Category Archives: روز و شب

سوات سے ایک خط

میں ملالہ یوسف زئی اور تمام دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ سوات امن Swat Govt School کی سرزمین ہے جس میں محبت کرنے والے لوگ بستے ہیں نہ کہ دہشتگرد
یہ ایک تصویر ہی بتا رہی ہے کہ سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کا معیار اور ماحول کیا ہے
یہ سوات میں لی گئی حالیہ تصویر ہے جس میں لڑکیوں کا بینڈ ایک گورنمنٹ سکول میں اپنا ہُنر پیش کر رہا ہے

میں پچھلے ہفتے (وسط فروری 2016ء) ایک تربیتی پروگرام کیلئے سوات گیا تھا ۔ میں نے بہت سے سرکاری اور نجی سکولوں کا دورہ کیا ۔ میں نے ان لڑکیوں اور لڑکوں کے سکولوں کا معیار تعلیم بہت عمدہ پایا ۔ تعلیم ہی نہیں بلکہ ان میں طلباء اور طالبات کیلئے صحتمند ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں بھی دیکھنے کو ملیں

”ملالہ یوسف زئی“ نے پاکستان کا منفی تصوّر پیش کر کے نوبل انعام حاصل کیا
ملالہ نے دنیا کو بتایا کہ لڑکیوں کو سکول نہیں جانے دیا جاتا اور نہ لڑکیوں کے مناسب حقوق ہیں ۔ اور یہ کہ سوات میں دہشتگرد پائے جاتے ہیں وغیرہ
مگر
ملالہ نے یہ نہیں بتایا کہ جس سکول میں اُس نے داخلہ لیا تھا وہ شاید دنیا کا سب سے بڑا یتیموں کی پرورش کا ادارہ ہے جہاں یتیم بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے لیکن اُس نے سوات کی اس امتیازی کامیابی ذکر نہیں کیا
ملالہ نے یہ نہیں بتایا کہ تمام سرکاری سکولوں میں بہت سی طالبات پڑھتی ہیں بلکہ ان میں سکاؤٹ بھی ہیں جنہوں نے مختلف قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا اور کئی سونے کے تمغے بھی جیتے
ملالہ نے اس کا بھی ذکر نہیں کیا کہ سوات کے طلباء کی یہ خُوبی بھی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اخراجات پورے کرنے کیلئے سکول کے وقت کے بعد مختلف کام بھی کرتے ہیں

یہ ہے وہ سوات جو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
سوات والوں میں اور بھی کئی خوبیاں ہیں جو کہ دہشتگردی نہیں ہیں
از راہِ کرم میرے وطن کا منفی تصور پیش نہ کریں

آداب
سلمان عالم خان ۔ ایک پاکستانی

میری ڈائری ۔ کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں

میں پہلے بھی اپنی ڈائری سے فیض احمد فیض کے اشعار نقل کر چکا ہوں ۔ میں دسمبر 1964ء اور جنوری 1965ء میں ایک دوائی کے شدید ردِ عمل کے سبب 4 ہفتے ہسپتال میں صاحبِ فراش تھا ۔ وقت گذارنے کیلئے ایک ڈاکٹر صاحب نے فیض احمد فیض کا مجموعہ اشعار ”زنداں نامہ“ لا دیا تھا کہ وقت بھی گذرے اور ذہن پر بوجھ بھی نہ پڑے ۔ فیض احمد فیض نے یہ اشعار جیل میں عمر قید کی سزا کاٹتے ہوئے اپنی یورپین بیوی کی یاد میں لکھے تھے ۔ اہم بات یہ ہے کہ 1972ء میں شروع ہونے والے دور میں علامہ اقبال ۔ الطاف حسین حالی وغیرہ کو تعلیمی نصاب اور ذرائع ابلاغ سے نکال کر فیض احمد فیض صاحب کے اشعار کو وطن کی محبت قرار دیتے ہوئے ٹی وی اور دوسرے ذرائع پر پیش کیا جاتا رہا
1965, 130-132

ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات

اسلام آباد کے سیکٹر آئی 9 میں گھر سے باہر کھیلتی ہوئی ماشاء اللہ ہونہار بچیذہین اور ہُنرمند بچیوں کو دیکھیئے کیسے شامیانہ بنایا ہے ۔ ہمارے مُلک کے بچے ماشاء اللہ ذہین اور ہُنرمند ہیں ۔ انہیں صرف مناسب رہبری کی ضرورت ہے اپنے گھر میں اور سکول میں بھی اور باقی ہموطنوں سے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔ علامہ اقبال نے سچ کہا تھا
نہیں ہے نا امید اقبال اپنے کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

