Category Archives: روز و شب

سال 2005کی بنياد پر ناکام رياستيں

دی فنڈ فار پيس [The Fund for Peace ] ايک نامور ادارہ ہے جو معلومات اکٹھا کرنے اور اُس کی چھانٹ پھٹک کر کے کارآمد علم حاصل کرنے کا چار دہائيوں سے زائد سالوں کا تجربہ رکھتا ہے نے دنيا کے ممالک کی کارکردگی کے متعلق اپنی دوسری رپورٹ شائع کی ہے ۔ طريقہءِ کار يہ ہے کہ مئی سے دسمبر 2005 تک کے لاکھوں مضامين بين الاقوامی اور مقامی ذرائع سے تھامسن ڈائيلاگ [Thomson DIALOG ] کے استعمال سے حاصل کئے گئے پھر کاسٹ سافٹ ويئر [CAST software] کی مدد سے ان ضخيم دستاويزات کا ابتدائی تجزيہ کيا گيا جس پر ماہرين نے نظرِثانی کی اور نتيجہ ترتيب ديا ۔

۔
مندرجہ ذيل 12 منفی عامِل [Operator] بطور علامت [Index] مقرر کئے گئے ۔ پاکستان کے ان ميںحاصل کردہ نمبر ہر ايک کے سامنے لکھے ہيں

1- Mounting Demographic Pressures – 9.3 Rank 5

2 – Massive Movement of Refugees and IDPs – 9.3 Rank 4

3 – Legacy of Vengeance – Seeking Group Grievance – 8.6 Rank 14

4 – Chronic and Sustained Human Flight – 8.1 Rank 12

5 – Uneven Economic Development along Group Lines – 8.9 Rank 11

6 – Sharp and/or Severe Economic Decline – 7.0 Rank 24

7 – Criminalization or Delegitimization of the State – 8.5 Rank

8 – Progressive Deterioration of Public Services – 7.5 Rank 21

9 – Widespread Violation of Human Rights – 8.5 Rank 13

10 – Security Apparatus as “State within a State” – 9.1 Rank 11

11 – Rise of Factionalized Elites – 9.1 Rank 9

12 – Intervention of Other States or External Actors – 9.2 Rank 9

ہر ايک عامِل کے 10 نمبر مقرر کئے ۔ اس طرح کُل نمبر 120 بنے ۔ سب سے زيادہ نمبر حاصل کرنے والے مُلک کا نام سب سے اُوپر لکھا گيا اس کے بعد بتدريج کم نمبر لينے والے مُلکوں کے نام لکھے گئے ۔ 90 يا زيادہ نمبر لينے والا مُلک ناکام رياست گردانا گيا ۔ اس طرح 2005 کی کارکردگی کی بنياد پر 28 مُلک “ناکام رياستيں” قرار ديئے گئے ۔ نيچے ان ممالک کے نام مع حاصل کردہ نمبروں کے درج ہيں سب سے زيادہ ناکام رياست سوڈان کو اور سب سے کم ناکام رياست کرغزستان قرار ديا گيا ۔ پاکستان نويں نمبر پر ہے ۔ تفصيلات کے لئے عنوان پر کلِک کيجئے ۔

