Category Archives: روز و شب

ريمنڈ ڈيوس کی کہانی

”ریمنڈ ڈیوس“ بدنام زمانہ امریکی سیکیورٹی کمپنی ”بلیک واٹر“ کا کارندہ اور سی آئی اے کا سابق ملازم ہے۔ یہ بظاہر لاہور میں قائم امریکی قونصلیٹ میں بطور تکنیکی مشیر فرائض انجام دے رہا تھا، مگر دراصل لاہور میں بلیک واٹر کا آپریشنل کمانڈر ہے جو گزشتہ کئی دنوں سے لاہور اور اس کے گردونواح میں جرائم پیشہ افراد کی خدمات حاصل کررہا تھا، جنہیں پاکستان کے اندر مختلف تخریب کاری کے منصوبوں میں استعمال کرنا تھا۔ وہ کرنسی نوٹوں سے بھرا سوٹ کیس لئے جرائم پیشہ افراد سے معاملات طے کرتا تھا۔ ڈیوس کی گاڑی میں جدید ترین اسلحہ ہوتا۔ وہ ہر وقت جدید وائرلیس سیٹس کے ذریعے شہر میں پھیلے بلیک واٹرز کے دوسرے ایجنٹوں سے رابطہ میں رہتا۔ ڈیوس اردو کے علاوہ روانی سے پشتو بھی بول سکتا ہے جس کے باعث وہ مقامی جرائم پیشہ عناصر کے جذباتی نوجوانوں سے رابطے قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ ڈیوس پشاور میں بھی منفی اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں بلیک واٹر کے اہلکار مختلف سرگرمیوں ملوث پائے گئے ہیں
اسلام آباد میں بلیک واٹر کے 56 مراکز ہیں
پورے پاکستان میں 11 امریکی تنظیمیں سرگرم ہیں

ستمبر 2009ء میں امریکا میں پاکستان کے سفیر نے کہا تھا: ”بلیک واٹر کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں۔ بلیک واٹر کی موجودگی محض افواہ ہے۔ عوام ان افواہوں پر ہرگز کان نہ دھریں۔ اگر کسی کے پاس بلیک واٹر کی موجودگی کے ثبوت ہیں تو وہ فراہم کرے۔ حکومت پاکستان سخت کارروائی کرے گی“
اس سے چند روز قبل اسی قسم کے الفاظ وزیراعظم نے بھی کہے تھے کہ “بلیک واٹر کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے۔ اگر اس کی موجودگی کے کسی کے پاس ثبوت ہیں تو وہ پیش کرے، ہم کارروائی کریں گے“

حیرت کی بات ہے کہ حکومت پاکستان بار بار تردید کررہی ہے کہ بلیک واٹر کا وجود نہیں ہے لیکن پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے بلیک واٹر کی مشکوک سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق اس وقت بلیک واٹر کا نہ صرف وجود ہے بلکہ وہ پاکستان کو افغانستان اور عراق سمجھ کر بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بڑے منظم اور مربوط طریقے سے اپنا مشن آگے بڑھارہے ہیں۔ یہ بالکل سچ ہے افغانستان اور عراق کے بعد بلیک واٹر کا سب سے مضبوط گڑھ اب پاکستان میں ہے

پاکستان میں بلیک واٹر کی سرگرمیوں کا آغاز بہت پہلے کیا جاچکا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ وزارت داخلہ نے 2007ء ميں خبردار کیا تھا کہ اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے لیکن اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بلیک واٹر نے پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بلیک واٹر کے دفاتر اس وقت پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں موجود ہیں۔ صرف اسلام آباد اور پشاور میں ہی اس کے 700 افراد موجود ہیں جن کی رہائش کے لئے 200 سے زائد گھر کرائے پر لئے گئے ہیں جس کی تصدیق سابق امریکی سفیر بھی کرچکی ہیں

کراچی کے مختلف علاقوں میں 500 سے زائد امریکی موجود ہیں جن کو خفیہ طور پر ملک کے مختلف حصوں میں بھیجا جاتا ہے۔ 19 اگست 2009ء کو اخبارات میں ہموی بکتر بند کے بارے میں رپورٹ چھپی۔ یہ گاڑیاں شہروں میں آپریشن کرنے کے لئے انتہائی کارآمد ہوتی ہیں۔ یہ جدید اسلحے سے لیس ہوتی ہیں۔ یہ پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کی ہوتی ہیں۔ حاصل یہ کہ کراچی میں بلیک واٹر کی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ یہاں اس نے باقاعدہ اپنے دفاتر قائم کرلئے ہیں

