Category Archives: سیاست

غزہ میں بہتا خون کیا کہتا ہے

اتنا تو ارزاں نہ تھا مسلماں کا لہو
آج جو ہر طرف وحشیانہ طریقہ سے مسلمانوں کے لہو سے خوفناک ہولی کھیلی جا رہی ہے اور بلاتمیز مرد یا عورت ۔ جوان یا بوڑھے یا بچے مسلمانوں کے جسموں کے چیتھڑے اُڑائے جا رہے ہیں اس کا بنیادی سبب تو ازل سے طاغوتی طاقتوں کا اللہ کے نام لیواؤں سے عناد ہے لیکن ان اللہ کے دشمنوں کے حوصلے بلند ہونے کی وجہ آج کے دور کے مسلمانوں کی اپنے دین سے دُوری ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے اللہ سے ڈرنے اور اللہ ہی سے مدد مانگنے کی بجائے طاغوتی طاقتوں سے ڈرنا اور مدد مانگنا شروع کر دیا ہے [نیچے غزہ میں اسرائیلی دہشتگری کی جھلکیاں]

خود کو انسانیت پرستار اور مسلمانوں کو دہشتگرد کہنے والا امریکہ فلسطین میں اسرائیل کے روا رکھے ہوئے قتلِ عام کے متعلق کیا کہتا ہے ۔ نیچے پڑھیئے ۔ اگر اب بھی مسلمانوں خصوصاً حکمرانوں کو ہوش نہ آیا تو پھر مسلمانوں کو اپنی تباہی کیلئے تیار ہو جانا چاہیئے

امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ تمام فریقین حماس پر زور دیں کہ وہ اسرائیل پر حملے روک دے۔ غزہ کی صورتحال پر پہلے بیان میں صدر بش کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسمگل کئے گئے ہتھیاروں کی مانیٹر نگ تک جنگ بندی کا معاہدہ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی جنگ بندی قبول نہیں جس میں اسرائیل پر راکٹ حملے جاری رہیں۔صدر بش کا کہنا تھا کہ حماس کے حملے دہشتگردی ہیں۔صدر بش نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر حملے روکنے کیلئے دباؤ ڈالیں

وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکرٹری گورڈن جونڈرو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ چاہے فضائی حملہ کرے یا زمینی لیکن اس دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ اسرائیل نے غزہ پر زمینی حملے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں فوجی جمع کرلیے ہیں۔ ادھر امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ امریکا غزہ میں ایک ایسے سیزفائر کی کوشش کر رہا ہے جس کے بعد حماس غزہ سے باہر راکٹ حملے کرنے کے قابل نہ رہے۔

اگر پاکستانی مسلمانوں کا بھی حال ایسا ہی رہا جیسا ہے تو جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہی یا اُس سے بھی بھیانک حال پاکستان کا ہو سکتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ اس کی منصوبہ بندی کے بعد اس پر عمل شروع ہو چکا ہے ۔ اِبتداء امریکہ کے حُکم پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوجی کاروائی کر کے 1000 کے قریب بیگناہ انسانوں جن میں 600 سے زائد کم سٍن یتیم اور لاوارث بچیاں شامل تھیں کی ہلاکت سے ہوئی ۔ اسکے بعد امریکہ کے پاکستان کو کمزور کرنے کے منصوبہ کے تحت پاکستانی حکومت نے قبائلی علاقہ میں اپنی فوج کو اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرنے پر لگا رکھا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کی معیشت انتہائی کمزور ہو چکی ہے ۔ پھر بھی امریکہ کی طرف سے “ڈُو مَور” ہو رہا ہے ۔ اور اب امریکہ کی شہہ پر بھارت بھی اس راگ میں شامل ہو گیا ہے

مکمل تباہی سے بچنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ خودغرضیوں کو چھوڑ کر قومی بہتری کیلئے جد و جہد کی جائے ۔پاکستانی مسلمان اپنی بقاء اور اپنے اور اپنی آنے والی نسل کیلئے باعزت زندگی کی خواہش رکھتے ہیں تو ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی غلطیوں پر پشیمان ہو کر اپنے پیدا کرنے والے جو اس کائنات کا خالق و مالک ہے اور اس کے نظام کو چلا رہا ہے سے اپنی ماضی کی غلطیوں کی معافی مانگیں اور آئیندہ اللہ کی ہدائت کے مطابق چلنے کی سچے دل سے بھرپور کوشش کریں ۔ انسانوں سے جو کہ ہمیشہ رہنے والے نہیں ہیں ڈرنے کی بجائے اللہ سے ڈریں

