Category Archives: روز و شب

مقامِ توبہ

اگر کسی بڑے پر مصیبت آئے ۔ خواہ وہ اپنا دُشمن ہی کیوں نہ ہو ۔ تو توبہ کرنا چاہیئے اور اللہ سے معافی طلب کرنا چاہیئے کیونکہ کچھ عِلم نہیں ہوتا کل کو کیا ہونے والا ہے

غداری کا مقدمہ چلانے کیلئے اسلام آباد میں قائم خصوصی عدالت سابق سربراہ فوج اور سابق صدر کو یکم جنوری 2014ء کو عدالت میں پیش ہونے کا کہا تھا لیکن حاضر نہیں ہوئے تھے جس پر 2 جنوری 2014ء کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہونے کی تاکید کی گئی تھی
آج صبح جب اُن کیلئے سکیورٹی فورسز کی بہت بھاری نفری کے درمیان وہ گھر سے چلے تو راستہ میں اُنہیں دل کا دورہ پڑا ۔ اُنہیں عدالت پہنچانے کی بجائے ہسپتال پہنچانا پڑا ۔ خبر کچھ یوں ہے

عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل انور منصور خان سے دریافت کیا کہ پر ویز مشرف کہاں ہیں؟
انور منصور خان نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی سے معلوم کیا جائے
خصوصی عدالت کے استفسار پر ڈی آئی جی سیکیورٹی اسلام آباد جان محمد کا نے بتایا کہ پر ویزمشرف راستے میں تھے انھیں دل کی تکلیف ہوئی اور انہیں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی ) منتقل کر دیا گیا ہے

ذرائع کے مطابق سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی اہلیہ بیگم صہبامشرف اے ایف آئی سی پہنچ گئی ہیں اور ان کی بیٹی کو بھی کراچی سے اسلام آباد بلا لیاگیا۔ سابق صدر اب تک ہوش میں نہیں آئے ہیں۔ ڈاکٹرز کی ٹیم ان کا طبی معائنہ کررہی ہے جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ انہیں بیرون ملک منتقل کیا جائے یا پاکستان میں ہی علاج کیا جائے

سدا نہ مانیئے حُسن جوانی ۔ ۔ ۔ سدا نہ صحبت یاراں
سدا نہ باغِیں بُلبُل بولے ۔ ۔ ۔ سدا نہ رہن بہاراں
دُشمن مرے تے خوشی نہ کریئے ۔ ۔ ۔ سجناں وی ٹُر جانا

بجلی چور ہوشیار باش

صدر ممنون حسین نے ایک آرڈیننس کی منظوری دی ہے جس کے تحت پورے ملک میں گھریلو اور تجارتی صارفین کو بجلی چوری کے الزام میں 10 لاکھ سے ایک کروڑ (ایک ملین سے 10 ملین) روپے جرمانہ اور 2 سے 7سال قید بامشقت کی سزا دی جائے گی ۔ آرڈیننس کا مسودہ وزارت پانی و بجلی نے تیار کیا تھا۔ صدر نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آرڈیننس کی منظوری دی ہے ۔ ملک میں بجلی چوروں کو سزا دینے کے لئے پہلی بار قانون نافذ کیا گیا ہے

جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو

ہمارے ہاں عام تاءثر یہی ہے کہ پڑھائی کی بنیاد اور عقل کی نشانی انگریزی ہے ۔ ایک سیاسی لیڈر نے زندگی کا بہتر حصہ ولائت میں گذارا تھا اور شادی بھی ولائتی گوری سے کر کے گویا سونے پر سوہاگہ مل دیا تھا ۔ اُس نے لاہور سونامی کو اپنا رہبر بنایا ۔ اس کی چکا چوند نے بہت لوگوں کی نظروں کو خیرا کر دیا ۔ عوام پیچھ چل پڑی ۔ ہر طرف بالخصوص فیس بُک پر خان خان بلا بلا ہونے لگا ۔ لیڈر صاحب بھی موج میں آ کر سمجھ بیٹھے بلکہ اعلان کر بیٹھے کی پاکستان کا اگلا وزیرِ اعظم وہی ہوں گے ۔ جب انتخابات ہوئے تو سارے خواب چکنا چور ہو گئے

