Category Archives: روز و شب

احوالِ قوم ۔ مايوسی گناہ ہے

خواجہ الطاف حسين حالی صاحب نے مسلمانانِ ہِند کی حالتِ زار بيان کرنے کے بعد اُنہيں مايوس ہونے سے بچانے اور ترقی کی راہ پر چلنے کا راستہ بھی بتايا ۔ مسدسِ حالی کے اس حصہ کا نام ” ضميمہ ” ہے

بس اے نااُمیدی نہ یوں دل بُجھا تُو ۔ ۔ ۔ جھلک اے اُمید اپنی آخر دکھا تُو
ذرا نا امیدوں کی ڈھارس بندھا تو ۔ ۔ ۔ فسردہ دلوں کے دل آکر بڑھا تو
ترے دم سے مردوں میں جانیں پڑی ہیں ۔ جلی کھیتیاں تو نے سر سبز کی ہیں

بہت ڈوبتوں کو ترایا ہے تو نے ۔ ۔ ۔ بگڑتوں کو اکثر بنایا ہے تونے
اکھڑتے دلوں کو جمایا ہے تونے ۔ ۔ ۔ اجڑتے گھروں کو بسایا ہے تونے
بہت تونے پستوں کو بالا کیا ہے ۔ ۔ ۔ اندھیرے میں اکثر اجالا کیا ہے

نہیں فکر تو دل بڑھاتی ہے جب تک ۔ دماغوں میں بو تیری آتی ہے جب تک
یہ سچ ہے کہ حالت ہماری زبوں ہے ۔ عزیزوں کی غفلت وہی جوں کی توں ہے
جہالت وہی قوم کی رہنموں ہے ۔ ۔ ۔ تعصب کی گردن پہ ملت کا خوں ہے
مگر اے امید اک سہارا ہے تیرا ۔ ۔ ۔ کہ جلوہ یہ دنیا میں سارا ہے تیرا

ہم ترقی چاہتے ہيں ؟؟؟

آج بلکہ يوں کہنا چاہيئے کہ پچھلی کئی دہائيوں سے ہم لوگ مُلک و قوم کے دن بدن رُو بتنزل ہونے کا ہر محفل ميں رونا روتے ہيں ۔ تنزل کا مُوجب کوئی سياستدانوں کو قرار ديتا ہے تو کوئی فوجی آمروں کو اور کچھ ايسے بھی ہيں جو مُلا يا مُلا کے پڑھائے ہوئے اُن 18 فيصد افراد کو قرار موردِ الزام ٹھہراتے ہيں جنہوں نے مُلک ميں خواندگی کی شرح کو 17 سے 35 فيصد بنايا ہوا ہے ۔ آخرالذکر ميں اپنے کو زيادہ ذہين سمجھنے والےکچھ ايسے افراد بھی ہيں جو مروجہ بدحالی کا سبب دين اسلام کو قرار ديتے ہيں

ہموطنوں ميں پڑھے لکھوں سميت اکثريت کا يہ حال ہے کہ انہيں مطالعہ کا شوق نہيں ۔ وہ صرف نصاب کی کتب پڑھتے ہيں اسناد حاصل کرنے کيلئے اور بعض تو نصاب کی کُتب بھی پوری نہيں پڑھتے ۔ تعليميافتہ بننے يا اچھی عملی زندگی گذارنے کيلئے نصابی کُتب کے ساتھ ساتھ تاريخ ۔ معاشرتی اور معاشی علوم کا مطالعہ ضروری ہوتا ہے اور يہ عادت نمعلوم کيوں ہموطنوں کی بھاری اکثريت ميں نہيں ملتی ۔ ہماری قوم کی ريخت و ناکامی کا يہی بڑا سبب ہے

دُور کيوں جايئے ۔ پڑھے لکھے ہموطنوں کی بھاری اکثريت کو 6 دہائياں پرانی اپنے ہی مُلک کی تاريخ کا ہی عِلم نہيں تو اور کيا توقع کی جائے ۔ اسی لئے يہ لوگ شکائت کرتے ہيں کہ مُلک ميں کسی نے 64 سال سے کچھ نہيں کيا ۔ صرف معاشی پہلو ہی کو ديکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہماری دِگرگوں حالت ہموطنوں کی بلاجواز شاہانہ عادات کا نتيجہ ہے ۔ آج کے دور ميں کسی سرکاری دفتر ميں چلے جائيے اور صرف قلم اور کاغذ کے استعمال کا تخمينہ لگايئے ۔ پھر اس کا مقابلہ کيجئے اُن لوگوں کے طريقے سے جنہوں نے اس مُلک کو حاصل کيا اور ترقی کی راہ پر ڈالا تھا

