Category Archives: روز و شب

جیسا میرا دماغ اُلٹ پَلَٹ ویسے میرے الفاظ اُلٹ پَلَٹ

پتھر سے نہیں مجھے پتھروں پر چلنے والے باہِمتوں سے عقیدت ہے
تصویروں سے نہیں مجھے تصویر میں نظر آنے والوں سے محبت ہے
جو ہستیاں چلی گئیں ۔ مجھے اب اُن کی یادوں سے بھی اُلفت ہے
جو راستے وہ دِکھا گئیں ۔ مجھے اُن راہوں پہ چلنے سے رَغبت ہے

یہ بھی رکشا چلاتا ہے

آدمی رزقِ حلال کمانے کیلئے %d8%b1%da%a9%d8%b4%d8%a7-%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8کوئی بھی پیشہ اختیار کرے اس میں کوئی عیب نہیں بلکہ اس سے انسان کا وقار قائم رہتا ہے بجائے اس کے کہ وہ حرام کام کرے یا جُرم کرے ۔ محنت کی ایک سوکھی روٹی اُس پراٹھے اور مُرغی سے بہتر ہے جس میں حرام شامل ہو
>

قابلِ توجہ

عام لوگ جن میں اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی شامل ہیں آئے دن کچھ ایسے عمل کرتے رہتے ہیں جو گناہ ہیں لیکن اُنہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں
اِن عوامِل کو ایک اہلِ عِلم نے آسان زبان میں لکھا ہے تاکہ عوام کی سمجھ میں آ جائیں اور وہ اِن گناہوں سے بچ سکیں
1 ۔ ریا کاری ۔ ۔ ۔ عبادت یا نیکی کرتے ہوئے دِکھانا ۔ آج کل کئی لوگوں کا معمول بن گیا ہے کہ وہ حج یا عمرہ کیلئے جاتے ہیں تو احرام پہنے اور حرم شریف کے اندر تصاویر کھینچ کر عزیز و اقارب کو بھیجتے ہیں اور کچھ لوگ انہیں سوشل میڈیا جیسے فیس بُک پر لگا دیتے ہیں
2 ۔ بد گمانی ۔ ۔ ۔ کسی کیلئے غلط خیال دل میں لانا
3 ۔ دھوکہ ۔ ۔ ۔ عیب چھُپا کر مال بیچنا ۔ یا بیچتے ہوئے عیب دار مال کا عیب نہ دکھانا
4 ۔ ٹوہ میں رہنا ۔ ۔ ۔ دوسرے کی سرگرمی پر نظر رکھنا
5 ۔ غیبت ۔ ۔ ۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنا (خواہ وہ برائی اُس میں موجود ہو)
6 ۔ طعنہ دینا ۔ ۔ ۔ احسان کر کے جتانا
7 ۔ تکبّر ۔ ۔ ۔ اپنے آپ کو بڑا یا بہتر سمجھنا (کئی بڑے نمازی اور خیرات کرنے والے اپنے نوکروں یا حاجتمندوں کو سامنے کھڑا رکھتے یا زمین پر بٹھاتے ہیں جبکہ خود صوفہ پر بیٹھے ہوتے ہیں)
8 ۔ چُغلی ۔ ۔ ۔ ایک کی بات کسی دوسرے سے بیان کرنا
9 ۔ سازش ۔ ۔ ۔ دوسرے کے خلاف کوئی منصوبہ بنانا یا کسی کو منصوبہ بنانے کی ترغیب دینا
10 ۔ اسراف ۔ ۔ ۔ ضرورت سے زیادہ خرچ یا استعمال کرنا ۔ جیسے گلاس بھر کر پانی لینا لیکن سارا نہ پینا اور چھوڑ دینا
11 ۔ حسد ۔ ۔ ۔ کسی کی خوشی یا ترقی سے بُرا محسوس کرنا
12 ۔ کانا پھُوسی ۔ ۔ ۔ محفل میں کھُلی بات کرنے کی بجائے کسی ایک کے کان میں کہنا

