Category Archives: روز و شب

جھگڑے اور شرمندگی سے نجات

ہماری ہر بات اور عمل اپنا اثر رکھتے ہيں جس طرح پانی ميں پتھر پھينکا جائے تو لہريں پيدا ہوتی ہيں جو دور تک جاتی ہيں ۔ ہميں اپنی مرضی کے مطابق بولنے اور عمل کرنے کا حق ضرور ہے ليکن ہمارے بولے ہوئے الفاظ اور ہمارے عمل کے نتيجہ کی ذمہ داری بھی ہم پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ جلدی ميں بولے ہوئے الفاظ نے متعدد بار پيار کرنے والے مياں بيوی يا دوستوں کے درميان ديوار کھڑی کی ہے ۔

بعض اوقات ہم کسی کے متعلق غلط سوچ قائم کرتے ہيں اور پھر غُصّے يا جذبات ميں آ کر جو منہ ميں آتا ہے کہہ ڈالتے ہيں ۔ ايسے ميں اگر ہم توقّف کريں تو جلد ہی غصہ يا جذبات دھيمے پڑ جاتے ہيں اور اس کی جگہ رحمدلی يا تدبّر لے ليتا ہے ۔ اسلئے غصے يا جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ بولنا يا کوئی قدم اُٹھانا بڑی غلطی ہے۔ بہتر يہ ہے کہ غصہ يا جذبات کے زيرِ اثر نہ کوئی بات کی جائے اور نہ کوئی عملی کام ۔ عين ممکن ہے ايک آدھ دن ميں يا تو غصے کا سبب ہی ختم ہو جائے يا کوئی بہتر صورت نکل آئے ۔ بالفرضِ محال اگر صورتِ حال جوں کی توں رہتی ہے تو کم از کم بہتر اقدام کے بارے ميں سوچنے کا وقت تو مل گيا ہو گا ۔ زيادہ قياس يہی ہے کہ غصہ کھانے کی وجہ ہی نہيں رہی ہو گی ۔

سُورة 41 فُصِّلَت / حٰم السَّجْدَ آيت 34

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، اور برائی کو بہتر (طریقے) سے دور کیا کرو سو نتیجتاً وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہو جائے گا

اُردو کا حشر نشر

کسی زبان کی ترقی کيلئے پُر مغز اور محنتی زبان دانوں کی ضرورت سے انکار نہيں کيا جا سکتا ۔ بّرِ صغير ميں ايسی ہستياں ايک ايک کر کے مُلکِ عدم کو سدھاريں اور اُردو يتيم ہو کر رہ گئی ۔ دہی مذکر ہے يا مؤنث ۔ اس پر بحث تو 1945 عيسوی ميں شروع ہو گئی تھی ۔ دہلی والے دہی کو مؤنث اور دوسرے مذکر کہتے ۔  اُميد تھی کہ آزادی کے بعد اُردو پروان چڑھنے لگے گی ليکن 1947 کے بعد بھارت نے سنسکرت جس سے خود ہندو نابلد تھے عام کرنے کی سعی شروع کر دی اور پاکستان ميں لياقت علی خان کے قتل کے بعد عنانِ حکومت انگريز کے پِٹھوؤں کے ہاتھ آگيا اور وہ اُردو کو ثانوی حثيت دے کر انگريزی سے محبت کو اُجاگر کرنے لگے کہ شائد گورا مرغوب ہو کر نذر نياز کرنے لگے ۔

پاکستان بننے کے بعد يہ سوال بھی پيدا ہوا کہ اُردو مذکر ہے يا مؤنث ۔ اُردو زبان يا بولی ہے ۔ زبان اور بولی دونوں مؤنث ہيں اسلئے اُردو کو ہونا تو مؤنث چاہيئے ۔ خير ۔ يہ پُرانی بات ہے ۔

آجکل بالخصوص جوان طبقہ ميں اس طرح کی اُردو سننے ميں آتی ہے ۔ 

نَٹ [not] يار ۔ ايسا تو نہيں بولو ۔
تُو پھر مجھے ملنے ضرور آئِيں ۔
اوہ يار ايمان سے وَٹ شُڈ آئی ٹَيل يُو [what should I tell you] ۔ ۔ ہے نا فنٹاسٹک [fantastic] ؟
تُم آنا شام کو دھَين وِی گو [then we go] نا ۔ ٹھيک ؟