وزارتِ عُظمٰی ہاتھ سے گئی تو احتجاج کا دامن ایسا پکڑا کہ چھوڑنے کا نام نہیں لیتے ۔ ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں افغانستان کو جانے والے ٹرکوں کے راستہ میں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک دھرنا دیتے ہیں جسے چِلّہ ہونے کو ہے ۔ سُنا ہے کہ باقی راستوں سے تو ٹرک معمول کے مطابق جا رہے ہیں اور خیبر پختونخوا میں سے بھی رات کے وقت جاتے ہیں ۔ خیبر پختون خواہ کے وزیرِ اعلٰی صاحب نہیں جانتے کہ وزیرِ اعلٰی وفاق کا نمائیندہ اور وفاق کے ماتحت ہوتا ہے اور اس لحاظ سے وہ آئین کی خلاف ورزی کے مُرتکب ہو رہے ہیں

لیڈر صاحب جس جمِ غفیر کو لے کر چلے تھے سمجھتے رہے کہ شاید اُن سب کی ڈور انہی کے ہاتھ میں ہے ۔ سینہ تان کے آگے آگے چلتے رہے اور لوگ اپنے اپنے دھندوں کی طرف رخصت ہوتے رہے ۔ سُنا تھا کہ ”اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے“۔ لیکن شاید یہ ضرب المثل ولائت میں نہیں پڑھائی جاتی اسلئے لیڈر صاحب کے عِلم میں نہ تھی ۔ ترنگ میں مہنگائی کے خلاف دُشمن کے گڑھ لاہور میں جلوس جلسہ کی ٹھان لی ۔ جب سردی سے کچھ زیادہ ہی سُکڑا ہوا جلسہ دیکھا تو جوش میں کہہ دیا ”خیبر پختونخوا کی بجلی سپلائی کی کمپنی خیبر پختونخوا کی حکومت کے حوالے کر دی جائے تو ہم سب ٹھیک کر دیں گے“۔ بُرا ہو میڈیا کا کہ جھٹ پٹ بات دشمن کو پہنچا دی ۔ بجلی اور پانی کے وزیر کا جواب آیا ”بصد شوق لیجئے“۔ 29 دسمبر کو وزیرِ اعظم نے بھی اس کی منظوری دے دی

اب لیڈر صاحب کے چیلے کہتے پھر رہے ہیں کہ خان صاحب نے تو کہا تھا کہ بجلی کی پیداوار کا محکمہ خیبر پختونخوا کی حکومت کے حوالے کیا جائے ۔ وزیرِ اعلٰی خیبر پختونخوا نے فرما دیا ہے ”وزیرِ اعظم ہمارے ساتھ مذاق نہ کریں ۔ یہ تو پہلے ہی آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے مطابق ہمارا حق ہے ۔ ہمیں جنریشن اور ڈسٹریبیوشن بھی دی جائے“۔ محترم نے شاید آئین کا مطالعہ کرنے کی تکلیف گوارہ نہیں کی ۔ اٹھارویں ترمیم کے مطابق وفاق کسی صوبے کو اپنے کوئی اختیارات تفویض کر سکتا ہے ۔ یہ نہیں لکھا کہ بجلی کمپنی صوبے کو دے دی گئی ۔ خیر ۔ وہ جو چاہے کہتے رہیں بادشاہ ہیں ۔ بلاول بھی تو بہت کچھ کہتا ہے