ميں نے پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں يکم مئی 1963ء ميں ملازمت شروع کی ۔ مجھے اُس وقت کے سمال آرمز گروپ [جو 1967ء ميں ويپنز فيکٹری بنا] ميں تعينات کيا گيا ۔ سمال آرمز گروپ کے سربراہ ورکس منيجر تھے جن کے ماتحت ميرے سميت 2 اسسٹنٹ ورکس منيجر اور ايک سيکشن آفيسر ايڈمن تھے ۔ سيکشن آفيسر کے برابر عہدے کے 8 فورمين متذکرہ 2 اسسٹنٹ منيجرز کے ماتحت تھے پھر اُن کے ماتحت اسسٹنٹ فورمين ۔ چارجمين ۔ سپروائزر اور ورکمين وغيرہ تھے

ميں نے ديکھا کہ ہمارے دفاتر ميں کوئی ايسا کاغذ جس کے ايک طرف لکھا ہوا ہو اور اس کی ضرورت نہ رہی ہو تو اُسے ضائع نہيں کيا جاتا تھا بلکہ لکھائی پر صرف ايک کاٹا لگا کر اس کے دوسری طرف لکھنے کيلئے استعمال کی جاتی تھی ۔ اسی طرح جو لفافہ ڈاک ميں موصول ہو اُس پر جہاں پتہ لکھا ہوتا تھا ايک پرچی چپکا کر لفافہ دوبارہ استعمال کيا جاتا تھا ۔ کاغذوں کو نتھی کرنے کيلئے لوہے کے پِن کی بجائے کانٹے استعمال کئے جاتے تھے جو قريب ہی اُگے کيکر کے درخت سے اُتارے جاتے تھے ۔ ہماری فيکٹری ميں صرف ايک ٹائپسٹ تھا اور ايک ہی ٹائپ رائٹر اسلئے کئی خطوط نب ہولڈر يا پکی پنسل سے ہی لکھے جاتے تھے

گليوں اور سڑکوں پر لگی بتياں کوئی توڑتا نہيں تھا ۔ نہ کوئی دوسری املاک کو نقصان پہنچاتا تھا ۔ طلباء اور طالبات اپنی چھٹيوں کے دوران دشمن کے ہوائی حملے سے بچنے اور اس کے بعد پيدا ہونے والی صورتِ حال سے نپٹنے ۔ ابتدائی طبی امداد اور دوسرے فلاحی کورس کرتے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ معلوماتِ عامہ کے امتحاں پاس کرتے تھے

ہماری فيکٹری ميں سيکشن آفيسر ايڈمن 50 سالہ اشرف علی صاحب تھے جو 1947ء ميں وسط بھارت سے ہجرت کر کے آئے تھے ۔ چونکہ وہاں پر وہ سرکاری سيکرٹيريئٹ کے ملازم تھے اسلئے پاکستان پہنچنے پر اُنہيں کراچی ميں سيکرٹيريئٹ ميں ملازمت دی گئی ۔ وہاں سے 1953ء ميں اُن کا تبادلہ پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں ہوا تھا ۔ ميں نے اشرف علی صاحب کو ديکھا کہ ردّی کاغذ کی نلکی بنا کر ايک چھوٹی سی پنسل کے پيچھے لگا کر اسے لمبا کيا ہوا تھا کہ لکھنے کيلئے ہاتھ ميں آ سکے ۔ مجھے کام شروع کرنے کيلئے ايک ماہ کيلئے 2 پنسليں ملی تھيں ۔ ميرے پاس لکھنے کا کام کم تھا سو ميں نے ان ميں سے ايک اشرف علی صاحب کو پيش کی تو اُنہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ يہ کہا “بھائی ميں چند سال ميں ريٹائر ہونے والا ہوں اور اپنی عادت خراب نہيں کرنا چاہتا کہ ريٹائرمنٹ کے بعد مجھے صرف پنشن پر گذر کرنا ہے”۔

