ہمّت

کہتے ہیں ”ہمّتِ مرداں ۔ مددِ خدا“۔ اور اللہ کا فرمان (سورت 53 النّجم ۔ آیت 39) بلاگ کے بائیں حاشیئے میں درج ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ انسان جس کام کیلئے صبر و تحمل کے ساتھ محنت کرتا ہے اللہ اُسے کامیاب کرتا ہے
اس کی ایک عمدہ عملی مثال جَیسِکا کوکس ہے جیسکا بغیر بازوؤں کے پیدا ہوئی مگر اُس نے وہ کچھ بھی کر دکھایا جو بہت سے بازو رکھنے والے بھی نہیں کر سکتے
جیسکا 25 لفظ فی منٹ کی رفتار سے لکھتی ہے ۔ اپنے بال سوکھا اور بنا لیتی ہے
جیسکا بنباؤ سنگار کر لیتی ہے اور اپنی آنکھ میں کانٹیکٹ لینز بھی لگا لیتی ہے
جیسکا کا قد 155 سینٹی میٹر ہے ۔ وہ 26 سال کی عمر میں جہاز اُڑانے کے 130 گھنٹے پورے کر چکی ہے











کون آگے ؟

کون آگے ؟
مغرب یا مشرق ؟
حساب خود لگایئے

چین میں ایک نیا قانون نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ
وہ اپنے والدین کی ضرورتوں کو پورا کریں
ان کا خیال رکھیں
وہ افراد جو اپنے والدین سے الگ یا دور رہتے ہیں وہ با قاعدگی سے انہیں ملنے جائیں اور فون کال کریں

لاپروائی برتنے پر انہیں جیل بھی بھیجا جاسکتا ہے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ قابلِ غور

کوشش ترک کرنے سے قبل ضرور غور کیجئے

کہ آپ اتنا عرصہ اس کی دُھن میں کیوں لگے رہے

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter“۔ ” گذشتہ ساڑھے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ بالخصوص پڑھیئے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا کیا پھڈا ہے

Important Prepositionاہم حرفِ جار ۔

معاشیات کی کلاس میں طلباء نے مؤقف اختیار کیا کہ قوم صرف گِلرڈ براؤن کے کُلیئے کے مطابق مساوات پر عمل کر کے ترقی کر سکتی ہے

پروفیسر نے اگلے ٹیسٹ میں تمام طلباء کے حاصل کردہ نمبروں کو جمع کر کے طلباء کی تعداد پر تقسیم کر دیا ۔ ہر طالب علم کو گریڈ ”بی“ ملا اور سب پاس ہو گئے ۔ جنہوں نے کم محنت کی تھی وہ خوش ہوئے اور جنہوں نے زیادہ محنت کی تھی وہ پریشان ہوئے

دوسرے ٹیسٹ کیلئے جن طلباء نے کم پڑھا تھا اُنہوں نے اور بھی کم پڑھا اور جنہوں نے پہلے ٹیسٹ کیلئے زیادہ محنت کی تھی اُنہوں نے بھی کم محنت کی ۔ جس کے نتیجہ میں دوسرے ٹیسٹ میں سب کو گریڈ ”ڈی“ ملا جس سے کوئی بھی خوش نہ ہوا

تیسرے ٹیسٹ کی اوسط گریڈ ”ایف“ آیا ۔ نوک جھونک ۔ الزام تراشی حتٰی کہ گالی گلوچ ہوتی رہی مگر کوئی دوسرے کی خاطر محنت کرنے کو تیار نہ ہوا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سالانہ امتحان میں سب طلباء فیل ہو گئے

اس پر پروفیسر نے طلباء کو سمجھایا کہ سوشلزم صرف ایک نعرہ ہے اس پر عمل پیرا ہو کر قوم ترقی نہیں کر سکتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترمات و محترمان ۔ ہوشیار ۔ انتخابات ہو چکے ۔ نئی حکومت بن گئی ۔ مندرجہ ذیل فقرے یاد رکھیئے

1 ۔ حکومت کسی سے لئے بغیر کسی کو کچھ دے نہیں سکتی

2 ۔ ایسا قانون کوئی نہیں جس سے غریبوں کو خوشحالی اور امیروں کو بدحالی عطا کی جائے

3 ۔ محنت کرنے والے سے چھین کر محنت نہ کرنے والے کو دینے سے ترقی نہیں ہو سکتی

4 ۔ دولت ناحق تقسیم کرنے سے بڑھتی نہیں

5 ۔ جب عوام کو سمجھایا جائے کہ تمہیں حصہ سب کے برابر ملے گا تو کام چور سوچیں گے کہ دوسروں کا کمایا اُنہیں ملے گا اور محنت کرنے والے سوچیں گے کہ ان کی محنت کوئی اور چُرا لے گا تو یہ قوم کی تباہی کا پیش خیمہ ہو گا

6 ۔ قوم کی فلاح نعروں اور وعدوں میں نہیں ۔ فلاح اور ترقی کی بنیاد دیانت ۔ محنت اور عدل ہیں

ایک اور جھٹکا

میں نے گذشتہ کل اپنی پریشانی کا اظہار کیا تھا ۔ آج ایک اور واقعہ پڑھ کر میں پریشان ہوں ۔ جب تبدیلی کے علمبراروں کا یہ حال ہے تو بنے گا کیا ؟ آپ بھی پڑھ لیجئے ۔ میں نے اُردو ترجمہ نہیں کیا تاکہ ترجمہ میں ہیرا پھیری نہ ہو جائے

PESHAWAR: Like their predecessors, ministers, special assistants and advisors in the Pakistan Tehreek-e-Insaf-led coalition government have also started taking official cars from their respective departments for the use of their private secretaries and other staff members.