مت بھولیں کہ اللہ نے ہمیں بھیجی گئی کتاب میں ہر چیز واضح طور پر بیان کر دی ہوئی ہے اور ہم اس سے استفادہ نہیں کرتے ۔ خُدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی ۔ نہ ہو جس کو خیال خُود اپنی حالت بدلنے کا ۔ علامہ اقبال نے اس شعر میں اس آیت کا مدعا پیش کیا ہے ۔
سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت 39 ۔ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی ۔ ترجمہ ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

اللہ ہمیں اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

مسلمانوں کا المیہ

حقائق پر مبنی تحریر جو مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کیلئے ایک تازیانے سے کم نہیں

ممبئی میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے بعد بھارت کی ایما پر امریکہ نے پاکستان کو بغیر کوئی عذر دیئے اپنی کٹھ پتلی اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ذریعے جماعت الدعوة اور دو دوسری پاکستانی رفاہی اور دینی تنظیموں کو دہشتگردقرار دے دیا جبکہ ان تنظیموں سے منسلک کچھ افراد کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں بھی شامل کر دیا ۔ اقوام متحدہ کی اس کارروائی کے ساتھ ہی حکومت پاکستان نے ان تنظیموں بالخصوص جماعت الدعوة کے دفاتر کو ملک بھر اور آزادجموں کشمیر میں مقفل کر دیا اور اس کے کئی عہدیداروں اور رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا یا گرفتار کرلیا اور ان کے بنک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیئے گئے۔

ہمارے صدر، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکومتی اہلکار بار ہا یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ابھی تک بھارت نے ہمیں ممبئی دہشتگردی کے حوالے سے ایسے شواہد فراہم نہیں کئے جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ پاکستان کی کوئی تنظیم ان واقعات میں ملوث ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی ایسے شواہد پیش کئے گئے۔ لیکن ہم نے بغیر کوئی ثبوت دیکھے جماعت الدعوة جو پاکستان بھر میں اپنے رفاہی کاموں کی وجہ سے اچھی شہرت رکھتی ہے اور جس نے خاص طور پر زلزلہ زدہ علاقوں بشمول آزادکشمیر، بالاکوٹ، مانسہرہ اور بلوچستان میں کافی کام کیا ہے اس طرح دھاوا بول دیا جیسے ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک دہشتگرد تنظیم ہے۔ ہمارے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پاکستان جماعت الدعوة کے خلاف ایکشن نہ لیتی تو خطرہ تھا کہ پاکستان کو ہی دہشتگرد ملک قرار دے دیا جاتا۔ کیا جناب احمد مختار ضمانت دے سکتے ہیں کہ اب پاکستان کو دہشتگرد ممالک میں فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

