Category Archives: روز و شب

ہم اِتنے بے عِلم کیوں ؟

ناجانے ہمارے مُلک میں کِس کا زَور چلتا ہے کہ تاریخ کو مَسَخ کیا جاتا ہے ۔ حقائق کو بدل دیا جاتا ہے ۔ آج اِس کی ایک مثال پیشِ خدمت ہے

ایک صاحب جنہوں نے اپنا قلمی نام عاشُور بابا رکھا ہے لکھتے ہیں
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جب عوامی نیشنل پارٹی کے راہنماؤں کو پاکستان میں حراست میں لیا گیا تو ایک ایسا شخص تھا جو بہت ہی خستہ حال تھا ۔ اس کو گرفتار کر کے حیدرآباد جیل لایا گیا ۔ جیلر نے اس پریشان حال شخص کو دیکھا اور حقارت سے کہا ”اگر تم عبدالولی خان کے خلاف بیان لکھ کر دے دو تو ہم تم کو رہا کر دیں گے ورنہ یاد رکھو اس کیس میں تم ساری عمر جیل میں گلتے سڑتے رہو گے اور یہیں تمہاری موت ہو گی“۔
یہ سُن کر اس شخص نے جیلر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور مسکرا کر کہا ” جیلر صاحب ۔ جیل میں تو شاید میں چند برس زندہ بھی رہ لوں لیکن اگر میں نے یہ معافی نامہ لکھ دیا تو شاید چند دن بھی نہ جی پاؤں“۔

اصولوں اور عزم و ہمت کی اس دیوار کا نام حبیب جالب تھا اور اس کو جیل میں بھیجنے والا اپنے وقت کا سب سے بڑا لیڈر ذوالفقار علی بھٹو تھا
میں کل سے حیرت کا بُت بنا بیٹھا ہوں جب سے میں نے بلاول زرداری کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر حبیب جالب کا کلام پڑھتے دیکھا اور کلام بھی وہ جو اس نے بھٹو کے دور میں لکھا تھا ۔ آپ کو یہ سن کر شاید حیرت ہو کہ بھٹو دور میں حبیب جالب نے عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اور الیکشن ہارنے کے بعد وہ بھٹو کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے رہے ۔ ان کو جیل میں ڈال دیا گیا اور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد ان کو اس کیس سے بری کیا گیا تھا
کاش کہ بلاول کو تاریخ سے تھوڑی سی بھی آگہی ہوتی تو ان کو معلوم ہوتا کہ عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب کا بیشتر کلام بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھا جس میں سے ایک مشہور نظم پیش خدمت ہے

میں پسرِ شاہنواز ہوں ۔ میں پدرِ بے نظیر ہوں
میں نِکسَن کا غلام ہوں ۔ میں قائد عوام ہوں
میں شرابیوں کا پِیر ہوں ۔ میں لکھ پتی فقیر ہوں
وِہسکی بھرا اِک جام ہوں ۔ میں قائد عوام ہوں
جتنے میرے وزِیر ہیں ۔ سارے بے ضمیر ہیں
میں اِن کا بھی امام ہوں ۔ میں قائد عوام ہوں
دیکھو میرے اعمال کو ۔ میں کھا گیا بنگال کو
پھر بھی میں نیک نام ہوں ۔ میں قائد عوام ہوں

کل جب بھٹو کی برسی پر بلاول حبیب جالب کا کلام پڑھ رہے تھے تو بھٹو دور میں ہونے والے مظالم میری آنکھوں کے سامنے آ گئے۔ حبیب جالب پر اتنا ظُلم ایوب خان اور ضیاءالحق جیسے آمروں کے دور میں نہیں ہوا جتنا ظُلم قائد عوام اور جمہوری لیڈر بھٹو کے دور میں ہوا ۔ جس دن بھٹو نے حبیب جالب کو گرفتار کروایا تھا اس دن جالب کے بیٹے کا سوئم تھا اور وہ چاک گریبان کے ساتھ جیل میں گئے تھے اور اُن کی اپنے بیٹے کی یاد میں لکھی نظم ایک تاریخی انقلابی نظم ہے

کاش کوئی یہ سب باتیں جا کر بلاول کو بتائے کہ رَٹی رَٹائی تقریریں کر لینا بہت آسان ہے لیکن بہتر ہو اگر آپ ان باتوں کا تاریخی پسِ منظر بھی جان لو ۔ جیسی جاہل یہ قوم ہے ویسے ہی جاہل اور تاریخی حقائق سے نابلد اِن کے لیڈر

