Category Archives: روز و شب

چیف جسٹس کا قافلہ

چیف جسٹس کا قافلہ ہفتہ 5 مئی کو اسلام آباد سے روانہ ہوا اور راولپنڈی سے شاہراہ شیر شاہ سوری پر سفر کرتا ہوا اتوار 6 مئی کو صبح ساڑھے چار بجے لاہور کے قریب شاہدرہ پہنچا جہاں جلوس کی لمبائی چار کلو میٹر ہو چکی تھی ۔ شاہدرہ میں ہزاروں لوگ ہفتہ کی صبح سے چیف جسٹس کی انتظار میں تھے اور ٹولیوں کی شکل میں چہل قدمی کرتے رہے ۔ ان میں وکلاء اور جماعت اسلامی ۔ تحریکِ انصاف ۔ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے کارکن کن شامل تھے ۔ اب قافلہ شاہدرہ سے چل چکا ہے اور مینارِ پاکستان اور داتا دربار سے ہوتا ہوا لاہور ہائی کورٹ پہنچے گا جہاں چھ ہزار سے زائد وکلاء استقبال کیلئے کل سے جمع ہیں اور بڑے جوش و خروش میں ہیں ۔ لاہور ہفتہ اور اتوار کی پوری درمیانی رات جاگتا رہا ۔ لاہور میں متذکرہ سیاسی جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں کے علاوہ عام لوگ بھی چوبیس گھینٹے سے چیف جسٹس کے استقبال کیلئے کھڑے ہیں ۔

راولپنڈی سے نکلتے ہوئے جب قافلہ سواں پُل کے قریب پہنچا تو وہاں لگی ہوئی گیس پائپ میں اچانک آگ لگ گئی جس کی وجہ سے قافلہ کو کافی دیر وہاں رُکنا پڑا ۔ جہلم میں قافلہ پہنچنے سے پہلے استقبال کیلئے اکٹھے ہونے والے وکلاء اور دوسرے شہریوں پر پولیس نے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج کیا جس سے کئی لوگ زخمی ہوئے ۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں شدید لاٹھی چارج کیا گیا جس سے تیس لوگ زخمی ہوئے جن میں مسلم لیگ نواز کی رکن پنجاب اسمبلی بھی شامل ہیں ۔ گوجرانوالہ میں کسی نے سٹیج پر پٹاخہ پھینکا جس سے بھگدڑ مچنے سے چیف جسٹس کے ایک وکیل حامد خان کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ راستے میں کئی جگہ پر لگائے گئے استقبالیہ کیمپ پولیس نے اُکھاڑ دئیے ۔ راستہ میں آنے والے تمام شہروں اور شاہراہ شیر شاہ سوری کو ملنے والی تمام سڑکوں کی پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی تھی ۔

تنزل کا سبب

صاف باتیں والے محمد عمران طارق صاحب نے لکھا تھا “ہر پاکستانی اپنے آپ کو ماہر سمجھتا ہے لیکن دکھ کی بات کہ جو کام کر رہے ہیں وہ اس کے ماہر نہیں ہیں” ۔

میرے خیال کے مطابق ہماری قوم کے تنزّل کی وجہ ہی یہی ہے ۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے ہموطنوں کی اکثریت اپنے اندر کوئی خامی یا کمی ماننا نہیں چاہتی اور وہ اپنے آپ کو ہر فن مولا ظاہر کرتے ہیں ۔ جس کو دیکھو ایسے موضوع پر بات کرے گا جس کا اُسے کوئی علم نہیں ۔ ہر چیز پر مشورہ ایسے دیں گے گویا کہ اس کے ماہر ہیں ۔ ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جن کو شائد ہی کوئی کام ڈھنگ سے آتا ہو ۔

بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی ہمارے سرکاری محکموں میں بہت کم بلکہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہیں ایسی اسامی پر لگایا جاتا ہے جس کی اس نے تعلیم حاصل کی ہو اور تجربہ رکھتا ہو ۔ ورنہ جہاں انجنیئرنگ کا کام ہے وہاں بی اے پاس سویلین یا میٹرک فوجی کو لگا دیتے ہیں اور انجنیئر کو ایسی جگہ لگا دیتے ہیں کہ وہ سوچتا ہے کہ پڑھائی میں عمر برباد کی ۔ میں نے پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں دیکھا کہ ایک شخص کو کسی خاص تربیت کیلئے یورپ بھیجا گیا اور جب وہ تربیت حاصل کر کے واپس آیا تو اسے کسی اور جگہ پر لگا دیا جس کا کام وہ بالکل نہیں جانتا تھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب لوگ تربیت کیلئے غیرملک بھیجے جاتے تھے وہ محنت کم کرتے اور سیر سپاٹے پر زیادہ توجہ دیتے ۔

ہر فن مولا لوگوں کے کئی مشورے تفننِ طبع کا سبب بنتے ہیں ۔ چند پیشِ خدمت ہیں ۔

ایک دفعہ میں ویگن میں راولپنڈی سے واہ کینٹ جا رہا تھا ۔ میرے آگے والی سیٹ پر ایک صاحب بڑے وثوق کے ساتھ اپنے ساتھی کو بتا رہے تھے کہ واہ فیکٹری [پاکستان آرڈننس فیکٹریز] میں کیا ہوتا ہے ۔ جب ویگن واہ کینٹ میں داخل ہو گئی تو میں نے موصوف سے پوچھا ” آپ واہ فیکٹری میں کام کرتے ہیں ؟” بولے “نہیں” ۔ میں نے اُن سے کہا “میں ویپنز فیکٹری میں پروڈکشن منیجر ہوں” تو وہ صاحب چُپ ہو گئے ۔ وہ ویپنز فیکٹری ہی کے حوالے سے خود ساختہ باتیں کر رہے تھے ۔

میں پچھلے ماہ راولپنڈی کچہری گیا ہوا تھا اور ایک وکیل صاحب کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک باریش صاحب آئے ۔ پہلے اُنہوں نے ہومیو پیتھی کے مشورے دئیے اور پھر کوئی دینی باتیں کیں جو میں صحیح طرح نہ سمجھ سکا ۔ پھر کسی اور مضمون پر تقریر کردی ۔ جب وہ تشریف لے گئے تو میں نے وکیل صاحب سے پوچھا کہ یہ صاحب ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے یا دینی مبلغ تو مختصر جواب ملا “وکیل” ۔

ایک صاحب کافی بیمار تھے ۔ اُن کی ایک عزیز خاتون مزاج پُرسی کیلئے آئیں اور جاتے ہوئے نصیحت کی “تم دماغی کام بہت کرتے ہو ۔ یہ بیماری اسی وجہ سے ہے ۔ تمہارے دماغ کو طاقت کی ضرورت ہے ۔ روزانہ بادام پستہ اور چار مغز ملا کے دودھی بنا کے پینا اور لیٹ کے پینا تا کہ سیدھی سر کو جائے”

ایک صاحب کے گردے میں پتھری ہو گئی ۔ ان کے ایک جاننے والے مزاج پرسی کیلئے آئے ۔ صورتِ حال تفصیل سے پتہ کر نے کے بعد پوچھا “آپ گردے کھاتے ہیں ؟” مریض نے کہا “کبھی کبھار گوشت میں آ جائے تو کھا لیتا ہوں” ۔ بولے “بس ۔ اسی وجہ سے آپ کو پتھری ہوئی ہے ۔ اب کبھی گردے نہ کھائیں” ۔