بغیر کسی منطق اور جواز کے ہم کتنی آسانی سے ہر بیرونی حُکم کی بجا آواری کرتے جا رہے ہیں۔ 9/11 کے بعد پہلے ہی ہم نے اپنی قومی عزتِ نفس کو تار تار کرتے ہوئے امریکہ بہادر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کر ڈالا خواہ وہ قانونی تھا یا غیر قانونی خواہ وہ پاکستان دشمنی اور اسلام دشمنی کے مترادف تھا یا کہ نہیں اور اب ہم ماضی سے کچھ سبق سیکھے بغیر سب کچھ بھارت کے لئے کرنے پر تیار ہیں۔یہ سب کرنے کے باوجود امریکہ ہم سے آج تک خوش نہیں ہوا جبکہ بھارت نے ابھی سے do more-do more کی رٹ لگا رکھی ہے۔ اگر سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو نجانے ہمارا کل کیسا ہو گا۔ پہلے ہی امریکہ کی نظر میں پاکستان دنیا بھر کے لئے دہشت گردوں کا ٹھکانہ ہے۔ آج بھارت بھی امریکہ کی زبان بولتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردوں کا مرکز [epicentre] گردانتا ہے۔ بیرونی قوتوں کے کہنے پر اگر ہم آج اپنی تنظیموں اور اپنے لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کریں گے تو کیا اس سے ہم آنے والے خطرات سے جان چھڑا پائیں گے۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کا اصل نشانہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہے، کیا ہم بھول گئے کہ یہی ممالک ہمارے ملک کی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف انتہائی سنگین الزامات لگاتے رہے ہیں اور اب بھی لگا رہے ہیں تا کہ ان اداروں کو کمزور کر کے اس ملک میں انتشار کی صورتحال پیدا کی جائے جس سے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر بیرونی قبضے کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ اپنی نااہلی اور بزدلی کی وجہ سے یقیناً ہم اپنے ملک کو دشمن قوتوں کے پھیلائے گئے جال میں آہستہ آستہ پھنسا رہے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی امریکہ بھارت اور اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کی عراق، افغانستان، کشمیر، فلسطین اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شہادت پر انگلی نہیں اٹھاتا۔ اس ریاستی دہشت گردی پر تو اقوام متحدہ بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ تمام اسلامی ممالک کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔ اتحاد و یگانگت سے بیگانہ سب ایک دوسرے کی تباہی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ کوئی بھارت سے نہیں پوچھتا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود وہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیونکر جمائے ہوئے ہے۔ امریکہ افغانستان اور عراق میں لاکھوں مسلمانوں کی جانیں لینے کے باوجود ابھی بھی مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہے۔ مگر اب بھی مسلمانوں کی آنکھیں بند ہیں اور ان کی عقل پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔

ہم زبان سے تو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں اور اسی سے ڈرنے کا اظہار کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ہمارے دلوں میں امریکہ کا خوف اور ڈر بیٹھا ہوا ہے۔ ہم دنیا کو اور حتٰی کہ اپنے آپ کو اور اپنے لوگوں کو امریکہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آج ہم اپنے مذہب کے متعلق اس حد تک معذرت خواہانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے جھجھکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی بجائے ہم اپنی مسلمانیت کو اس طرح پیش کرنے کے جتن کر رہے ہیں جس سے امریکہ ہم سے خوش ہو جائے۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی میرے اللہ کا وعدہ ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اس کی کتاب قرآن پاک پر ایمان رکھتے ہیں تو اپنے رب کے واضح احکامات کے باوجود ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ کافر اور یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے دوست اور خیرخواہ ہو سکتے ہیں۔ ہم جو یہود و نصاریٰ کو راضی کرنے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان بھول گئے جس کا مفہوم ہے یہ [یہودونصاریٰ اور کفار] تم [مسلمانوں] سے اس وقت راضی ہوں گے جب تم اپنے دین پر اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے یعنی کہ دین اسلام کو چھوڑ دو گے۔ کیا ہم قرآن کی اس بات کو بھول سکتے ہیں کہ ان [یہودونصاریٰ اور کفار] کی زبانوں سے کہیں زیادہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض چھپا ہوا ہے۔

دین اسلام کی نظر میں جو ہمارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے جو ہمارے بدترین دشمن ہیں انہی کو ہم نے اپنا آقا تسلیم کر لیا ہے اور ان کے ہر حکم پر اپنا سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن قوموں کو مغضوب [ہمیشہ غضب میں رہنے والی] اور بھٹکے ہوئے کہا ہم آج کے مسلمان ان کی پیروی پر لگے ہوئے ہیں۔ کل افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف جنگ کو جہاد اور اس میں حصہ لینے والوں کو مجاہدین کہنے والوں نے آج افغانستان میں قابض امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف برسرپیکار طالبان کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے دیا اور ہم مسلمان بھی انہی کا راگ الاپ رہے ہیں۔ جہاد چاہے وہ افغانستان، کشمیر یا عراق میں ہو اس کو ہم نے دہشت گردی سے جوڑ دیا ہے۔ ان حالات میں مسلمان کے مقدر میں ذلت اور رسوائی کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
انصار عباسی نے جنگ کیلئے لکھا اور 15 دسمبر 2008ء کو شائع ہوا

