جب فرانسسکو مِترا 1981ء ميں فرانس کا صدر بنا تو فرانس نے مصر سے درخواست کی کہ فرعون [Ramesses II ] کی حنوط شدہ لاش تعليمی تحقيق کيلئے اُنہيں دی جائے
فرعون کی حنوط شدہ لاش فرانس پہنچی تو آثارِ قديمہ اور علم الاعضاء کے ماہرين سائنسدانوں نے اُس پر تحقيق شروع کی جن کا سربراہ پروفيسر مَورِيس بُوکيل [Professor Maurice Bucaille] تھا ۔ پروفيسر مَوريس کو صرف يہ دلچسپی تھی کہ اس فرعون کی موت کيسے واقع ہوئی تھی ۔ تحقيق کے بعد سب سائنسدان اس نتيجہ پر پہنچے کہ نعش کی کھال ميں نمک کی زيادتی اس بات کا کھُلا ثبوت ہے کہ موت کی وجہ سمندر ميں ڈوبنا تھی جہاں گلنے سڑنے سے قبل نعش کو نکال کر محفوظ کيا گيا ہو گا ليکن ايک حقيقت پروفيسر مَورائس کو پريشان کر رہی تھی کہ يہ نعش باقی سب حنوط شدہ نعشوں سے بہت زيادہ صحيح حالت ميں کيوں ہے جبکہ يہ تو سمندر سے نکالی گئی جس کی وجہ سے اسے زيادہ خراب ہونا چاہيئے تھا
سائنسدان اپنی تحقيق مکمل کر چکے تو فرعون کی نعش مصر واپس بھيج دی گئی ۔ پروفيسر مَورائس اپنی اور اپنی ٹيم کی تحقيقات پر مبنی حقائق کتاب کی صورت ميں تيار کر رہا تھا تو وہاں کسی نے اُس سے کہا کہ “مسلمان دعوٰی کرتے ہيں کہ اُنہيں فرعون کے ڈوبنے اور اسے محفوظ کرنے کے متعلق کچھ معلوم ہے”۔ پروفيسر مَورائس نے اس کی سختی سے نفی کی اور کہا کہ “سائنسی ترقی ۔ ہائی ٹيک ليبارٹری اور کمپيوٹر کے بغير اس قسم کی کوئی بھی معلومات حاصل کرنا ناممکن ہے” ۔ پھر اُسے بتايا گيا کہ مسلمان قرآن نامی ايک کتاب ميں يقين رکھتے ہيں اور اس کتاب ميں فرعون کے ڈوبنے اور اس کی لاش کو انسانوں کيلئے نشانی بنانے کا ذکر ہے ۔ پروفيسر مَورائس بولا “يہ کس طرح ممکن ہے کہ 14 صدياں قبل لکھی گئی کتاب اُس نعش کی بات کرے جو 2 صدياں قبل ملی ۔ پروفيسر مَورائس سوچ ميں پڑ گيا “کيا يہ وہی شخص ہے انجيل کے مطابق جس نے موسٰی [عليہ السلام] کا پيچھا کيا تھا ؟ کيا يہ ممکن ہے کہ محمد [صلی اللہ عليہ و آلہ و سّلم] کو 14 صدياں قبل پتہ تھا ؟” پروفيسر مَورائس کی نيند حرام ہو چکی تھی ۔ اُس نے فيصلہ کيا کہ وہ سفر کرے اور جا کر عِلم الاعضاء کے مسلمان سائنسدانوں سے ملے ۔ جب اُس نے ايک مسلمان سائنسدان کے پاس جا کر اپنا سوال دہرايا تو بغير بولے وہ قرآن شريف اُٹھا لايا
سورت 10 ۔ يونس ۔ آيات 90 تا 92
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آ پکڑا تو کہنے لگا میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔ (جواب ملا) کہ اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا؟ تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کیلئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بےخبر ہیں
پروفيسر مَورائس نے جونہی مسلمان سائنسدان کی دکھائی ہوئی قرآن شريف کی آيت پڑھی وہاں موجود تمام لوگوں کو مخاطب کر کے بلند آواز ميں کہا
“ميں اسلام پر ايمان لاتا ہوں ميں قرآن پر ايمان لاتا ہوں”[سةبحان اللہ]
اس کے بعد وہ ملک واپس جا کر ايک دہائی تک قرآن شريف اور سائنس کا موازنہ کرتا رہا ۔ جو چيز قرآن شريف کے مخالف ہوتی اُسے رد کر ديتا ۔ آخر اس نے اپنا فيصلہ دے ديا
سورت 41 ۔ حٓم السجدہ [فُصلت]۔ آيات 41 و 42
جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا ۔ (وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں) یہ با وقعت کتاب ہے ۔ جس کے پاس باطل پھٹک نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے ۔ یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے
پروفيسر مَورائس نے ايک کتاب لکھی جس نے سارے يورپ کو ہلا کے رکھ ديا
“Quran, Torah, Bible and Science: A Study of the Holy Books in the Light of Modern Science”
مواد مہياء کرنے کيلئے ميں تحريم صاحبہ کا مشکور ہوں ۔ اللہ اُنہيں سدا خوش رکھے