Category Archives: روز و شب

مذاکرات یا مذاق رات

اسلام آباد( نمائندہٴ جنگ)جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ پیر کے روز صبح ساڑھے دس بجے آرمی کا ہیلی کاپٹر جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے اوپر انتہائی نیچی پرواز کی اور اس سے مدرسے میں زیر تعلیم طالبات پر اعصاب شکن کیمیائی گیس پھینکی گئی جس سے کئی طالبات بیہوش اور سینکڑوں طالبات گھٹن کا شکار ہوگئیں ۔

ہیلی کاپٹر کی پرواز کے دوران سوئزر لینڈ کی خواتین جرنلسٹس جامعہ حفصہ میں موجود تھیں انہوں نے اس موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ ہم جامعہ کے اندر موجود تھیں اور طالبات اپنی کلاسیں لے رہی تھیں کہ اچانک ہیلی کاپٹر سے کلاس روم پر اعصاب شکن کیمیائی گیس پھینکی گئی۔ ہیلی کاپٹر 20منٹ سے زیادہ پرواز کرتا رہا ۔ گیس کی بو کی وجہ سے کئی طالبات بے ہوش ہوگئیں‘ خود ہمارے گلے بھی بند ہوگئے اور ہم پرنیم غشی طاری ہوگئی۔

مولانا عبدالعزیز نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں حکومت سے مزید مذاکرات جاری نہیں رہ سکتے۔ لگتا ہے حکومت مذاکرات کی آڑ میں آپریشن کی تیاری کر چکی ہے ۔ حکومت ایک طرف مذاکرات کر رہی ہے اور دوسری طرف ہمارے طلبہ کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔ اس واقعے کے فوراً بعد لال مسجد میں علاقہ کے لوگ جمع ہوگئے اور لال مسجد میں مقیم طلبہ ڈنڈے ہاتھوں میں لے کر سڑک پرنکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی

THE NEWS         By Myra Imran & Muhammad Anis

ISLAMABAD: Army helicopters hovered over the Jamia Hafsa and Lal Masjid and released gasses, claimed Principal of the seminary Umme Hassan here on Monday. Army sources, however, said the personnel on board the choppers were taking photographs of the seminary. “A number of minor girls fainted,” alleged Umme Hassan. “Girls were in their classrooms when the helicopters began circling low over the Madrassa and started spraying gasses through the classroom windows,” she told The News shortly after the incident.

Most of the girls managed to climb onto the rooftop but minor students fell unconscious after inhaling the mysterious gas, she alleged. Umme Hassan said there were three helicopters, two with Pakistani flags and the third without any marking, hovering over the Madrassa. “They were flying so low that we could see uniformed men in the cabins. Ropes were also dangling from the choppers, perhaps to be used for capturing some students.”

The incident happened when the principal was busy giving an interview to a foreign television channel. “The women interviewing me are witness to the attack; they helped many of the fainted girls recover,” she added.

Locals rushed to the seminary to assist the students in whatever way they could, witnesses said. Following the incident, many girls ended up with bad throats and skin and eye irritation, Umme Hassan said.

She said the past record of the administration shows that the government always negotiated to cool down the situation before taking action. “It seems that they are adopting the same policy with us now.” “The students usually don’t observe full Purdah (veil) when they are in their classrooms so taking their pictures is wrong,” she said.

He said a Swiss female journalist, who was also present inside the seminary, had also confirmed that chemical gas was sprayed from the helicopter. Ghazi said it was a condemnable act aimed at sabotaging the process of talks between the Lal Masjid management and the government.

Ghazi said he also talked to PML President Chaudhry Shujaat Hussain on the issue. “Chaudhry Shujaat has also expressed his anger and surprise over the latest development,” he said. About the road blockade by the students in front of the Jamia Hafsa and Lal Masjid, he said they had received a complete plan of military action and thus blocked the road in protest. He said Shujaat has promised to investigate the incident. To throw chemical gas on innocent people is also a violation of international laws. “I demand of the international community to take notice of the incident,” Ghazi said.