بھارت اور بھارتی ۔ ایک واقعہ جس کا میں شاہد ہوں

اُن دنوں [1976ء سے 1983ء تک] میں حکومت پاکستان کی طرف سے لِبیا کا الخبِیر لِلمنشآت صناعیہ تعینات تھا انگریزی میں Advisor, Industrial Planning and Development ۔ اس دور میں مجھے اپنی حکومت کی طرف سے دو بلامعاوضہ ذمہ داریاں بھی سونپی گئی تھیں ۔
ایک ۔ لبیا میں موجود پاکستان کی تربیّتی ٹیموں اور لِبیا کے متعلقہ عہدیداران کے درمیان رابطہ افسر
دوسری ۔ لِبیا میں ذاتی طور پر آئے ہوئے پاکستانیوں کے مسائل اور کردار پر نظر رکھنا ۔ اُن کا تدارک کرنا اور سفیر صاحب کو باخبر رکھنا

جس لِیبی ادارے کے ساتھ میں کام کرتا تھا اُس میں بہت سے اہلکار مخابرات [Military Intelligence] سے تعلق رکھتے تھے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی خاص مہربانی ہوئی کہ اس ادارے میں مجھے ایک سال کے اندر ہی بہت عزت مل گئی باوجویکہ میں نے وہاں کے افسروں کے ساتھ کئی بار تکرار کر کے پاکستانی بھائیوں کے سرکاری اور ذاتی کام کروائے ۔ ایک لِیبی افسر جس کا تعلق مخابرات سے تھا سمجھدار ۔ ہوشیار اور باخبر تھا میرا دوست بن گیا

شائد 1978ء کا واقعہ ہے کہ اُس لِیبی افسر نے آ کر مجھے بتایا “میں نے سُنا ہے کہ ایک پاکستانی نرس ایک لِیبی جوان کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں پکڑی گئی ہے ۔ آپ سفارتخانہ کے ذریعہ کچھ کر لیں تاکہ معاملہ رفع دفع ہو جائے”۔
میں نے کہا “میں اس طرح منہ اُٹھائے تو سفیر کے پاس نہیں جاؤں گا ۔ مجھے کچھ تفصیلات لا کر دیں”۔
وہ افسر بولا “میں تو کسی ضروری کام سے شہر سے باہر جا رہا ہوں ۔ جس نے مجھے بتایا ہے اُسے آپ کے پاس بھیجتا ہوں”۔

کچھ دیر بعد ایک رئیس العُرفا جسے ہمارے ہاں صوبیدار میجر کہتے ہیں میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کیا کام ہے ۔ میں اُسے بھی جانتا تھا ۔ اُس کا بھی مخابرات سے تعلق تھا ۔ اُسے میں نے کہا کہ مجھے فوری طور پر اس نرس کا نام ۔ لبیا اور پاکستان میں اُس کا پتہ اور پاسپورٹ نمبر وغیرہ چاہئیں ۔ دوسرے دن وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا “میں کل اُسی وقت اُس پولیس افسر کے پاس گیا اور تمام تفصیل پوچھیں ۔ اُس نے بتایا کہ نرس اُن کی کسی بات کا جواب نہیں دیتی تھی پھر اُنہوں نے بھارت کے سفارتخانہ سے رابطہ کیا تو سفارتخانہ کے اہلکار نے کہا کہ نرس پاکستانی ہے ۔ اس کے بعد نرس بھی کہنے لگ گئی کہ وہ پاکستانی ہے اور لاہور کی رہنے والی ہے ۔ کل بعد دوپہر بڑی مشکل سے نرس نے طرابلس میں اپنی رہائش کا پتہ بتایا جس پر پولیس نے نرس کی رہائش گاہ کی تلاشی لی اور وہاں سے نرس کا پاسپورٹ مل گیا جس کے مطابق وہ جنوبی بھارت کی رہنے والی ہندو ہے”۔

