Category Archives: روز و شب

Important Prepositionاہم حرفِ جار ۔

معاشیات کی کلاس میں طلباء نے مؤقف اختیار کیا کہ قوم صرف گِلرڈ براؤن کے کُلیئے کے مطابق مساوات پر عمل کر کے ترقی کر سکتی ہے

پروفیسر نے اگلے ٹیسٹ میں تمام طلباء کے حاصل کردہ نمبروں کو جمع کر کے طلباء کی تعداد پر تقسیم کر دیا ۔ ہر طالب علم کو گریڈ ”بی“ ملا اور سب پاس ہو گئے ۔ جنہوں نے کم محنت کی تھی وہ خوش ہوئے اور جنہوں نے زیادہ محنت کی تھی وہ پریشان ہوئے

دوسرے ٹیسٹ کیلئے جن طلباء نے کم پڑھا تھا اُنہوں نے اور بھی کم پڑھا اور جنہوں نے پہلے ٹیسٹ کیلئے زیادہ محنت کی تھی اُنہوں نے بھی کم محنت کی ۔ جس کے نتیجہ میں دوسرے ٹیسٹ میں سب کو گریڈ ”ڈی“ ملا جس سے کوئی بھی خوش نہ ہوا

تیسرے ٹیسٹ کی اوسط گریڈ ”ایف“ آیا ۔ نوک جھونک ۔ الزام تراشی حتٰی کہ گالی گلوچ ہوتی رہی مگر کوئی دوسرے کی خاطر محنت کرنے کو تیار نہ ہوا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سالانہ امتحان میں سب طلباء فیل ہو گئے

اس پر پروفیسر نے طلباء کو سمجھایا کہ سوشلزم صرف ایک نعرہ ہے اس پر عمل پیرا ہو کر قوم ترقی نہیں کر سکتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترمات و محترمان ۔ ہوشیار ۔ انتخابات ہو چکے ۔ نئی حکومت بن گئی ۔ مندرجہ ذیل فقرے یاد رکھیئے

1 ۔ حکومت کسی سے لئے بغیر کسی کو کچھ دے نہیں سکتی

2 ۔ ایسا قانون کوئی نہیں جس سے غریبوں کو خوشحالی اور امیروں کو بدحالی عطا کی جائے

3 ۔ محنت کرنے والے سے چھین کر محنت نہ کرنے والے کو دینے سے ترقی نہیں ہو سکتی

4 ۔ دولت ناحق تقسیم کرنے سے بڑھتی نہیں

5 ۔ جب عوام کو سمجھایا جائے کہ تمہیں حصہ سب کے برابر ملے گا تو کام چور سوچیں گے کہ دوسروں کا کمایا اُنہیں ملے گا اور محنت کرنے والے سوچیں گے کہ ان کی محنت کوئی اور چُرا لے گا تو یہ قوم کی تباہی کا پیش خیمہ ہو گا

6 ۔ قوم کی فلاح نعروں اور وعدوں میں نہیں ۔ فلاح اور ترقی کی بنیاد دیانت ۔ محنت اور عدل ہیں

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ دل

کسی ایسے آدمی کی خاطر
* * * * * اپنا آپ نہ کھویئے

جسے * * * * * * * * * *
آپ کے کھو جانے کی فکر نہ ہو

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ ساڑھے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔

بجٹ کون سا اچھا ؟ ؟ ؟

”بجٹ“ انگریزی ہے ”تخمینہ“ کی ۔ یعنی آمدنی اور خرچ کا تخمینہ ۔ میرے پاس اگر آمدنی ہو گی تو میں خرچ بھی کر سکوں گا ۔ پھر میں کس طرح سوچ سکتا ہوں کہ حکومت بغیر آمدنی کے خرچ کرے گی ؟ مجموعی طور پر کوئی بجٹ نہ بُرا ہوتا ہے نہ اچھا ۔ اسے اچھا یا بُرا اس کا نفاذ اور تکمیل بناتے ہیں جس میں سب سے اہم عنصر عوام ہیں جن میں صنعتکار ۔ تاجر ۔ ٹھیکیدار ۔ دکاندار اور سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین شامل ہیں

