Category Archives: روز و شب

جسٹس رانا بھگوان داس کہاں ہیں ؟

سب جانتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سب سے سینیئر جج جناب جسٹس رانا بھگوان داس ہیں اور اِس وقت پاکستان میں اُن کی غیر حاضری شدّت سے محسوس کی جا رہی ہے ۔ اتنے سینیئر اور اور نیک نام اور ذمہ داری کا اتنا احساس رکھنے والے جج جنہوں نے علاقہ کے تقاضہ کا احساس کرتے ہوئے ایم اے اسلامیات بھی پاس کیا وہ اس وقت ملک کے اس بد ترین بحران میں بالکل لاتعلق ہو کر سوئے رہیں گے ؟ یہ قرینِ قیاس نہیں ۔

کراچی سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسز بھگوان داس نے کہا کہ ان کے شوہر اس وقت بھارت کے شہر لکھنؤ میں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔ جب ان سے جسٹس بھگوان داس کا لکھنؤ میں رابطہ نمبر پوچھا گیا تو انہوں نے پہلے کہا کہ ان کے پاس نمبر نہیں ہے اور بعد میں کہا کہ وہ دینا نہیں چاہتیں۔ ان کے مطابق جسٹس رانا بھگوان داس تین مارچ کو نجی دورے پر بھارت روانہ ہوئے تھے۔ مسز بھگوان داس کا کہنا تھا کہ ان کی اپنے شوہر سے بات ہوتی رہتی ہے، جو انہیں پبلک کال آفس سے فون کرتے ہیں۔

تبصرہ ۔ اس سے ایک بات واضح ہوئی کہ جسٹس رانا بھگوان داس پاکستان سے رابطہ میں ہیں ۔ تو پھر حکومت نے اُن سے کیوں رابطہ نہ کیا ۔ سندھ اور پنجاب کے چیف جسٹس صاحبان کو فوراً بذریعہ ہوائی جہاز اسلام آباد لا کر چند گھینٹوں کے اندر سپریم جوڈیشیل کونسل کا اجلاس کرا دیا گیا لیکن عدالت عظمیٰ کے سینیئر ترین جج سے رابطہ نہ کیا گیا ۔ کیا یہ قرینِ قیاس یا قرینِ انصاف ہے ؟

بی بی سی کے ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ قائم کرنے پر وہاں موجود ایک اہلکار نے فون پر بتایا کہ انہیں جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ’جسٹس بھگوان داس کے بھارت آنے کے بارے میں بھی ہمیں بی بی سی سے ہی پتہ چلا ہے۔‘ اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ جسٹس بھگوان داس ایک اعلیٰ عہدے دار ہیں اور ان کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اطلاع ضرور ہوگی لیکن تمام کوششوں کے باوجود پاکستانی ہائی کمیشن نے اس بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔

لندن سے بی بی سی نے جسٹس بھگوان داس کے بھائی سری چند سے کراچی میں رابطہ کر کے پوچھا کہ ان کے بھائی ہندوستان میں کہاں ہیں اور ان کی پاکستان واپسی کب تک متعوقع ہے، تاہم سری چند نے کہا کہ ’کراچی سے جہاز تو دلیً گیا تھا، وہ وہاں سے کہاں گئے ہیں مجھے علم نہیں۔‘

ہندوستان میں سرکاری حلقے بھی جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان دورے کے بارے میں خاموش ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت دلی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں لیکن اس ہوٹل سے رابط قائم کرنے پر معلوم ہوا کہ جسٹس بھگوان داس وہاں نہیں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ میں بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جسٹس بھگوان داس ہندوستان دورے پرآئے تھے لیکن اب وہ واپس پاکستان جا چکے ہیں۔

اسی دوران پاکستان کے صدر پرویز مشرف کےذریعہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے تذکرے ہندوستان کے اخبارات میں ہورہے ہیں ۔ اخبارات نے مزید لکھا ہے کہ جسٹس چودھری کو ان کے عہدے سے اس لیے معطل کیا گیا کیوں کہ کیونکہ وہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے میں کبھی نہیں جھجکتے تھے۔