میں ایک دن قبل سفیر صاحب کو اس افواہ کی خبر دے چکا تھا اسلئے اُسی وقت دفتر کی کار لے کر سفارتخانہ پہنچا جہاں سفیر صاحب کو اپنا مُنتظر پایا ۔ اُنہیں صورتِ حال بتا کر درخواست کی پاکستانی کرتا دھرتا لوگوں کو بُلا کر اس معاندانہ پروپیگنڈہ کا توڑ کیا جائے ۔ اگلے دن وہ لوگ سفارتخانہ آ گئے اور سفیر صاحب نے اُنہیں ہدایات دے دیں ۔ مگر ان تین دنوں میں پورے طرابلس میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ پاکستانی نرس ایک لِیبی کے ساتھ پکڑی گئی ۔ میرے علاوہ دوسرے کئی محبِ وطن پاکستانیوں نے اس کا شدت سے توڑ کیا اور ساتھ ہی افواہ کا منبع تلاش کرتے رہے ۔ جہاں جہاں سے بھی یہ غلط خبر ملی تھی اُس کی جڑ بھارتی سفارتخانہ ہی میں نکلی ۔

لِیبی مخابرات کے افسر کی بروقت اطلاع ۔ پاکستانی سفیر امیر علی شاہ صاحب کی ذاتی دلچسپی اور پاکستانیوں کی کوشش اور اللہ کے فضل و کرم سے لِبیوں کی نظر میں پاکستانی سُرخرُو ہوئے اور بھارتی نرسوں کی نگہداشت کی جانے لگی ۔

ممبئی دہشتگردی ۔ اصل مُجرموں کی پردہ پوشی

مندرجہ ذیل خبروں سے ثابت ہوتا ہے کہ ممبئی میں جو ڈرامہ بظاہر 26 نومبر 2008 کو شروع ہوا اُس کی تیاری 15 نومبر سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ دہشتگرد کون تھے ؟ ان حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو کوئی بھارتی خفیہ ادارہ بھی اس میں ملوث ہو سکتا ہے ۔ اسی لئے حقائق پر پردہ ڈال کر سارا ملبہ پاکستان پر گرایا جا رہا ہے تاکہ عوام کا دھیان اس دہشتگردی کے حقائق کی طرف نہ جانے پائے جس میں بھارتی پولیس کا ایک زیرک اعلٰی عہدیدار بھی مارا گیا ۔

سی بی سی نیوز [کنیڈین برادکاسٹنگ کارپوریشن]
ایک آزاد صحافی ارون اشتھانا نے نریمان گیسٹ ہاؤس کے باہر سے سی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا “کہا جاتا ہے کہ عسکریت پسندوں نے حملوں سے 15 یوم قبل گیسٹ ہاؤس میں قیام کیا اور اُن کے پاس بہت زیادہ بارود اسلحہ اور خوراک تھی”

برطانیہ کا گارجین یا گارڈین
مقامی لوگوں نے بتایا کہ نریمان ہاؤس کے مالک ایک اسرائیلی یہودی خاندان ہے جو اس کے فلیٹ مذہبی یہودیوں کو کرائے پر دیتے تھے”

مِڈ ڈے نیوز
اس حملہ ڈرامہ میں نریمان ہاؤس کا کردار پریشان کن ہے ۔ گذشتہ رات [نریمان ہاؤس کے] رہائشیوں نے لگ بھگ 100 کلو گرام گوشت اور کھانے کی دوسری اشیاء منگوائیں جو کہ ایک فوج کیلئے یا پھر چند لوگوں کی 20 دن کیلئے کافی تھا ۔ اس کے کچھ دیر بعد 10 کے قریب عسکریت پسند [نریمان ہاؤس میں] داخل ہوئے ۔ ظاہر ہے کہ یہ اشاء خوردنی اُن کی آمد کو مدِ نظر رکھکر منگوائی گئی تھیں

ڈی این اے انڈیا
موکوند شلکے جو کولابا مارکیٹ میں دکاندار ہے نے بتایا کہ اُن لوگوں نے نریمان ہاؤس میں داخل ہونے سے قبل کافی خوردنی سامان خریدا جو ان کیلئے 3 ہفتوں کیلئے کافی تھا ۔ اُنہوں نے دو پیٹیاں مرغی کا گوشت کوئی 25000 روپے کی شراب کولابا کی دو دکانوں سے خریدے ۔

