کل یعنی بروز اتوار بتاریخ 19 جولائی 2015ء میں اپنی بیگم ۔ بیٹی ۔ بیٹے ۔ بہو بیٹی ۔ پوتا اور پوتی کے ساتھ دبئی فیسٹیول سٹی مول کے گھریلو سامان کے حصے میں پھر رہا تھا کہ میری بیگم نے میری توجہ پیچھے کی جانب مبزول کرائی ۔ میں نے مُڑ کر دیکھا تو ایک خوش پوش جوان ۔ درمیانہ قد سڈول جسم ساتھ برقعے میں ملبوس مہین سی بیگم اور ماشاء اللہ خوبصورت پھول ننھی سی بیٹی پُش چیئر یا سٹرولر میں ۔ موصوف بولے ” آپ اجمل ؟ اجمل بھوپال ہیں ؟“
میں نے جی کہا اور اپنی رَیم اور پھر ہارڈ ڈسک کو 15 گیگا ہَرٹس پر چلایا مگر کہیں یہ اِمَیج نہ پایا ۔ بندہ بشر ٹھہرا کم عقل ۔ کم عِلم ۔ ناتجربہ کار ۔ پر اِتنا بھی گیا گذرا نہیں ۔ قصور تھا اُس تصور کا جو قائم ہوا تھا موصوف کے بلاگ پر کسی زمانہ میں لگی تصویر کو دیکھ کر جسے ہم نے اُن کی شبیہ سمجھا تھا یا شاید وہ نو جوانی یعنی شادی سے پہلے کے زمانہ کی تھی جس میں موصوف کا اُونچا قد اور جسم پھریرا محسوس ہوا تھا ۔ خیر یہ سب کچھ ایک لمحے میں ہو گذرا
اگلے لمحے ۔ وہ خوبصورت جوان بولے ” میں عمران ہوں ۔ عمران اقبال“۔
میں جون تا اگست 2012ء میں دبئی میں تھا تو عمران اقبال صاحب نے مجھ سے ماہ رمضان کے دنوں میں رابطہ کیا تھا اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن ملاقات کا بندوبست نہ ہو سکا تھا
میں جنوری تا اپریل 2014ء میں دبئی میں تھا تو کاشف علی صاحب کا پیغام ملا کہ اگر اُنہیں فلائیٹ کا پتہ چل جاتا تو مجھے ملنے ایئرپورٹ پہنچ جاتے ۔ بہر کیف چند دن بعد وہ میرے پاس پہنچ گئے اور مجھے ساتھ لے کر قریبی ریستوراں میں جا بیٹھے ۔ گپ شپ ہوئی اور آئیندہ ملنے کا وعدہ بھی ۔ مگر اللہ کو منظور نہ ہوا ایک طرف میں شدید بیمار پڑ گیا اور دوسری طرف کاشف علی صاحب آشوبِ چشم میں مبتلاء ہو گئے ۔ اب آنے سے قبل کاشف علی صاحب سے رابطہ ہوا تو بتایا کہ وہ عید سے ایک دو دن قبل پاکستان چلے جائیں گے اور ستمبر میں واپس آئیں گے ۔ میں اس دفعہ صرف ایک ماہ کیلئے آیا ہوں ۔ اگلے پیر اور منگل کی درمیانی رات اِن شآء اللہ ہماری واپسی ہو گی
عمران اقبال صاحب نے یہ بھی بتایا کہ آجکل عمران خان کے حمائتی ہیں اور نواز شریف کی ہِجو لکھتے ہیں ۔ کیوں نہ ہو ہم نام جو ہوئے ۔ میں نے اُن سے ایک ایسا سوال پوچھا جس کا جواب خود عمران خان بھی شاید نہ دے سکے ۔ سوال ہے ” 9 کروڑ روپیہ جو دھرنے میں موسیقی پر خرچ کیا گیا اسے شوکت خانم میموریل ہسپتال میں مُفلِس مریضوں کے علاج پر کیوں خرچ نہ کیا گیا ؟“ یہ سوال میں عمران خان کے کئی جان نثاروں سے پوچھ چکا ہوں ۔ پہلے تو کوئی مانتا نہ تھا کی موسیقی پر خرچ ہوا اور کہتے تھے کہ ڈی جے بٹ نے یہ کام اعزازی (بلامعاوضہ) کیا ۔ اب تحریک انصاف نے ادائیگی کا اقرار کر لیا ہے تو موضوع کو کسی اور طرف دھکا دے دیتے ہیں یا ہنس دیتے ہیں
میری طرف سے تمام بلاگران اور قارئین کی خدمت میں درخواست ہے کہ جب بھی اسلام آباد تشریف لائیں ۔ مجھے کم از کم ایک دن قبل اطلاع کر دیں تا کہ ملاقات کا شرف حاصل کرنے کی کوشش کر سکوں ۔ بہنیں اور بیٹیاں بھی مدعو ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میری بیگم سے مل کر خوش ہوں گی