(جاری ہے)

بشکريہ ۔ جنگ اخبار

يہ گندگی کون صاف کرے گا ؟

“ننگِ قوم” سُن تو بچپن سے رکھا ہے مگر جيسے کرتب موجودہ اور اس سے پہلے والے حُکمرانوں نے دِکھائے ہيں شايد ہی کسی نے قوم کے ساتھ ايسی غداری کی ہو گی

گاہے بگاہے مختلف حقائق سامنے آتے رہتے ہيں ۔ آج گفتگو صرف اس حوالے سے کہ لاہور ميں دو جوانوں کے قاتل ريمنڈ ڈيوِس جيسے لوگ کہاں سے پيدا ہوئے يا کہاں سے آئے ؟

آج اربابِ اختيار ميں سے کوئی بھی نہيں بتا سکتا کہ امريکی ايف بی آئی اور سی آئی اے کے کتنے غيرمُلکی اور مقامی ايجنٹ پاکستان ميں گھوم پھر رہے ہيں اور کيا کر رہے ہيں ؟

صرف پرويز مشرف ہی نے نہيں موجودہ وفاقی حکومت نے بھی امريکی سی آئی اے اور ايف بی آئی کو نہ صرف مقامی ايجنٹ رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے بلکہ بلا روک ٹوک وہ جہاں چاہيں جا سکتے ہيں اور جو چاہيں کر سکتے ہيں

ايک اور ناقابلِ يقين سہولت جو پچھلی حکومت نے امريکيوں کو دی اور موجودہ حکومت نے برقرار رکھی يہ ہے کہ امريکا سے پاکستان آنے اور واپس جانے پر اُن کی کوئی چيکنگ نہيں ہوتی تھی ۔ وہ پاکستان آنے اور جانے کيلئے اسلام آباد ايئرپورٹ پر وہ راستہ استعمال کرتے رہے جس راستہ سے جہاز پر کھانے پينے کا سامان بھيجا جاتا ہے اس طرح کچھ پتہ نہيں چلتا کہ کون آيا اور کون گيا اور نہ پتہ چلتا تھا کہ امريکی کيا پاکستان ميں لے کر آئے اور کيا پاکستان سے لے کر چلے گئے ۔ وزارتِ دفاع کی مداخلت پر اکتوبر 2009ء ميں اس سہولت ميں کچھ تخفيف کی گئی مگر اس وقت تک بہت نقصان ہو چکا تھا يعنی پاکستان ميں اميرکی سيکريٹ ايجنسيز اور اسلحہ کا نيٹ ورک پھيل چکا تھا

ايک امريکی اخبار “واشنگٹن ٹائمز” نے بھی کچھ سال قبل لکھا تھا کہ امريکی ايف بی آئی نے پاکستان ميں “سپائيڈر گروپ” کے نام سے ايک گروہ ترتيب ديا ہے جس ميں پاکستان کی مسلحہ افواج کے ريٹائرڈ افسران اور دوسرے لوگوں کو بھرتی کيا ہے ۔ اس کا مقصد پاکستان سے امريکا کيلئے معلومات حاصل کرنا ہے ۔ گروپ ميں عيسائی اور مسلمان دونوں شامل ہيں جنہيں ايف بی آئی نے تربيت دی ہے اور مسلحہ بھی کيا ہے

يہ بھی خبر ہے کہ ايک صوبائی سيکرٹ ايجنسی کا سربراہ اور درجن بھر اور لوگ امريکی سی آئی اے کو معلومات فراہم کرتے رہے جس پر وفاقی وزارتِ داخلہ نے اس سربراہ کو ملازمت سے سبکدوش کر ديا تھا ۔ يہ بھی خبر آئی تھی کہ نجی سيکيورٹی کمپنيوں کے ملازمين کی بڑی تعداد امريکی سی آئی اے کيلئے کام کرتی ہے