اس کے بعد اُنہوں نے جو کچھ کہا وہ دورِ حاضر کے ہموطنوں کو اگر ہوش ميں نہ لائے تو پھر وہ اسی کے مستحق ہيں جو کچھ آجکل ہو رہا ہے ۔ اور عمران خان تو کيا شايد کوئی فرشتہ بھی آ کر اس مُلک و قوم کو درست نہ کر سکے ۔ اشرف علی صاحب نے مجھے جو بتايا تھا اُس کا خلاصہ يہ ہے

“جب پاکستان بنا تو ہم سی پی سے لُٹے پُٹے کراچی پہنچے سرحد پر نام اور دوسرے کوائف درج کئے جاتے تھے سو ہم نے لکھوا ديا ۔ کچھ دن ہميں کراچی مہاجرين کيمپ ميں رکھا گيا ۔پھر جوں جوں ضرورت ہوتی آدميوں کو ان کی تعليم اور تجربہ کے مطابق چھوٹی موٹی ملازمت دے دی جاتی سو ہميں بھی سيکرٹيريئٹ ميں ملازمت مل گئی ۔ وہاں نہ کوئی کرسی تھی نہ کوئی ميز ۔ کچھ کاغذ جن کی ايک طرف کچھ لکھا تھا اور ايک پکی پنسل دے دی گئی ۔ ايک ساتھی جو پہلے سے موجود تھے اور ايک پيٹی [wooden crate] کو ميز بنائے بيٹھے تھے کہنے لگے کہ آج چھٹی کے بعد ميرے ساتھ چليں ۔ وہ چھٹی کے بعد مجھے کيماڑی لے گئے ۔ وہاں خالی پيٹياں پڑی تھيں ۔ ہم نے ايک چھوٹی اور ايک بڑی اُٹھا لی ۔ اگلے روز ہم دفتر ميں ميز لگا کر کرسی پر بيٹھے ۔ ہميں 3 ماہ تنخواہ پيسوں ميں نہيں ملی بلکہ چاول ۔ آٹا اور دال وغيرہ دے ديا جاتا تھا اور سب خوش تھے ۔ اپنا کام بڑے شوق اور انہماک سے کرتے تھے ۔ ايک دوسرے کا خيال بھی رکھتے تھے ۔ کسی کو کوئی پريشانی نہ تھی ۔ ہم پيدل ہی دفتر آتے جاتے تھے ۔ جن لوگوں کی رہائش دور تھی وہ صبح تڑکے گھر سے نکلتے تھے ۔ ہميں جو پنسل ملتی تھی اُسے ہم آخری حد تک استعمال کرتے تھے ۔ کوئی 6 ماہ بعد ہميں سياہی کا سفوف ۔ دوات ۔ نب اور ہولڈر مل گئے ۔ ليکن پکی پنسل ساتھ ملتی رہی کيونکہ نب سے کاپياں نہيں بن سکتی تھيں”۔

يہاں يہ ذکر بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان بننے کے بعد بھارت ميں گندم کی شديد قلت پيدا ہوئی تو مہاتما کرم داس موہن چند گاندھی نے پورے بھارت کا دورہ کيا اور خود آلو کی روٹی کھا کر عوام کو بھی آلو کی روٹی کھانے کی ترغيب دی تھی جو آج کی اُن کی ترقی کا پيش خيمہ ثابت ہوئی

ملک فيروز خان نون 1957ء ميں پاکستان کے وزير اعظم رہے ہيں ۔ اُن کا گھر ميں دفتر ايک چھوٹی سی ميز اور ايک کرسی پر مشتمل تھا جو اُنہوں نے اپنے سونے کے کمرے ہی ميں لگائی ہوئی تھی ۔ ايک دن ان کی بيوی بيگم وقارالنساء نون نے ذاتی خط لکھا اور اُسی ميز پر رکھ ديا ۔ جب وقت کے پاکستان کے وزير اعظم گھر آئے تو بيوی نے کہا يہ خط ڈاکخانے ميں ڈال آئيں
وزير اعظم نے پوچھا “يہ کاغذ کہاں سے ليا ہے ؟”
بيوی “آپ کی ميز سے”
وزير اعظم “اور يہ سياہی”
بيوی ” آپ کی ميز سے”
وزير اعظم غصے ميں” نہ يہ کاغذ تمہارے خاوند کا ہے اور نہ سياہی ۔ يہ دونوں بلکہ يہ دفتر وزيرِ اعظم پاکستان کا ہے ۔ اب يہ کمی پوری کرنا ہو گی”