کیا کہتے ہوں گے

کچھ دن قبل نعمان صاحب نے کراچی میں بجلی کی ترسیل کے قصیدے یا نوحے لکھے تھے ۔ میں نے اُنہیں صبر کی تلقین کی تھی ۔ سوچتے ہوں گے کہ خود تو اسلام آباد کے وی آئی پی سیکٹر میں مزے لوٹ رہا ہے اور ہمیں فقط صبر کی تلقین کرتا ہے ۔ صورتِ حال یہ تھی اور ہے کہ ہمیں اس دن سے پچھلے پانچ دن سے یعنی 9 اپریل سے پانی کیلئے ترسانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ہم نیسلے کا پانی خریدنے کا مقدور نہیں رکھتے اسلئے ایک کلو میٹر دور جا کر پینے کیلئے پانی بھر لاتے ہیں سرکاری کنویں سے ۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا کوئی جوتشی شائد بتا دے ۔ اسلام آباد میں تو طوطے والے بھی نہیں ہوتے ۔ اس پر ہمیں صبر کے امتحان میں پورا اترتے دیکھ کر آج صبح آٹھ بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک بجلی بغیر اطلاع کے بند رکھی گئ ۔

نواز شریف تو قوم کو لوٹ کے کھا گیا ۔ اب حکومت ہے اصلی جمہوریت اور ملک پچھلے سات سال میں ترقی کر کے ملٹی سٹوری ہو گیا ہے ۔ یقین نہ آئے تو کوئی سا اخبار اُٹھا کر دیکھ لیجئے اگر پورے صفحے کا نہیں تو آدھے صفحہ کا رنگین اشتہار نظر آئے گا ملٹی سٹوری کا ۔ لیکن ہم عوام بالکل ناشکرے ہیں ۔ اگر سات سال میں آٹے اور دالوں کی قیمتیں دوگنا ہو گئیں ۔ دودھ کی قیمت 16 روپے سے 36 روپے فی لٹر ہو گئی ۔ سبزیوں کی قیمتیں تین گنا ہو گئیں تو کیا ہوا خزانے میں تو 13 بلین ڈالر جمع ہو گئے ہیں نا ۔ یہ الگ بات ہے کہ لوکل کرنسی میں قرضہ جو جون 1999 میں 2 ٹریلین 946 بلین تھا وہ بڑھ کر جون 2006 میں 4 ٹریلین 411 بلین ہو گیا اور اس کے علاوہ 30 جون 2006 کو زرِ مبادلہ میں 37 بلین 260 ملین ڈالر قرضہ بھی واجب الادا تھا اور جون 2006 کے بعد مزید 3 بلین ڈالر قرضہ حاصل کرنے کے معاہدے کئے گئے ہیں ۔

ہم اس پر بھی شکر گذار ہیں کہ جو مل رہا ہے ۔ اتنا بھی نہ ملے تو کیا کر لیں گے ۔

ہم ۔ حکمران ۔ جہاد ۔ دہشتگردی

جہاد یا دہشتگردی

نیچے نقل کردہ آیات کو غور سے پڑھ کر دیکھئے کہ کیا جموں کشمیر ۔ فلسطین ۔ افغانستان اور عراق کے مسلمان ظالم قابض طاغوتی طاقتوں کے خلاف لڑنے میں حق بجانب ہیں یا نہیں اور کیا وہ جہاد کر رہے ہیں یا دہشتگردی کے مرتکب ہو رہے ہیں ؟

سورت ۔ 2 ۔ الْبَقَرَہ

[آیت 190] ۔ اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ [آیت 191] ۔ اور ان کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالو اور انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت ہے اور ان سے مسجدِ حرام کے پاس جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں، پھر اگر وہ تم سے قتال کریں تو انہیں قتل کر ڈالو، کافروں کی یہی سزا ہے ۔ [آیت 192] ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے ۔ [آیت 193] ۔ اور ان سے جنگ کرتے رہو حتٰی کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اﷲ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں

سُورت ۔ 8 ۔ الْأَنْفَال

[آیت ۔ 39] ۔ اے ایمان لانے والو ۔ ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورے کا پورا اللہ کیلئے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو اُن کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے ۔ اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی اور مددگار ہے ۔

سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ

[آیت ۔ 29] ۔ جنگ کرو اہلِ کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دینِ حق کو اپنا دین نہیں بناتے ۔ [ان سے لڑو] یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن جائیں ۔

محکوم یا مجبور مسلمانوں کی امداد

مسلمانوں کی مدد کرنے والوں کو بڑی تحقیر سے جہادی کہنے اور دہشتگرد قرار دینے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے والے ذرا نیچے منقولہ آیات کو غور سے پڑھیں اور اپنی حالت پر غور فرمائیں اور دیکھیں کہ کیا یہ آیات مسلمانوں کو مقبوضہ جموں کشمیر ۔ فلسطین ۔ افغانستان ۔ عراق اور شیشان کے مسلمانوں کی مدد کا حُکم ہیں یا نہیں ؟ اور مدد نہ کر کے کہِیں وہ طاغوت کے تابع اور شیطان کے ساتھی تو نہیں بن رہے ؟ دیگر ہماری حکومت نے طالبان کے خلاف جو امریکہ کا ساتھ دیا اور وزیرستان میں جو کچھ کر رہی ہے وہ کہاں تک جائز ہے ۔