ايک مقامی صحافی اعزاز سيّد نے انکشاف کيا کہ چند سال قبل اُس نے امريکی ايف بی آئی کيلئے بھرتی کا ايک بين الاقوامی اشتہار ديکھا ۔ اُس نے اسلام آباد ميں امريکی سفارتخانے کے ليگل سيکشن سے اس خيال سے رابطہ کيا تاکہ وہ ايک انويسٹیگيٹو سٹوری لکھ سکے ۔ اُس نے اپنے آپ کو طالبان کے خلاف خفيہ معلومات حاصل کرنے کيلئے ملازمت چاہی ۔ انٹرويو کرنے والے امريکی نے اُسے کہا کہ “تمہيں [طالبان نہيں] پاکستان کی سول بيوروکريسی کے متعلق معلومات مہياء کرنا ہوں گی جس کا اچھا معاوضہ ديا جائے گا”۔

پچھلی حکومت نے بغير پائلٹ کے جہازوں [ڈرون] کو پاکستان کی فضا ميں پرواز کرنے کی اجازت دی جو موجودہ حکومت نے برقرار رکھی ہوئی ہے ۔ يہ جہاز راڈار پر نظر نہيں آتے چنانچہ يہ قبائلی علاقہ کے علاوہ دوسرے علاقوں کی بھی سروِلنس کرتے رہتے ہيں جو کہ ملک کے مفاد ميں نہيں
[قارئين کو ياد ہو گا کہ جولائی 2007ء ميں کاروائی کے دوران لال مسجد اسلام آباد کے اُوپر امريکی بغير پائلٹ کا ہوائی جہاز اُڑتا رہا تھا ۔ يہ بغير حکومتِ وقت کی اجازت کے کيسے ممکن تھا ؟]

موجودہ حکومت بجائے غلط طور پر دی گئی مراعات واپس ليتی اُلٹا اپنے مُلک کو خطرہ ميں ڈالتے ہوئے امريکيوں کيلئے ويزہ کے اجراء سے قبل ہونے والی انويسٹيگيشن کو ہی ختم کر ديا اور امريکا ميں پاکستانی سفارت خانے کو حُکم ديا کہ امريکيوں کو بلا توقف ويزے ديئے جائيں ۔ ايک خبر کے مطابق وسط 2010ء ميں موجودہ حکومت نے امريکا ميں پاکستان کے سفارتخانے کو لکھا کہ بغير کسی قسم کی تحقيقات اور تاخير کے امريکيوں کو ويزے جاری کئے جائيں جس کے نتيجہ ميں 500 امريکيوں کو چھٹی کے دن سفارتخانہ کھول کر 2 دنوں ميں ويزے جاری کئے گئے

سابقہ امريکی سفير اينی پيٹرسن نے وزيرِ داخلہ رحمٰن ملک کو خط لکھا کہ “انتر رِسک کے مقامی شراکت دار ڈئين کارپوريشن کو ممنوعہ اسلحہ کے لائسنس ديئے جائيں”۔ اس کے بعد اس نے وزارتِ داخلہ کے وزيرِ مملکت تسنيم قريشی کو لکھا جس ميں لائسنسوں کی 3 اقساط کی واضح ڈيڈ لائينز بھی دی گئيں جس کی وزير موصوف نے تابعداری کی ۔ 7 مئی 2009ء کو امريکی سفارتخانہ کے چارج ڈی افيئرز جيرالڈ ايم فِيئرشٹائن نے وزيرِ مملکت تسنيم قريشی کو لکھا کہ “134 ممنوعہ اسلحہ کے لائسنس انٹر رسک کيلئے ديئے جائيں ۔ 50 لائسنس فوری طور پر پھر 50 جون 2009ء ميں اور 34 جولائی 2009ء ميں

ايک ہفتہ کے اندر وزيرِ مملکت تسنيم قريشی کے پرسنل سيکرٹری نے ايک ٹاپ پرائی آريٹی [Top Priority] حکم نامہ جاری کيا کہ انٹر رسک کيلئے 50 ممنوعہ اسلحہ کے لائسنسوں کی منظوری وزير موصوف نے دے دی ہے ۔ يہ لائسنس 20 مئی تک جاری کئے جائيں