بات چند سو چند ہزار یا چند لاکھ کی نہیں بلکہ میرے وطن کے کروڑوں باسیوں کی ہے جو پچھلی 4 دہائیوں سے اپنی سوچ کو سُلا کر دولت جمع کرنے کی دوڑ میں لگے ہیں اور اُنہیں احساس نہیں کہ وہ بدعنوانی (corruption) میں ملوّث ہو رہے ہیں

شروع میں کم از کم بدعنوانی کو بُرا سمجھا جاتا تھا ۔ پھر دور آیا جنرل پرویز مشرف کا جس نے اقتدار سنبھالتے وقت کرپشن کے خاتمے کے بلند بانگ دعوے کئے ۔ مگر پھر اپنی کرسی کے لئے سب قربان کر دیا ۔ کرپشن کا پھل لاکھوں گھرانوں تک پہنچنے لگا اور کرپشن کو بُرا سمجھنے کا رجحان بھی معاشرے سے ناپید ہوتا گیا۔ پچھلے پانچ سالوں میں قومی دولت کو بے دریغ لُوٹا گیا ۔ مُلک اندھیروں میں ڈوب رہا تھا اور بجلی پیدا کرنے کیلئے شروع کئے گئے منصوبوں جن میں نندی پور اور چیچوکی ملیاں بھی شامل ہیں کے اربوں روپوں سے حکمرانوں نے اپنی جیبیں بھریں ۔ یہاں تک کہ حکمرانی کے آخری 3 دنوں میں دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے مُختص رقم کے اربوں روپے اُڑا لئے ۔ ہر سطح پر بدعنوانی کو ذاتی استحقاق اور اسلوبِ کار بنا دیا گیا

سڑکوں پر دوڑتی پھرتی بیش قیمت گاڑیوں ۔ لاکھوں کی تعداد میں موٹرسائیکلوں اور دن بدن عام ہوتی ڈیزائنر شاپس اور مہنگے ترین ریستورانوں کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بدعنوانی خاص و عام کا دستورالعمل بن چکی ہے ۔ دفاتر میں چند منٹ کے انتظار سے بچنے کیلئے اچھے خاصے پڑھے لکھے ”شکل سے شریف“ آدمی جائز کام بھی رشورت دے کر کرواتے ہیں ۔ ناجائز کام کروانے والوں نے دفاتر اور اداروں میں ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ جائز کام کیلئے بھی چائے پانی کے نام سے رشوت مانگی جاتی ہے ۔ سرکاری اداروں ہی میں نہیں پرائیویٹ اداروں میں بھی رشوت اور بدعنوانی کا ڈیرہ ہے

کہا جاتا ہے کہ حکمران بدعنوان ہیں ۔ اگر سیاستدان بدعنوان ہیں اور بدعنوانی کے ذمہ دار ہیں تو سوال یہ ہے کہ عوام بار بار انہیں ووٹ دے کر منتخب کیوں کرتے ہیں ؟ اپنے تئیں دانشور سمجھنے والے کہتے ہیں کہ عوام جاہل ہیں اسلئے درست فیصلہ کرنے کی قوت نہیں رکھتے مگر یہ دلیل بے معنی ہے ۔ جو عوام برسرِ عام سیاستدانوں کو بدعنوان کہتے پھرتے ہیں وہ ووٹ ڈالتے ہوئے اپنا مؤقف کیوں بھول جاتے ہیں ؟

حکومت کوئی بھی آئے ۔ حکمران کوئی بھی ہوں جب تک ہم عوام اپنا قبلہ درست نہیں کریں گے اور اپنی ذاتی خواہشات کیلئے جو ہیرا پھیریاں اور لاقانونیاں کی جاتی ہیں اُنہیں نہیں چھوڑیں گے کچھ بہتر نہیں ہو گا ۔ اللہ کا فرمان اٹل ہے

سورت 13 الرعد آیت 11 إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ ( اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے)

سورت 53 النّجم آیت 39۔ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی ۔ ( اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی)

لازم ہے کہ ہم سب جذباتیت اور دوسروں کی عیب جوئی کو چھوڑ کر معاشرہ کی اصلاح کیلئے کوشش کریں اور اس سے پہلے اپنی اصلاح کریں ۔ اس کے بغیر کوئی بہتری نہیں آئے گی