کاش کہ تيرے دِل ميں اُتر جائے ميری بات

مصائب کا حل ؟

اگر انڈہ بيرونی طاقت سے ٹوٹے تو اس ميں زندگی کی اُميد نہيں رہتی

اگر انڈہ اندرونی طاقت سے ٹوٹے تو زندگی شروع ہوتی ہے

معاملہ ايک فرد کا ہو يا پوری قوم کا
ہميشہ اندر سے شروع ہونے والی تبديلی فعال ۔ مفيد اور پائيدار ہوتی ہے

معيشت کا سفر کِدھر کو ؟

حکمرانوں کے دعوے ديکھے جائيں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ملک دنيا کا سب سے زيادہ ترقی کی راہ پر چلنے والا مُلک ہے ۔ ماہرين معاشيات کہتے ہيں کہ کسی مُلک کی معيشت اور ترقی کی دليل يا مظہر اُس کے سکے [Currency] کی قدر ہوتی ہے ۔

اب جو حال ہے وہ تو سب جانتے ہيں ۔ ماضی کا ميرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ 1954ء ميں ميری پھوپھو صاحبہ حج کرنے گئيں تو وہ پاکستانی روپے لے کر گئی تھيں ۔ واپس آ کر اُنہوں نے بتايا تھا کہ سعودی عرب ميں 100 پاکستانی روپے کے 125 سعودی ريال ملتے تھے ۔ ميں 1967ء ميں مغربی جرمنی ميں تھا ۔ ميں نے پاکستانی 100 روپے ڈريسنر بنک ميں جا کر ديئے تو مجھے پونے 85 جرمن مارک ملے تھے۔ ان دنوں ايک جرمن مارک 60 روپے سوا 60 روپے کا ہے

ميں نے محنت اور وقت لگا کر مندرجہ ذيل نقشہ تيار کيا ہے جس ميں 1947ء سے 2009ء تک دکھايا ہے کہ مختلف سالوں ميں پاکستانی روپے اور بھارتی روپے کی قدر ايک امريکی ڈالر کے مقابلے ميں کيا تھی ۔ اور پاکستان ميں مختلف حکمرانوں کے تحت پاکستانی روپے کی حالت کيا رہی ۔ يہ نقشہ ہمارے مُلک کی معاشی حالت کا واضح بيان ہے
اس پر ذرا غور کيجئے اور ديکھيئے کہ 1947ء سے 1954ء تک يعنی 8 سال کوئی تبديلی نہ ہوئی
پھر 2 سالوں ميں روپے کی قيمت کم ہوئی يا امريکی ڈالر کی قيمت بڑھی
1957ء سے 1971ء تک يعنی 16 سال پھر کوئی تبديلی نہ ہوئی
1972ء اور 1973ء ميں حکومتِ وقت نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر پاکستانی روپے کی قيمت اتنی زيادہ گرا دی کہ اگر دسمبر 1971ء ميں پاکستانی روپيہ کی قيمت 100 پيسے تھی تو وہ 48 پيسے رہ گئی تھی ۔ اسی بنياد پر ديکھا جائے تو دسمبر 1971ء کے مقابلے ميں اب اُس روپيہ کی قيمت ساڑھے 5 پيسے سے بھی کم ہے

مالی سال ۔ حکمران ۔ پاکستانی روپے ۔ ۔ تبديلی ۔ ۔ ۔ فيصد تبديلی ۔ ۔ بھارتی روپے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سال ميں ۔ دورميں
1947 ۔ لياقت علی خان ۔ 3.3085 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3.3085
1948 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3.3085 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3.3085
1949 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3.3085 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3.6719
1950 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 3.3085 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1951 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3.3085 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619

1952 خواجہ ناظم الدين ۔ 3.3085 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619

1953محمد علی بوگرہ ۔ 3.3085 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1954 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3.3085 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 4.7619

1955چوہدری محمد علی 3.9141 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1956 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ 0.85 ۔ ۔ ۔ 21.66 ۔ ۔ ۔ 43.93 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619

1957 ۔ فيروز خان نون ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619

مالی سال ۔ حکمران ۔ پاکستانی روپے ۔ ۔ تبديلی ۔ ۔ ۔ فيصد تبديلی ۔ ۔ بھارتی روپے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سال ميں ۔ دورميں
1958 محمد ايوب خان ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1959 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1960 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1961 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1962 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1963 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1964 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1965 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619
1966 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 6.0504
1967 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7.5000
1968 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7.5000