سُورت ۔ 2 ۔ النِّسَآء

[آیت ۔ 75] ۔ اور مسلمانو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے جنگ نہیں کرتے جو کمزور پا کر دبا لئے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ یا اللہ ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے لوگ ظالم ہیں، اور اپنی بارگاہ سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے ۔ اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا مددگار بنا دے ۔ [آیت ۔ 76] ۔جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا وہ طاغوت کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو، اور یقین جانو شیطان کی چالیں حقیقت میں بہت کمزور ہیں ۔ [آیت ۔ 78] ۔ رہی موت تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آ کر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو ۔ ۔ ۔ ۔

سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ

[آیت ۔ 38] ۔ اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں [جہاد کے لئے] نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین کی طرف جھک جاتے ہو، کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی سے راضی ہو گئے ہو؟ سو آخرت [کے مقابلہ] میں دُنیوی زندگی کا ساز و سامان کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی کم [حیثیت رکھتا ہے] ۔ [آیت ۔ 39] ۔ اگر تم [جہاد کے لئے] نہ نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا اور تمہاری جگہ [کسی] اور قوم کو لے آئے گا اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے ۔

ہتھیار ڈالنا

ہمارے جَرّی جرنیل نے 1971ء میں بڑے ٹھاٹھ سے ہتھیار ڈال دیئے تھے [کہ اس کی جان بچ جائے چاہے مُلک ٹوٹ جائے] ۔ ہمارے موجودہ کمانڈو جرنیل نے کہا تھا کہ افغان مسلمانوں کے خلاف امریکہ کی مدد کر کے پاکستان کو بچا لیا ہے کیونکہ امریکہ بہت بڑی طاقت ہے ۔ نیچے نقل کردہ آیات کو پڑھ کر دیکھئے کہ اللہ نے ان کیلئے کیا معاوضہ مقرر کر رکھا ہے ۔

سُورت ۔ 3 ۔ آل عِمْرَان

[آیت 173] ۔ اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور وہ کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔ [آیت 174] ۔ آخر کار وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس پلٹ آئے ۔ انہیں کوئی گزند نہ پہنچی اور اللہ کی راہ پر چلنے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ اور اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے ۔ [آیت 175] ۔ اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخوا ڈرا رہا تھا ۔ پس آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا اگر تم حقیقت میں مسلمان ہو

سُورت ۔ 8 ۔ الْأَنْفَال

[آیت ۔ 15] ۔ اے ایمان والو ۔ جب تم ایک لشکر کی صورت کفّار سے دو چار ہو تو ان [کفّار] کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو ۔ [آیت ۔ 16] ۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری — الّا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کیلئے — تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا ۔ اُس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا ۔ اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے ۔

سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ

[آیت ۔ 24] ۔ اے نبی ۔ کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیزواقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تم اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا ۔

دو مسلمان گروہوں کا آپس میں لڑنا

وزیرستان میں جو کچھ ہو رہا ہے جسے کہا جا رہا ہے کہ مقامی غیرملکیوں کو مار رہے ہیں ۔ دونوں مسلمان ہیں ۔ مندرجہ ذیل آیات میں دیکھیئے کہ اگر ہمارے حُکمران مسلمان ہیں تو اُن کا فرض کیا ہے اور وہ کر کیا رہے ہیں ؟

سُورت ۔ 49 ۔ الْحُجُرَات

[آیت ۔ 9] ۔ اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو اُن کے درمیان صلح کرا دیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی اور سرکشی کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ رجوع کر لے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صُلح کرا دو اور انصاف سے کام لو، بیشک اﷲ انصاف کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے ۔ [آیت ۔ 10] ۔ بات یہی ہے کہ اہلِ ایمان [آپس میں] بھائی ہیں۔ سو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو، اور اﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔

خبر جو خبر نہیں

عنوانات ۔ محفوظ کون ؟ ۔ انتظامیہ کی مجبوری ۔ کرائسِز سینٹر ۔ اُڑتی گولی ۔ باغیچہ میں لاشیں ۔
وہ خبر ہمارے ملک میں خبر نہیں ہوتی جو اخبار میں نہ چھپے یا اندر کے صفحہ پر چھوٹی سی ہو یا اصلیت کے مطابق نہ چھپے ۔ آج کچھ ایسی ہی خبریں


محفوظ کون ؟

میں ایف 8 میں رہتا ہوں ۔ ایک ہی پلاٹ کی چاردیواری کے اندر چار ملحقہ گھر بنے ہوئے ہیں جن میں ہم چاروں بھائی رہتے ہیں ۔ ہمارا سیکٹر اسلام آباد کے غیر سرکاری علاقہ میں محفوظ ترین سمجھا جاتا ہے ۔ ہمارا یہ بھرم پچھلے ماہ ٹوٹ گیا جب میرے چھوٹے بھائی کے گھر اور پچھلی سڑک پر ایک گھر میں نقب لگائی گئیں ۔ لوگ تو پہلے سے کہتے ہیں کہ سوائے صدر صاحب اور اُن کے خاص آدمیوں کے کوئی محفوظ نہیں ۔


انتظامیہ کی مجبوری

معلوم ہوا ہے کہ حکومت کو لال مسجد کی انتظامیہ کے سامنے اسلئے جھُکنا پڑ گیا ہے کہ اسلام آباد میں روزافزوں فحاشی کے اڈے بہت لوگوں کے علم میں ہیں ۔ حکومت نے ان اڈوں کو بند کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ دیکھتے ہیں اس وعدہ کا کیا ہوتا ہے ۔ قوم کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں میں سے تو کوئی پورا نہیں ہوا ۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ لال مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ بھی پچھلے سالوں میں کئی وعدے کئے گئے جن کو پورا کرنے کی بجائے مسجدوں اور مدرسوں پر چڑھائی کر دی گئی ۔


کرائسِز سینٹر

اسلام آباد میں ایک کرائسز سینٹر ہے جس کی انتظامیہ کا دعوٰی ہے کہ وہاں بےکس اور مظلوم عورتوں کی دیکھ بال کی جاتی ہے بالخصوص جو مردوں کی بدکاری کا شکار ہوں ۔ ایک 16 سالہ لڑکی جسے ایک پولیس والے نے اغواء کر کے قبائلی علاقہ میں پہنچا دیا تھا حال ہی میں باز یاب ہوئی تو اُسے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد لڑکی کی ماں کی درخواست پر کرائسز سینٹر میں داخل کرا دیا گیا ۔ وہ لڑکی حاملہ ہے ۔ 31 مارچ کو اس لڑکی کو کرائسز سینٹر والوں نے زبردستی نکال دیا تو اسکی ماں اُسے اپنے ساتھ لے گئی ۔ لڑکی کی ماں نے لڑکی کو کرائسز سینٹر سے نکالنے کی یہ وجہ بتائی ہے کہ کرائسز سینٹر والے کہتے تھے کہ بچہ پیدا ہونے پر اُن کو دے دیا جائے ۔ جب لڑکی نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو اُسے زبردستی کرائسز سینٹر سے نکال دیا گیا ۔


اُڑتی گولی

پیر 6 مارچ کو ہمارے گھر سے کوئی 500 میٹر کے فاصلہ پر ایک 75 سالہ ریٹائرڈ ائریکموڈور بڑی سڑک کے کنارے پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ کہیں سے اُڑتی ہوئی ایک گولی آ کر اُن کے جبڑے میں گھُس گئی ۔ ہمت کر کے وہ اپنی رہاش گاہ پہنچے جو کہ قریب ہی تھی اور اُنہیں فوراً گاڑی میں ڈال کر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہنچا دیا گیا ۔ جہاں اُن کی جراحی ہونا تھی ۔ اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چل سکا ۔ اُن کا خاندان بحرین میں ہے۔ وہ اکیلے کسی کام سے آئے ہوئے تھے ۔ جائے واردات سے تھانہ مارگلہ 100میٹر ہو گا ۔ اور قُرب و جوار میں کوئی شادی یا جشن نہیں ہو رہا تھا کہ کہا جائے کسی نے خوشی کے اظہار کیلئے پستول چلایا ہو گا گو یہ عمل بھی ممنوع ہے