مِڈ ڈے نیوز
اس علاقہ کے ایک ماہی گیر وِتھال ٹنڈل نے کہا “بدھ [26 نومبر] کے روز شام کے وقت میں نے چھ سات کشتیاں آتے دیکھیں جن میں سے کوئی دس آدمی بہت زیادہ سامان کے ساتھ اُترے اور اُن کو آہستہ آہستہ نریمان ہاؤس کے اندر لے گئے ۔ اس عمارت [نریمان ہاؤس] میں کافی کمرے ہیں جو مسافروں کیلئے گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ ہم میں سے کسی کو اُن لوگوں کے نام معلوم نہیں ہیں ۔

ایک ٹی وی صحافی ورندرا گھناوت بدھ سے نریمان ہاؤس پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔ پولیس والے بھی اس سلسلہ میں گم سم تھے

برطانیہ کا گارجین یا گارڈین
وہ سمندر کے راستے سے آئے اور اندھیرے میں قدیم کولابا کی تنگ گلیوں سے گذرتے ہوئے چہ منزلہ عمارت نریمان ہاؤس میں چلے گئے ۔ یہ بندوق بردار لوگ وہاں رہے اور بعد میں اندر سے محاصرہ کر لیا

دی نیو یارک ٹائیمز
جب دہشتگرد دھانور کی کشتی کے قریب اُترے تو وہ نریمان ہاؤس کی تنگ گلی سے صرف تین عمارتیں دور تھے ۔ پانچ منزلہ عمارت نریمان ہاؤس جس میں ایک جوان ربی گافریل ہولٹسبرگ اور اس کی بیوی رفقہ جو نیو یاکر سے آئے ہوئے ہیں ایک یہودی سینٹر چلاتے ہیں

برطانیہ کا گارجین یا گارڈین
ایک پولیس مین جس نے نریمان ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی بتایا ۔ گذشتہ رات میں عمارت کے اندر گیا ۔ میں یہ جان کر دنگ رہ گیا کہ وہ لوگ سفید فام ہیں ۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہماری طرح کے ہوں گے ۔

بی بی سی
مشرہ کی یاد داشت کے مطابق “پھر غیر ملکی سفید فاموں نے مار دھاڑ جاری رکھی” ۔

مسٹر امیر نے کہا “وہ ہندوستانی نہیں لگتے تھے ۔ وہ غیر ملکی تھے ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ایک سنہرے بالوں والا تھا ۔ دوسروں نے واہیات طریقہ سے بال بنائے ہوئے تھے”

ڈی این اے انڈیا
نریمان ہاؤس کے سامنے والی عمارت کے رہائشی انند راؤرین نے جب پولیس کے سربراہ [جو تفتیش کر رہا تھا] کے مارے جانے کی خبر ٹی پر آئی تو ہم نے فلیٹ [نریمان ہاؤس] سے شور سنا جیسے لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں

یوروشلم پوسٹ
نینی [آیا] جس نے دوسالہ موشے ہولٹز برگ کو ممبئی کے چاباد ہاؤس سے جمعرات کو بچایا وہ جمعرات کو اسرائیل پہنچ رہی ہے ۔ اس نے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ موشے کے ساتھ اس خصوصی پرواز پر اسرائیل واپس آنا چاہتی ہے جو اسرائیل کی فضائیہ نے بھیجی ہے ۔
بچہ جمعہ کو اپنے دادا دادی کے پاس پہنچ گیا ۔ اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ “اس کی وزارت آیا کو اسرائیل لانے کیلئے کام کر رہی تھی اور اس نے وزارتِ داخلہ کو درخواست کی ہے کہ آیا کو اسرائیل میں رہنے دیا جائے ۔

خیال رہے کہ جب نریمان ہاؤس بھارتی سکیورٹی فورسز کے محاصرہ میں تھا ۔ نریمان ہاؤس کے مالکوں کے بچے کی آیا [جو کہ بھارتی ہے] اُن کے بچے کو ساتھ لئے ہوئے باہر نکل آئی تھی جس پر یہی باور کیا جا سکتا ہے کہ اُسے بحفاظت باہر بھیجا گیا ۔

