علامہ اقبال کے شعروں کے ساتھ بہت لوگوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور بعض اوقات اس پسندیدگی نے حشر نشر کی صورت اختیار کی ۔ بہت پرانی بات ہے راولپنڈی میں راجہ بازار کے فوارہ چوک (جہاں کبھی فوارہ بنا دیا جاتا ہے اور کبھی توڑ دیا جاتا ہے) سے لیاقت روڈ پر چلیں تو بائیں طرف ایک ہوٹل ہوتا تھا “علی بابا ہوٹل ۔ آنہ روٹی دال مفت” روپے میں 16 آنے ہوتے تھے اور یہ روٹی آجکل کی پانچ روپے والی کے برابر تھی ۔ اس ہوٹل کی دیوار پر جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے ٹوٹل پر
تو شاہین ہے کر بسیرا علی بابا کے ہوٹل پر
اسی زمانہ میں ایک رسالے میں کارٹون شائع ہوا جس میں لکھا تھا
خودی کو کر بلند اتنا کہ جا پہنچے پہاڑی پر
خدا بندے سے پھر پوچھے دس پترا اترسیں کس طراں