مگر میں اس سوچ میں پڑا ہوں کہ اگر بجلی اور پانی کے وزیر نے کہہ دیا ”وہ بھی لے لیجئے“ تو لیڈر صاحب پھر کیا کریں گے ؟ میں ڈر رہا ہوں کہ کہیں لیڈر صاحب اپنے دل کی بات کہہ اُٹھے کہ ”وزارتِ عظمٰی مجھے دے دیں تو میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا“۔
اگر خدا نخواستہ ایسا ہو گیا تو یہ ملک نہ تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہے جو کبھی کپتان اور کبھی پی سی بی کے رحم و کرم پر ہوتی ہے اور نہ لوگوں کی زکٰوۃ اور خیرات پر چلنے والا شوکت خانم میموریل ہسپتال
کہیں ملک کو چلاتے چلاتے خدا نخواستہ چلتا ہی نہ کر دیں

جَل تُو جلال تُو آئی بلا کو ٹال تُو

ملک کو اسلامی نظریہ سے علیحدہ کرنے کی سازش کا انکشاف

پاکستان کو اسلامی نظریہ سے علیحدہ کرنے کے لئے بابائے قوم محمد علی جناح کی جانب سے معاشرے کو مُلک کے نظریئے کے مطابق اسلامی بنانے کی خاطر تشکیل دیئے گئے محکمہ برائے اسلامی تنظیم نو (ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن) کو بابائے قوم کے انتقال کے فوراً بعد بند اور اس کا ریکارڈ ضائع کردیا گیا تھا

پنجاب کے سیکریٹری آرکائیوز نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد قائد اعظم نے اپنے پہلے ایگزیکٹو اقدام کے طور پر ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن قائم کرنے کے لئے احکامات دیئے تھے جس کا واحد مقصد مُلک کی کمیونٹی کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تنظیم نو کرنا تھا لیکن ان کے انتقال کے فوراً بعد ہی اس محکمہ کو بند کردیا گیا تھا۔ سیکریٹری آرکائیوز () اوریا مقبول جان نے کہا کہ وہ جلد ہی مُلک کی اعلیٰ قیادت کو پاکستان کے خلاف اس سنگین سازش سے آگاہ کریں گے

سرکاری دستاویز میں اس محکمہ کے جو اغراض و مقاصد بتائے گئے ہیں وہ یہ ہیں ۔
اسلامی تعلیمی نظام
اسلامی قانون اور معاشرتی تنظیم نو
اسلامی معیشت
شہری اخلاق
یہ وہ چار شعبہ جات تھے جو قرآن اور سنت کی روشنی میں اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے طے کئے گئے تھے۔ سیکریٹری اوریا مقبول جان نے کہا کہ اس ڈپارٹمنٹ کا سربراہ علامہ محمد اسد کو بنایا گیا تھا لیکن قائد اعظم کی رحلت کے بعد اس وقت کے قادیانی وزیر خارجہ ظفراللہ خان نے علامہ کا تبادلہ کردیا اور انہیں امور خارجہ سے وابستہ ملازمت دیدی۔ اوریا مقبول جان نے بتایا کہ علامہ اسد کے جانے کے بعد ڈپارٹمنٹ کو بھی ختم کردیا گیا۔ بعد میں 1948ء میں پُراسرار انداز سے محکمہ کی عمارت میں آگ لگ گئی اور پورا ریکارڈ تباہ ہوگیا۔ اوریا نے کہا کہ یہ ملک کو قائد اعظم کی بصیرت کے مطابق اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے خلاف ایک سازش تھی