1969 ۔ محمد يحیٰ خان 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7.5000
1970 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7.5000
1971 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4.7619 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7.4918

مالی سال ۔ حکمران ۔ پاکستانی روپے ۔ تبديلی ۔ ۔ ۔ فيصد تبديلی ۔ ۔ بھارتی روپے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سال ميں ۔ دورميں
1972 ذوالفقارعلی بھٹو 7.4955 ۔ ۔ ۔ 2.73 ۔ ۔ ۔ ۔ 57.41 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7.5815
1973 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9.9853 ۔ ۔ ۔ 2.49 ۔ ۔ ۔ ۔ 33.22 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7.7350
1974 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9.9000 ۔ منفی 0.09 ۔ منفی 0.85 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8.0977
1975 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9.9000 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8.3502
1976 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9.9000 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 107.90 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8.9598
ذولفقار علی بھٹو کے دور ميں اوسط سالانہ تبديلی ۔ 19.62 فیصد

1977 محمد ضياء الحق9.9000 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8.7371
1978 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9.9000 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8.1887
1979 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9.9000 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8.1245
1980 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9.9000 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7.8610
1981 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9.9000 ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8.6372
1982 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 11.7917 ۔ ۔۔ ۔1.89 ۔ ۔ ۔ ۔ 19.11 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9.4508
1983 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 13.1131 ۔ ۔ ۔ ۔ 1.32 ۔ ۔ ۔ ۔ 11.21 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 10.0955
1984 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 14.0273 ۔ ۔ ۔0.91 ۔ ۔ ۔ ۔ 6.97 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 11.3144
1985 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 15.9267 ۔ ۔ ۔1.90 ۔ ۔ ۔ ۔ 13.54 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 12.3546
1986 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 16.6335 ۔ ۔ 0.71 ۔ ۔ ۔ ۔ 4.44 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 12.6117
1987 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 17.3983 ۔ ۔ 0.76 ۔ ۔ ۔ ۔ 4.60 ۔ ۔ ۔ 75.74 ۔ ۔ ۔ ۔ 12.9590
محمد ضياء الحق کے دور ميں اوسط سالانہ تبديلی ۔ 6.89 فیصد

مالی سال ۔ حکمران ۔ پاکستانی روپے ۔ ۔ تبديلی ۔ ۔ ۔ فيصد تبديلی ۔ ۔ بھارتی روپے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سال ميں ۔ دورميں
1988 ۔ ۔ بينظير بھٹو ۔ ۔ 17.9923 ۔ ۔ 0.59 ۔ ۔ ۔ ۔ 3.41 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 13.8760
1989 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 20.5054 ۔ ۔ 2.51 ۔ ۔ ۔ ۔ 13.97 ۔ ۔ 17.86 ۔ ۔ ۔ ۔ 16.1987
بينظير بھٹو کے پہلے دور ميں اوسط سالانہ تبديلی۔ 8.93 فیصد

1990 محمد نواز شريف 21.7060 ۔ ۔ ۔ 1.20 ۔ ۔ ۔ ۔ 5.86 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 17.4927
1991 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 23.7561 ۔ ۔ ۔ 2.05 ۔ ۔ ۔ ۔ 9.45 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 22.2965
1992 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 25.0787 ۔ ۔ ۔ 1.32 ۔ ۔ ۔ ۔ 5.57 ۔ ۔ ۔ 22.30 ۔ ۔ ۔ ۔ 25.9012
محمد نواز شريف کے پہلے دور ميں اوسط سالانہ تبديلی ۔ 8.92 فیصد

1993 ۔ ۔ بينظير بھٹو ۔ ۔ 28.0098۔ ۔ ۔ 2.93 ۔ ۔ ۔ ۔ 11.69 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 30.3544
1994 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 30.5953 ۔ ۔ 2.56 ۔ ۔ ۔ ۔ 9.12 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 31.3737
1995 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 31.5990 ۔ ۔ ۔ 1.03 ۔ ۔ ۔ ۔ 3.38 ۔ ۔ ۔ ۔ 26.00 ۔ ۔ ۔ ۔ 32.3632
بينظير بھٹو کے دوسرے دور ميں اوسط سالانہ تبديلی ۔ 8.67 فیصد