میں ایک صاحب کے گھر کسی کام سے گیا ۔ انہوں نے نئی کار خریدی تھی ۔ کہنے لگے ” آؤ اجمل تمہیں بھی سواری کرائیں” ۔ انہوں نے ایک دوست کو بھی ساتھ لیا اور چل پڑے ۔ ایک میدان میں جا کر انہوں نے کار چلانے کی مشق شروع کر دی کیونکہ نئی نئی ڈرائیونگ سیکھی تھی ۔ سارا وقت انکے دوست انہیں بتاتے رہے کہ ایسے کرو اور اب ایسے کرو ۔ کافی دیر مشق کی ۔ اس کے بعد میرے میزبان نے اپنے دوست سے کہا “میں تھک گیا ہوں ۔ اب تم چلاؤ اور ہمیں گھر لے چلو”۔ دوست نے پریشان ہو کر کہا “میں ؟ مجھے تو ڈرائیونگ نہیں آتی”۔

ایک صاحب نے مجھے اپنا کچھ کام کرنے کو کہا جس کا انہیں بالکل علم نہ تھا جب میں نے کام کرنے کی حامی بھر لی تو شروع ہو گئے ہدایات جاری کرنے کہ اس طرح کرنا اور اس طرح نہ کرنا اور اس طرح کرلینا وغیرہ ۔ جب ان کی تقریر ختم ہوئی تو میں نے کہا “جناب آپ تو یہ کام بہت اچھی طرح سے کر سکتے ہیں۔ مجھے آپ کی ہدایات شائد صحیح طرح سے سمجھ نہیں آئیں اسلئے آپ خود ہی کر لیجئے”

بالآخر بند ٹوٹ گیا

میرے متعلق خاندان تو کیا سب جاننے والوں میں مشہور ہے کہ میں بڑے دل کا مالک ہوں ۔ اللہ نے مجھے بنایا ہی اس طرح کا ہے کہ کوئی تکلیف میں ہو تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا مگر دوسروں کی طرح ہمدردی میں بیہوش ہونے یا رو رو کر نڈھال ہونے کی بجائے میں فوراً ضروری مدد بہم پہنچانے میں لگ جایا کرتا ہوں ۔ اللہ مجھے حوصلہ دیتا ہے اور میری راہنمائی کرتا ہے اور میں اشکوں کو آنکھوں میں آنے سے پہلے ہی روک لیتا ہوں ۔ میں ہمیشہ سب کو کہا کرتا ہوں ” آپ لوگوں کی ہمدردی کس کام کی کہ مدد کی بجائے آپ خود مدد کے قابل ہو جاتے ہیں ؟” لیکن دو روز قبل میرا ساری زندگی کا بھرم ٹوٹ گیا حوصلہ ریت بن گیا اور اشک جاری ہو گئے کہ بات ہی کچہ ایسی تھی ۔

عدالتِ عظمٰی میں گم شدہ افراد کے کیس کی سماعت ہو رہی تھی کہ حُزن و ملال کا مجسمہ ایک خاتون عدالتی آداب و قرائن کو بالائے تاک رکھتے ہوئے اچانک کھڑی ہو گئی اور عدالت کو مخاطب کر کے گویا ہوئی “میری عمر 60 سال ہے ۔ میری آخری زندگی کا سہارا میرا صرف ایک بیٹا ہی تھا ۔ اُسے بھی حسّاس اداروں نے گرفتار کر لیا ۔ مجھے کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے اور کسی حال میں ہے ؟ خدا کے لئے مجھے میرا بیٹا لا دو ۔ میں اُسے ساتھ لے کر یہ ملک چھوڑ جاؤ گی ۔ کیا ایم آئی اور آئی ایس آئی والے اس ملک کے باشندے نہیں ؟ کون ہماری دادرسی کرے گا ؟” خاتون بولتی جا رہی تھی اور اشکوں کا سیلاب اس کی آنکھوں سے جاری تھا ۔