انڈین ایکسپرس
دو سالہ موشے اور اس کی آیا ساندرا سیموئل اپنے نانا نانی کے ساتھ اسرائیل کے خصوصی فوجی طیارہ میں آج رات اسرائیل چلے گئے

دی انڈیا ٹیلی گراف
یکم دسمبر ۔ اسرائیل بھارتی آیا کو رہائشی اجازت نامہ دے رہا ہے ۔ اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے کابینہ کو بتایا کہ اس کی وزارت آیا ساندرا سیموئل کو رہائشی ویزہ دلوانے کا انتظام کر رہا ہے ۔

دی انڈیا ٹیل گراف
اسرائیل نے بھارت سے درخواست کی ہے کہ نریمان ہاؤس میں مارے جانے والے اسرائیلی باشندوں کا پوسٹ مارٹم نہ کیا جائے ۔ اسرائیلی مشن کے مطابق مارے جانے والے 9 افراد میں سے 7 اسرائیلی تھے ۔

سوچنے کی بات ۔ دو تو نریمان ہاؤس کے مالک پولیس مقابلہ میں مارے گئے ہوں گے ۔ باقی 5 اسرائیلی کہاں سے آئے ؟
گذارش ۔ میں اُن نوجوانوں کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے یہ خبریں اکٹھا کرنے میں میری مدد کی ۔

واہ بھئی واہ ۔ ۔ ۔

ہمیشہ کی طرح ایم کیو ایم نے چار پانچ روز “تک دنا دن” کر کے وہ حاصل کر لیا جو حاصل کرنا تھا اور بڑی کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا ۔ آپریشن ہوا اور سرکاری بیان کے مطابق 28 اور غیر سرکاری بیان کے مطابق 60 افراد جو دہشتگردی میں مطلوب تھے گرفتار کر لئے گئے ۔ چار دن کی مار ڈھاڑ میں مرنے والوں کی اکثریت رکشا ڈرائیور ۔ چوکیدار ۔ کوڑے کباڑ میں سے پلاسٹک کے تھلے اور کاغذ پتر چُن کر روزی کمانے والے پٹھان تھے ۔ آپریشن کس علاقہ میں ہوا ؟ جہاں اِسی قسم کے اور دوسرے غریب پٹھان رہتے ہیں ۔

اسی کو کہتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کی پانچوں گھی ۔ شاید سر کڑاہی میں ہونے کی کسر رہ گئی ہے

واہ بھئی واہ ۔ واہ بئی واہ
پڑے پالاتو مریں غیریب
چلے لُو تو مریں غریب
واہ بھئی واہ ۔ کر دیا ٹھاہ

جل کےدل

آدھی صدی سے زائد قبل ایک گانا لکھنے والے کی روح سے معذرت کے ساتھ کچھ حسبِ حال تبدیلیاں شامل کر کے

دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

عوام خطاوار ہیں یا اُن کو بہکانے والے ؟
سب کے چہروں پر داغ ہیں کالے کالے

کتنے انتخابات ہوئے کوئی داغ دھویا نہ گیا
جل کے دِل خاک ہوا ۔ آنکھ سے رویا نہ گیا

[بہکانے والے یعنی حُکمران طبقہ]

کراچی کے طول و عرض میں میرے کئی بہت قریبی عزیز رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ میں کراچی کے حالات پر نظر رکھتا ہوں ۔ نومبر کے آخری ہفتے میں تو میرا چھوٹا بیٹا اور بہو بیٹی بھی کراچی میں موجود تھے ۔ پاکستانی صاحب کی تحریر پڑھ کر جی چاہا تھا کہ میرے علم میں آنے والے واقعات کے متوقع نتائج بیان کروں پھر ٹھٹھک گیا کہ کہیں اس کا منفی اثر نہ ہو جائے ۔ لیکن جو مجھے صاف نظر آ رہا تھا اور اُسے لکھتے ڈر رہا تھا وہ وقوع پذیر ہو گیا ۔