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ تلاش

گڈ مڈ ہجوم میں سے سادگی تلاش کیجئے
اور
بے آہنگی میں سے مطابقت تلاش کیجئے

یاد رکھیئے کہ
بہترین موقع یا مناسب وقت مشکلات ہی کے دوران ملتا ہے

جذباتی نعروں اور دوسروں کی عیب جوئی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا

طرزِ عمل

جنگ ہمیشہ آدمیوں کے درمیان ہوتی ہے ۔ جذبے یا تصوّر کو نہ تو ہلاک کیا جا سکتا ہے اور نہ یرغمال بنایا جا سکتا ہے

مُشکل دور عقدہ کُشائی مانگتا ہے نہ کہ نہ ختم ہونے والی مُشکلات کی تکرار

جو یقین رکھے کہ وہ بچ نہیں سکتا ۔ عام طور پر نہیں بچتا

کیا نیکی ابھی بھی زندہ ہے ؟

آدمی کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے واقعات ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی اور لمحہ بھر کیلئے ہوتے ہیں مگر یاد رہ جاتے ہیں

واقعہ
دس بارہ سال قبل میں اور چھوٹا بھائی راولپنڈی میں کچھ سودا سلف لینے گئے ۔ پرانی سبزی منڈی کے باہر بازار تلواڑاں میں ہم نے کار کھڑی کی اور پرانی سبزی منڈی میں داخل ہوئے ۔ ہم جا رہے تھے کہ ایک کار پیچھے سے آئی ۔ سب حیران ہو کر دیکھ رہے تھے کہ کار کیوں اس بھیڑ والے بازار میں آئی ہے ۔ چھابڑی والوں کو مشکل پڑی تھی ۔ چلانے والا نوجوان تھا اور گو آہستہ مگر کار کو دھنساتا ہی چلا جا رہا تھا ۔ میں ایک دم ایک طرف ہوا مگر اس نے خیال نہ کیا اور پہیہ میری ٹانگ سے ٹکرایا ۔ دوسری طرف چھابڑی تھی جس سے میری ٹانگ زخمی ہو گئی ۔ میں ٹانگ کو دیکھ رہا تھا کہ نوجوان نے کار کا شیشہ کھول کر کہا “اندھے ہو ۔ نظر نہیں آتا”۔ میں نے اس کے گال پر تھپڑ جڑ دیا ۔ کچھ دیر بعد ایک سفید ڈاڑھی والے صاحب نے آ میرا راستہ روکا اور بولے ” تم کون ہوتے ہو میرے بیٹے کو تھپڑ مارنے والے ۔ میں تمہیں مزا چکھاتا ہوں”۔ میرا بھائی بیچ میں آ گیا ۔ کچھ لوگ جوشاہد تھے وہ بھی بیچ میں آ گئے تو میں بچ گیا

وہاں سے ہم دوسرے بازار میں چلے گئے اور ایک دکان سے خریداری کر رہے تھے کہ وہی سفید داڑھی والے صاحب آئے اور معافی مانگتے ہوئے بولے ” مجھ سے غلطی ہوئی ۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے بیٹے کی گاڑی نے آپ کو ٹکر ماری تھی ۔ میں نے بیٹے سے پوچھا کہ ” اُنہوں نے تمہیں کیوں تھپڑ مارا ؟ تواس نے بتایا ۔ مجھے معاف کر دیجئے ۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا”۔

واپسی پر ہم دونوں بھائی کہہ رہے تھے کہ نیکی ابھی زندہ ہے

اُلجھن سے نکلیئے

آزادی کا مطلب جو چاہو سو کرو نہیں ہے ۔ آزادی کا مطلب دستِ نگر نہ ہونا ہے

ایک حکومت بننے سے آزادی کی ضمانت نہیں مل جاتی اور نہ ہی کوئی بہتری از خود آتی ہے ۔ بہتری کیلئے خلوصِ نیت سے لگاتار محنت ضروری ہے

کسی کو قصور وار ٹھہرانے کا فیصلہ اور مسئلے کا حل ایک ہی چیز نہیں ہیں ۔ مسئلے کا حل اپنے بہتر عمل اور دوسروں کی بہتری کی طرف مدد میں ہے

ہم قوم کو سُست ۔ بیوقوف یا کرپٹ ہونے پر بُرا کہتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم خود بھی اس میں شامل ہیں