فارسی کا مصدر ہے آمدَن جس کا مطلب ہے آنا ۔ اس سے بنا آمدَيد يعنی آپ آئے ۔ اس سے بنا خُوش آمدَيد ۔ مگر ہوتے ہوتے يہ بن گيا خُوش آمدِيد ۔ يعنی درميانی د پر زبر کی بجائے نيچے زير آ گئی ۔ 

فارسی کا مصدر ہےنوشيِدَن جس کا مطلب ہے پِينا ۔ اس سے بنا نَوش يعنی پينے کا فعل ۔ کسی کو مشروب پيش کيا جائے تو کہا جاتا تھا نوش فرمائيے اور اگر کھانے کی چيز پيش کی جائے تو کہا جاتا تھا تناول فرمائيے ۔ اب اتنے الفاظ کا بوجھ کون اُٹھائے ۔ عام ديکھا ہے کہ کھانے کی اشياء پيش کر کے کہا جا تا ہے نوش فرمائيے ۔

ميز جو انگريزی ميں ٹيبل [table] ہوتی ہے سے بنا ميزبان جو انگريزی ميں ہَوسٹ [host] ہوتا ہے ليکن نمعلوم کيسے يہ مِيزبان بن گيا يعنی م پر زبر کی بجائے نيچے زير بن گئی جبکہ ميز ابھی مِيز نہيں بنی ۔

عربی زبان ميں دوسرے کو ثانی اور دوسری کو ثانيہ کہتے ہيں مگر ث کو ت بولتے ہيں ۔ کسی نے تانيہ سُنا جو کہ دراصل ثانيہ تھا اور اپنی بيٹی کا نام تانيہ رکھ ديا ۔

مصر ميں ق کو آف اور ج کو گِيم بولا جاتا ہے چنانچہ ہند و پاکستان ميں جن لڑکيوں يا خواتين کا نام ادريہ ہے دراصل وہ عربی کا نام قدريہ اور اسی طرح گيلانی دراصل جيلانی ہی ہے ۔

ميرے بڑے بيٹے کا نام ہے زَکَرِيَّا ۔ اس نام کے ايک نبی ہوئے ہيں جو حضرت مريم کے ماموں يا خالو تھے ۔ 40 سال سے زائد پہلے ميرے ماتحت ايک فورمين تھے وہ اپنا نام ذِکرِيہ لکھتے اور اِسی طرح بولتے ۔ جب 1985عيسوی ميں ميری تبديلی بطور جنرل مينجر ايم آئی ايس ہوئی تو محکمہ ميں ايک ڈاٹا اينٹری آپريٹر تھے وہ اپنا نام ذِکرِيا لکھتے تھے ۔ ميرے چھوٹے بيٹے کی شادی ہوئی تو کراچی ميں نکاح رجسٹرار صاحب نے ميرے بيٹے کا نام بطور گواہ ذِکريا ذال سے لکھا ۔ ميں نےکہا کہ زے سے لکھيئے تو فرمانے لگے ۔ يہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ آپ نہيں جانتے ۔ اب اُنہيں کون سمجھاتا کہ حضور قرآن شريف کھول کر سورت مريم پڑھيئے اُس ميں زَکَرِيَّا  زے سے لکھا ہوا ہے اور يہ عربی زبان کا نہيں بلکہ کسی قديم زبان کا لفظ ہے جو قرآن شريف ميں زَکَرِيَّا لکھا گيا ہے ۔ شائد نيم مُلا خطرہءِ اِيمان اِسی لئے کہتے ہيں

بيوی بندوق کی گوليوں ۔ ۔ ۔

دن بھر کا تھکا ہارا مرد گھر لوٹا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنی دير کيوں لگا دی ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہاں چلے گئے تھے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کس کے پاس چلے گئے تھے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ يا گھر ميں آٹا نہيں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دال نہيں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بچے کو بُخار ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وغيرہ وغيرہ ۔

ذرا سوچئے تو اگر اسی طرح روزانہ بيوی بندوق کی گوليوں کی طرح برستی رہے تو اس کا نتيجہ کيا ہو گا ؟