Rank ۔ Country – – – – – – – – – – – – – Marks

1 – – – – Sudan – – – – – – – – – – – – – – 112.3

2 – – – – Democratic Rep of Congo – – – 110.1

3 – – – – Cote d’Ivoire – – – – – – – – – – 109.2

4 – – – – Iraq – – – – – – – – – – – – – – – 109.0

5 – – – – Zimbabwe – – – – – – – – – – – 106.9

6 – – – – Chad – – – – – – – – – – – – – – 105.9

7 – – – – Somalia – – – – – – – – – – – – – 105.9

8 – – – – Haiti – – – – – – – – – – – – – – – 104.6

9 – – – – PAKISTAN – – – – – – – – – – – 103.1

10 – – – Afghanistan – – – – – – – – – – – 99.8

11 – – – Guinea – – – – – – – – – – – – – – 99.0

12 – – – Liberia – – – – – – – – – – – – – – 99.0

13 – – – Central African Republic – – – – 97.5

14 – – – North Korea – – – – – – – – – – – 97.3

15 – – – Burundi – – – – – – – – – – – – – 96.7

16 – – – Yemen – – – – – – – – – – – – – 96.6

17 – – – Sierra Leone – – – – – – – – – – 96.6

18 – – – Burma / Mayanmar – – – – – – – 96.5

19 – – – Bangladesh – – – – – – – – – – – 96.3

20 – – – Nepal – – – – – – – – – – – – – – 95.4

21 – – – Uganda – – – – – – – – – – – – – 94.5

22 – – – Nigeria – – – – – – – – – – – – – 94.4

23 – – – Uzbekistan – – – – – – – – – – – 94.4

24 – – – Rwanda – – – – – – – – – – – – 92.9

25 – – – Sri Lanka – – – – – – – – – – – 92.4

26 – – – Ethiopia – – – – – – – – – – – – 91.9

27 – – – Colombia – – – – – – – – – – – – 91.8

28 – – – Kyrgyzstan – – – – – – – – – – – 90.3

پہلی رپورٹ جو 2005 عيسوی کے شروع ميں شائع ہوئی وہ مئی سے دسمبر 2004 پر مبنی تھی ۔ اس ميں 33 مُلک ناکام رياست قرار ديئے گئے تھے اور پاکستان 89.8 نمبروں کے ساتھ 34ويں نمبر پر آ کر بال بال بچ گيا تھا ۔ ڈيٹيلڈ مارکس شيٹ يہ ہے

Index 1 – 5, Index 2 – 5, Index 3 – 6.9 , Index 4 – 8, Index 5 – 9 , Index 6 – 3.3 , Index 7 – 9.8 , Index 8 – 7.5 , Index 9 – 8.1 , Index 10 – 9, Index 11 – 9.3 , Index 12 – 8.5

احوال شادی کا

اس سال جنوری میں ایک شادی میں شرکت نئے تجربات کا باعث بنی ۔ بارات جمعہ 6 جنوری کو سیالکوٹ سے لاہور جانا تھی اور ولیمہ ہفتہ 7 جنوری کو تھا ۔ بارات صبح 9 بجے روانہ ہونا تھی 10بجے تک صرف وہی لوگ تھے جو اُن کے گھر میں سوئے تھے ۔ ساڑھے دس تک سب باراتی اکٹھے ہو گئے تو فوٹو گرافر غیر حاضر ۔ ٹیلیفون کیا تو پتہ چلا کسی نے اُسے 11 بجے کا وقت دیا تھا ۔ خیر وہ گیارہ سے پہلے پہنچ گئے ۔ اب کاریں تیار کھڑی ہیں مگر بس نہیں آ رہی ۔ معلوم ہوا کہ سڑکیں تنگ ہونے کی وجہ سے بس مُڑ نہیں پا رہی ۔ پینتیس منٹ کی کوشش کے بعد بس رِیورس چلا کر لائی گئی اور ساڑھے گیارہ بجے بارات روانہ ہوئی ۔ سفر کی کوآرڈینیشن اچھی تھی اِس لئے مزید کوئی دشواری نہ ہوئی ۔بس کا ڈرائیور ہارن کی آواز کا دلدادہ تھا ۔ کوئی گاڑی دیکھ لے چاہے اُس کے آگے نہ ہو وہ پریشر ہارن کے بٹن پر ہاتھ رکھ دیتا تھا جو چند منٹ بعد ہی اُٹھتا تھا ۔ لاہور سے واپسی پر دس کاروں اور ایک بس پر مشتمل بارات دُلہن کو لے کر روانہ ہوئی ۔ بس کے ڈرائیور صاحب نے آڈیو کیسٹ چلا دی ۔ پتہ نہیں کونسے زمانہ کا آڈیو کیسٹ پلیئر تھا ۔ آواز کی چیں چیں نے ویسے ہی تنگ کیا ہوا تھا ۔ اِس پر گانوں نے نمک پاشی کی ۔ جو چند بول مجھے یاد رہ گئے ملاحظہ ہوں

دو ہنسوں کا جوڑا بچھڑ گیا رے ۔ غضب ہوا رام ظلم ہوا رے

دِل کا کھلونا ہائے ٹوٹ گیا کوئی لُٹیرا آ کے لُوٹ گیا

کہیں دِیپ جلے کہیں دِل آ دیکھ لے آ کر پروانے تیری کونسی ہے منزل

وہ دیکھو جلا گھر کسی کا

ولیمہ کے دن معلوم ہوا کہ بیوٹی پارلر والی نے روانگی کے وقت کو اپنا کام شروع کرنے کا وقت سمجھ لیا تھا چنانچہ دُلہن ایک بجے کی بجائے ساڑھے تین بجے تیار ہو کر آئی ۔ لڑکی کے خاندان والوں نے لاہور سے ڈیڑھ دو بجے تک پہنچنا تھا ۔ 4 بج گئے اور ان کی کوئی خبر نہ ملی ۔ آخر ساڑھے چار بجے پہنچے اور بتایا کہ ڈھائی
گھینٹے ڈسکہ میں ٹریفک جام میں پھنسے رہے ۔