1996 ۔ محمد نواز شريف 35.4198 ۔ ۔ ۔ 3.82 ۔ ۔ ۔ ۔ 12.09 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 35.4198
1997 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 41.0634 ۔ ۔ 5.64 ۔ ۔ ۔ ۔ 15.93 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 36.2879
1998 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 41.2050 ۔ ۔ 0.14 ۔ ۔ ۔ ۔ 0.34 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 30.40 ۔۔ ۔ ۔ ۔ 41.2050
محمد نواز شريف کے دوسرے دور ميں اوسط سالانہ تبديلی ۔ 8.68 فیصد

مالی سال ۔ حکمران ۔ پاکستانی روپے ۔ ۔ تبديلی ۔ ۔ ۔ فيصد تبديلی ۔ ۔ بھارتی روپے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سال ميں ۔ دورميں
1999 ۔ ۔ پرويز مشرّف ۔ ۔ ۔ 49.3596 ۔ ۔ 8.16 ۔ ۔ ۔ 19.80 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 43.0535
2000 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 53.5197 ۔ ۔ 4.16 ۔ ۔ ۔۔ 8.43 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 44.9069
2001 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 61.8781۔ ۔ ۔ 8.36 ۔ ۔ ۔ 15.62 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 47.1821
2002 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 59.7461 ۔ ۔ 12.56۔ ۔ ۔ 26.63 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 48.6263
2003 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 57.7507 ۔ منفی 2.00 ۔ منفی3.34 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 46.5647
2004 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 58.2459 ۔ ۔ ۔ 0.50۔ ۔ ۔ ۔ 0.86 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 45.3048
2005 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 59.5167 ۔ ۔ ۔ 1.27 ۔ ۔ ۔ ۔ 2.18 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 44.0863
2006 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 60.2638 ۔ ۔ 0.75۔ ۔ ۔۔ ۔ 1.26 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 45.2935
2007 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 60.7378 ۔ ۔ 0.47۔ ۔ ۔ ۔ 0.93 ۔ ۔ ۔ ۔ 47.40 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 41.2739
پرويز مشرف کے دور ميں اوسط سالانہ تبديلی ۔ 5.93 فیصد

2008 يوسف رضا گيلانی69.6486 ۔ ۔ 8.91 ۔ ۔ ۔ ۔ 14.67 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 43.2393
2009 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 81.6813 ۔ ۔ 12.03۔ ۔ ۔ ۔ 17.28 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 48.3688
2010 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 85.9500 ۔ ۔ 4.27۔ ۔ ۔ ۔ 5.23 ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 46.5791
2011 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 89.0000 ۔ ۔ ۔ 3.05۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3.55 ۔ ۔ ۔ 46.53 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 50.1000
يوسف رضا گيلانی کے دور ميں اوسط سالانہ تبديلی ۔ 11.63 فیصد

© 2009 by Prof. Werner Antweiler, University of British Columbia. Sources: IMF, World Bank, OECD, Own

عرضِ مصنف

افتخار اجمل بھوپال کی نہائت انکساری اور خلوص سے

عرض

يہ مختصر زندگی اک نعمتِ ربّانی ہے
آيئے اس کی کچھ مناسب تعظيم کريں
اسے تھوڑا تھوڑا دوسروں ميں تقسيم کريں

دعا

اے خدا ۔ جذبہءِ اِيثار عطا کر ہم کو
جو گفتار ہے وہ کردار عطا کر ہم کو

ايہہ پُتر ہٹاں تے

ايہہ پُتر ہٹاں تے نئيں وِکدے ۔ تُوں لَبھدی پھِريں بزار کُڑے
ايہہ سَودا نقد وی نئيں مِلدا ۔ تُوں لَبھدی پھِريں اُدھار کُڑے

سچ ہے کہ بيٹے نہ تو بِکتے ہيں اور نہ کہيں سے مُستعار ملتے ہيں
بيٹے گھر کے اندر ہی پيدا ہوں تو بات بنتی ہے ۔ عزت بنتی ہے ۔ عِفت قائم رہتی ہے اور دُشمن ڈرتا ہے

بيٹا کيا ہوتا ہے ؟

بيٹا وہ نہيں جو
غير لڑکی کو ديکھ کر لٹُو ہو جائے
پستول دکھا کر راہگير کو لُوٹ لے
دولت کی خاطر نشانہ لے کر بے قصور آدمی کو ہلاک کر دے
مسندِ حکومت پر بيٹھ کر قوم کے مال سے گلچھڑے اُڑائے
قوم کے نام پر اپنی تجورياں بھرے