میں باپ ہوں ۔ بچے بڑے اور ماشاء اللہ سمجھدار ہیں مگر جب تک گھر نہ آجائیں دل بے چین اور نیند حرام رہتی ہے ۔ بڑا بیٹا امریکہ میں ہے ۔ ہفتہ بھر اس سے بات نہ ہو تو دل بے چین ہو جاتا ہے ۔ لیکن ماں کی تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے جو صرف ماں ہی سمجھ سکتی ہے ۔ میں جوان تھا بڑا افسر تھا جب دفتر سے گھر آتے ہوئے اپنی سڑک میں داخل ہی ہوتا تو دور سے امی [اللہ جنت میں اعلٰی مقام دے] گھر کے باہر میرے انتظار میں کھڑی نظر آتیں ۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ اندر چلی جاتیں ۔ کبھی کبھی میں امی سے کہتا “امی آپ روزانہ گھینٹہ بھر میری انتظار میں گھر کے باہر کھڑے ہو کر تھکتی ہیں ۔ آپ آرام کیا کیجئے کہ آپ کا بیٹا تو دفتر سے سیدھا گھر آتا ہے” ۔ تو نظر ملائے بغیر کہتیں “میں تو ویسے ہی باہر نکلی تھی ۔ تم کیوں پریشان ہوتے ہو ؟” میری بیوی کو بھی میرے بچے کہتے رہتے ہیں “امی ۔ آپ ایسے نہ کیا کریں ۔ جب بھی ہم گھر سے باہر ہوں تو آپ پریشان ہو جاتی ہیں” ۔ زکریا بھی ٹیلفون پر یہی کہتا رہتا ہے ۔

ذرا اندازہ لگائیے اس ماں کے دل کا حال کیا ہو گا جس کا واحد لختِ جگر یوں غائب کر دیا جائے کہ اسے کچھ معلوم نہ ہو کہ مر گیا ہے یا زندہ ہے اور اگر زندہ ہے تو اس کا کیا حال ہے ۔

ظالم کون ؟

ظالم کون ہے مدرسہ حفصہ کی طالبات یا روشن خیال آنٹی شمیم ؟ اور دیکھئے کہ مینجمنٹ سائنس میں بھی کیسا کمال حاصل کر لیا ہے لوگوں نے ۔ شکیل انجم کی تحقیقاتی رپورٹ کا مکمل متن یہاں کلک کر کے پڑھیئے ۔

This unusual sex business was open to all and sundry in G-6/1 Sector from 9am to 2pm sharp. “I searched for a job for more than seven months after the death of my husband, who worked as a supervisor in a private firm. I failed to get a suitable job, as wherever I went I was overtly or covertly asked for sexual favours,” a young widow, ‘N’, told this correspondent in an interview. “In the beginning, I fell into the hands of a dirty old man,” the widow in her late twenties said. “The old man had employed me as a personal secretary in his office in Blue Area but later exploited me sexually.” Later, she was somehow introduced to Aunty Shamim, who received her affectionately and behaved like a “mother”. She was thus forced by circumstances to accept her offer. She agreed to sell her body to earn money as starvation loomed over her family. She had to feed her children as well as old parents. She told her in-laws and parents that she was working with a semi-governmental organisation.

“The aunty got 70 per cent of the total earned money because she paid as much as 35 per cent to the area police,” she alleged. “It is a dirty but very lucrative job,” she said and maintained, “In this trade in Islamabad one can make millions within a few months.”

”Dozens of women were involved in this trade”, she said, adding that most of them were educated and had told their families that they were employed in some private organisations. “The women spent five hours in the brothel during the ‘office timings’ and left an hour before the office hours,” she revealed.

“The police provided complete protection to the business and the business centre,” ‘T’, who used to be second-in-command of Aunty Shamim alleged. “The police used to inform us well before time if there was to be any raid. In fact, the area police were running the sex trade,” she said and asserted, “No one could dare take on us because of the police shelter.”