مارچ 2006 کے  آخر  میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے سینیئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس کے اہل خانہ کو انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر روک دیئے جانے کے بعد جسٹس بھگوان داس نے بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا تھا ۔

تبصرہ ۔ اُوپر کی خبروں سے واضح ہوتا ہے کہ جناب جسٹس رانا بھگوان داس صاحب یا تو ہندوستان گئے ہی نہیں یا واپس آ چکے ہوئے ہیں ۔ اُن کے بھائی سری چند صاحب کے بیان سے یہ گمان اُبھرتا ہے کہ کچھ چھُپایا جا رہا ہے ۔ یہی تأثر جناب جسٹس رانا بھگوان داس کی بیگم صاحبہ کے ٹیلیفون نمبر کے بارے بیان سے بھی ملتا ہے ۔

سوال ۔ کیا جناب جسٹس رانا بھگوان داس صاحب بھی درجنوں اُن پاکستانیوں کی طرح لاپتہ ہو گئے ہیں جن کا مقدمہ عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سُنا جا رہا تھا ؟

منگل کی کاروائی

اسلام آباد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لپیٹ میں تو جمعہ 9 مارچ ہی سے تھا منگل 13 مارچ کو بعد دوپہر 2 بجے سپریم جوڈیشیل کونسل میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس کی کاروائی شروع ہونا تھی مگر صبح سے ہی اسلام آباد آنے والی تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کردی گئی ۔ راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والی تمام سڑکوں کی بھی ناکہ بندی کر دی گئی یہاں تک کہ راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان واحد بڑی سڑک کو راولپنڈی جنرل ہسپتال اور راول روڈ کے درمیان بند کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں راولپنڈی شہر بھی دو حصوں میں بٹ گیا ۔ ہمارے گھر سے راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیڈکورارٹر ہسپتال تک بھیڑ کے وقت کار میں 45 منٹ کی مسافرت ہے مگر کل میرا بھائی جس کا روزانہ کا یہ راستہ ہے ڈھائی گھینٹے میں پہنچا ۔ عام خیال ہے کہ وکلاء کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی جس کے نتیجہ میں صرف 10 فیصد وکلاء عدالتوں تک پہنچ سکے ۔

دوپہر سے پہلے جن ٹی وی سٹیشنوں نے صورتِ حال دکھانے کی کوشش کی اُن کی ٹرانسمشن میں خلل ڈالا گیا ۔ اسلام آباد کے تین سیکٹر ایف 6 ۔ ایف 7 اور ایف 8 جہاں زیادہ تر سرکاری افسر اور دوسرے با اثر لوگ رہتے ہیں وہاں کی بجلی بعد دوپہر 2 بجے سے شام 6 بجے تک بند کی گئی تاکہ نہ کوئی ٹی وی دیکھ سکے نہ کمپیوٹر استعمال کر سکے ۔

جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کی رہائش گاہ عدالتِ عظمٰی سے پیدل رستہ پر ہے ۔ چونکہ 9 مارچ کو انہیں محبوس کرنے کے بعد ان کی رہائش گاہ سے تمام گاڑیاں اُٹھا لی گئی تھیں انہوں نے 2 بجے بعد دوپہر پیدل عدالتِ عظمٰی جانا چاہا تو پولیس کمانڈوز نے راستہ روک لیا اور اُنہیں دھکے دے کے گاڑی میں ڈال کر لے گئے ۔ اس دھم پیل کے نتیجہ میں جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کے چہرے پر خراشیں آئیں ۔ عدالتِ عظمٰی کے گرد زبردست پہرہ تھا اور اس کے سامنے وکلاء اور سیاست دان جمع تھے جن میں خواتین بھی شامل تھیں ۔ اُن لوگوں نے گاڑی روک لی لیکن جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کہنے پر پیچھے ہٹ گئے ۔

جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کے مطابق اُن کی والدہ پر بھی تشدد کیا گیا ۔ اسلام آباد میں حکومتی نمائندوں کے علاوہ سب یہی کہتے ہیں کہ جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب اور ان کے خاندان کو نظر بند کیا گیا ہے اور ان کا ہر قسم کا ٹیلیفون رابطہ ۔ ٹی کیبل سب کاٹ دیئے گئے ہیں ۔ کوئی اخبار بھی اُن تک پہنچنے نہیں دیا جاتا ۔ کمال تو یہ ہے کہ حکومت کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر شیر افگن نے کہ ہے کہ نعیم بخاری نے جسٹس افتحار محمد چوہدری کے بیٹے کے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ غلط بیانی ہے ۔

نوشتۂِ دیوار

عدالتِ عظمٰی کی ہوا کی سِیٹی
نثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کے جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے


وطن کی ہواؤں کی سَرسراہٹ

ظُلم کا بادل ہر طرف چھایا
اور لُٹ رہا ہے قومی سرمایہ
مسلمانوں اب تو جاگ اُٹھو
کہ پھر وقتِ شہادت ہے آیا
توحید کا پیغام پھیلا دو
اور اسلام کا پرچم لہرا دو
باطل کی دنیا کو بتلا دو
توحید کے ہو متوالے تُم
اسلام کے ہو رکھوالے تُم
تُم پر اللہ کی رحمت کا سایہ
مردِ مُسلماں جاگ بھی اُٹھو
کہ اب وقتِ شہادت ہے آیا

کہانی اور مکالمہ

دو ماہ پیشتر ٹماٹر جو دس بارہ روپے کے کلو گرام بِک رہے تھے دو ہفتوں میں بڑھ کر سو روپے فی کلو گرام ہو گئے ۔ ہمارے بادشاہ سلامت الیکشن مہم کے ایک جلسہ سے خطاب کر چکے تو اُن کی توجہ ٹماٹروں کی قیمت کی طرف دلائی گئی ۔ ارشاد ہوا ۔ اگر مہنگے ہیں تو نہ کھائیں ۔ کچھ اور کھا لیں ۔ مجھے یاد آیا کہ مڈل سکول کی انگریزی کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک ملکہ کے محل کے باہر عوام اکٹھے ہو گئے ۔ ملکہ نے پوچھا یہ کیوں آئے ہیں ۔ وزیر نے بتایا کہ کہتے ہے کھانے کو روٹی نہیں ہے تو ملکہ نے کہا ان کو کہیں کہ کیک یا بسکٹ کھا لیں ۔ اس پر سب طلباء ہنستے تھے کہ ایسی بیوقوف ملکہ بھلا ہو سکتی ہے ۔ اب ثابت ہوا کہ بادشاہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔

ایک مفروضہ مکالمہ جسے اگر ہمارے موجودہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان سمجھ لیا جائے تو حقیقت معلوم دیتا ہے ۔

“جناب مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے اور ذرائع روزگار کم ہیں ۔ حالات سے تنگ آ کر لوگ خودکُشیاں کر رہے ہیں “

“ہم نے عوام کی سہولت کیلئے انڈر پاس بنائے ہیں”

“وہ کراچی میں کلفٹن والا انڈر پاس جس میں پانی بھر گیا تھا یا وہ راولپنڈی والا جس کے بننے سے پہلے محلہ چوہدری وارث سے لیاقت باغ 10 منٹ میں پہنچتے تھے اور انڈر پاس میں سے گذر کر 20 منٹ میں پہنچتے ہیں کیونکہ کل راستہ پہلے سے تنگ ہوگیا ہے یا اسلام آباد کا انڈر پاس جو 2005 میں مکمل ہونا تھا اور ابھی بن رہا ہے اور ایک وزیر کے پلازہ کی خوبصورتی کو بچانے کیلئے اس کو موجودہ سڑک سے دور بنایا جا رہا ہے ۔ نتیجتاً خرچہ 245 کی بجائے 490 ملین روپے ہو گیا ہے ؟”