The phenomenon has led to some confusion in several departments as their heads are worried about justifying the expenses for these vehicles. In some cases even designated cars of some high-ranking officials have been taken by the ministers, advisors and special assistants.

One such case happened in the Law Department where the designated car of a senior government pleader has been handed over to the private secretary (PS) of minister of law and parliamentary affairs.

The senior government pleader, Noorullah, on June 25 wrote to the secretary Law (copy of letter is available with The News)

“… the government of Khyber Pakhtunkhwa has arranged the purchase of the vehicle for senior government pleader of the Peshawar Law Department Civil Secretariat vide invoice No. 9131`6887, dated 2013. The vehicle was under my (Noorullah) use for official duties being a senior government pleader Peshawar Law Department since dated 23.4.2013.

According to the rules in vogue I am not drawing conveyance allowance as I have been provided the said vehicle for performing my official duties.

The above mentioned vehicle being designated one and the undersigned is responsible for its maintenance, wear and tear and has plied the said vehicle 5,000 km for official duties. I the undersigned (senior government pleader) being your subordinate officer in Law Department complied with your verbal orders for handing over the aforesaid officially authorized designated car along with the dedicated driver to the PS to law minister for the purpose and duty best known to your good office or worthy law minister.

I am aware of the exigencies of services and discipline or protocol to be followed in letter and spirit in upholding the rule of law and good order, but it is worthwhile to mention here that my office is located at Peshawar Saddar (Cantt area) and being, in charge of the officer, I perform my duties at courts as well as at my office, hence, am facing great inconvenience while performing my daily duties without the vehicle.

To overcome this troublesome situation, it is requested that the designated vehicle of senior government pleader Peshawar may please be made available to the undersigned by taking it back from law minister to enable me to discharge my official duties in efficient manner at the earliest.”

پی پی پی حکومت کا خفیہ خط منظرِ عام پر آ گیا

میں اس سے قبل ”حکمرانوں کی عیاری و مکاری“ کے تحت اپنی تحریر میں گذشتہ حکمرانوں کے قوم کو دھوکا دینے کا ذکر کیا تھا ۔ اس کی تفصیل آج کے اخبار میں آ گئی ہے جو میرے لکھے سے زیادہ گھناؤنی ہے ۔ پڑھنے کیلئے مندرجہ ذیل عنوان پر کلِک کیجئے

پی پی حکومت نے سوئس حکام کو کیس نہ کھولنے کا خفیہ خط لکھا

حکمرانوں کی عیاری و مکاری

کل صبح میں ایک خبر پڑھ کر پریشان تھا کیونکہ ان لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی شامل تھا کہ لوگ جس کی دیانت کے دعویدار ہیں ۔ یہی پریشانی کیا کم تھی کہ عصر کی نماز کے بعد کمپیوٹر چلایا تو ایک اور خبر پڑھنے کو مل گئی

پہلی خبر ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اُن اراکین قومی اسمبلی کو سرکاری رہائش گاہ دینے سے انکار کر دیا ہے جن کے اپنے مکان اسلام آباد یا راولپنڈی میں ہیں ۔ چنانچہ مسلم لیگ ن کے ارکان قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل اور ملک ابرار کو پچھلے دور میں دی گئی سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی ہے اور عمران خان کی طرف سے سرکاری رہائش گاہ کی الاٹمنٹ کیلئے دی گئی درخواست بھی نامنظور کر دی ہے

پریشانی اسلئے ہوئی کہ تحریکِ انصاف کی طرف سے ببانگِ دُہل اعلان کیا گیا تھا کہ عمران خان سمیت تحریکِ انصاف کا کوئی رکن اسمبلی سرکاری رہائش گاہ نہیں لے گا ۔ یہ اعلان عمران خان کی درخواست نامنظور ہونے کے بعد کیا گیا ؟ یا عمران خان نے اپنے ساتھیوں کو دھوکہ دیا ؟

دوسری خبر ۔ چیف جسٹس پا کستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت انکشاف ہوا کہ عدالتِ عظمٰی کی ھدائت کے مطابق سوئس حکام کو 5 نومبر 2012ء کو لکھے گئے خط کے بعد سابق حکومت کی جانب سے ایک اور خط 22 نومبر 2012ء کو لکھا گیا تھا جو سابق سیکریٹری قانون یاسمین عباسی نے تحریر کیا تھا ۔ اس خط میں لکھا گیا تھا کہ صدر زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کا کوئی کیس نہیں ہے اور نہ ہی حکومتِ پاکستان کوئی کیس کھولنا چاہتی ہے اسلئے مقدمہ بند کرکے خط لکھ دیں ۔ اس کے زیرِ اثر سوئس حکام نے 4 فروری کو مقدمات بند کردیئے

یعنی سابقہ حکومت نے نہ صرف عدالتِ عظمٰی بلکہ پوری قوم کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیا ۔ اس جُرم اور گناہ میں صرف زرداری اور یاسمین عباسی ہی نہیں اور لوگ بھی شامل ہوں گے