Besides the young widow ‘N’, three other women, on Saturday met this correspondent in The News Bureau Office and claimed that they had been associated with Aunty Shamim and wanted to “expose” her. Aunty Shamim was said to be so highly connected that she was never touched by any law-enforcement agency despite several complaints lodged by the neighbours and others. However, recently after she was kidnapped by the Jamia Hafsa students and made to announce that she would stop this business, Aunty Shamim left for some unknown destination.

گُڈ گورننس ۔ ۔ ۔ ہور چُوپو

کل یعنی جمعرات 26 اپریل کو عدالتِ عظمٰی میں ایک کیس پیش ہوا جس سے عدالتِ عظمٰی کے تمام جج صاحبان کے خلاف پریزڈینشل ریفرنس کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ سن 2004 عیسوی میں پبلک سروس کمیشن کے سلیکشن بورڈ نے فتح شیر جویا صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس کی بطور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ترقی کی سفارش کی ۔ وزیرِ اعظم شوکت عزیز صاحب نے فتح شیر جویا صاحب کا نام نکال کر اس کی بجائے ظفر اقبال لکھ اور ظفر اقبال قریشی صاحبان جن کے نام ترقی والی فہرست میں موجود ہی نہ تھے کو ترقی دے کر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس بنا دیا تھا ۔ بعد میں ظفر اقبال قریشی صاحب کا نام واپس لے لیا گیا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ظفر اقبال لکھ [جسے قانون قاعدے کے خلاف ترقی دی گئی] کے خلاف کرپشن کے الزامات تھے جو کہ اس کی اپنی وزارت کے ریکارڈ میں تھے ۔ فیصل آباد کے مشہور لینڈ سکینڈل میں اس کے خلاف کاروائی نیشنل اکاؤنٹی بیلیٹی بیورو [NAB] میں ہو رہی تھی ۔

فتح شیر جویا صاحب کی درخواست عدالتِ عظمٰی کے بنچ کے سامنے ہے جس میں جسٹس صاحبان خلیل الرحمٰن رمدے ۔ فلک شیر اور محمد جاوید بُٹر شامل ہیں ۔ جسٹس فلک شیر صاحب نے کہا کہ یہ کیسی گُڈ گورننس ہے ؟ اور کیا کرپشن اس حکومت کی ترجیح ہے ؟

عدالتِ عظمٰی کے چیف جسٹس نے وزیراعظم شوکت عزیز صاحب کی سربراہی میں پرائیویٹائز ہونے والی پاکستان سٹیل مل کی فروخت پر کرپشن کا الزام عائد کیا تھا تو سب نے دیکھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ۔ مندرجہ بالا واقعہ سے تو پوری عدالتِ عظمٰی کی عزت اور وقار خطرے میں نظر آتا ہے ۔

رہائی اور انوکھا واقع

رہائی

حکومت پاکستان نے رواں سال ماہ فروری میں ملک بھر میں الرشید ٹرسٹ کے اٹھائیس دفاتر سیل کر دیے تھے اور حکومت کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ الرشید ٹرسٹ کے چیئرمین محمد سلیمان نے پابندی کے اس فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اس مقدمے کی گزشتہ سماعت کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیےگئے تھے۔ جمعرات کو سماعت کے موقع پر سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو پر مشتمل بینچ نے سرکاری وکیل سے معلوم کیا کہ ٹرسٹ پر پابندی کا کیا کوئی حکم نامہ یا نوٹیفیکیشن ہے ؟ جس پر حکومت پابندی کا کوئی بھی نوٹیفیکیشن پیش نہ کرسکی۔ اس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ ملک بھر میں ٹرسٹ کے تمام دفاتر کھول دیے جائیں ۔ چیف جسٹس نے حکومت سے یہ بھی سوال کیا کہ کیا اقوام متحدہ کا قانون بلاواسطہ پاکستان کے عوام پر لاگو ہوتا ہے ؟