“ہم دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بنائیں گے”

” کیا آپ نے کراچی کی 15 منزلہ عمارت میں آگ لگنے کا حال نہیں سنا کہ اُوپر کی 5 منزلیں جلتی رہیں اور فائر بریگیڈ والے حسرت سے دیکھتے رہے کہ ان کے پاس بلند جگہ میں لگی آگ بجھانے کا بندوبست نہ تھا ؟ یا اسلام آباد کے اس پلازہ کا ذکر ہے جس میں ہوٹل سنیما اور امیر و کبیر لوگوں کیلئے شاپنگ سنٹر بنیں گے اور جو رہائشی علاقہ اور ہسپتال کے درمیان بنایا جا رہا ہے جس کے خلاف ہسپتال کے سربراہ اور علاقہ کے رہنے والے سخت احتجاج کر رہے ہیں “

“تم لوگ تو اُلٹی بات کرتے ہو ۔ ہم تو اس عالی شان عمارت کی بات کر رہے ہیں جو کراچی کے پاس جزیرے پر بنے گی”

“اچھا اچھا وہ جزیرہ جہاں سے غریب پاکستانیوں کو زبردستی نکال کر جزیرہ غیر ملکیوں کو بیچ دیا گیا ہے”

مجھے ناپسند ہے

ایک شخص نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں اُن 10 عوامل یا اشیاء کا ذکر کروں جو مجھے نا پسند ہیں ۔
1 ۔ کسی کو اس نام سے پُکارنا جو اُس شخص نے اپنا نام رکھا ہوا ہے جس نے مجھے یہ لکھنے پر مجبور کیا ہے
2 ۔ کسی کو توُ کہہ کر مخاطب کرنا
3 ۔ کسی کو بغیر مصدقہ ثبوت کے بُرا کہنا
4 ۔ کسی کو حقیر جاننا
5 ۔ کسی کو وضاحت کا موقع دیئے بغیر قصوروار ٹھیرانا
6 ۔ کسی عبادت گاہ یا مقدس کتاب کی بے حُرمتی کرنا
7 ۔ عورت یا لڑکی پر آواز کسنا
8 ۔ کسی غریب یا بے کس کا مذاق اُڑانا
9 ۔ کھانا کھانا جبکہ قریب بھوکا شخص ہو اور اسے پہلے کھانا نہ دیا جائے
10 ۔ پیٹھ پیچھے کسی کی بُرائی کرنا جسے غیبت کہتے ہیں

میری درخواست ہے مندرجہ ذیل خاتون و حضرات سے کہ وہ اپنی نفرت آمیز عوامل و اشیاء کے متعلق اپنی رائے کا اظہار فرمائیں ۔

 منیر احمد طاہر صاحب

اسماء صاحبہ

اظہرالحق صاحب

باذوق صاحب

بچے برائے فروخت

میاں چنوں میں ایک شخص شوکت علی نے اپنی غربت کے باعث بچوں کے گلے میں برائے فروخت کے چارٹ لٹکا کر مظاہرہ کیا ۔ سننے میں آیا ہے کہ اس خبر کی اشاعت کے بعد حکومت ۔ مختلف این جی اوز ۔ مخیر حضرات اورخیراتی اداروں نے میاں چنوں کا رخ کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم سیکرٹریٹ نے میاں محمد امیر بودلہ چیئرمین پبلک سیفٹی کمیشن کے توسط سے شوکت علی کو بینک سکیورٹی گارڈ کی نوکری کی پیشکش کی ہے۔ ایک ٹیکسٹائل کے منیجر نے 6000 ہزار روپے تک کی نوکری، لاہور کے ایک شہری نے پاک پتن میں واقع اپنے بورڈنگ اسکول میں اس کے بچوں کی تعلیم رہائش اور مکمل اخراجات برداشت کرنے کی آفر دی ہے جبکہ کراچی چیمبر آف کامرس نے بھی شوکت علی کو مالی امداد کا عندیہ دیا ہے علاوہ ازیں بیرون ممالک ناروے، انگلینڈ، امریکا، و دیگر ممالک سے درد دل رکھنے والے پاکستانیوں نے بھی رابطہ کر کے مدد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

