اگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اگر آپ نے کپڑے پہن رکھے ہیں ۔ آپ کے فرج میں کھانے کو کچھ ہے ۔ آپ کے سر پر چھت اور سونے کو جگہ ہے
تو آپ دنیا کے 75 فیصد لوگوں سے بہتر ہیں

اگر آپ کے بٹوے میں پیسے ہیں اور بنک اکاؤنٹ میں بھی
تو آپ دنیا کے 8 فیصدامیر ترین لوگوں میں سے ہیں

اگر آپ کا اپنا کمپیوٹر ہے
تو آپ کا شمار دنیا کے صرف ایک فیصد لوگوں میں ہوتا ہے

اگر آپ صبح اُٹھے تو بیمار نہیں تھے
تو آپ اُن لاکھوں سے بہتر ہیں جو صحت کو ترس رہے ہیں

اگر آپ نے کسی جنگ کی زِک نہیں اُٹھائی ۔ نہ کبھی قیدِ تنہائی میں رہے ہیں ۔ نہ کبھی اذیت سہی ہے ۔ نہ کبھی فاقوں سے سامنا ہوا ہے
تو آپ دنیا کے ایک ارب لوگوں سے بہتر ہیں

اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں
تو آپ دنیا کے 2 ارب لوگوں سے زیادہ خوش قسمت ہیں جو ایسا نہیں کر سکتے

تو پھر کیا ؟
اللہ آپ کو خوش اور خوشحال رکھے
لیکن
اپنے خالق و مالک اللہ الرحمٰن الرحیم کا شکر ادا کرتے رہیئے جس نے آپ کو متذکرہ اور دیگر اَن گِنت نعمتیں ادا کی ہیں

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ سیانے کا قول اور حقیقت

کہتے ہیں کسی سیانے نے کہا تھا
1 ۔ اعلٰی دماغ ادراک و فکر کرتے ہیں
2 ۔ درمیانے دماغ واقعات پر بحث کرتے ہیں
3 ۔ چھوٹے دماغ کا موضوعِ بحث لوگ ہوتے ہیں

میں نے زندگی بھر دیکھا کہ اکثر لوگوں کا موضوع زیرِ بحث لوگ ہی ہوتے ہیں
تو
کیا اس کا مطلب لیا جائے کہ اکثر لوگوں کے دماغ چھوٹے ہوتے ہیں ؟

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” I Am Not A Terrorist

میری کہانی ۔ لالٹین اور جاتکو

جی نہیں ۔ یہ وہ کہانی نہیں ۔ نہ تو یہ جیو کہانی ہے اور نہ وہ جس کا گانا محمد رفیع نے 6 دہائیاں قبل گایا تھا بلکہ میری سر گذشت ہے جس سے کچھ اقتباسات پیش کرنے کا آخر ارادہ کر ہی لیا ہے

سن 1948ء میں شاید نومبر یا دسمبر میں ہم نے راولپنڈی جھنگی محلہ کی سرکلر روڈ سے نکلتی ایک گلی میں ایک مکان کی 2 کمروں باورچی خانہ غُسلخانہ اور بڑے سے صحن پر مُشتمل پہلی منزل کرایہ پر لی ۔ دوسری منزل میں مالک مکان ۔ اُس کی بیوی اور والدہ ررہتے تھے ۔ گھر بالکل نیا بنا تھا لیکن گھر میں نہ پانی تھا نہ بجلی ۔ مالک مکان نے اپنا بندوبست کرنے تک ایک لالٹین عنائت کی جو ہم بچوں نے پہلی بار دیکھی تھی ۔ میرا سوا سالہ بھائی رونے لگا تو والدہ محترمہ نے لالٹین کمرے میں لانے کو کہا ۔ میں جو لالٹین اُٹھا کر چلا تو اُس کا شعلہ پھپ پھپ کی آواز کے ساتھ اُچھلنے لگا اور کمرے میں پہچنے تک لالٹین بُجھ گئی ۔ میری پھوپھو جی جو بیوہ تھیں اور ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں نے لالٹین جلا کر دی مگر پھپ پھپ کرتی پھر بُجھ گئی ۔ پھوپھو جی جلاتیں اور وہ پھر بُجھ جاتی ۔ یہ عمل بڑوں کیلئے تو شاید پریشانی کا باعث ہوا ہو لیکن میں ۔ میری بہن اور ایک 8 سالہ بھائی ہنس ہنس کر بے حال ہو گئے ۔ اگلی صبح پھوپھو جی لالٹیں دوسری منزل پر لے گئیں تو مالک مکان کی والدہ نے درست کر دی اور بتایا کہ آرام سے لالٹین اُٹھائیں ورنہ تیل اُوپر موہرے میں چڑھ جاتا ہے تو پھپ پھپ کرتی ہے