باغیچہ میں لاشیں

ہمارے گھر سے ایک سو میٹر کے فاصلہ پر بچوں کیلئے ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے جس میں جھُولے وغیرہ لگے ہوئے ہیں ۔پیر 6 مارچ کو دن کے گیارہ بجے قریبی مکان میں رہنے والی ایک خاتون گولی چلنے کی آواز سُن کر کچھ دیر بعد باہر نکلی تو اُس نے اپنے گھر کے قریب باغیچہ میں ایک بنچ پر ایک جوان لڑکی اور زمین پر ایک جوان لڑکا خون میں لت پت پڑے دیکھے ۔ اس نے گھر جا کر پولیس کو ٹیلیفون کیا جو کچھ دیر میں پہنچ گئی کیونکہ وہاں سے تھانہ مارگلہ کوئی 250 میٹر ہو گا ۔ لڑکے کے بائیں ہاتھ میں پستول تھا ۔ لڑکا لڑکی دونوں ہمارے سیکٹر سے تعلق نہیں رکھتے تھے ۔ حسبِ معمول اسے محبت کا شاخسانہ کہا جائے گا اور اس بنیاد پر کہ عاشق نے محبوبہ کے انکار پر اُسے قتل کر کے خودکُشی کر لی معاملہ داخل دفتر کر دیا جائے گا ۔ میرا ذہن اسے قبول نہیں کرتا اور کہتا نہ کہ یہ دوہرا قتل ہے ۔ لڑکے کے بائیں ہاتھ میں پستول جبکہ لڑکی کو گولی بائیں کنپٹی پر اور لڑکے کو داہنی کنپٹی پر لگی ہے ۔ جائے واردات سے دو خول [Cases] ملے اور لڑکے کی جیب میں سے باقی کارتوس [Cartridges] ملے ۔

محبت کو دنیا میں ہوّس کے ساتھ مخلّط کر کے اتنا بدنام کر دیا گیا ہے کہ ہر جرم محبت پر عائد ہو جاتا ہے حالانکہ محبت ایک پاکیزہ جذبے کا نام ہے جو کہ خالق نے مخلوق میں رکھا ہے ۔ صرف انسان میں نہیں چرند پرند میں بھی ۔ محبت کرنے والے کا جذبہ تو یہ ہوتا ہے

تم اگر بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو
میرا کیا ہے میں نے تو محبت کی ہے
تم اگر تیر بھی چلاؤ تو یہ حق ہے تم کو
میں مر کر بھی میری جاں تمہیں چاہوں گا

کہا “کُوچ کرو” اور کُوچ کر گئے

سولہ ماہ قبل میں نے جو لکھا تھا مشیّت نے مجھے اس میں ایک اضافہ کے ساتھ دوبارہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے ۔

حسن اتفاق ۔ ایک غزل بہت معروف ہوئی وہ لکھنے والے کی مشہور غزلوں میں سے آخری بن گئی اور گانے والے کی مشہور غزلوں میں سے بھی آخری ثابت ہوئی ۔ ابن انشاء کی لکھی اور استاد امانت علی کی گائی ہوئی ۔

اور اب دوسرا گانے والا اسد امانت علی بھی چل بسا ۔ گویا وہ پوری طرح باپ کے نقشِ قدم پر چلا ۔

انشاء جی اُٹھو ۔ اب کوچ کرو
اس شہر میں جی کا لگانا کیا
وحشی کوسکوں سے کیا مطلب
جوگی کا ڈگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں
دیکھو توسہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوۓ
اس جھولی کو پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا
زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آۓ ہو
سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں
کیوں بن میں نہ جا بسرا ہم کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے
تو اور کرے دیوانہ کیا

بلا تبصرہ

ڈان سے اقتباس


سی ڈیز اور وڈیو کیسٹس کو آگ

Armed with sticks, a group of religious activists set on fire thousands of video and audio cassettes and computer compact discs, ‘given up’ voluntarily by a shopowner who, according to them, had announced to abandon ‘this business’.

MARRIAGE PROPOSAL:

Maulana Aziz said that a ‘special centre’ had been set up in Madressah Hafsa titled ‘Taibaat Abidaat Centre’ to provide shelter to women who would voluntarily give up their ‘immoral activities’. He said these women would be provided ‘security and protection’ through ‘marriages’. Maulana Aziz announced that he would marry any woman who repented and gave up her immoral life. “I am now 46 years old and am ready to marry a woman who is between 35 to 40 years of age. If she promises to live a life of piety, I promise that I will never refer about her past life,” Maulana Aziz announced.

QAZI COURT:

Maulana Ghazi Abdul Rasheed, deputy in-charge of the mosque and a younger brother of Maulana Abdul Aziz, told reporters if Jirga and Panchayat system were not considered parallel judicial systems why was Qazi court being called a parallel system. “We will see whether people will come to the Qazi court or prefer going to courts of the state for seeking justice,” he said.