نوائے وقت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنگ

جموں کشمير آزاد کيوں نہ ہوا ؟ تيسری اور آخری قسط

دوسری قسط 9 فروری 2007 کو لکھی گئی

جب ذوالفقار علی بھٹو صاحب حکمران بنے تو اُنہوں نے بھارت ميں اپنی موروثی جائداد  واگذار کرانے کی خاطر بھارت نواز شملہ معاہدہ پر دستخط کردئيے ۔ جنگ بندی لائين کو لائين آف کنٹرول مانا اور مسئلہ کشمير کا فيصلہ صرف گفت و شنيد کے ذريعہ کرنے کا اقرار کيا اس کے علاوہ شمالی علاقہ ميں جان نثار فوجيوں کی قيمتی جانوں کی قربانی دے کر بھارت سے واپس ليا ہوا علاقہ بھارت کو دے ديا جس کے نتيجہ ميں سياچين کا مسئلہ پيدا ہوا ۔

جنرل ضياء الحق صاحب نے جموں کشمير کی بجائے افغانستان کی جنگ ميں دلچسپی لی ۔

بےنظیر بھٹو صاحبہ نے 1988 عیسوی میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت کے پردھان منتری راجیو گاندھی سے دوستی شروع کی ۔ دسمبر 1988 عیسوی میں راجیو گاندھی کے پاکستان کے دورہ سے پہلے جہاں کہیں “کشمیر بنے گا پاکستان” یا ویسے ہی جموں کشمیر کا نام لکھا تھا وہ مِٹوا دیا گیا یہاں تک کہ راولپنڈی میں کشمیر ہاؤس کے سامنے سے وہ بورڈ بھی اتار دیا گیا جس پر کشمیر ہاؤس لکھا تھا ۔ مشترکہ پريس کانفرنس ميں جب ايک سوال کے جواب ميں راجيو گاندھی نے بڑے تلخ لہجہ ميں جموں کشمير کو بھارت کا حصہ کہا تو محترمہ منہ دوسری طرف کر کے ہنس ديں ۔ اُسی زمانہ میں خیر سگالی کرتے ہوئے اُن راستوں کی نشان دہی بھارت کو کر دی گئی جن سے مقبوضہ علاقہ ميں بھارتی ظُلم کی چکی میں پسے ہوئے لوگوں کے لئے رضاکار آزاد جموں کشمیر سے کپڑے ۔ جوتے ۔ کمبل وغیرہ لے کر جاتے تھے ۔ بھارتی فوج نے ان راستوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی ۔ اس طرح جموں کشمیر کے کئی سو رضاکار مارے گئے اور بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند ہو گئی ۔

بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کو پاکستان سے بھی مایوسی ملی ۔ پہلے بوڑھے جوانوں کو ٹھنڈا رکھتے تھے ۔ جب بوڑھوں کے پاس جوانوں کو دلاسہ دینے کے لئے کچھ نہ رہا تو جوانوں نے اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی ٹھانی ۔ ابتداء یوں ہوئی کہ 1989 عيسوی ميں بھارتی فوجیوں نے ایک گاؤں کو محاصرہ میں لے کر مردوں پر تشدّد کیا اور کچھ خواتین کی بے حُرمتی کی ۔ یہ سب کچھ پہلے بھی ہوتا رہا تھا مگر اس دفعہ بھارتی فوجيوں نے خواتین کی بےحرمتی ان کےگاؤں والوں کے سامنے کی ۔ اس گاؤں کے جوانوں نے اگلے ہی روز بھارتی فوج کی ایک کانوائے پر اچانک حملہ کیا ۔ بھارتی فوجی کسی حملے کی توقع نہیں رکھتے تھے اس لئے مسلمان نوجوانوں کا یہ حملہ کامیاب رہا اور کافی اسلحہ ان کے ہاتھ آیا ۔ پھر دوسرے دیہات میں بھی جوابی کاروائیاں شروع ہو گئیں اور ہوتے ہوتے آزادی کی یہ مسلحہ تحریک پورے مقبوضہ جموں کشمیر میں پھیل گئی ۔