دريں اثناء ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو پوليٹيکل ايجنٹ بنوں کا ايک سرکاری خط ملا کہ 50 ويپنز ملک خانزادہ خان وزير نے تحفہ ديا ہے ۔ ظاہر ہے کہ يہ ويپنز امريکی سفارتخانے نے انٹر رسک کو ديئے تھے ۔ حکومت پاکستان کے کسی اہلکار کو معلوم نہيں کہ يہ ويپنز کہاں سے آ رہے ہيں

اُميد باندھيں تو کس سے ؟

خاور صاحب نے اپنے کائی تائی کی تفصيل بيان کرتے ہوئے تيل عليحدہ کرنے اور اسے نالی ميں جانے سے روکنےکی بات کر کے مجھے اپنی ملازمت کا زمانہ ياد کرا ديا ۔ بلاشُبہ وہی قوم ترقی کرتی ہے جو اپنے قوانين اور اچھے اصولوں پر عمل کرتی ہيں ۔ جاپان اس کی ايک عمدہ مثال ہے

عام زندگی ميں اور بالخصوص ملازمت کے دوران ميں نے ہميشہ اپنا فرض سمجھا اور اسے نبھانے کی پوری کوشش کی کہ اچھے بُرے جيسے بھی قوانين يا اصول ہوں اُن کی پابندی ۔ ميری کوشش رہی کہ دوسرے بھی قوانين اور اصولوں کے مطابق چليں مگر حوادثِ زمانہ نے سمجھايا کہ اصول صرف اپنے لئے رکھو اور دوسروں پر صرف حتی المقدور نافذ کرو ۔ اصول پسندی نے متعدد بار مجھے مادی نقصان پہنچايا ليکن ميں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی عنائت کردہ ميری اس عادت نے مجھے ہميشہ عزت بخشی ۔ اصولوں کی حالتِ زار جو ہمارے ملک ميں ہے اس کی چند وہ مثاليں جو خاور صاحب کی تحرير پڑھ کر مجھے ياد آئيں

ميں نے جب پروڈکشن منيجر ويپنز فيکٹری کی حيثيت سے جولائی 1969ء ميں چارج سنبھالا تو تمام ورکشاپس کا اندر باہر سے جائزہ ليا ۔ ايک ورکشاپ ميں ديکھا کہ ايک سينٹريفيوج خراب پڑا ہے ۔ بتايا گيا کہ اس ميں لوہے کی کترنيں ڈال کر چلايا جاتا تھا ۔ تيل نُچڑی کترنيں اور تيل جو نکلتا تھا عليحدہ عليحدہ سٹور ڈيپارٹمنٹ کے حوالے کر ديا جاتا ۔ اب کترنيں ايسے ہی پھينک دی جاتی ہيں ۔ ميں نے نئے بہتر سينٹيفيوج کيلئے ٹيکنيکل چيف سے بات چيت کر کے منظوری حاصل کی اور پيشکشوں کيلئے خط جاری کيا ۔ آرڈر کرنے سے قبل ميرے نئے باس آ گئے ۔ انہوں نے مجھے اس اہم کام سے نکال کر ورکشاپ کا انچارج لگا ديا اور ميری جگہ نيا ترقی پانے والا افسر لگا ديا [وجہ ميری اصول پسندی] ۔ بعد ميں سينٹريفيوج کو فالتو خرچہ سمجھ کر آڈر روک ديا ۔ مجھ سے پوچھنا گوارہ نہ کيا اور نہ سوچا کہ ٹيکنيکل چيف نے منظوری دی ہوئی ہے ۔ سال گزرنے کے بعد ورکشاپ کے باہر جو مالٹوں کے درخت لگے تھے وہ سوکھ گئے ۔ مجھے انکوائری کرنے کيلئے کہا گيا ۔ پتہ چلا کہ سينٹريفيوج آرڈر نہيں کيا گيا تھا اور تيل سے آلودہ کترنيں ايسے ہی پھنکی جاتی رہيں ۔ اُن کا تيل بہہ کر درختوں کی جڑوں ميں چلا گيا اور سب درخت سوکھ گئے ۔ اُس کے بعد ارد گرد کی ساری گھاس بھی سوکھ گئی ۔ اُس دن مجھے سمجھ آيا کہ “جڑوں ميں تيل دينا” کا کيا مطلب ہوتا ہے