بلاگرز کی فوری توجہ اور فوری عمل کی ضرورت

اسلام آباد کے چندبلاگرز اور کچھ آئی ایس پِیز کی درخواست کے نتیجہ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی [P.T.A.] نے میٹنگ بلائی ہے جو جلد ہونے والی ہے ۔ اس میٹنگ کا ایجنڈا یہ ہے کہ پورے ڈومینز [domains] کی بلاکنگ ختم کی جائے اور صرف قصوروار بلاگز یا ویب سائٹس بلاک کئے جائیں ۔ ضروری ہے کہ اس وقت یعنی میٹنگ ہونے سے پہلے پی ٹی اے پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے جس کا صحیح اور مؤثر طریقہ مندرجہ ذیل ہے ۔
پی ٹی اے کی مندرجہ ذیل ویب سائٹ کھول کر فیڈ بیَک [Feedback] پر ماؤس کا بایاں بٹن دبائیں ۔
http://www.pta.gov.pk/index.php?cur_t=vtext
اس طرح ایک فارم کھُل جائے گا ۔ اس فارم کو مکمل طور پر پُر کریں اور مندرجہ ذیل سے ملتا جُلتا فقرہ ضرور لکھئے ۔
By blocking twelve domains in stead of twelve concerned websites PTA has blocked thousands of innocent websites.
اپنے بلاگ کو ویب سائٹ لکھئے کیونکہ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ بلاگ کیا ہوتا ہے البتہ ویب سائٹ تقریباً سب سمجھتے ہیں ۔

ایک سفر کی روداد

ہمیں دولہا کی طرف سے شرکت کی دعوت ملی جن کی رہائش سیالکوٹ میں ہے ۔ جمعہ 6 جنوری کو بارات لاہور جانا تھی ۔ میری کمر اور ٹانگ کے درد کے پیشِ نظر شورہءِ خانہ نے فیصلہ کیا کہ کار چلانا میرے لئے مُضِر ہو گا اِس لئے بس پر سفر کیا جائے اور اِس کے لئے دَیوُو کا انتخاب کیا گیا جس کا کرایہ دوسری بس سے تقریباً دوگُنا تھا ۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ آرام دہ ہے اور مسافت میں کم وقت لے گی ۔ جمعرات کو 12 بجے دوپہر ایف ۔ 8 ٹرمینل پہنچے جہاں سے وین پر راولپنڈی پہنچائے گئے ۔ وہاں بس میں بیٹھے جو ایک بجے چلی ۔ بس گجرات میں 15 منٹ رُکنے کے بعد چلی مگر شہر کے اندر ہی ٹریفک میں پھنس گئ ۔ سامنے سے آنے والی گاڑیوں نے ساری سڑک روک رکھی تھی اور ایک گاڑی بائیں جانب کی سڑک سے بیچ میں گھس گئی تھی اور کوئی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ۔ آدھا گھینٹہ گذرنے کے بعد کچھ سواریوں کو نزاکت کا احساس ہوا اور اُنہوں نے اپنی گاڑیوں سے نیچے اُتر کر گاڑیوں کو آگے پیچھے کروایا تو مزید 15 منٹ بعد وہاں سے نکلے ۔ دَیوُو والے راستہ میں مشروب اور کچھ کھانے کو بھی دیتے ہیں ۔ جب ملا تو علم ہوا کہ مِقدار کم ہو چکی ہے اور معیار بھی گِر چکا ہے ۔ نمعلوم کیوں ہمارے ملک میں ہر چیز بڑے طمطراق سے شروع ہوتی ہے اور بعد میں یہی حال ہوتا ہے ۔ پھر پتہ چلا کہ وزیر آباد سیالکوٹ سڑک بن رہی ہے اس لئے براستہ گوجرانوالا جائیں گے ۔ چنانچہ پونے سات بجے یعنی پونے سات گھنٹے میں سیالکوٹ پہنچے جبکہ دوسری بس ساڑھے پانچ گھینٹے میں پہنچنا تھی ۔

زبان شیرین ملک گیری

پنجابی کا ایک مقولہ ہے ” زبان شیرین ملک گیری” یعنی زبان میٹھی ہو تو انسان حکومت کر سکتا ہے ۔زبان بظاہر ایک چھوٹی سی اور خفیف وزن چیز ہے مگر بہت کم لوگ اسے قابو میں رکھ سکتے ہیں ۔

جو شخص اپنی زبان کو قابو میں رکھتا ہے وہ ہر جگہ عزّت پاتا ہے ۔