موجودہ حکومت کی مہربانی سے بھارت نے جنگ بندی لائين پر کہيں ديوار بنا لی ہے اور کہيں خاردار تار لگا دی گئی ہے کہ مقبوضہ جموں کشمير سے کوئی ظُلم کا مارا بھاگ کر آزاد جموں کشمير ميں پناہ بھی نہ لے سکے ۔ مقبوضہ جموں کشمير کے مسلمانوں کا ايک پُرامن اور بے ضرر سياسی اتحاد تھا حُريّت کانفرنس جو جموں کشمير کے لوگوں کی آواز دنيا تک پہنچاتا تھا ۔ ہماری موجودہ حکومت بڑی محنت و کوشش سے اس کے دو ٹکڑے کرنے ميں کامياب ہو گئی ہے گويا مقبوضہ جموں کشمير کے مسلمانوں کی زبان کے دو ٹکڑے کر دئیے ہیں ۔ اپنے ملک ميں حق کی آواز اُٹھانے والا غائب ہو جاتا ہے اور اعلٰی عدالتيں ان کی بازيابی کے حکم ديتے ديتے تھکتی جا رہی ہيں ۔

جہاد تو کيا دين اسلام پر عمل کرنے والوں کيلئے پاکستان کی زمين تنگ کی جا رہی ہے ۔ قرآن شريف کی آيات جو جہاد فی سبيل اللہ کے متعلق ہيں يا کفّار کے خصائل بيان کرتی ہيں کو نفرت انگيز [Hate literature] کہہ کر تعليمی نصاب سے نکالا جا رہا ہے ۔ دين اسلام کی پابندی کرنے والے ہر شخص کو مشکوک سمجھا جانے لگا ہے ۔

ذرائع ابلاغ اس معاملہ ميں اہم کردار ادا کرتے ہيں ۔ ہمارے ملک کے ايک دو اخبار چھوڑ کر باقی سارے جہاد کو دہشتگردی کا نام ديتے ہيں ۔ یہاں انیل خان لُونی اور جلیل امر جیسے قلکاروں کے مضامین اخباروں میں چھپتے ہیں جو پاکستان بننے کو ہی غلط کہتے ہیں اور قائد اعظم کو انگریزوں کا ایجنٹ ثابت کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔ اليکٹرانک ميڈيا قوم کو ننگے فيشن اور  ناچ گانا سکھانے کے علاوہ جہاد کے خلاف زہر اُگل رہا ہے ۔

 

 

 

 

 

 

پاکستان کے عوام ميں کچھ کو لُوٹ گھسُوٹ سے فرصت نہيں اور کچھ کو بے پناہ مہنگائی کے باعث نان نقفہ کی تگ و دو ميں گِرد و پيش کا ہوش نہيں ۔

ہماری قوم کے ڈھنڈورچی [big mouths] جو کہ اکثر اين جی اوز کی صورت ميں مجتمع ہيں اُنہيں جموں کشمير کے بے کس لوگوں پر ظلم ہوتا نظر نہيں آتا ۔ اُن کے ساتھ اگر يہ لوگ بہت رعائت کريں تو اُنہيں جہادی اور اِنتہاء پسند کہتے ہيں ورنہ دہشتگرد ۔ کچھ لوگ ايسے بھی ہيں جو کہتے ہيں کہ پاکستان کو کشمير سے کيا ملے گا خواہ مخوا کشميريوں کی مدد کر کے بھارت سے لڑائی کا خطرہ مول ليا ہوا ہے ۔

اب ثاقب سعود صاحب ہی بتائيں کہ کہاں ہيں افراد ۔ بیرونی امداد ۔ اسلحہ اورچھُپنے کے لئے جگہ ؟