جب 53 سال کی عمر ميں ريٹائرمنٹ لينے کے بعد مجھے واپس بلا کر ويلفيئر کا سربراہ تعينات کيا گيا تو ميرے ماتحت ايک فيکٹری بھی تھی جس ميں فرنس آئل کی ضرورت ہوتی تھی جو مجھ سے پہلے مارکيٹ سے خريدا جاتا تھا ۔ ايک تو اس تيل کا معيار گھٹيا تھا دوسرے مہنگا تھا تيسرے سپلائی کی ضمانت نہ تھی ۔ فيکٹری کا تجربہ ہونے کے باعث ميں جانتا کہ فيکٹريوں ميں بہت استعمال شدہ تيل ہوتا ہے ۔ ميں نے چيئرمين کانفرنس ميں تمام فيکٹريز کے سربراہان کے سامنے يہ سوال رکھا کہ وہ استعمال شُدہ تيل کا وہ کيا کرتے ہيں ۔ کسی کو کچھ معلوم نہ تھا ۔ اُن کی منظوری سے ميں نے بعد ميں اُن کے متعلقہ افسران سے رابطہ کيا تو معلوم ہوا کہ دو فيکٹرياں جو بہت زيادہ تيل استعمال کرتی ہيں ۔ ان ميں سے ايک ميں تيل ناليوں ميں بہا ديا جاتا ہے اور دوسری ميں زمين ميں گڑھے کھود کر اُن ميں ڈال ديا جاتا ہے ۔ جب ميں نے اُن کو قوانين دکھائے جو اُنہوں نے ديکھنے کی کبھی کوشش بھی نہ کی تھی تو مجھ سے مدد مانگنے لگے ۔ قانون کے مطابق يہ تيل ڈرموں ميں بھر کر سٹورز ڈيپارٹمنٹ کے حوالے کرنا تھا

ايک اليکٹرو پليٹينگ ورکشاپ تھی ۔ استعمال شدہ کيميکلز قانون کے مطابق سٹور ڈيپارٹمنٹ کے حوالہ کرنے تھے اور وہ ناليوں ميں اُنڈيلتے رہے جو کہ فيکٹری کے باہر چشموں کے پانی کے ندی ميں گرا دی گئيں ۔ اسی طرح ايک بہت بڑی ايکسپلوسِوز فيکٹری کا فضلہ بھی اسی ندی ميں دالا جاتا رہا ۔ نتيجہ يہ ہوا کہ وہ پانی جو کبھی شفاف ہوا کرتا تھا اور لوگ اس ميں نہايا کرتے تھے اتنا زہريلا بن گيا ۔ پرندے اُسے پی کر مرنے لگے

کسی نے کہا تھا “کونسی رَگ دُکھتی ہے ؟”
جواب مِلا “جہاں بھی اُنگلی رکھو وہی”

اِن شاء اللہ جموں کشمير جلد آزاد ہو گا

انشاء اللہ العزيز

سِتم شَعَار سے تُجھ کو چھُڑائيں گے اِک دن
ميرے وطن تيری جنّت ميں آئيں گے اِک دن
ميرے وطن ۔ ميرے وطن ۔ ميرے وطن

ہم کيا چاہتے ہيں ؟
آزادی آزادی آزادی

آج یومِ یکجہتیءِ جموں کشمیر ہے ۔ یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا

انتباہ ۔ کوئی کراچی یا اسلام آباد میں رہتا ہے یا پشاور یا لاہور یا کوئٹہ میں بالخصوص وہ جو جموں کشمیر کی جد وجہد آزادی میں کوشاں لوگوں کو انتہاء پسند یا دہشتگر کہتا ہے دماغ کی کھڑکی اور آنکھیں کھول کر پڑھ لے اور یاد رکھے کہ تحریک آزادی جموں کشمیر انسانی حقوق کی ایسی تحریک ہے جو نہ صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تین قرار دادوں اور جنرل اسمبلی کی کئی قرار دادوں کے مطابق ہے

اِن شاء اللہ اپنے پيدائشی حق کو حاصل کرنے کی جد و جہد ميں شہيد ہونے والوں کی قرنياں رائيگاں نہيں جائيں گی

رنگ لائے گا شہيدوں کا لہو
اور ظُلم کی تلوار ٹوٹے گی
جموں کشمير آزاد ہو کر رہے
اِن شاء اللہ اِن شاء اللہ