وقتِ دعا

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود تفرقہ اب آ کے پڑا ہے
جس دین نے غیروں کے تھے دل آ کے ملائے
اس دین میں اب بھائی خود بھائی سے جدا ہے
جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوب
اب معترض اس دین پہ ہر ہرزہ سرا ہے
چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں
پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے
دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے
اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے
گو قوم میں تیری نہیں اب کوئی بڑائی
پر نام تیری قوم کا یاں اب بھی بڑا ہے
ڈر ہے کہیں یہ نام بھی مٹ جائے نہ آخر
مدت سے اسے دورِ زماں میٹ رہا ہے
فریاد ہے اے کشتی اُمت کے نگہباں
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
کر حق سے دعا اُمت مرحوم کے حق میں
خطروں میں بہت جس کا جہاز آ کے گھِرا ہے
ہم نیک ہیں یا بد ہیں پھر آخر ہیں تمہارے
نسبت بہت اچھی ہے اگر حال بُرا ہے
تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی
ہاں ایک دعا تری کے مقبول خدا ہے

سوچ کردار کا پیمانہ ہے

ہر آدمی کا عمل اُس کی سوچ کا تابع ہوتا ہے ۔ کسی کی سوچ کا درست قیاس عام طور پر ممکن نہیں ہوتا ۔ البتہ سوچ کا کچھ اندازہ اُس وقت لگایا جا سکتا ہے جب مذکورہ آدمی کو اچانک کوئی بڑی خوشی ملے یا بڑا دھچکا لگے
اس کی ایک عام فہم مثال کرکٹ کے بارے میں ہے کیونکہ کرکٹ وہ کھیل ہے جس میں ساری دنیاکے لوگ دلچسپی رکھتے ہیں

پاکستان نے 1992ء میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا ۔ جیتنے کے بعد اُس وقت کے پاکستانی ٹیم کے کپتان سے اُس کا تاءثر پوچھا گیا تو اُس کے منہ سے نکلا
” My ambition, Shaukat Memorial Trust “
ٹیم جس نے کپتان کو یہ اعزاز لینے کا اہل بنایا تھا اُس کا خیال تک نہ آیا

امسال یعنی 2016ء میں پاکستان کی ٹیم کو بہترین ٹیسٹ کرکٹ ٹیم اور کپتان کو بہترین کپتان قرار دیا گیا
کپتان سے اُس کا تاءثر پوچھا گیا تو اُس نے برملا کہا ” Captain is nothing without team “

اوّل الذکر کپتان کے اظہار سے خود غرضی عیاں ہے جبکہ مؤخر الذکر نے حقیقت کا اظہار کیا

بھارتی ظُلم و سِتم کے 69 سال

انگریز حکمرانوں نے جواہر لال نہرو کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے پاکستان کی سرحدوں کا اعلان 14 اگست 1947ء کی بجائے 17 اگست کو کیا اور نہائت عیّاری سے گورداسپور جو کہ مسلم اکثریت والا ضلع تھا کو بھارت میں شامل کر دیا ۔ جس کے نتیجہ میں ایک تو گورداسپور میں تسلّی سے اپنے گھروں میں بیٹھے مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور دوسرے بھارت کو جموں کشمیر جانے کے لئے راستہ مہیا کر ہو گیا جہاں سے راشٹریہ سیوک سنگ ۔ ہندو مہا سبھا اور اکالی دَل کے عسکری تربیت یافتہ مسلحہ دستے جموں میں داخل ہونا شروع ہو گئے

موہن داس کرم چند گاندھی ۔ جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل پٹھانکوٹ کٹھوعہ کے راستے جموں پہنچے اور مہاراجہ ہری
سنگھ پر مختلف طریقوں سے بھارت کے ساتھ الحاق کے لئے دباؤ ڈالا ۔ مسلمانوں کی طرف سے قرارداد الحاق پاکستان پہلے ہی مہاراجہ کے پاس پہنچ چکی تھی ۔ راجہ ہری سنگھ نے مُہلت مانگی ۔ 3 دن کی متواتر کوشش کے بعد بھی ہاں نہ ہو سکی اور کانگرسی لیڈر بھارت واپس چلے گئے

