پنچائت کو اعتماد میں لیتا رہتا ۔ چوہدری کسی بھی صورت مطلق العنان نہیں تھا

شادی کسی کی بھی ہو اس کا منتظمِ اعلٰی چوہدری ہی کو سمجھا جاتا تھا ۔ چوہدری جس کو اس شادی کا منتظم نامزد کر دیتا سب لوگ بالخصوص نوجوان اُس سے تعاون کرنے اور اُس کا حُکم ماننے کے پابند ہوتے ۔ شادی کے کھانے میں جو برتن استعمال ہوتے تھے وہ برادری کی ملکیت ہوتے تھے اور عام طور پر برادری کے چندے سے خریدے جاتے تھے لیکن کوئی چاہے تو چندے کے علاوہ اپنی جیب سے برتن خرید کر دے سکتا تھا ۔ اگر دُلہن بننے والی لڑکی کے والدین کی مالی حالت کمزور ہو تو چوہدری چُپکے سے برادری کے مخیّر حضرات سے مالی تعاون حاصل کر لیتا ۔ کبھی کبھی کوئی مخیّر شخص پوری برادری کی ضیافت بھی کرتا جسے “برادری کا کٹھ” کا نام دیا جاتا ۔ یہ ایک بہت بڑی ضیافت ہوتی تھی جس کا انتظام سب مل کر کرتے تھے ۔ بعض اوقات کچھ لوگ مل کر بھی برادری کے کٹھ کا خرچ اُٹھاتے تھے

میرے والدین کی شادی سے بھی پہلے میرے دادا کو چوہدری بنایا گیا تھا جبکہ برادری میں کئی بزرگ اُن سے عمر میں بڑے تھے اور اُن کے اپنے تینوں بھائی بھی اُن سے بڑے تھے ۔ اُنہوں نے اپنے دور میں برادری کی اجتماعی ضروریات کے سلسلہ میں اپنی جیب سے بہت خرچ کیا جس نے اُنہیں برادری کے عام لوگوں میں ہر دلعزیز بنا دیا لیکن پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے کچھ پہلے اُنہوں نے اپنی صحت کے حوالے سے ذمہ داریاں کسی اور سونپ دیں

دوسری قسط کچھ دن میں