دہشتگرد صرف مسلمان ہوتے ہيں ۔ امريکا

زبان سے امريکی حکمران کچھ بھی کہتے رہيں اُن کا عمل پُکار پُکار کر کہہ رہا ہے کہ دہشتگرد قرار ديئے جانے کی پہلی اور سب سے اہم شرط مسلمان ہونا ہے

اگر کوئی غير مسلم شخص فائرنگ کر کے درجن بھر بے قصور انسانوں جن ميں کمسن بچے بھی ہوں کو ہلاک کر دے تو امريکا کے حکمران ہی نہيں عدالتيں بھی اُسے صرف ايکيلا واقعہ اور درجن بھر انسانوں کے قتل کو قاتل ذاتی اور وقتی فعل قرار ديتی ہيں

اگر کسی مسلمان کی فائرنگ سے کوئی امريکی مر جائے تو حقائق معلوم کئے بغير فوری طور فائرنگ کرنے والے کو دہشتگرد قرار ديا جاتا ہے اور اس کا تعلق القاعدہ سے جوڑ ديا جاتا ہے

تفصيل پڑھنے کيلئے مندرجہ ذيل موضوع پر کلک کيجئے

What makes Arizona’s killer just a loner, not a terrorist?

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ مثبت سوچ

یہ واقعہ شروع 1994ء کا ہے جب میں ڈائریکٹر پی او ایف ویلفیئر ٹرسٹ تھا ۔ دفتر کی صفائی وغیرہ کیلئے ایک آدمی کی ضرورت تھی جس کیلئے تنخواہ بہت کم رکھی گئی تھی ۔ اخبار میں اشتہار دیا گیا ۔ صرف تین اُمیدوار انٹرویو کیلئے آئے ۔ ان میں ایک چِٹا اَن پڑھ تھا

ایک نوجوان نے ملیشا کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی ۔ وہ ایف اے یعنی بارہویں پاس تھا ۔ اس کے بعد اس نے ٹائپنگ سیکھی تھی ۔ اور بنیادی کمپیوٹر اور ورڈ پروسیسنگ کورس کیا ہوا تھا ۔ اسے پوچھا کہ اتنی کم تنخواہ پر کیوں آ رہے ہو تو جواب دیا “میں آزاد جموں کشمیر کے ایک گاؤں سے ہوں ۔ یہاں ایک رشتہ دار نے مجھے اپنے گھر میں جگہ دے رکھی ہے ۔ میں ایک پھل والے کی ریڑھی پر آواز لگاتا ہوں ۔ جس دن وہ ریڑھی لگائے مجھے دس روپے دیتا ہے ۔ یہاں کچھ پیسے مل جائیں گے تو گھر بھیج سکوں گا

دوسرا تیس پنتیس سال کا تھا ۔ اچھی پتلون قمیض پہن رکھی تھی ۔ میں نے اُسے کہا ” آپ تو مجھے پڑھے لکھے اور اچھے عہدہ پر کام کرنے والے لگتے ہیں ۔ آپ یہاں کیسے ؟” اس نے جواب دیا “جناب آپ نے درست پہچانا ۔ میں نے سویڈش انسٹیٹوٹ سے الیکٹریکل سپروائزر کا ڈپلومہ کے بعد ایک کمپنی میں ملازمت کی پھر ایک کمپنی کے ساتھ متحدہ عرب امارات گیا اور وہاں کام کرتا رہا ۔ کام مکمل ہو جانے پر کمپنی واپس آ گئی ہے ۔ میں بال بچے دار ہوں فارغ بیٹھا اپنی جمع پونجی کھا رہا ہوں ۔ اس طرح تو جتنا بھی مال ہو ختم ہو جاتا ہے ۔ میرا گھر یہاں قریب ہی ٹیکسلا میں ہے ۔ میں اپنے بائیساکل پر آ جایا کروں گا ۔ آپ مجھے کچھ دیں گے ہی نا ۔ اتنا میری جمع پونجی کی بچت ہو جائے گی ۔ مجھے کوئی کام کرنے میں عار نہیں ۔ میں آپ کا پورا دفتر صاف کروں گا جھاڑو دوں گا ۔ آپ کو چائے پکا کر پلاؤں گا اور سب برتن دھوؤں گا ۔ کچھ اور بھی کوئی دفتر کا کام ہوا تو کروں گا”

Let Joe Do It

“Who will do it ?”
“Let Joe do it”
“But Joe is not yet born, then who will do it ?”