انوکھا واقعہ

قانونی ماہرین کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کا کہنا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ جو کچھ آرمی ہاؤس میں ہوا اس کی مثال مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔ یہ بات پاکستان میں موجودہ قانونی بحران کا جائزہ لینے کے لیے آنے والے’ آئی سی جے‘ کے ایک مشن کے سربراہ داتو پرام کمارا سوامی نے اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کیرئیر میں اس طرح کا ’انوکھا واقعہ‘ پہلے نہیں دیکھا۔داتو پرام کمارا سوامی نے کہا’اگرچہ میں اس روز یہاں نہیں تھا لیکن میں نے جو دیکھا اور جو سنا، اس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کسی مہذب معاشرے میں اس طرح ہو سکتا ہے‘۔

ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے داتو پرام آئی سی جے کے نائب صدر ہونے کے علاوہ اقوام متحدہ کے ججوں اور وکلاء کی آذادی سے متعلق خصوصی نمائندے بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اس مشن کی سربراہی کر رہے تھے جس نے پاکستان کے ایک ہفتے کے دورے کے دوران موجودہ قانونی بحران کا جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں وہ اسلام آباد کے علاوہ کراچی، پشاور اور لاہور بھی گئے اور مقامی وکلاء اور حکومتی اہلکاروں سے بات کی۔

مشن نے اپنے ابتدائی مشاہدات میں لکھا ہے کہ پاکستان میں ماضی میں انتظامیہ کی عدلیہ میں مداخلت کے واقعات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی یونیفارم میں ملبوس صدر جنرل پرویز مشرف سے آرمی ہاوس میں ملاقات اور استعفی کے مطالبے کی مثال دنیا کی قانونی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ داتو پرام کماراسوامی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس میں تقریباً پانچ گھنٹے تک رکھا گیا جس کے دوران ان کا باہر کی دنیا سے رابطہ کٹا رہا۔ ’اس دوران کافی عجلت میں قائم مقام چیف جسٹس کا حلف دلوایا گیا اور سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے لیے ججوں کو کراچی اور لاہور سے خصوصی طیاروں میں اسلام آباد لایا گیا‘۔ مشن کے مطابق آرمی ہاؤس سے واپسی پر چیف جسٹس کا تمام پروٹوکول واپس لے لیا گیا یہاں تک کہ ان کی گاڑی سے پرچم بھی ہٹا دیا گیا۔ انہیں واپس دفتر نہیں جانے دیا گیا بلکہ پولیس انہیں ان کی رہائش گاہ لے گئی۔ ’جب چیف جسٹس گھر پہنچے تو اٹھارہ خفیہ اداروں کے اہلکار وہاں موجود تھے‘۔

داتو پرام کماراسوامی کے خیال میں چیف جسٹس کو بظاہر بدنام کرنے کی کوشش میں ریفرنس میں شامل الزامات پر مشتمل ایک خط تمام ملک میں پھیلایا گیا۔ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ انتظامیہ کی طرف سے چیف جسٹس کی بڑھتی ہوئی عدالتی فعالیت کا ردعمل تھا۔’سٹیل مل کیس اور لاپتہ افراد کے مقدمات میں چیف جسٹس کی کارروائی سے انتظامیہ کے ادارے ناراض ہوئے۔’

انقلاب کا بیج ؟؟؟

اظہرالحق صاحب کی تحریر “انقلاب کا بیج بویا جا چکا ہے ” پر تبصررہ کچھ تفصیل طلب تھا اور اس میں نوجوان نسل کیلئے اپنا علم اور تجربہ پیش کرنا بھی قومی فریضہ ہے ۔ اسلئے یہ تحریر نذرِ قارئین کر رہا ہوں ۔ لیکن پہلے اسلام آباد کی آج کی صورتِ حال ۔ آج صبح سویرے سے ہی شاہراہِ دستور [Constitution Avenue] کی طرف جانے والے تمام راستے شاہراہِ دستور سے 500 سے 1000 میٹر دور ہی مکمل طور پر بند کر دیئے گئے جس کی وجہ سے اسلام آباد میں بسنے والوں کو انتہائی پریشانی کا سامنا ہے ۔ سینکڑوں سیاسی لیڈر اور کارکن پچھلے دو تین دنوں میں گرفتار کئے جا چکے ہیں ۔