اُسی دَور میں حبیب جالِب نے یہ اشعار بھی پڑھے تھے مگر 1988ء میں یا اِس کے بعد میڈیا نے اِن اشعار کو ضیاء الحق سے منسُوب کر دیا تھا

دِیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پَلے
ایسے دستُور کو ۔ صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

میں بھی خائف نہیں تختہءِ دار سے
میں بھی منصُور ہوں کہہ دو اَغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زِنداں کی دیوار سے
ظُلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
پھُول شاخوں پہ کھِلنے لگے تُم کہو
جام رِندوں کو ملنے لگے تُم کہو
چاک سِینوں کے سِلنے لگے تُم کہو
اس کھُلے جھُوٹ کو ذہن کی لُوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

خوش رہنے کا آسان طریقہ

کسی کی مدد یا کام معاوضے کے خیال کے بغیر کرنا خوشی لاتا ہے
اپنے آپ کو دھوکہ نہ دیجیئے کہ آپ دوسرے کی بھلائی کر رہے ہیں کیونکہ آپ اچھائی اپنی ز ندگی بہتر بنانے کیلئے کرتے ہیں
کسی کی تنقید یا کسی کو نصیحت کرتے وقت خیال رکھیئے کہ جو بُرائی آپ دوسرے میں دیکھتے ہیں وہ آپ میں بھی ہوتی ہے ورنہ وہ بُرائی آپ کو نظر نہ آتی
اللہ کسی دوسرے سے کہا گیا آپ کا ہر لفظ پرکھے گا ۔ اسلئے بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیجیئے کہ جو آپ کہنے لگے ہیں وہ بلا شک و شُبہ درست ہے

سورت 2 البقرۃ ۔ آیت 44 ۔ کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حُکم کرتے ہو ؟ اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو ۔ کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں ؟

صرف محبت یا پیار ہی ایسی چیز ہے جو تقسیم کرنے سے کم نہیں ہوتی
تنازعہ پر مل کر کام کر کے اسے حل کرنے سے محبت مضبوط ہوتی ہےمحبت

روزمرّہ کا معمول ؟

عبادت دل کا بوجھ کم کرتی ہے
بغیر ذاتی فائدہ کے کسی کی مدد اللہ پر یقین کا ثبوت ہے
بُرائی اور گناہ سے بچنا شان بڑھاتا ہے
اگر آپ اچھائی کرتے ہیں تو قرآن شریف آپ کی کامیابی کا ثبوت ہے
اگر آپ غلط کام کرتے ہیں تو قرآن شریف آپ کی قباحت یا ناکامی کا ثبوت ہے

کمزوری یا مضبوطی ؟

اطلاع ۔ میں نے حسبِ سابق 4 دن بعد یعنی 23 مارچ 2018ء کو اِس دن کی مناسبت سے ایک تحریر تیار کر کے محفوظ کر رکھی تھی لیکن الله کو منظور نہ ہوا ۔ میں 20 مارچ کو تیز بخار ۔ شدید کھانسی اور نزلہ میں مُبتلاء ہو گیا اور 29 مارچ تک طبعیت کافی خراب رہی

کمزوری یا مضبوطی ؟
درُست کہ آپ کمزور ہیں
لیکن جو عوامل آپ کی کمزوری عیاں کرتے ہیں
وہی بالآخر آپ کو مضبوط بھی بناتے ہیں

زندگی کے تلخ لمحوں کو قبول کرتے ہوئے کوشش جاری رکھیئے
زندگی کے اُتار چڑھاؤ ہی تجربہ کار اور کامیاب انسان بناتے ہیں

