وطنِ عزیز پاکستان میں میڈیا (ٹی وی چینلز ۔ اخبارات ۔ رسائل) ریٹنگ کی اندھی دوڑ میں حقائق پر پردہ ڈال کر ناظرین یا قارئین کو من گھڑت مفروضوں پر لگائے ہوئے ہیں ۔ ان کی مَن پسند خبر یا رپورٹ مل جائے تو درجنوں بار دکھائی جاتی ہے اور مذاکروں میں بھی اس کا بار بار ذکر ہوتا ہے ۔ ایسے مذاکرات کیلئے ڈھونڈ ڈھونڈ کر جانبدار لوگ لائے جاتے ہیں جو حقائق کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ۔ اشتہار ہوں ۔ اپنے ترتیب دیئے پروگرام یا کالم ہوں ۔ مذاکرے ہوں حتٰی کہ خبریں ہوں ننگ دھڑنگ یا لہراتی عورت کو دکھانا تعلیم و ترقی کی علامت بنا دیا گیا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کا کام فحاشی پھیلانا ہے ۔ میڈیا پرچار کرتا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عورت کیلئے پردہ ایک قید ہے اور پاکستانیوں کی اکثریت اسے رَد کر چکی ہے اور صرف چند جاہل پردے کے حق میں ہیں
پاکستان کا میڈیا جسے کسی ادارے کی بھی چھوٹی سے چھوٹی رپورٹ مل جاتی ہے وہ بڑے طمطراق سے نشر کی جاتی ہے چاہے وہ مستند بھی نہ ہو یا وہ ادارہ ہی غیرمعروف ہو ۔ مگر یہ میڈیا امریکا سے تعلق رکھنے والے پِیئُو تحقیقی مرکز (Pew Research Center) جس کی رپورٹس کو عمومی طور پر دنیابھر میں اہمیت دی جاتی ہے کی ایک اُس حالیہ رپورٹ کو پی گیا جس میں پردے کا ذکر ہے ۔ نہ ٹی وی چینلز ، نہ اخبار ، نہ کسی رسالے نے اس کا ذکر کیا کیونکہ یہ سروے رپورٹ ان کے جھوٹ کو پول کھول رہی ہے
پِیئُو تحقیقی مرکز کی اس سروے رپورٹ جو 7 مسلم ممالک (پاکستان، مصر، سعودی عرب، ترکی، عراق، لبنان اور تیونس) میں پردے کے سلسلہ میں ہے کے خلاصہ کا عکس ملاحظہ ہو

اس سروے نے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کی اسلام اور اسلامی شعائر سے محبت کو ثابت کر دیا ہے
سورت 24 النّور آیت 31
اور اے نبی ۔ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور وہ اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں ۔ وہ اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر نہ کریں سوائے شوہر یا باپ یا شوہروں کے باپ اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا بھتیجے یا بھانجے کے یا اپنی میل جول کی عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے ۔ اور نہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی چلا کریں کہ ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حُکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں ۔ اے مومنو ۔ تم سب کے سب اللہ سے توبہ کرو ۔ توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے
سورت 33 الْأَحْزَاب آیت 59
اے نبی ۔ اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں ۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں ۔ اور اللہ غفور و رحیم ہے