یہ بھی حقيقت ہے کہ مرد سارا سارا دن دوستوں کے ساتھ گھومتے اور قہقنے لگاتے رہتے ہيں ۔ کسی نے چوکڑی جما کر تاش کھيلتے آدھی رات گذار دی تو کوئی کلب ميں بيٹھ کر تکّے کباب اُڑاتا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مکمل صورتِ حال جاننے کيلئے پڑھئے ہمارے معاشرہ کا ايک نفسياتی جائزہ اُوپر رشتہءِ اِزدواج پر کلِک کر کے ۔

آرزو اور انتظار

عمر اُدھار مانگ کے لائے تھے چار دن

دو  آرزو  ميں کٹ گئے دو  انتظار ميں

ٹھيک ہی کہا تھا بہادر شاہ ظفر نے ۔ زندگی ميں ہے ہی کيا ؟  بس آرزو اور انتظار ۔ ۔ ۔

عورت کی زندگی کے سفر کا خاکہ

ڈيرہ غازی خان سے اپنا ڈيرہ والے منير احمد طاہر صاحب کے شکريہ کے ساتھ

بچہ جب ليٹے ہوئےبڑوں کو بيٹھا يا کھڑا ديکھتا ہے تو اُس کے دل ميں اُٹھ بيٹھنے کی آرزو پيدا ہوتی ہے اور وہ سر آُٹھانے کی کوشش بھی کرتا ہے پھر اسی انتظار ميں رہتا ہے کہ کس دن وہ بيٹھنے لگے گا ۔ بيٹھنے لگتا ہے تو چلنے والوں کو ديکھ کر کھڑے ہو کر چلنے کی آرزو کرتا ہے اور اسی انتظار ميں وقت گذارتا ہے ۔ چلنے لگتا ہے تو گھر سے باہر جانے کی آرزو لے بيٹھتا ہے اور انتظار ميں رہتا ہے کہ کب وہ خود دروازہ کھولنے کے قابل ہو گا ۔  

باہر جانے کے قابل ہو جاتا ہے تو وہ جوان ہونے کی آرزو ميں دن گذارنے لگتا ہے اور چھُپ چھُپ کر آئينے ميں ديکھتا رہتا ہے کہ کب موچھيں اور داڑھی نکليں گی ۔ تعليم حاصل کرنے کے دوران کوئی اس انتظار ميں رہتا ہے کہ چھُٹياں ہوں تو سير و سياحت کی آرزو پوری کرے ۔ کوئی امتحان کی انتظار ميں رہتا ہے کہ اپنی محنت کا پھَل حاصل کرے ۔

جوان ہو کر ايک ساتھی کی آرزو دل ميں چُٹکياں لينے لگتی ہے اور وہ اس آرزو کی تکميل کا بيقراری سے انتظار کرتا ہے ۔ شادی کے بعد ماں يا باپ بننے کی آرزو جنم ليتی ہے اور وہ اُس خوش آئيند گھڑی کی انتظار ميں دن گننے لگتا ہے ۔ بچہ مل جاتا ہے تو اُسے آرزو ہوتی ہے کہ بچہ پڑھ لکھ کر قابل بن جائے تو اس وقت کی انتظار ميں دن مہينے اور سال گذرنے لگتے ہيں ۔ پھر بچوں کی شادی کی آرزو جکڑ ليتی ہے اور اچھے رشتوں کی انتظار ميں رہتا ہے ۔ 

ملازمت کرے تو بڑا افسر بننے کی آرزو ہر وقت دامنگير رہتی ہے اور ايک کے بعد دوسری ترقی کی انتظار ميں سال پہ سال گذارتا ہے ۔ تجارت کرے تو زيادہ سے زيادہ امير بننے کی آرزو نہيں چھوڑتی اور اُس دن کی انتظار ميں رہتا ہے جب اُسے زندگی کی تمام آسائشيں حاصل ہو جائيں ۔

بچوں کی شادياں ہو جانے پر بچے اپنے اپنے کاموں ميں مصروف ہو جاتے ہيں اور وہ والديا والدہ سے بوڑھا دادا يا دادی بن جاتا ہے ۔ ايسے ميں وہ ايک آرزو دل ميں بسا ليتا ہے کہ بچے خوش رہيں اور اپنی خوشيوں ميں اُسے بھی شريک کر ليا کريں ۔ اگر اس کا بچہ بہت دُور چلا جائے تو بھی تمام تر حقائق جانتے ہوئے اُس کے ديدار کی آرزو دِل ميں لئے اُس کی انتظار ميں سال يا مہينے نہيں بلکہ دن گنتا رہتا ہے ۔  