سوچ کا ایک زاویہ

حنیف کے گھر کے قریب ایک بیکری تھی ۔ حنیف اکثر شام کے وقت کام سے واپسی پر وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا تھا ۔ ایک دن حنیف سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ اُس کا پڑوسی عرفان مل گیا ۔ وہ بھی بیکری سے باہر آرہا تھا ۔ حنیف نے سلام کے بعد پوچھا “کیا لے لیا عرفان بھائی؟”
عرفان “کچھ نہیں بھائی ۔ چکن پیٹس اور جلیبیاں بیگم اور بچوں کے لئے”
حنیف ہنستے ہوئے “کیوں ؟ آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا ؟”
عرفان “نہیں نہیں بھائی ۔ یہ بات نہیں ہے ۔ دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں ۔ میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی ۔ اس کے لئے بھی لے لوں ۔ یہ تو مناسب نہ ہوا نا کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں”
حنیف حیرت سے عرفان کا منہ تکتے ہوئے بولا “اس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی ۔ آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں تو بھئی بھابھی اور بچوں کو گھر میں جس چیز کا دل ہوگا کھاتے ہوں گے”
عرفان “نہیں نہیں بھائی ۔ وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے ۔ یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کوئی چیز آئے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے بعد میں بچوں کو دیتی ہے ۔ اب یہ تو خود غرضی ہوئی نا کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں”
حنیف نے حیرت سے کہا “گل چھڑے اڑاؤں ۔ یہ چکن پیٹس ۔ یہ جلیبیاں ۔ یہ گل چھڑے اُڑانا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں”
عرفان ” کچھ بھی ہے حنیف بھائی ۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو کہ کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لائے تھے ۔ خود دوستوں میں مزے کر رہے تھے اور وہ بیچاری گھر میں بیٹھی دال کھارہی تھی ۔ دیکھئے ۔ ہم جو کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لاتے ہیں نا ۔ وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتی ہے ۔ اسے بھی بھوک لگتی ہے ۔ اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں ۔ اس کا بھی دل کرتا ہے طرح طرح کی چیزیں کھانے کو ۔ پہننے اوڑھنے کا ۔گھومنے پھرنے کا ۔ اسے گھر میں پرندوں کی طرح بند کردینا اور دو وقت کی روٹی دے کے اِترانا کہ بڑا تیر مارا ۔ یہ انسانیت نہیں ۔ یہ خود غرضی ہے اور پھر ہم جیسا دوسرے کی بہن اور بیٹی کے ساتھ کرتے ہیں وہی ہماری بہن اور بیٹی کے ساتھ ہوتا ہے”
ان کے آخری جُملے نے حنیف کو ہلا کے رکھ دیا کیونکہ اُس نے کبھی اس انداز سے سوچا نہیں تھا ۔ بولا ” آفرین ہے عرفان بھائی ۔ آپ نے مجھے سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا ”
حنیف واپس پلٹا تو عرفان بولا” آپ کہاں جارہے ہیں؟”
حنیف نے کہا” آئسکریم لینے ۔ وہ آج دوپہر میں نے آفس میں آئسکریم کھائی تھی”

مہنگائی کیوں ؟

مہنگائی کا شور شرابا بہت ہوتا ہے لیکن اسے کم کرنے کا سوچنا ہم اپنے ذمہ نہیں سمجھتے
عام آدمی کے متعلق کہا جا تا ہے کہ اُسے روٹی کمانے سے فرصت نہیں مُلک کا کیا سوچے
جنہیں عام آدمی بڑی دھوم دھام سے ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں اُنہیں مُلک کے سارے حالات کا عِلم ہوتا ہے مگر وہ معیشت کو درست کرنے کی بجائے جھوٹے نعروں اور وعدوں سے اپنے ووٹ زیادہ کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں
جو مُنتخب نہ ہوں یا ہو بھی جائیں مگر حکومت میں نہ ہوں اُن کا وطیرہ حکومت کے ہر اچھے یا بُرے کام کی مخالفت ہوتا ہے اور اپنی مخالفت کو زور دار بنانے کیلئے جلسے جلوس اور توڑ پھوڑ کرواتے ہیں کیونکہ اس سے اُنہیں خاص نقصان نہیں ہوتا