انہوں نے مزید بتایا کہ اپنی سوانح عمری ”یورپی بدو“ میں علامہ محمد اسد نے لکھا تھا کہ کس طرح اچانک ان کا ملازمت سے تبادلہ کیا گیا۔ علامہ اسد نے بھی سازش کے متعلق باتیں لکھی ہیں۔ سیکریٹری آرکائیوز اوریا مقبول کی جانب سے دی نیوز کو دی جانے والی سرکاری دستاویز کی نقل کے مطابق اس محکمہ کے جو اغراض و مقاصد بتائے گئے ہیں ان میں لکھا ہے کہ کئی قربانیوں اور غیر معمولی مشکلات کے نتیجے میں پاکستان کے قیام کے بعد قائد اعظم چاہتے تھے کہ ملک کو اسلامی طریقہ کار کے مطابق چلایا جائے اور وہ پاکستان کے قیام کو سفر کا اختتام نہیں سمجھتے تھے۔ دستاویز میں لکھا ہے کہ ”پاکستان کے متعلق کہا گیا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کے قیام کو نہیں روک سکتی اور ایسا ہوا بھی لیکن کئی مشکلات اور مسائل کے خاتمے کے لئے ابھی بہت کوشش کرنا باقی ہے اور اس کے لئے ہمیں اپنے نظریہ کی ریاست قائم کرنا ہوگی یعنی کہ ایک ایسی ریاست بنائیں گے جہاں اسلامی اصولوں کے تحت نظام حکومت تشکیل دیا جائے گا۔ کئی برسوں کی غلامی اور رسوائی کے بعد یہ کام آسان نہیں ہے کیونکہ اسی وجہ سے ہماری طاقت اور سماجی سطح پر حوصلہ کمزور ہوا ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے حصول کے لئے ہماری جدوجہد کا محور نظریاتی پلیٹ فارم رہا ہے۔ ہم یہ کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ ہم اسلامی استقامت کی وجہ سے بحیثیت مسلم ایک قوم ہیں، ہمارے لئے مذہب صرف ایک عقیدہ یا اخلاقی قواعد نہیں ہے بلکہ عملی رویہ کا ایک مجموعہ قانون بھی ہے۔ تقریباً تمام دیگر مذاہب کے برعکس، اسلام کا تعلق صرف روحانیت سے نہیں بلکہ یہ ہماری طبعی زندگی کو بھی ترتیب دینے کے لئے ہے۔ قرآن میں بتائی گئی اسکیم کے مطابق اور حضور پاکﷺ کی زندگی کی مثال سے انسانی بقاء کے تمام پہلوئوں کو زیر غور رکھا جاتا ہے جسے ہم انسانی زندگی کہتے ہیں۔ لہٰذا ہم صرف اسلامی عقائد کو اپنے پاس رکھ کر اسلامی زندگی نہیں گزار سکتے۔ ہمیں اس سے کہیں زیادہ کرنا ہوگا۔ اسلام کے تحت ہمیں رویہ، انفرادیت، سماجی رکھ رکھاؤ کو بھی اسی انداز میں ڈھالنا ہوگا“۔

ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن کی دستاویزات میں پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی راہ میں ممکنہ رکاوٹوں کا بھی ذکر موجود ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ یقیناً، خالصتاً ثقافتی اور نسلی بنیادوں پر قوم پرستی کے نظریات پر عمل پیرا دنیا کے درمیان نظریاتی ریاست کا تصور بالکل منفرد ہے تو ایسے ماحول میں جہاں پوری دنیا ایسے ممالک کو جدید اور پسندیدہ کہتی ہے ایسے میں زبرست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ ہمارے دور کے لوگوں کی اکثریت نسلی وابستگی اور تاریخی روایات کو قومیت کی واحد قانونی حیثیت کے طور پر دیکھتے آئے ہیں۔ دوسری جانب ہم نظریاتی کمیونٹی، ایک ایسی کمیونٹی جس میں لوگوں کی زندگی کے متعلق ایک طے شدہ رائے ہو اور اس میں اخلاقی اقدار پائی جاتی ہوں، کو قومیت کی اعلیٰ ترین قسم سمجھتے ہیں جس کی انسان خواہش کرسکتا ہے۔ ہم یہ دعوٰی صرف اس لئے نہیں کرتے کہ ہم یہ بات باور کرچکے ہیں کہ ہمارا مخصوص نظریہ ”اسلام“ براہِ راست خدا کی طرف سے ہے بلکہ اسلئے بھی کہ ہماری منطق ہمیں بتاتی ہے کہ ایک حادثے یا پھر رنگ، نسل یا زبان کی بنیاد پر یا پھر جغرافیائی محل و وقوع کی بنیاد پر قائم ہونے والی کمیونٹی کے برعکس مشترکہ طور پر ایک نظریہ پر عمل کرنے والی ایک کمیونٹی انسانی زندگی کا ایک بہترین اظہار ہے

دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ ہماری قوم اس وقت تک مسلم ملت کہلائے جانے کے لئے متحد نہیں ہوسکتی جب تک شرمناک بوکھلاہٹ اور بد دلی، سماجی تانے بانے کے نقصان، اخلاقی کرپشن پر قابو نہیں پا لیتے۔ اور یہی وجہ مقام ہے جہاں ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن اپنا کام دکھائے گا۔ اس کے بعد اس دستاویز میں ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن کی جانب سے جس منصوبے
پر عمل کرنا ہے اس کا ذکر کیا گیا ہے

تحریر ۔ انصار عباسی

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ ہونی

جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کے رہتا ہے
اُسی وقت جب اُس نے ہونا ہوتا ہے
اور اُسی طرح جس طرح ہونا ہوتا ہے

اس پر پریشان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا
البتہ پریشان ہونے سے نقصان ہو سکتا ہے

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” Drone Summit

13 دردوں کے علاج آپ کے گھر موجود

1 ۔ ڈنمارک کے محققین کے مطابق پٹھوں کی سوزش اور جوڑ درد کیلئے ہنڈیا میں روزانہ 2 چائے کے چمچے کُتری ہوئی ادرک یا ایک چائے کا چمچہ خُشک ادرک کا سفوف ڈال کر کھانے سے 60 فیصد افاقہ ہوتا ہے
.
.
.
.
.
.
2 ۔ دانت میں درد سے عارضی سکون پانے کیلئے درد والے دانت پر ایک الونگ رکھ کر آہستہ آہستہ چبائیے 2 گھنٹہ تک آرام رہے گا
.
.
.
.
.
.
3 ۔ کھانے میں لہسن کا استعمال ہائی بلڈ پریشر سے بچاتا ہے ۔ ھائی بلڈ پریشر ہو تو کچے لہسن کی ایک پھانک یا تُری روزانہ کھایئے ۔ بلڈ پریشر میں کمی آئے گی ۔
University of New Mexico School of Medicine کے ماہرین کے مطابق کان میں درد کیلئے لہسن کے تیل کے دو قطرے صبح شام 5 دن کان میں ڈالنے سے کان درد سے چھٹکارا مل سکتا ہے
.
.
.
.
.
.
4 ۔ East Lansing ‘s Michigan State University کے محققین کے مطابق روزانہ 20 دانے گلاس (Cherries) کھانے سے جوڑوں اور سر کے درد میں افاقہ ہو سکتا ہے
.
.
.
.
.
5 ۔ آنتوں کی سوزش ۔ پیٹ درد اور بل پڑتے ہوں تو کورٹی سٹیرائیڈز کی بجائے ہفتے میں ایک کیلو گرام مچھلی کھایئے ۔ افاقہ ہو گا ۔ مچھلی میں سالمن ۔ سارڈینز ۔ ٹُونا ۔ میکریل ۔ ٹراؤٹ اور ھَیرِنگ بہتر ہیں
.
.
.
.
.
.
.
6 ۔ خواتین کو قدرتی نظام کے تحت ماہانہ تکلیف سے گذرنا پڑتا ہے New York Columbia University کی گائناکالوجی کی پروفیسر Mary Jane Minkin, M.D. کے مطابق روزانہ 2 کپ قدرتی دہی کھانے سے ان کی تکلیف میں 48 فیصد کمی آ سکتی ہے
.
.
.
.
.
.
.
7 ۔ غذا کے ماہر محقق Julian Whitaker, M.D. کے مطابق روزانہ پسی ہوئی ہلدی چائے کا چوتھائی چمچہ ہنڈیا میں ڈال کر پکا کھانا کھانے سے دائمی درد میں افاقہ ہو گا ۔ یہ نسخہ اسپرین ۔ بروفین یا ناپروکسن کھانے سے بہتر ہے
.
.
.
.
.
8 ۔ Ohio State University کے مطابق روزانہ ایک بھرا ہوا کپ انگور کھانے سے کمر کے درد میں افاقہ ہوتا ہے
.
.
.
.
.
9 ۔ جرمن محققین کے مطابق سُہانجنا یا مُنگا کی جڑ سے sinusitis کا علاج ہو سکتا ہے ۔ ایک چائے کا چمچہ صبح شام ایسے ہی یا گوشت پر یا سینڈ وِچ پر لگا کر جب تک آرام نہ آئے کھاتے ریئے
.
.
.
.
.
.
10 ۔ Rutgers University کی سائنسدان Amy Howell, Ph.D. کے مطابق اگر ایک کپ تازہ نیلے بیر (blueberries) یا جمے ہوئے روزانہ کھانے یا ان کا رَس (juice) پینے سے urinary tract infection سے 60 فیصد بچاؤ ہو سکتا ہے
.
.
.
11 ۔ منہ اندر سے پک جائے تو خالص شہد دن میں 4 مرتبہ لگایئے
.
.
.
.
.
.
.
.
.
12 ۔ اگر ٹانگ کی رگ چڑھ جاتی ہو جسے انگریزی میں cramps کہتے ہیں جو کہ بہت تکلیف دہ ہوتی ہے تو روزانہ 250 ملی لیٹر یعنی چوتھائی لیٹر ٹماٹروں کا رَس پیجئے