يہ مکالمہ مجھے اسلئے ياد آيا کہ ميں نے “ميں کيا جواب دوں” کے عنوان سے تمام قارئين سے درخواست کی تھی کہ اپنی تعميری تجاويز سے نوازيں ۔ مجھے يہ لکھتے ہوئے صرف افسوس ہی نہيں بلکہ دُکھ ہو رہا ہے کہ بڑھ چڑھ کر باتيں کرنے اور بلند پايہ تحارير لکھنے ميں ہم لوگ سب سے آگے ہيں ليکن ميری اس درخواست کو جو ميرا نہيں آج کے جوانوں اور آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے کسی نے قابلِ اعتناء نہ سمجھا ۔ ميرا خيال تھا کہ عبداللہ صاحب مُلک و قوم کے مُخلص خدمتگار اور خير خواہ ہيں وہ ضرور اپنی عمدہ قابلِ عمل رائے سے نوازيں گے مگر شايد وہ کسی اس سے بھی زيادہ اہم کام ميں ہمہ تن گوش رہے

البرٹ آئنسٹائن جس کی ہر بات کو ہمارے مُلک کی اکثريت ہيرے سے زيادہ قيمتی سمجھتی ہے نے کہا تھا

گناہ و جُرم کرنے والوں کی وجہ سے دنيا خطرناک نہيں بنی بلکہ اُن اچھے لوگوں کی وجہ سے خطرناک بنی ہے جو بُرائی کو ديکھتے ہيں اور اس کے سدِ باب کيلئے کچھ نہيں کرتے

کيا ميں يہ کہنے ميں حق بجانب نہيں ہوں گا کہ ہمارے ملک کی حالت ابتر بنانے ميں جوان نسل بھی برابر کی شريک ہے ؟

بلاگز پر بالخصوص تبصروں ميں کئی بار پڑھ چکا ہوں “ملک کی بہتری کيلئے وڈيرے ۔ سرداروں ۔ نوابوں اور موروثی حکمرانوں سے جان چھڑانا ضروری ہے ” اور يہ لکھنے میں عبداللہ صاحب پيش پيش ہوتے ہيں ۔ باتيں کرنا بہت آسان کام ہے اس کيلئے نہ تعليم کی ضرورت ہوتی ہے نہ عقل کی ۔ “حُکمران وڈيرے لُٹيرے” کا شور آئے دن اُٹھتا رہتا ہے مگر يہ شور کرنے والے خود ايک تنکا توڑنا بھی شايد اپنے آپ پر ظُلم سمجھتے ہيں ۔ جب تک عوام کچھ عملی قدم [توڑ پھوڑ کا نہيں صرف تعميری] نہيں اُٹھائيں گے کچھ نہيں بدلے گا اور حالات مزيد خراب اور ناقابلِ برداشت ہوتے جائيں گے ۔ قوميں تحمل اور بُردباری سے بنتی ہيں ۔ “فلاں جگہ آپريشن کرو” ۔ “فلاں جگہ مارشل لاء لگا دو” کے آوازے عقل اور حُب الوطنی سے عاری ہوتے ہيں

قوم کی بنياديں استوار کرنے کيلئے ذاتيات کو بھُلا کر اجتماعی جد وجہد سے کم کوئی نُسخہ نہيں ہے

وڈيرے اور لُٹيرے حکمرانوں سے چھُٹکارہ کيسے ؟

ميں نے پچھلے قومی و صوبائی انتخابات سے قبل ايک تحرير لکھی تھی جس ميں اس چھٹکارے کيلئے تجاويز ديں تھيں جو صرف ووٹرز کيلئے تھيں ۔ حالانکہ ميرا مشورہ غير جانبدارانہ اور خلوص پر مبنی تھا پھر بھی ميں کہہ سکتا ہوں کہ بلاگرز اور قارئين ميں سے بھی صرف چند ايک ہوں گے جنہوں نے ميرے مشورے پر عمل کيا ہو گا يا وہ خود پہلے سے ہی ايسا کرتے ہوں گے ۔ اگر ووٹر اس پر عمل کرتے تو آزمائے ہوئے لُٹيرے ہمارے حکمران بن کر آج ہمارے لئے سوہانِ روح نہ بنے ہوتے