بيٹا ہوتا ہے
ماں کی عظمت کا نشان
بہن کے فخر کا سامان
باپ کے حوصلے کا مقام
قومی غيرت کا پيغام
نظرياتی سرحدوں کا پاسبان
رات کی تاريکی کی بجائے دن کی روشنی ميں بر سرِ پيکار
اپنے لئے سہارا ڈھونڈنے کی بجائے خود دوسروں کا سہارا
کسی کی کوشش کا متمنی نہيں ۔ اپنی محنت پر بھروسہ کرنے والا
دھواں دار نعرے لگانے والا نہيں ۔ عمل اور کردار سے پہچانا جانے والا
اپنوں پر مہربان اور دُشمن کيلئے قہر

اگر کوئی ہے عزت کا خواہشمند ؟ اور عافيت کا طلباگار ؟

تو بن جائے
بيٹا قوم کی ہر ماں کا
بھائی قوم کی ہر بہن کا
مددگار قوم کے ہر باپ کا
محافظ قومی نظريہ کا
جانثار قوم کے وقار کا

زبانی نہيں عملی طور پر کہ زندگی کوئی تمثيل [drama] نہيں ہے بلکہ ايک اٹل حقيقت ہے جو تلخ ہے اور شيريں بھی

ايک بيٹا ميں نے بچپن ميں ديکھا تھا
سال 1947ء پنجاب اور قربِ جوار ميں جو علاقہ بھارت کا حصہ قرار ديا گيا ہے وہاں جہاں جہاں مسلمان اقليت ميں ہيں راشٹريہ سيوک سنگ ۔ مہا سبھا اور اکالی دَل کے مسلحہ جتھے اُن پر حملے کر رہے ہيں ۔ ايک ايسے ہی شہر ميں ايک محلہ ميں چند مسلمان گھرانے تھے ۔ اکالی دَل کے مسلحہ افراد ايک مکان کا دروازہ پِيٹتے ہيں ۔ يہ مسلمان خاندان مياں بيوی اور جوان بيٹے پر مشتمل ہے ۔ سربراہِ خانہ دروازہ کھولتا ہے تو
ايک گرجدار آواز آتی ہے “کڑے پہن لو ۔ ورنہ مرنے کيلئے تيار ہو جاؤ”۔
جوان بيٹا يکدم باپ کو پيچھے کر کے دروازے سے باہر نکل کر دروازہ بند کر ديتا ہے پھر
بازو ہوا ميں لہرا کر دہاڑتا ہے ” لاؤ اپنی بہن کی ڈولی اور پہناؤ مجھ کو کڑا”۔
ايک سکھ غصہ کھا کر نيزے کا وار کرنے آگے بڑھتا ہے
جوان عقاب کی طرح جھپٹ کر اُس سے نيزا چھين کر اُسے ڈھير کر ديتا ہے پھر دوسروں کی طرف بڑھتا ہے ۔ اکيلا مسلمان جوان پانچوں کے وار سہتا جاتا ہے اور جوابی وار کرتا جاتا ہے حتٰی کہ پانچوں ڈھير ہو جاتے ہيں اور ساتھ ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جوان خود بھی شہيد ہو جاتا ہے

جمہوريت بمقابلہ آمريت ۔ ايک عملی تصوير

ہم لوگ بڑے کرّ و فر سے اپنے جمہوری ہونے کا بيان داغتے ہيں اور سعودی نظامِ حکومت کو آمريت قرار ديتے ہوئے يہ بھی اعلان کرتے ہين کہ وہاں پاکستانيوں کے ساتھ بُرا سلوک کيا جاتا ہے

البتہ جب جمہوريت اور آمريت ميں عملی زندگی کا موازنہ کرتے ہيں تو آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے

بخشو ری بِلی ۔ چوہا لنڈورا ہی بھلا ۔ ۔ ۔ يعنی بخشو ری جمہوريت ۔ آمريت ہی بھلی

پاکستانی شہری فرمان علی خان نے نومبر 2009ء میں جدہ میں ہونیوالی طوفانی بارش کے باعث سیلاب میں گھرے 14افراد کی جان بچائی اور اپنی جان جان آفریں کے سپردکردی تھی ۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز نے فرمان علی کیلئے اعلان کردہ سعودی عرب کا اعلٰی ترین سول ایوارڈ ”کنگ عبدالعزیز میڈل“ اس کے والد عمر رحمان کوپیش کردیا
اس سے پہلے ایک سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ پر ہزاروں سعودی افراد نے جدہ کی سڑک کو فرمان علی خان کے نام سے منسوب کرنے کی مہم بھی چلائی تھی جس کے بعد شہید فرمان علی کے نام جدہ کی ایک شاہراہ بھی منسوب کردی گئی ہے
سوات سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ فرمان علی خان نے پسماندگان میں بیوہ اور 3 بیٹیاں زبیدہ ۔ مدیحہ اور جریرہ چھوڑیں ہيں ۔ وہ 6 برس تک سعودی عرب میں مقیم رہا اور صرف 2 بار پاکستان آيا تھا