”چُوہا “ یا ”چَوآ “۔ کیوں اور کیسے ؟

آپ نے کبھی دیکھا ہو گا کہ سبز چُگے میں ملبُوس ایک لڑکا یا لڑکی جس کا سر بہت چھوٹا ہے کسی عورت یا مرد کے ساتھ ہے اور بھیک مانگ رہا ہے ۔ اِنہیں”شاہ دولہ شاہ کا چوہا“ کہا جاتا ہے ۔ ”شاہ دولہ شاہ“ ایک نیک سیرت بزرگ تھے جن کا مزار گجرات (پاکستان) میں واقع ہے ۔ مشہور یہ ہے کہ بھانج عورتیں شاہ دولہ شاہ کے مزار پر جا کر منت مانگتی ہیں کہ ان کے ہاں اولاد ہو جائے تو پہلا بچہ مزار کی نذر کر دیں گی چنانچہ اُن کی پہلی اولاد چھوٹے سر والی معذور پیدا ہوتی ہے جو وہ حسبِ وعدہ مزار پر چھوڑ جاتی ہیں ۔ لیکن معتقدین اور گجرات کے پڑھے لکھے لوگ ان تمام روایات کو من گھڑت کہانیاں کہتے ہیں ۔ اُن کے مطابق پہلا ہو یا بعد والا سب بچے بغیر کسی نقص کے پیدا ہوتے ہیں ۔ ان اصحاب کا کہنا ہے کہ شاہ دولہ شاہ ایک نیک اور باعمل مسلمان تھے جو عوامی فلاح و بہبود کے کام بھی کرواتے رہے تو کیا ایسی نیک ہستیوں سے کوئی چیز مانگی جائے تو وہ خراب چیز دیں گے ؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لفظ ” چُوہا “ نہیں تھا بلکہ ” چوآ “ تھا جو بگڑ کر ” چُوہا “ بن گیا ۔ ” چوآ “ کا مطلب ہوتا ہے ” چشمہ (spring)۔

ہم نے 1949ء یا 1950ء میں جھنگی محلہ (راولپنڈی) میں رہائش اختیار کی ۔ اُس کے بعد ہی میں نے پہلی بار ایسا بچہ دیکھا ۔ پھر ان کے متعلق کہانیاں سُننے میں آتی رہیں ۔ میں جب نویں جماعت میں تھا تو میں نے مختلف ذرائع سے ان کے متعلق معلومات اکٹھا کرنا شروع کیں اور انجنئرنگ کالج کے دوران (شاید 1959ء) اس سلسلہ میں میں گجرات کا چکر بھی لگایا تو وہ ساری کہانیاں غلط ثابت ہوئیں جو پہلے سُن رکھی تھیں

اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکمرانی (1658ء تا 1707ء) میں شاہ دولہ شاہ ایک نیک شخص گجرات کے نزدیک قیام پذیر ہوئے ۔ اِن کا اصلی نام تاریخ کے اوراق میں گم ہو کر رہ گیا ۔ شاہ دولہ شاہ رفاہ عامہ کے کاموں میں دلچسپی رکھتے تھے ۔ مغل بادشاہ اور اس کے گجرات کے علاقہ میں نمائندے ان سے قلبی لگاﺅ رکھتے تھے اور ان کے کئی طرح کے وظائف مقرر کئے ہوئے تھے ۔ یہ وظائف شاہ دولہ شاہ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں پر خرچ کرتے تھے ۔ انہوں نے شہر میں نہ صرف نالیاں تعمیر کراوئیں بلکہ اہم گزر گاہوں میں آنے والے نالوں پر پل بھی تعمیر کروائے ۔ مسجدیں اور مسافروں کے لئے سرائے بنوائیں ۔ علاقے کے بے سہارا اور مفلوک الحال بچوں کی پرورش اور نگہداشت کے لئے ادارے کی بنیاد رکھی اور یتیم خانہ کی عمارت بنوائی

کہا جاتا ہے کہ اِن کی وفات کے کچھ دہائیاں بعد ان کی قبر پر توہّم پرست لوگوں کا تانتا بندھ گیا ۔ قبر کے نام نہاد وارث بے اولاد عورتوں کو بیوقوف بناتے اور پہلا بچہ شاہ دولہ شاہ کی نذر کرنے کا کہتے ۔ ایسے بچے کو سخت چمڑے کی ٹوپی پہنا دی جاتی جس کی وجہ سے اُس کا سر چھوٹا ہی رہتا اور دماغ نشو و نما نہ پا سکتا ۔ یہ انسانیت سے گرے ہوئے لوگ ان بچوں کو بھیک مانگنے کے دھندہ پر لگا کر اپنی روزی پیدا کرتے ۔ جب اس طرح کے بچے زیادہ ہوئے تو انہیں ماہانہ کرایہ پر دیا جانے لگا یا خطیر رقم کے عِوض بیچ دیا جاتا ۔ اس طرح یہ ذہنی معذور بچے سارے مُلک میں پھیلا دیئے گئے ۔ ایسے بچے بھارت میں پائے جاتے ہیں