ہم 2 بھائیوں کو چھوٹی چھوٹی بالٹیاں خرید دی گئیں کہ روزانہ گلی کے نلکے سے پانی بھر کر لایا کریں ۔ پہلے میں نلکا کھول کر بالٹی میں پانی بھرتا پھر چھوٹا بھائی بالٹی بھر کے نلکا بند کرتا ۔ ایک دن بھائی نلکا کھُلا چھوڑ آیا ۔ جب ہم دوبارہ پانی لینے گئے تو ایک عورت بولی ”جاتکو ۔ ٹُوٹی کھُلی کیئوں چھوڑ وَینے او“۔ ہم نے گھر جا کے کہا کہ ”ایک عورت نے ہمیں ڈانٹا ہے اور گالیاں دی ہیں ۔ اب ہم پانی لینے نہیں جائیں گے“۔ اگلے روز ہماری پھوپھو نے ملک مکان کی والدہ سے ذکر کیا تو اُنہوں نے بتایا کہ اس کا مطلب ہے ”بچو ۔ نلکا کھُلا کیوں چھوڑ دیتے ہو“۔

لو اور سُنو

یہ تو سُنا تھا کہ مُجرم کی بجائے کسی دوسرے کو مُجرم کہہ کر پکڑ لیا مگر یہ پہلے کبھی نہ سُنا تھا

کراچی میں امن وامان سے متعلق اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کے سامنے سیکریٹری داخلہ سندھ نے انکشاف کیا کہ سندھ کی جیلوں میں 41 جعلی قیدیوں کی نشاندہی ہوئی ہے ۔ یہ قیدی کسی دوسرے افراد کی جگہ بند کئے گئے ۔ جعلی قیدیوں کی نشاندہی نادرا کے ریکارڈ کے ذریعے ہوئی

ذرا غور کیجیئے

تین روز قبل ساجد صاحب نے ایک تحریر ”اچھا باجی“ کے عنوان سے لکھی تھی ۔ اب اسی تصوریر کا ایک اور رُخ دیکھئیے
اپنے کمپیوٹر کے سپیکر آن کر دیجئے پھر یہاں کلک کر کے وڈیو دیکھیئے اور سر دھنیئے
کیا ایسے ”ساب“ لوگ ہمارے ملک میں اب کچھ زیادہ نہیں ہو گئے ؟

حسبِ حال

مرزا اسداللہ غالب گو عشق ميں غرق رہے ليکن بسا اقات بڑی سدا بہار بات کہہ گئے جو آج بھی ويسی ہی تر و تازہ ہے جيسی مرزا اسداللہ غالب کے دور ميں تھی

قوم کی عام حالت

عمر بھر ہم يونہی غلطی کرتے رہے غالب
دھول چہرے پہ تھی اور ہم آئينہ صاف کرتے رہے

اور يہ تو جاپتا ہے کہ شايد ميرے جيسوں کے متعلق کہہ گئے تھے

پتھر ہی لگیں گے تجھے ہر سمت سے آ کر
یہ جھوٹ کی دنیا ہے یہاں سچ نہ کہا کر

اب روتا ہے کیا تجھ سے کئی بار کہا تھا
حالات کے دھارے کے مخالف نہ بہا کر

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کمال

کمال یہ نہیں
کہ دوسروں کو بدلنے کی تلقین کرتے رہیں

کمال یہ ہے کہ
اپنے رنگ کو قائم رکھتے ہوئے،
قابلِ تقلید مثال بن کر،
دوسروں کی زندگیاں روشن کی جائیں

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ سوا 9 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔
بالخصوص یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” The Real Threat to Peace