بہت خوش قسمت ہوتا ہے وہ شخص جس کی يہ آخری آرزو پوری ہوتی ہے ۔ اور اس سے بھی زيادہ خوش قسمت وہ شخص ہوتا ہے جس کے بچے اُس کا صرف خيال ہی نہيں رکھتے بلکہ اُس کی خدمت بھی کرتے ہيں ورنہ بعض اِنہی  آرزوؤں  اور انتظار کو سينے سے لگائے اس دنيا سے کُوچ کر جاتے ہيں ۔ 

* 

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

– – Hypocrisy Thy Name    http://iabhopal.wordpress.com  يہ منافقت نہيں ہے کيا ۔ ۔ 

چُٹکلے

ہفتہ کو اسلام آباد ميں درجہ حرارت 43 ڈگری سيلسِيئس تک گيا اتوار کو صبح نو بجے ہی بہت گرمی تھی ۔ اتوار بازار ہمارے گھر سے ايک ڈيڑھ کلوميٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ ميں سودا لينے گيا تو وہاں ايک دکان پر کچھ لوگ گرمی کی شدّت کا ذکر کر رہے تھے ۔ مجھے آمد ہوئی ميں نے ايک صاحب کو مُخاطب کر کے پوچھا “بھائی صاحب ۔ اگر آپ کے ساتھ کو ہيراپھيری کرے تو؟” وہ صاحب کچھ پريشان ہوئے پھر بولے “ظاہر ہے گرمی آئے گی” ميں بولا “جب سب ہيراپھيری ميں لگے ہيں تو گرمی کی شکائت کيوں ؟”

اتوار بازار سے واپسی پر ايک کرائے کی پِک اَپ پر لکھا شعر پڑھا ۔

ميرے خلوص کی قيمت بھی کم نہ تھی
وہ کم انديش لوگ تھے سو دولت پہ مرگئے

ايک شعر ميرے بچپن کا

ہو جُون کا مہينہ خُنکی سی پڑ رہی ہو
بارہ بجے ہوں دن کے اور اوس پڑ رہی ہو

مزيد بابت خُدا حافظ اور عربی کا قصور ؟

سيّدہ مہر افشاں صاحبہ نے ميری تحرير پر تبصرا کرتے ہوئے لکھا “- – ليکن ايک بات ميری سمجھ ميں نہيں آتی جو اللہ حافظ کہنا چاہتے ہيں اُن پر اِتنی تنقيد اور جو خُدا حافظ کہنے کيلئے صفحوں پر صفحے سياہ کئے جاتے ہيں کيا وہ شدّت پسندی ميں مُبتِلا نہيں ہيں ؟ جب يہ طے ہو گيا کہ جس کو جو اچھا لگے وہ وہی کہے تو احمد بشير ۔ انتظار حسين اور دوسرے اُن جيسی سوچ رکھنے والوں کو کيا کہا جائے ۔ ۔ ۔ ؟ “

احمد بشير اور اِنتظار حسين صاحبان کے مضامين جن پر مہر افشاں صاحبہ نے رائے طلب کی ہے ميں نے اپنے بڑے بيٹے زَکَرِيّا کی تحرير پر سپاہی صاحب [sepoy] کے تبصرہ کے حوالہ سے پڑھے تھے ۔ ميں ايسے لوگوں کو بُرا نہيں کہتا کيونکہ اوّل تو يہ فرض اللہ نے مجھے تفويض نہيں کيا۔ دوم ۔ اگر ايسے لوگ نہ ہوتے تو ميرے دِل ميں عِلمِ دين کی جُستجُو کيسے پيدہ ہوتی؟ سوم ۔ اُنہيں بُرا کہنے سے اُن کا تو کُچھ نہيں بگڑے گا البتہ ميری زبان مَيلی ہو گی ۔

