Category Archives: روز و شب

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ سلوک

دوسروں سے ویسا ہی سلوک کیجئے جیسے کی آپ دوسروں سے توقع رکھتے ہیں
بلکہ
دوسروں کے ساتھ اُن کی توقع سے زیادہ بہتر سلوک کیجئے
اور ایسا خوش دلی کے ساتھ کیجئے

سورت 2 البقرۃ آیت 263 ۔ ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ ہو ۔ اللہ بے نیاز ہے اور بردباری اس کی صفت ہے

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” Endless War “

تہمت اور عمل

آج صبح ساڑھے سات بجے ایک خبر پڑھی تو سلطان باہو کا کلام دماغ میں گھوم گیا جو قارئین کی نظر کر دیا تھا
جی چاہا تھا کہ دماغ میں پیدا ہونے والے جن الفاظ نے سلطان باہو کے کلام کی یاد دلائی تھی وہ بھی اُس کے ساتھ ہی لکھ دوں لیکن اسے سلطان باہو سے گستاخی سمجھتے ہوئے اپنا قلم اور کلام روک لیا جو متعلقہ خبر کے ساتھ پیشِ خدمت ہے

دوسرے نُوں راہ ہر کوئی دسے
آپے راہ تے سدھی چلنا اَوکھا
غیر دی اَکھ وِچ تنکا وِی دِسے
اپنی اَکھ دا شہتِیر نہ دِسدا
لوکاں نوں کرپٹ کہنا سوکھا
پر اپنے آپ نوں بچانا اَوکھا
کوئی کِسے دی گل نئیں سُندا
لوکاں نُوں سمجھانا اَوکھا
(آخری شعر سلطان باہو کا ہے)

خیبر پختونخوا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اس سال میں عمران خان نے 4 بار سرکاری ہیلی کاپٹر بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ سے بنوں ۔ کوہاٹ ۔ منگورہ اور پشاور جانے کیلئے استعمال کیا

اَوکھا

راہ دے وِچ کھلَونا اَوکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (راستہ میں کھڑا رہنا مُشکل)
اپنا آپ لُکاؤنا اَوکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اپنے آپ کو چھپانا مُشکل)
اَینی وَدھ گئی دُنیاداری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اتنی ہو گئی دنیا داری)
کلَیاں بہہ کے رونا اَوکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (رونے کیلئے خلوَت پانا مُشکل)
داغ محبت والا باہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (داغ محبت کا باہو)
لگ جاوے تے دھونا اَوکھا ۔ ۔ ۔ ۔ (لگ جائے تو دھونا مُشکل)
کلَیاں عِشق کمانا اَوکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اکیلے عشق کا حاصل بھی مُشکل)
کسے نُوں یار بنانا اَوکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (کسی کو دوست بنانا بھی مُشکل)
پیار پیار تے ہر کوئی بولے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (پیار پیار تو سب کہتے ہیں)
کر کے پیار نبھانا اَوکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (کر کے پیار نبھانا مُشکل)
دُکھاں تے ہر کوئی ہَس لیندا ۔ ۔ (دُکھوں پر سب ہنس تو لیتے ہیں)
کِسے دا درد وٹاؤنا اَوکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (کسی کا درد بانٹنا ہے مُشکل)
گلاں نال نئیں رُتبے مِلدے ۔ ۔ ۔ (باتوں سے بُلندی حاصل نہیں ہوتی)
جوگی بھَیس بناؤنا اَوکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (فقیر بن کے رہنا بھی مُشکل)
کوئی کِسے دی گل نئیں سُندا ۔ (کوئی کسی کی بات نہیں سُنتا)
لوکاں نُوں سمجھانا اَوکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (لوگوں کو سمجھانا بھی ہے مُشکل)

کلام ۔ سلطان باہو

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” Unparalleled Impunity??? “

پیار کا ایک اور رُخ

میں اپنی چھوٹی پوتی ھناء کے پیار کا طریقہ لکھ چکا ہوں
میرا پوتا ابراھیم ہمارے ساتھ پیار کا زبان سے بہت کم اظہار کرتا ہے ۔ وہ ابھی ایک سال کا تھا کہ ہم ایک ماہ کیلئے دبئی گئے تو اُس نے ہمیں پہلی بار دیکھا اور چند1932351_10152391747461156_6284905569951163734_nFB دنوں میں بہت مانوس ہو گیا ۔ ابراھیم کی دادی صوفہ پر بیٹھ کر نماز پڑھتیں تو ابراھیم ہاتھ پاؤں پر چلتا اُس کے پاس پہنچ جاتا اور دادی کی ٹانگ کے سہارے اُس کے سامنے کھڑا ہو جاتا ۔ جب دادی رکوع یا سجدے کیلئے جھُکتیں تو وہ دادی کو گال پر چوم لیتا ۔ یہ ابراھیم کا معمول بن گیا

میں بڑے صوفہ پر بیٹھا ہوتا تو ابراھیم میرے قریب آ کر اشارے سے صوفے پر بیٹھنے کا کہتا ۔ میں اُسے اُٹھا کر بٹھا دیتا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ کھِسکنا شروع کرتا اور میرے ساتھ جُڑ کر بیٹھ جاتا ۔ چند منٹ بعد وہ اپنا ایک پاؤں میری ٹانگ پر رکھ دیتا ۔ تھوڑا تھوڑا کھِسکتے کسی طرح زور لگا کر ابراھیم میری گود میں پہنچ جاتا اور سر پیچھے کو جھُکا کر اُوپر میرے چہرے کی طرف دیکھتا ۔ اس پر میں اُسے گلے لگاتا اور پیار کرتا تو ابراھیم بہت خوش ہوتا ۔ یہ بھی اس کا معمول بن گیا