ڈاکٹر جانسٹن پہلا غیر مُلکی (برطانوی) تھا جو 1866ء میں شاہ دولہ شاہ کے مزار پر پہنچا ۔ اس نے بچوں کا مطالعہ کیا اور تحریر کیا کہ ان کے سر قدرتی چھوٹے نہیں ہوتے بلکہ بچپن میں ان کے سروں پر کوئی فولادی یا کسی اور سخت میٹِرِئل کی ٹوپی پہنائی جاتی ہو گی
کیپٹن ایونز جس نے 1902ء میں اس بارے میں تحقیق کی اُس کے بقول یہ ایک بیماری تھی اور اس طرح کے بچے اس نے برطانیہ میں بھی دیکھے ہیں

حکومت پاکستان نے 1969ء میں اس کاروبار کی ممانعت کا قانون بنایا اور اس پر عمل شروع ہوا ۔ ابتداء میں محکمہ اوقاف نے ایسے 9 بچے اپنی تحویل میں لے کر ان کی بحالی کا کام شروع کیا ۔ پھر ملک میں سیاسی گڑ بڑ شروع ہو گئی اور یہ کام رُک گیا ۔ عوامی دَور کے جولائی 1977ء میں خاتمہ کے چند سال بعد تک بھی یہ کام پس پشت پڑا رہا ۔ اس کے بعد کسی طرح یہ بات ضیاء الحق تک پہنچی اور کچھ اقدامات ہوئے ۔ پنجاب کی موجودہ حکومت نے اسے بھی اپنی اصلاحات میں شامل کیا ہوا ہے
یہ سب کچھ دراصل ان خاموش کام کرنے والے باعمل مسلمانوں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ بات حکمرانوں تک پہنچائی جاتی رہی اور عمل بھی ہوتا رہا

پہلے ہر سال ایسے زیادہ بچے نذر کئے جاتے تھے ۔ 1969ء میں قانون بننے کے بعد تعداد میں کمی آنا شروع ہوئی ۔ اگر بعد کے سب حکمران توجہ دیتے تو شاید یہ قباحت ختم ہو چکی ہوتی ۔ کچھ سال قبل معلوم ہوا تھا کہ سالانہ نذر کئے جانے والے بچوں کی تعداد کم ہو کر ایک سے 3 سالانہ ہو گئی ہے ۔ کوئی عجب نہیں کہ جو شیر خوار بچے اغواء ہوتے ہیں اور ملتے نہیں وہ اسی انسانیت سے گرے مافیا کی کارستانی ہو جو اُنہیں خاص ٹوپیاں پہنا کر اپاہج بناتے اور اپنا مکروہ دھندہ چلاتے ہوں

ضرورت ہے کہ عوام کو قرآن شریف کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی طرف راغب کیا جائے ۔ الله کرے کے موجودہ حکومت کے نئے قانون پر سکول و کالج کے پرنسپل اور اساتذہ درست عمل کریں اور آئیندہ آنے والی نسلوں میں قرآن شریف کی سمجھ پیدا ہو

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہم لوگ تِکے ۔ پِزا اور برگر کھانے کے اخراجات کچھ کم کر کے اس سے ہونے والی بچت کے ساتھ اپنے علاقہ کی مسجد کے امام صاحب کا ماہانہ مشاہرہ اتنا کر دیں (کم از کم پے سکیل 17) کہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی ذاتی پسند کا امام مسجد میں رکھنے کی بجائے حکومت سے رجسٹرڈ مدرسہ کا 8 سالہ کورس پاس کرنے والے کو امام مسجد رکھیں اور مسجد میں دکھاوے کیلئے جانے کی بجائے عِلم دین کے حصول اور الله کی خوشنودی کیلئے جائیں
الله ہمیں دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

میرے خلاف proxies استعمال کی جا رہی ہیں

جسٹس شوکت عزیز صدیقی (جنہیں عدالت میں اپنے فوج مخالف ریمارکس کی وجہ سے Supreme Judicial Council کی جانب سے Sow Cause Notice جاری کیا گیا تھا) نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ”مدعی جمشید دستی (رُکن قومی اسمبلی) اور مِس کلثوم خالق (Advocate) صرف Proxies ہیں ۔ درحقیقت یہ شکایات کِسی اور کی اِیما پر درج کرائی گئی ہیں ۔ میرے پاس اِس حوالے سے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں جو میں ضرورت پڑنے پر پیش کروں گا“۔