جب انصاف مٹ جائے یا اس کا حصول بہت مشکل ہو جائے تو سرد راکھ میں ایک ننھی سی چنگاری جنم لیتی ہے ۔ یہ بے ضرر سی چنگاری ہی دراصل انقلاب کا بیج ہوتی ہے ۔

حالات کی بے راہ روی یعنی ظلم یا نا انصافی قائم رہے تو اس چنگاری کو آکسیجن پہنچتی رہتی ہے اور آہستہ آہستہ اس چنگاری کا حجم بڑھتا چلا جاتا ہے لیکن یہ ابھی بھی راکھ کے نیچے دبی ہوتی ہے ۔

ظُلم یا بے انصافی جب برداشت سے باہر ہونے لگے اور متوسط طبقہ بھی اس کی زد میں آ جائے تو یہ ہوا کا ایسا تیز جھونکا ثابت ہوتا ہے جو اس چنگاری کو قوت بخشتا ہے اور ایک شعلہ بھڑک اُٹھتا ہے ۔ ایسے وقت میں اگر طاقت کے پُجاری اپنی من مانیاں ہی کرتے چلے جائیں اور طاقت کے زعم میں اس شعلے کو نحیف سمجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے راکھ کے کسی دوسرے حصہ پر چڑھ دوڑیں تو یہ ننھا شعلہ بڑھک اُٹھتا ہے اور اسی کو انقلاب کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اس علاقہ کے انسان دو گروہوں میں کھُلم کھُلا بٹ چکے ہوتے ہیں ۔ ایک قلیل ظالم اور عیّاش حکمران اور ان کے درباری اور دوسرا اکثریتی پسماندہ عوام ۔

ظُلم یا بے انصافی کے خلاف خلوص کی بنیاد پر اُٹھنے والا انقلاب کامیاب ہوتا ہے بشرطیکہ ان میں کا کوئی راہبر یا گروہ ظالم کے پیش کئے گئے لالچ میں آ کر اکثریت سے غدّاری نہ کرے ۔ اپنے ملک پاکستان سے محبت کرنے والے سب مل کر بارگاہِ ایزدی میں اپنی گذشتہ غلطیوں کی معافی مانگیں اور دعا کریں کہ فتح سچ اور انصاف کی ہو ۔

میری دعا ۔ یا میرے پیدا کرنے والے میرے رازق و حازق صرف اور صرف آپ ہی ہو ۔ مجھے سب کچھ آپ ہی نے دیا ہے اور میں جو کچھ بھی ہوں آپ کی ہی دی ہوئی توفیق سے ہوں ۔ آپ نے مجھ پر میرا عمل چھوڑا اور میں بھٹکتا رہا اور نافرمانیاں مجھ سے سرزد ہوتی رہیں گویا میں اپنے آپ پر ظُلم کرتا رہا ۔ آپ تو حلیم ہو ۔رحمٰن ہو ۔ رحیم ہو ۔ کریم ہو اور عفّو پسند فرماتے ہو اور آپ قادر بھی ہو ۔ آپ نے ہمیشہ مجھ پر رحم کیا اور ہر مشکل میں میری مدد فرمائی اور میرا حوصلہ بڑھایا ۔ مجھ پر اور میری قوم پر رحم فرمائیے اور ہماری غلطیاں معاف فرمائیے اور ہمیں حق کیلئے اور ظُلم و بے انصافی کے خلاف مضبوط بنائیے ۔ بے شک سب طاقت آپ ہی کے پاس ہے اور آپ ہی جسے چاہیں طاقت بخش دیتے ہیں ۔