13 ۔ امریکا کی National Headache Foundation کے مطابق تو تیز کافی پینے سے مِیگرین (migraine) کے علاج کی دواؤں کا اثر 40 فیصد تیز ہو جائے گا
لیکن
میرا ذاتی تجربہ مِیگرین کا مکمل اور پائیدار علاج ہے جس کیلئے نہ ڈاکٹر کی فیس دینا پڑے اور نہ مہنگی دوائیاں خریدنا پڑیں ۔ کوئی 17 سال قبل مجھے شدید سر درد کی شکائت ہوئی جو مہینے میں 2 بار ہونا شروع ہوئی ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ مِیگرین ہے اور دوا دے دی لیکن سر درد بڑھتے بڑھتے ایک سال بعد مہینے میں 4 بار ہونے لگی ۔ نیورو سرجن کے بعد نیورو فزیشن کے پاس پہنچا ۔ اس نے دوا دی اور چاکلیٹ ۔ کیلا اور چاول کھانا اور کافی ۔ پیپسی اور کوکا کولا پینا منع کر دیا ۔ لیکن بمِثل ” مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” 2 سال بعد مجھے ہفتہ میں دو بار مِیگرین ہونا شروع ہو گئی ۔ اتفاق سے دفتر کے ایک پرانے ساتھی سے ملاقات ہو گئی جسے کسی زمانہ میں مِیگرین نے بہت تنگ کیا ہوا تھا ۔ اس سے احوال دریافت کیا تو اس نے جواب دیا “الحمدللہ اب ٹھیک ہوں ۔ بہت علاج کر کے مایوس ہو چکا تھا کہ کسی نے دیسی نُسخہ بتایا جس کے استعمال سے سر درد ہمیشہ کیلئے جاتا رہا”۔

وہ نسخہ یہ ہے ۔ برابر مقدار میں سفید زیرہ اور سؤنف علیحدہ علیحدہ پیس کر اچھی طرح ملا لیجئے ۔ اس کا ایک چائے کا بھرا ہوا چمچہ ہر کھانے کے بعد 6 ماہ تک کھایئے ۔ میں نے سفید زیرہ اور سؤنف 3 ماہ متواتر کھایا پھر کبھی کبھی کھاتا رہا کیونکہ چَسکا پڑ گیا تھا اللہ کے فضل سے مِیگرین ایسی گئی کہ یاد نہیں ہوئی بھی تھی