بعد میں تمام فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوج سے لدھے ہوائی جہازوں نے بغیر اطلاع عید الاضحے کے دوسرے دن یعنی 27 اکتوبر 1947ء کو جموں ایئر پورٹ (ستواری) میں دھڑا دھڑ اُترنا شروع ہو گئے ۔ جلد ہی بھارتی فوج جموں میں پھیلنے کے علاوہ جموں کشمیر کی سرحدوں پر بھی پہنچ گئی ۔ اِن میں زیادہ تعداد گورکھا اور نابھہ اور پٹیالہ کے فوجیوں کی تھی جو انتہائی ظالم اور بے رحم مشہور تھے ۔ قائداعظم نے پاکستانی فوج کے برطانوی کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس ڈیوڈ گریسی کو جموں کشمیر میں فوج داخل کرنے کا حکم دیا ۔ اس نے یہ کہہ کر حکم عدولی کی کہ میرے پاس بھارتی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے سازوسامان نہیں ہے

خُفیہ منصوبے کے تحت بارتی فوج کی پُشت پناہی میں راشٹریہ سیوک سنگ ۔ ہندو مہاسبھا اور اکالی دَل کے عسکری دستوں نے مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کیا ۔ 4 ہفتوں میں جو 6 نومبر 1947ء کی شام کو ختم ہوئے اِن مسلحہ ہندوؤں اور سِکھوں نے صوبہ جموں میں پونے دو لاکھ کے قریب مسلمانوں کو قتل کیا جن میں مرد عورتیں جوان بوڑھے اور بچے سب شامل تھے اور سینکڑوں جوان لڑکیاں اغواء کر لی گئیں ۔ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا

کچھ سال امن رہنے کے بعد بھارت کا جبر و استبداد پھر شروع ہوا جس کے نتیجہ میں جموں کشمیر کے مسلمانوں نے احتجاج شروع کیا اور آزادی کے نعرے لگانے شروع کئے ۔ بھارتی ریاستی ظُلم بڑھتا گیا اور مسلمانوں کا احتجاج بھی زور پکڑتا گیا ۔ 1987ء میں نیشل کانفرنس (آل انڈیا کانگرس کی شاخ) کے قومی اسمبلی میں مُنتخب نمائندے آزادی کیلئے لڑنے والے مجاہدین کے ساتھ مل گئے ۔ اس کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز نے جموں کشمیر کے مسلمانوں کا کھُلم کھُلا قتلِ عام شروع کر دیا ۔ اُنہیں دفن کر دیا جاتا اور کسی کسی کی قبر بنائی جاتی اور اُس پر فرضی نام کی تختی لگا کر نیچے پاکستانی دہشتگرد لکھ دیا جاتا ۔ ایسی قبر جب بھی عدالتی حُکم پر کھولی گئی تو میت لاپتہ کشمیری جوان کی نکلی

امسال 8 جولائی کو بُرہان وانی کے بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل کے بعد پورے جموں کشمیر میں پُر زور احتجاج شروع ہو چکا ہے اور بھارتی سکیورٹی فورسز بھی ظُلم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ۔ اس کی تفصیل سب قارئین روزانہ سُنتے ہیں ۔ متعدد وِڈیوز بھی اُپ لَوڈ ہو چکی ہیں جنہیں دیکھ کر رَونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں

انسانی حقوق کے دعویدار امریکہ اور یورپ والوں کی آنکھوں پر بھارتی چشمے چڑھے ہوئے ہیں ۔ اسلئے وہ اس ظُلم و استبداد کے خلاف آواز اُٹھانا تو کیا اس کا ذکر کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے اور نہ اُن کا میڈیا ان حقائق کو دِکھاتا ہے