راولاکوٹ شہر مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے جبکہ بالاکوٹ ۔ باغ اور مظفرآباد کے ساتھ ساتھ درجنوں بستیوں کا نام و نشان مٹ گیا ہے ۔ امدادی کارروائیاں شروع ہوچکی ہیں اور کچھ افراد کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے لیکن اب بھی سینکڑوں یا ہزاروں افراد ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔ منگل کو بارش کے باعث بعض علاقوں میں امدادی کارروائی میں خلل آیا تھا اور کچھ سڑکیں بھی بند ہو گئی تھیںبالاکوٹ میں رات گئے برفباری سے سردی میں شدید اضافہ ہوگیا ۔ مظفرآباد کے برعکس جہاں لوگ کھانے اور پانی کا مطالبہ کرتے رہے بالاکوٹ میں لوگ کمبل اور ٹینٹ مانگ رہے ہیں ۔ متاثرہ لوگوں میں مایوسی اور حکومت کے خلاف غصے کے جذبات میں وقت گذرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ لوگ مسلسل چار راتیں تقریبا کھلے آسمان تلے گزار چکے ہیں اور پینے کے صاف پانی اور کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہے ۔
ضلع باغ میں مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ قبریں کھودتے اور لاشیں دفناتے تھک گئے ہیں گو ہلاک ہونے والوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے ۔ بیشتر مکانات، مساجد اور دکانیں تباہ ہوچکی ہیں اور شہر کے پانچ تعلیمی اداروں سمیت کئی منہدم عمارتوں اور مکانوں کے ملبے تلے سینکڑوں لوگ دبے ہوئے ہیں ۔ گرلز ڈگری کالج، گرلز ہائی سکول، سپرنگ فیلڈ سکول، پوسٹ گریجوئیٹ بوائز کالج اور بوائز پرائمری سکول کی زمین بوس عمارتوں میں ملبے تلے دبے طلبا اور طالبات کی لاشوں کی بو پھیلی ہوئی ہے ۔ کوہالہ پل سے باغ شہر تک سڑک کے دونوں کناروں پر بیشتر مکانات اور دکانیں منہدم ہوئی ہیں اور زلزلے سے بچے ہوئے مرد، خواتین اور بچے ملبے تلے اپنے پیاروں کی لاشین ڈھونڈ رہے ہیں ۔ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ مقامی شہری ملبہ ہاتھوں سے ہٹا رہے تھے ۔ قریب ہی سسکیاں لیتی تین بچیاں اپنی ماؤں کے ہمراہ کھڑی تھیں جنہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سو کے قریب بچیاں تین کلاسوں میں تھیں جس میں سے صرف پانچ بچیاں بچیں ہیں اور باقی ملبے تلے دبی ہیں۔
بالاکوٹ کاغان روڈ بری طرح تباہ ہوئی ہے اور اس کو کھولنے میں خاصا عرصہ لگ سکتا ہے۔ کاغان اور مضافات میں بڑی تباہی ہوئی ہے اور بچ جانے والے لوگ سو سے زیادہ کلو میٹر کا سفر پیدل طے کر کے بالا کوٹ پہنچ رہے ہیں ۔ ضلع مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے دور دراز کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں کے رہنے والے یا تو مر گئے یا زخمی اور بے گھر ہوگئے لیکن وہ اب تک مناسب توجہ حاصل نہیں کرسکے اور نہ ان جگہوں پر قابل ذکر امدادی کاروائیاں شروع ہوسکی ہیں ۔
صوبہ سرحد میں جو اضلاع متاثر ہوئے ہیں ان میں ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام اور کوہستان نمایاں ہیں۔ ان علاقوں میں متاثرہ افراد کی تعداد کا اندازہ تقریباً پانچ لاکھ لگایا گیا ہے۔ کچھ علاقوں کو جانے والی سڑکیں لینڈ سلائڈ سے بند ہیں اور کچھ کھول دی گئی ہیں ۔ مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے علاقوں الائی، پٹن، داسو، بٹل، شنکیاری، وادی کونش، وادی پکھل وادی سرن، وادی بھوگڑ منگ، کاغان، ناران، گڑھی دوپٹہ، گلیات اور سرکل بکوٹ میں شدید تباہی ہوئی ہے لیکن ان جگہوں پر امدادی کام شروع نہیں ہوسکا یا نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ایبٹ آباد کے علاقہ چہانگل گاؤں میں لڑکیوں کے ایک اسکول کی عمارت گرنے سے پچاس طالبات ہلاک ہوئی ہیں۔ وادی پکھل میں سینکڑوں کچے مکانات منہدم ہوگئے ہیں ۔ مانسہرہ ضلع میں ہزاروں کی تعداد میں مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں جن کی لاشیں گلنا سڑنا شروع ہوگئی ہیں اور جگہ جگہ بدبو پھیل رہی ہے۔
منگل کی صبح اسلام آباد سے مظفرآباد کے لیے امدادی سامان کے تیس ٹرک روانہ کیے گئے جس میں خیمے، سلیپنگ بیگ اور کمبل شامل تھے ۔ پیر کو بھیجا جانے والا امدادی سامان منگل کی صبح مظفرآباد پہنچ گیا تھا ۔متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں خوراک بھی روانہ کی گئی جبکہ بالاکوٹ کے لیے بھی کئی ٹرک روانہ کیے گئے ۔ اس کے علاوہ پینتالیس سے زائد ہیلی کاپٹر امدادی کاروائی میں حصہ لے رہے ہیں تاہم متاثرہ علاقوں میں ہموار زمین نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہیلی کاپٹر یہ سامان اوپر سے گرا رہے ہیں ۔ نجی رفاہی اداروں کی امداد اس کے علاوہ ہے ۔
ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کی استعداد سے زیادہ مریض وہاں زیرعلاج ہیں۔ ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلکس میں خیموں میں مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے
فرماۓ آمین ۔مجھ سے شکائت تھی کہ میں کبھی خشک اور کبھی سخت تحاریر لکھتا ہوں ۔ سو میں نے نرم و ملائم اور خوشگوار لکھنے کی کوشش کی ۔ لیکن کیا کروں اپنے ارد گرد کے ماحول اور اس کے اثرات کا ۔ میں تین دن سے اپنے اوپر جبر کر کے چپ بیٹھا تھا ۔ آج فجر کی نماز کے بعد مسجد ہی میں وہ مصنوعی بند ٹوٹ گیا جو میں نے باندھا تھا ۔ قدرتی آفت سے جو کچھ ہوا اس پر آنکھیں برسات برساتی رہیں اور دل خون کے آنسو روتا رہا لیکن لب پر تالا ڈالے رکھا اب قدرتی آفات سے بچ جانے والے بہن بھائیوں اور بچوں کو آفت زدہ علاقہ سے دور بیٹھی اپنی قوم کی بیوقوفیوں کے باعث مرتے ہوۓ نہیں دیکھا جاتا ۔ رات بھر اللہ سے گڑگڑا کر دعا کرتا رہا کہ میری ریڑھ کی ہڈی میں جو نقص اس سال جنوری میں پیدا ہوا اسے ٹھیک کر دے تا کہ میں اپنی کار میں جتنی خشک تیار خوراک بھر سکوں بھر لوں اور متاءثرین کو پہنچاؤں ۔ شائد میری وساطت سے چند انسانوں میں زندگی باقی رہے ۔
religion کا ترجمہ کرتے ہیں ۔ قرآن الحکیم میں کہیں بھی اسلام کے ساتھ یا اس کے متعلق مذہب کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