احمد بشير صاحب نے اللہ حافظ کہنے کی مُخالفت کرتے ہوئے لکھتے ہيں کہ اُنہوں نے پاکستان ۔ برطانيہ ۔ متحدہ عرب امارات اور امريکہ کے کئی شہروں ميں بہت سے احباب سے ٹيلفون پر بات کی اور سب نے کلام کے اختتام پر اللہ حافظ کہا ۔ ثقافت اور رسم و رواج کے حامی جمہوريت کے دِلدادہ بھی ہوتے ہيں مگر سو فيصد جمہور کا فيصلہ احمد بشير صاحب نہ ماننے پر بضد ہيں ۔ پوٹھوہاری زبان کا ايک مقولہ ہے ” تُساں نا آکھا سِر مَتھّے اَساں نا پرنالہ اُتھے نا اُتھے” [ترجمہ: آپ کہتے تو صحيح ہيں مگر ہم وہی کريں گے جو ہم کر رہے ہے] مزيد احمد بشير صاحب فرماتے ہيں کہ “خُدا” فارسی کے لفظ “خُود” سے نکلا ہے اور اس کا مطلب ہے “خُود بخُود پيدا ہوا “۔ سُبْحان اللہ ۔ ميں نے اپنی سابقہ تحرير ميں مثال دی تھی ” لکھے مُو سا پڑھے خود آ ” کو بنا ديا گيا “لکھے موسٰی پڑھے خُدا “۔ معلوم ہوتا ہے احمد بشير صاحب نے کہيں يہ پڑھ رکھا ہو گا ۔ ورنہ فارسی سے استنباط نہ کرتے ۔

اِنتظار حسين صاحب نے Prof Ralph Russell کی تحرير کی بنياد پر اُردو کے اعلٰی و عُمدہ ترين اداروں [مُقتدرہ قومی زبان پاکستان اور دارُالترجمہ عُثمانيہ يونيورسٹی حيدرآباد دکن بھارت] اور ان اداروں ميں کام کرنے والے عُمدہ اُردودانوں کو غلط قرار ديتے ہيں تو پھر اِنتظار حسين صاحب کے ساتھ بحث کرنے کی کون جُراءت کرے ۔ اِنتظار حسين صاحب کہتے ہيں کہ جب انگريزی سے اُردو ميں ترجمہ کرتے ہوئے عربی اور فارسی کے اُصُول اپنانا ہيں تو انہيں انگريزی ہی ميں رہنے ديا جاۓ ۔ جو شخص يہی بھول جائے کہ اُردو کے ماں باپ عربی اور فارسی ہيں اُسے کوئی کيا کہے ۔ مزيد خُدا حافظ کہنے کے متعلق احمد بشير صاحب کی تائيد ميں کہتے ہيں کہ ” خُدا ايک پاک نام ہے جسے مسلمان شعراء ۔ مفکّرِين اور عُلماء نے مذہبی احساسات اور سوچ کو جذب کر کے استعمال کيا ہے اور عام مسلمانوں کی مُجتمع سوچ بھی يہی ہے” ۔ يہ اِستدلال ميری سمجھ ميں نہيں آيا کہ سارے مذہبی احساسات اور سوچ صرف لفظ خُدا ميں کيوں کر جذب ہو کر رہ گئے اور لفظ اللہ ميں کيوں نہ ہو سکے ؟ احمد بشير اور اِنتظار حسين صاحبان کا يہ اِستدلال بھی صحيح نہيں کہ جنرل ضياءالحق کے دور ميں لوگوں نے اللہ حافظ کہنا شروع کيا ۔ کيا مارشل لاء کا کوئی حُکمنامہ تھا کہ سب اللہ حافظ کہيں ؟

حقيقت يہ ہے کہ لوگ پہلے بھی اللہ حافظ کہتے اور لکھتے تھے پھر جب 1970 عيسوی ميں پاکستان کی طِبّبی ۔ فنّی اور عسکری جماعتيں سرکاری طور پر عرب ملکوں کو لمبے دورانيوں کيلئے جانا شروع ہوئيں ۔ 1973 عيسوی سے مہنگائی اور بے روزگاری کا آغاز ہوا جو دن بدن بڑھتا گيا چنانچہ انفرادی طور پر بھی لوگوں نے عرب ممالک کا رُخ کيا جس کے باعث عربی کے کئی الفاظ اُردو ميں ضم ہوئے ۔ لوگوں نے اپنے بچوں کے نام بھی عربی ميں رکھنے شروع کئے ۔ کئی لوگوں کے تلفُّظ ميں بھی تبديلی آئی ۔ اس کے علاوہ عربی کھانے بھی پاکستان ميں رائج ہوئے مثلاً فُول مدمّس ۔ شورما ۔ جُبنہ بيضاء ۔ بقلاوہ وغيرہ ۔