اگلی بار ہم گئے تو ابراھیم ڈیڑھ سال کا تھا ۔ اب طریقہ بدل گیا ۔ ابراھیم میرا ہاتھ پکڑ لیتا اور مجھے کھینچتا ہوا اپنے کمرے میں لیجاتا ۔ وہاں مجھے گیند یا دوسرے کھلونے نکالنے کا کہتا ۔ جب میں نکال کر اُسے دیتا تو خود اُن سے کھیلنے کی بجائے مجھے اُن سے کھیلنے کا کہتا ۔ میں کھیلتا اور وہ دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ۔ کبھی مجھے بلاکس یا لِیگو سے مکان بنانے کا کہتا ۔ میں بناتا ۔ جب مکان مکمل ہونے کو ہوتا تو تھوڑا توڑ دیتا اور اسے مکمل کرنے کا کہتا ۔ ایک دن ابراھیم نے 3 بار مکان توڑا تو میں اُٹھ کر صوفہ پر بیٹھ گیا ۔ ابراھیم مجھے کنکھیوں سے دیکھتا رہا اور تھوڑی دیر بعد صوفہ پر چڑھ کر میرے قریب بیٹھ گیا۔ پھر اُس نے وہی کیا جو ایک سال کی عمر میں کرتا تھا۔ اس اضافے کے ساتھ کہ مجھے لپٹ کر چوم لیا ۔ میں نے ہنس کر ابراھیم کو پیار کیا تو کھِل اُٹھا ۔ بعد میں مجھے کہنے لگا اب بنائیں میں نہیں توڑوں گا

جون 2012ء میں ہم 2 ماہ کیلئے دبئی گئے ۔ اس دوران وہ لیگو یا جِگ سا پزل نکالتا اور خود جوڑنے لگ جاتا جہاں سمجھ نہ آتی یا اُس سے نہ بن رہا ہوتا تو میری طرف دیکھنے لگ جاتا لیکن بولتا کچھ نہیں تھا ۔ مطلب یہ ہوتا کہ میں مدد کروں ۔ کبھی کہتا میرے سات آنکھ مچولی ( لُکن مِیٹی یا چھپن چھوت ۔ انگریزی میں ہائیڈ انیڑ سِیک) کھیلو

اس سال ہم جنوری میں 3 ماہ کیلئے دبئی گئے ۔ ابراھیم ماشاء اللہ ساڑھے 4 سال کا تھا اور نرسری سکول جاتا تھا ۔ کبھی کاغذ پر لکھ کر I love Dada مجھے دے جاتا اور کبھی I love Dado لکھ کر اپنی دادی کو دیتا ۔ ایک دن کاغذ پر خلائی جہاز (Space Ship) بنا کر اُس میں ایک پائلٹ بنا دیا اور سامنے ایک عورت بنا کر اُسے کے ہاتھ میں بڑا سا گُلدستہ بنا دیا ۔ پھر آ کر بتانے لگا کہ خلائی جہاز میں دادا ہیں (انجنیئر جو ہوا) ۔ اور گلدستہ والی دادی ہیں ۔ جب واپسی میں چند دن رہ گئے تو 2 بڑے کاغذ لے کر ان پر اچھی کارکردگی کے سرٹیفیکیٹ بنائے جس طرح کا اُسے سکول سے ملا تھا اور نیچے لکھا دستخط ۔ ابراھیم ۔ ایک دادا کیلئے تھا اور ایک دادی کیلئے (Certificate of Good Performance for Dada, Signed by: Ebrahim )
کبھی کہتا آئی پیڈ پر میرے ساتھ ساتھ ٹینس وغیرہ کھیلو

گذشتہ عیدالاضحےٰ پر ہمارے پاس اسلام آباد آئے ہوئے تھے ۔ دن میں کم از کم ایک بار ابراھیم میرے قریب آ جاتا لیکن بولتا کچھ نہیں ۔ میں پکڑ کر گودی میں بٹھاتا تو مجھ سے لپٹ جاتا ۔ واپس جانے سے ایک دن قبل ابراھیم نے اپنی دادی سے ایک کاغذ مانگا ۔ تو اُنہوں نے دے دیا ۔ اُس پر کچھ لکھنے لگا تو دادی کہیں اور مصروف ہو گئیں ۔ اُن کے جانے کے بعد وہ کاغذ میز پڑا پایا تو اُٹھا کر دیکھا ۔ اس پر لکھا تھا ” I love you”

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ دنیا

یہ دنیا سائے کی طرح ہے
سائے کے پیچھے بھاگو تو وہ آگے بھاگتا جائے گا
اس کی طرف پیٹھ کر لو تو اُس کے پاس سوائے پیچھے چلنے کے کوئی چارہ نہیں
محمد ابن ابو بکر المعروف ابن القیّم (691 ھ تا 751 ھ ۔ 1292 ء تا 1350ء)

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” The Prelude to War ”