الطاف حسین کا بار بار بیان آ رہا تھا کہ “کراچی میں طالبان جمع ہو رہے ہیں” ۔ “کراچی کو طالبان نے گھیرے میں لے لیا ہے” ۔ “عوام کراچی کو بچانے کیلئے تیار ہو جائیں” ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ دبئی سے 22 نومبر رات گئے واپسی ہوئی ۔ 24 نومبر کو میرا کراچی میں اپنی ایک پھوپھی زاد بہن سے رابطہ ہوا تو میں نے انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ۔ وجہ پوچھنے پر میں نے بتا دیا کہ الطاف حسین کے بیانات معنی خیز اور خطرناک ہیں

29 نومبر کی رات ٹی وی اے آر وائی ون ورڈ لگایا تو کراچی میں بلووں کا معلوم ہوا ۔ جیو سمیت باقی سب ٹی وی سٹیشن دیکھے مگر سوائے اے آر وائی اور سماع کے کسی چینل نے یہ خبر نہ دی ۔ کراچی میں پھوپھی زاد بہن کو ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بیٹی کے ہمراہ کہیں گئی ہوئی تھیں ۔ واپسی پر راستہ میں پٹھانوں کے علاقہ میں کچھ لوگوں نے جو ایم کیو ایم کے لگتے تھے فائرنگ کی اُنہوں نے ایک پٹھان کو گرتے دیکھا ۔ رکشا والے نے رکشا بھگایا اور متوقع متنازع علاقوں سے بچتا ہوا نارتھ کراچی پہنچ گیا ۔ اُن کا بیٹا اپنے کام کے سلسلہ میں کراچی میں پھرتا رہتا ہے ۔ اس نے دیکھا کہ ایم کیو ایم کے جوانوں نے دو پٹھانوں کو پِک اَپ سے اُتار کر پولیس والوں کی موجودگی میں زد و کوب کرنا شروع کر دیا ۔ اُس نے اپنی ایف ایکس کار موڑی اور بچتا بچاتا رات گئے گھر پہنچا ۔

تمام عینی شاہد کہتے ہیں کہ پہل ایم کیو ایم نے کی اور زیادتی بھی ایم کیو ایم نے کی ۔ یہی کچھ تھا جس کا اعلان الطاف حسین بار بار کر رہا تھا ۔ لیکن ایم کیو ایم کے رہنما کہتے ہیں کہ یہ کام اُن کے دشمنوں کا ہے ۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم والوں کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ ہے کہ ظُلم بھی
کرتے ہیں اور مظلوم بھی کہلوانا چاہتے ہیں ۔ اگر بقول ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے باہر کے لوگ دہشتگردی کر رہے ہیں تو پولیس ۔ رینجرز اور ایم کیو ایم کی چابکدست تنظیم کی موجودگی میں ایسا کیونکر ممکن ہے ؟

وہ جو کراچی کی مظلوم مہاجر تنظیم تھی وہ تو مئی 1993ء میں چیئرمین عظیم احمد طارق کے قتل [شہادت] کے ساتھ ہی مر گئی تھی یا الطاف حسین نے مار دی تھی جو اُس محنتی اور صُلح جُو رہنما عظیم احمد طارق کا بھی قاتل ہے ۔ میں دس سال کی عمر میں 1947ء میں اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا لیکن میں نے یا میرے خاندان والوں نے اپنے آپ کو کبھی مہاجر نہ سمجھا ۔ میں صرف پاکستانی ہوں ۔ نہ پٹھان ہوں ۔ نہ بلوچی ۔ نہ سندھی ۔ نہ پنجابی ۔ نہ مہاجر

زرداری جی ۔ ہور چُوپَو

کراچی میں 25 نومبر 2008ء کو دفاعی نمائش آئیڈِیاز 2008ء کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرمارشل تنویرمحمود احمد نے کہا کہ پاک فضائیہ جاسوس طیاروں اور میزائل حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ وہ کب ہماری [پاک فضائیہ کی] صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی ہے یا حملہ کرنے والوں سے جنگ کیلئے تیار ہوتی ہے ۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ آئیندہ چند سالوں میں پاک فضائیہ کے اکثر لڑاکا طیارے اپنی طبعی عمر پوری کرلیں گے جس کے بعد اس کمی کو جے ایف 17تھنڈر طیاروں [PAC JF-17 Thunder, also known as the Chengdu FC-1 Fierce Dragon] سے پورا کیا جائے گا ۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے ہر قسم کے وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