ميری زندگی ميں کچھ لوگوں کا اس طرح کا رويّہ پہلا واقع نہيں ۔ اللہ جلِّ شانُہُ کی کرم نوازی ہے کہ مجھے بہت سے تجربوں سے گُذارا اور ثابت قدم رکھا ۔ اِن مخالف رويّوں بلکہ تجربوں نے اپنے مالک و خالقِ حقيقی کو پہچاننے ميں ميری مدد کی ۔ ميرا سب سے کٹھن وقت وہ تھا جب 51 سال قبل ميں گارڈن کالج راولپنڈی ميں ايف ايس سی کا طالب علم تھا اور بائبل کی کلاس ميں امريکن اُستاد کے مذہبی حملہ کے سامنے سوائے ايک طالب علم [مصطفٰے صدّيقی] کے ميرے سميت مسلمان کہلانے والوں کی پوری جماعت گُنگ ہو کر رہ گئی تھی ۔ اس حادثہ کے زيرِ اثر ميں نے انجيل مکمل [زبور ۔ تورات اور انجيل] کا اچھی طرح مطالعہ کيا پھر قرآن شريف سمجھنے کے پيچھے پڑ گيا ۔ اُن دنوں راولپنڈی ميں قرآن شريف کی اُردو ميں تفسير تو کيا مُستند دينی کُتب بھی ناياب تھیں چنانچہ ميں نے اچھے عالِموں کو ڈھونڈنے اور اُن سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ اس سعی ميں مجھ پر عياں ہوا کہ جو بہت سے لوگ بظاہر عالِم تھے اُن ميں حقيقی عالِم خال خال ہی تھے باقی اسلئے مسجد يا گدّی سنبھالے بيٹھے تھے کہ اُن کے بزرگوں کا يہی پيشہ انگريزوں کے وقت سے چلا آرہا تھا بہرحال کچھ عالِم مل گئے جنہوں نے ميرا قِبلہ درُست کيا ۔

اُنہی دنوں ايک ترقی پسند تحريک اُبھری جو اپنی چکاچوند کے باعث بہت جلد پھيل گئی ۔ ميں بھی اس ميں شامل ہو گيا ۔ اس کے رہبروں نے ترقی کے لبادے ميں اسلام کے بخيئے اُدھيڑنے شروع کئے تو اُن کی اصليت اُجاگر ہوئی ۔ 1956 عيسوی ميں انجنئرنگ کالج ميں داخل ہوا تو لاہور ميں مجھے کچھ مُستند دينی کُتب دستياب ہوئيں اور ميں نے انہماک کے ساتھ دين کو سمجھنا شروع کيا ۔ بعد ميں اپنی زندگی کے مراحل طے کرتے ہوئے کبھی اسلامی سوشلِزم کبھی ترقی پسند اسلام وغيرہ ديکھتا رہا اور اب ساڑھے چھ سال سے روشن خيال اسلام ديکھ رہا ہوں ۔

پھر نہ کہيئے کہ خبر نہ ہوئی

مجھے وسط اپريل 2006 ميں اطلاع مِل گئی تھی کہ پی ٹی اے نے بلاگسپاٹ پر سے پابندی اُٹھا دی ہے اور متعلقہ بلاگز يا ويب سائيٹس [blogs or websites] کو انفرادی طور پر بند کرنے کا عمل شروع ہے ۔ ميں بلاگسپاٹ پر سے پابندی اُٹھنے کے متعلق 7 مئی کو تحرير کرچُکا ہوں ۔ اُس سے چند دن پہلے ايک صاحب يہ خوشخبری دے چُکے تھے ۔ اُميد ہے کہ اب سب قارئين بلاگسپاٹ کے بلاگز براہِ راست کھول سکتے ہونگے ۔ اگر ابھی بھی آپ بلاگسپاٹ کے بلاگز نہ کھول سکتے ہوں تواپنے آئی ايس پی [Internet Service Provider] سے فوراً رابطہ کر کے اُسے بلاگسپاٹ پر سے پابندی اُٹھانے کا کہيئے ۔