جسٹس صدیقی نے کونسل کو اپنے جواب میں بتایا ہے کہ ”تاہم یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ مُختلف Operatorsنے مُ ختلف طریقوں سے مجھے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔ میں اِنتہائی مؤدبانہ انداز سے عرض کرتا ہوں کہ میرا ضمیر پاک اور میرے ہاتھ صاف ہیں۔ میں نے کسی بھی طرح کا کوئی غلط کام نہیں کیا اور سماعت کے دوران میرے ریمارکس یا مشاہدات Misconductکے زمرے میں نہیں آتے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ”اگر کسی کو میرے فیصلوں میں دیئے گئے مشاہدات پر اعتراض ہے تو اِس کیخلاف Appeal دائر کی جا سکتی ہے اور Supreme Courtعدالتی اقدار اور طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے اِن فیصلوں میں سے میرے ریمارکس یا مشاہدات حَذف کر سکتی ہے

جسٹس صدیقی نے حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے کو ختم کرانے کیلئے کئے گئے معاہدے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ”تمام ادارے بشمُول مسلح افواج آئین کی پیداوار ہیں اور اِسی لئے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ آئین سے آگے نہیں جا سکتے جس کے تحت وفاقی حکومت کے پاس مسلح افواج کی کمان اور کنٹرول ہے نہ کہ اِس کے برعکس ۔ اُنہوں نے یاد دہانی کرائی کہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مسلح افواج کو وفاقی حکومت کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے بیرونی جارحیت یا پھر جنگ سے پاکستان کو بچانا ہے اور قانون کے مطابق بلائے جانے پر حُکام کی مدد کرنا ہے ۔ آئینی عدالتیں پابند ہیں کہ وفاقی حکومت اپنے فرائض آئین کے تحت انجام دے اور اس کے ماتحت ادارے اس کی کمان میں رہتے ہوئے اِسی طرح کام انجام دیں“۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ اُن کی سمجھ بوجھ کے مطابق متنازع معاہدے کو انتظامی بندوبست نہیں کہا جا سکتا ۔ بجائے اس کے یہ ایک غیر آئینی دستاویز تھی جسے ایسے ماحول میں تیار کیا گیا جسے آئینی اور قانونی Frame Workنہیں کہا جا سکتا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ”اِس طرح دستاویزات پر دستخط کرانے اور مظاہرین میں سینئر عہدیدار کی جانب سے پیسے بانٹنے کے اقدامات کو اُس عہدیدار کی آئینی ذمہ داری نہیں کہا جا سکتا۔ درحقیقت چند لوگوں کے اِس طرح کے ناقابل قبول اقدامات کی وجہ سے Executive کا حصہ سمجھے جانے والے پورے ادارے کی عزت کو نقصان پہنچا ہے ۔ یہ بات Record پر ہے کہ دھرنے کی قیادت نے سُپریم کورٹ کے جج صاحبان اور معزز چیف جسٹس پاکستان کیخلاف اِنتہائی گھٹیا ۔ غلیظ اور گندی زبان کا استعمال کیا“۔

اُنہوں نے سوال کیا کہ ’’کوئی بھی جج ایسے الفاظ کو کس طرح نظرانداز کر سکتا ہے کیونکہ یہ بحیثیت ایک ادارہ عدلیہ کے وقار ۔ عزت اور احترام کے خلاف تھے”۔ جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے آئین کے آرٹیکل 209 کی خلاف ورزی کی ہے اور نہ ہی Supreme Judicial Council کے وضع کردہ ضابطہ اِخلاق کے برعکس کوئی اِقدام کیا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ چونکہ Show Cause Notice میں ان کے بحیثیت جج اسلام آباد ہائی کورٹ کسی بھی طرح کے ریمارکس کے حوالے سے تفصیلات پیش نہیں کی گئیں لہٰذا میں کوئی مخصوص جواب یا پھر وضاحت پیش کرنے سے قاصر ہوں“۔ اگرچہ جسٹس صدیقی نے درخواست کی ہے کہ شو کاز نوٹس خارج کیا جائے

انصار عباسی

اہم معاشرتی اصول

اگر آپ کی نوازش کوئی بھُول جائے تو بھی اُسے اور دیجیئے
لوگوں سے توقع کم اور الله سے زیادہ کی اُمید رکھیئے
کیونکہ الله ہی ہے جو آپ کی خامیاں نہیں گِنے گا

صبَر اپنی مَوٹر اُس وقت ساکن کر نے کا نام ہے
جب آپ کا دل ساری چَرخِیاں بھی اُدھیڑنے کو چاہ رہا ہو