ميں سعودی عرب 5 بار جا چکا ہوں ۔ پہلی بار مئی جون 1978ء ميں اور آخری بار دسمبر 2000ء جنوری 2001ء ميں ۔ حج ميں نے 1985ء ميں کيا جب ميرا قيام 40 دن رہا ۔ باقی 4 بار عمرے کئے اور ہر بار 15 دن قيام رہا ۔ جب حج پر گيا تھا تو مدينہ منورہ ميں قيام کے دوران ميں بيمار ہوا ۔ ميں پاکستان ہاؤس گيا جہاں يہ کہہ کر مجھے کوئی دوائی نہ دی گئی کہ “دوائياں ابھی پہنچی نہيں ہيں”۔ پھر مجھے او آر ايس کی تين پُڑياں دے کر کہا “رکھ لو کام آئيں گی”۔ ميں نے باہر نکل کر ديکھا تو ان کی معياد ايک سال قبل ختم ہو چکی تھی ۔ مجھے ٹيکسی ڈرائيور کہنے لگا ” آپ سعودی ہسپتال کيوں نہيں جاتے ؟” ميں نے بتايا کہ “کہتے ہيں وہاں پاکستانی حاجيوں کا علاج نہيں کرتے”۔ اُس نے ميری بات نہ مانی اور مجھے سعودی ہسپتال لے گيا ۔ ميں نے اندر جا کر چپڑاسی کو بتايا کہ ميں حج کرنے آيا ہوں ۔ اُس نے مجھے عليحدہ بٹھا ديا ۔ مريض جو ڈاکٹر کے پاس تھا باہر نکلا تو اُس نے عام مريضوں سے کہا “يہ عازمِ حج ہے اور زيادہ بيمار ہے اس لئے اسے ميں پہلے بھيج دوں ؟”۔ 3 مريض انتظار ميں تھے اُنہوں نے اثبات ميں سر ہلايا اور مجھے ڈاکٹر کے پاس بھيج ديا گيا ۔ اتفاق سے ڈاکٹر پاکستانی تھا ۔ کہنے لگا “ليبارٹری ٹسٹ اور نسخہ ميں لکھ ديتا ہوں ۔ آپ کو بازار سے کروانا اور بازار سے ہی دوائی لينا ہو گی ۔ جانے سے قبل باہر کھڑکی پر اس نسخہ کا اندراج کروا ديں”۔ ميں نے باہر کھڑي پر جا کر نسخہ دے کر کہا “اندراج کر ليں”۔ وہاں سعودی تھا ۔ اس پر مہر لگا کر کہنے لگا “ليبارٹری بند ہونے والی ہے جلد اندر جاؤ اور خون ٹيسٹ کيلئے دے کر ميرے پاس آؤ”۔ ميں گيا وہاں پر بھی سعودی تھا ۔ پوچھا “ارجنٹ ہے ؟” ميں نے ہاں ميں سر ہلايا تو بھاگ کر ايک جاتی ہوئی خاتون کو واپس لايا ۔ وہ پيٹھالوجسٹ تھی ۔ اُس نے ليبارٹری کا تالا کھولا ۔ اندر سے سامان نکال کر ميرا خون ليا اور مجھے کہ “چار پانچ بجے کے درميان آئين ۔ ليبارٹری تو بند ہو گی ۔ يہاں جو لڑکا ہو گا اُسے کہيں ڈاکٹر فلاں نے جو ٹيسٹ کيا تھا اُس کی رپورٹ دراز ميں ہے دے ديں”۔ اس کے بعد ميں پھر کھڑکی پر پہنچا اور نسخہ اسی سعودی کے حوالے کيا ۔ اُس نے مجھے ساری دوائياں دے ديں اور کہا “آپ کہاں خوار ہوتے ۔ کيا حرج ہے جو آپ کو دوائی دے دی جائے ۔ بہت دوائياں ہين ہمارے پاس”