ابھی چونکہ انتخابات ميں دوسال باقی ہيں اسلئے ميں اپنی متذکرہ تجويز کو مزيد مؤثر بنانے کيلئے تجويز دے رہا ہوں جس کيلئے عوام بالخصوص پڑھے لکھوں کی صدق دل اور صبر و تحمل کے ساتھ کوشش کی ضرورت ہے ۔ پہلے سب اپنے ساتھ عہد کريں کہ وہ اُس جماعت کا سياسی اور معاشرتی بائيکاٹ کريں گے جو ان اصولوں پر عمل پيرا نہيں ہو گی اور صرف اس جماعت کے نيک نام اُميدواروں کو ووٹ ديں گے جو ان اصولوں پر عمل کرے گی

مزيد پڑھنے سے پہلے ميری متذکرہ پرانی تحرير پڑھ ليجئے تاکہ بلاوجہ کے سوال دماغ کو پراگندہ نہ کريں

تمام لوگ اپنی اپنی جماعتوں کو انتخابات کے مندرجہ ذيل قوانين بنانے پر مجبور کريں

1 ۔ ہر سياسی جماعت کا باقاعدہ رجسٹر شدہ ايجنڈہ ہو جس پر عمل نہ کرنے والی جماعت پانچ سال کيلئے نا اہل قرار دی جائے

2 ۔ ہر سياسی جماعت مقررہ مدت [جو پانچ سال سے زيادہ نہ ہو] کے بعد اپنی جماعت کے ہر سطح کے انتخابات کرائے

3 ۔ انتخابات کی تاريخ سے 2 ماہ قبل اور انتخابی مُہم شروع ہونے سے پہلے مرکزی اور صوبائی حکومتيں اور اسمبلياں توڑ دی جائيں اور حکومت کا وقتی طور پر کام چلانے کيلئے مرکز ميں عدالتِ عظمٰی اور صوبوں ميں متعلقہ عدالتِ عاليہ آئين کے مطابق ايسے افراد مقرر کرے جو اس کام کے اہل ہوں ا ور ان کا کسی سياسی جماعت سے نہ تو تعلق ہو اور نہ وہ مستقبل ميں کم از کم پانچ سال تک کسی سياسی جماعت کے نمائندہ يا اُميدوار بنيں

4 ۔ انتخابات کی سياست ميں حصہ لينے والا سرکاری ملازم بشمول صدر اور گورنر ہر قسم کے قومی يا صوبائی عہدہ کيلئے نااہل قرار ديا جائے

5 ۔ انتخابی جلسہ ميں ہر اُميدوار اپنی جماعت کے ايجنڈہ کے تحت بات کرے ۔ دوسری جماعت کی برائی کرنا چاہے تو جس کی برائی کی جائے بات اس سياسی جماعت کے ايجنڈہ پر عمل نہ کرنے کی صورت ميں کرے يا ان کے ايجنڈہ پر تنقيد کرے ۔ يونہی کيچڑ اُچھالنے والے کے خلاف تاديبی کاروائی کی جائے

6 ۔ کسی اُميدوار کو سرکاری ٹرانسپورٹ يا کوئی اور سرکاری سہولت استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو ۔ ايسا کرنے والے اُميدوار پر پانچ سال انتخابات ميں حصہ نہ لينے کی پابندی لگا دی جائے

7 ۔ انتخابات کے دن کسی کو ذاتی يا سرکاری ٹرانسپورٹ پر ووٹرز کو لے جانے کی اجازت نہ ہو

8 ۔ ہر رجسٹر شدہ ووٹر کيلئے ووٹ ڈالنا لازمی ہو سوائے اس کے کہ وہ اتنا بيمار ہو کہ کسی صورت ووٹ نہ ڈال سکتا ہو

9 ۔ تمام ووٹرز کو سرکاری طور پر ٹرانسپورٹ مہياء کی جائے جس کے اخراجات اس حلقہ کے تمام اُميدوار برابر برابر قائم مقام حکومت کو پيشگی ادا کريں