معاشی بدحالی کی دوسری بڑی وجہ چوری ہے یعنی ۔ بجلی ۔ گیس اور نہری یا پینے کے پانی کی چوری ۔ ان چوریوں کو روکنا مشکل اسلئے ہے کہ چوری کرنے والے سرکاری اہلکاروں یا عوام کے منتخب کردہ نمائیندوں کے پروردہ ہوتے ہیں

معاشی بدحالی کی تیسری بڑی وجہ ہے ٹیکس چوری یعنی ہم اللہ سے بھی نہیں ڈرتے اور برملا جھوٹ بولتے ہوئے اپنی اصل آمدن سے بہت کم بتاتے ہیں

معاشی بدحالی کی چوتھی بڑی وجہ رشوت ستانی ہے جس کا شور ہم بہت کرتے ہیں لیکن خود رشوت دے کر اپنے غلط کام کرواتے ہیں ۔ حتٰی کہ ایف 8 کے قومی بچت مرکز جہاں آدمی 5 سے 20 منٹ میں پیسے لے کر چلا جاتا ہے میں نے دیکھا ہے کہ چند سوٹِڈ بُوٹِڈ حضرات چپڑاسی کو پیسے دے کر کام جلدی کرواتے ہیں

معاشی بدحالی کی پانچویں بڑی وجہ ۔ جلوس نکلے ۔ توڑ پھوڑ ہو یا ہڑتال ہو ۔ ان کی وجہ سے جو نقصان ہوتا ہے اُس کا ازالہ کرنے کیلئے حکومت جو اخراجات کرتی ہے وہ ٹیکسوں کے ذریعہ عوام نے ہی دینا ہوتے ہیں

معاشی بدحالی کی چھٹی بڑی وجہ ۔ احتجاجوں ۔ ہڑتالوں وغیرہ کے نتیجہ میں ماضی میں کئی سرکاری اداروں اور حکمرانوں نے غلط مطالبات ماننے کی وجہ سے مُلک اور قوم کو جو لگاتار بھاری نقصان ہو رہا ہے اُس کی مثال تمام سرکاری کارخانے یا کمرشل ادارے ہیں جو کسی زمانے میں فعال ہوا کرتے تھے اور اب سب کے سب نقصان میں چل رہے ہیں ۔ بجائے اس کے کہ وہ منافع کما کر مُلکی معیشت کو بہتر بنائیں اُلٹا ہر سال اربوں روپے ان کی امداد کرنا پڑتی ہے تاکہ چلتے رہیں ۔ یہ اربوں روپیہ بھی عوام پر ٹیکس لگا کر ہی پورا کرنا پڑتا ہے یا پھر اُدھار لے کر جسے ادا کرنے کیلئے بھی عوام پر ٹیکس لگانا پڑتا ہے

مُلکی معیشت کی زبوں حالی کا سبب اداروں میں سے نمونے کے طور پر 2 مثالیں

میں نے ایک سرکاری ادارے کے جس کارخانے میں ملازمت کی اُس کی منیجمنٹ 1975ء تک یہ تھی ۔ جنرل منیجر (گریڈ 19) ایک عدد ۔ منیجر (گریڈ 18) 3 عدد ۔ اسسٹنٹ منیجر (گریڈ 17) 9 عدد ۔ ان کے ماتحت فورمین ۔ اسسٹنٹ فور مین اور چارج مین اسی تناسب سے
1976ء میں جب پرانے افسران وہاں سے تبدیل کئے جا چکے تھے اور نہ کارخانہ بڑا ہوا نہ پیداوار (پروڈکشن) زیادہ ہوئی لیکن نفری بڑھنے لگی اور چند سالوں میں ہو گئے ۔ منیجنگ ڈائریکٹر (گریڈ 20) ایک عدد ۔ جنرل منیجر (گریڈ 19) 3 عدد ۔ منیجر (گریڈ 18) 7 عدد ۔ اسسٹنٹ منیجر (گریڈ 17) 22 عدد ۔ اس کے علاوہ فورمین ۔ اسسٹنٹ فورمین اور چارجمین بھی اسی تناسب سے

آجکل پی آئی اے کا بہت شور شرابا ہے ۔ پی آئی اے 1971ء تک بہت فعال ادارہ تھا اور قوم کیلئے منافع کما رہا تھا ۔ اس کا جو حال اب ہو چکا ہے وہ ملاحظہ فرمایئے
PIA Fact Sheet