Describing the functions of the ‘Qazi court’, Maulana Ghazi said it would be mandatory for rival parties to submit an affidavit that they would accept the court’s decision. “They will have to obey the court’s verdicts,” he replied when some reporters asked him what action would the administration of Lal Masjid take against ‘disobedient people’. He said they would launch a campaign to ‘persuade’ people to bring their disputes and social problems to the ‘Qazi court’.


جنگ سے اقتباس

لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں نفاذ شریعت کا اعلان کردیا ہے ۔ مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ اب ہر فیصلہ شریعت کے مطابق ہوگا۔ حکومت ایک ماہ کے اندر ملک سے پانچ لاکھ فحاشی کے اڈے بند اور شراب پر پابندی لگائے ۔ ہماری طرف سے مکمل امن اور سلامتی کا پیغام ہے ،حکومت کی طر ف سے طاقت کے زور پر آپریشن کا پیغام دیا جارہا ہے تو ہمارا بھی آخری راستہ فدائی حملے ہوسکتے ہیں۔ ہم ٹکراوٴ نہیں چاہتے لیکن نفاذ شریعت کی راہ میں رکاوٹ برداشت نہیں کرینگے۔ حکومت نے اللہ کی حکومت میں ساٹھ سال سے حکومت بنائی ہوئی ہے۔ اسلامی نظام کے ذریعے اس کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ سب کچھ اس [اللہ] نے بنایا ہے اسٹیٹ بھی اللہ کی ہے ۔ ان لوگوں نے پوری قوم کا جینا حرام کررکھا ہے ۔غریب ،صنعت کار، تاجر چیخ رہے ہیں، جن لوگوں کی بہنوں کی عصمتیں لُٹ رہی ہیں۔ کشمیر، بلوچستان ،وانا والے چیخ رہے ہیں ۔ ان سب مسائل کا حل یہ ہے کہ اللہ کی حکومت میں جو حکومت بنائی گئی ہے اسے ختم کیا جائے اور اللہ کی حکومت اور نظام کو بحال کیا جائے کیونکہ ساری پریشانیوں کا حل حکومت الٰیہہ میں ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پورے ملک میں عصت فروشی اور بدکاری کے پانچ لاکھ ادارے قائم ہیں۔ ان اڈوں میں بیشمار بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں لیکن اس گھناؤنے جرم پر کوئی فرد جرم عائد کرنے والا نہیں ہے۔ ہمیں ایک خاتون پولیس اہلکار کا خط موصول ہوا ہے اس خط میں اس بہن نے پولیس کے محکمے میں عصمت فروشی کے دھندے کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ کافی عرصے سے یہ گھناؤنا سلسلہ پھیلتا چلا جارہا ہے۔ اعلیٰ افسران سے شکایت بھی کی گئی ہے لیکن کچھ اثر نہیں ہورہا لہذا اب آپ حضرات تعاون کریں اور اس سلسلے کو بند کروائیں۔

ایسی سنگین صورت حال میں ہم نے نفاذ اسلام کی اس تحریک کا آغاز کیا سب سے پہلے لائبریری پر قبضہ کیا گیا تاکہ اللہ کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کی رٹ کو چیلنج کیا جاسکے۔ جامعہ حفصہ کی طالبات اللہ کے دین کے تحفظ کیلئے نکل کھڑی ہوئیں اور ان کے مسلمان بھائی بھی ان کے تحفظ کیلئے آ پہنچے۔ اس وقت پورے ملک میں نوجوان نفاذ شریعت کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علمائے کرام طلباء و طالبات سے متعلق کسی واقعہ کی خبر پر تحقیق کرسکتے ہیں ۔مختلف این جی اوز اور میڈیا کو ہمارے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے طرح طرح کی من گھڑت افواہیں پھیلا کر عوام کو متنفر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مختلف ذرائع سے ہمارے خلاف طرح طرح کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے مثلاً کہا جارہا ہے کہ ہماری طالبات نے کہا ہے کہ وہ بے پردہ عورتوں کے چہروں پر تیزاب ڈالیں گی اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ طالبات ڈنڈے لیکر دکانوں پر گئیں یہ سب باتیں جھوٹی اور الزامات ہیں ہم انکی تردید کرتے ہیں۔ تحریک طلباء وطالبات کے خلاف غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈہ مہم فوراً بند کی جائے۔