Category Archives: روز و شب

تیری سادگی کے صدقے

وکلاء اور حزبِ اختلاف نے چیف جسٹس آف پاکستان کی عزت افزائی کیلئے 5 مئی کو صبح 8 بجے اسلام آباد سے ریل نکالی جو 6 مئی کو لاہور میں دوپہر کے قریب ختم ہوئی او ر اس میں ایک کروڑ سے زائد لوگوں نے حصہ لیا ۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے درباری اس پر بوکھلا گئے اور 12 مئی کو اس کے مقابلہ میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے 5 لاکھ افراد کی ریلی اسلام آباد میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ پورے پنجاب اور صوبہ سرحد سے بھی لوگ لائے گئے ۔ جن کیلئے ایک ہفتہ پہلے سے ہی بسیں اور ویگنیں پولیس اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ذریعہ پکڑنا شروع کر دی گئیں ۔ سرکاری پارٹی کے صدر شجاعت حسین نے دعوٰی کیا تھا کہ اس ریلی پر ان کی پارٹی خرچہ کرے گی ۔ اخباری نمائندوں نے ریلیوں میں شامل لوگوں کے راستہ میں انٹرویو لئے تو معلوم ہوا کہ سب کو دھاڑی پر اور مفت سفر اور مفت اچھے کھانے کے وعدہ پر لایا گیا تھا ۔ لائے گئے سب لوگوں کی حاضری لی گئی کچھ کی موٹر وے پر ۔کچھ کی اسلام آباد داخل ہونے والے ٹول پلازہ پراور کچھ کی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جناح ایونیو پر کیونکہ اس کے مطابق اُنہیں ادائیگی کی جانا تھی ۔ ٹیکسلا کے ایک یونین ناظم کی ریلی میں 100 روپے دھاڑی والے مزدور تھے جو وہ سڑکوں سے اُٹھا لائے تھے ۔ عوام سے مختلف ٹیکسوں کی مد میں وصول کیا ہوا کروڑوں روپیہ اس طرح برباد کرنے کے بعد بھی سرکاری ریلی جب پارلیمنٹ کے سامنے شروع ہوئی تو اس میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی نہ تھے ۔

کہتے ہیں
سچائی چھُپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

میانوالی کے ضلع آفیسر نے اپنی سادگی میں سچ بولتے ہوئے حکمرانوں کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا ۔ تصویر بشکریہ ڈان اخبار ۔
میری دعا ہے کہ اللہ اس ضلع آفیسر کو حکومت کے شر سے بچائے ۔

حکومتی ریلی کی خاص بات یہ ہے کہ جب پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور صدر جنرل پرویز مشرف نے تقریر شروع کی اس وقت تمام پاکستانی اُسی دن کراچی میں مارے جانے والے 34 شہریوں اور 100 سے زائد زخمی ہونے والوں کے غم میں مبتلا تھے اور جنرل پرویز مشرف الطاف حسین کو اس کی جماعت ایم کیو ایم [جو کراچی کے قتلِ عام کی ذمہ دار تھی] کی کامیابی پر مبارکباد دے رہے تھے اور جنرل پرویز مشرف کے سامنے موسیقی کے ساتھ بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے ۔

کراچی ۔ مزید حقائق

میں 12 مئی کو کراچی میں ہونے والے واقعات کا ایک رُخ “بدلتے دل” کے عنوان کے تحت 14 مئی کو بیان کر چکا ہوں ۔ اب تک پوری صورت حال سامنے آ چکی ہے لیکن ہمارے صدرِ محترم اور ان کے پالتو میکیاولی کے کامیابی کے فارمولے ” جھوٹ اتنا بولو کہ سچ سمجھا جانے لگے” پر قائم ہیں ۔

کچھ وکلاء کے تأثرات

چونکہ گھر میں کیبل نہیں اِس لئے باہر کے حالات سے ناواقف تھے ۔ قریب گیارہ بجے اپنے علاقے سے باہر آ کر دیکھا کیا حال ہے ۔ متحدہ کے کارکنان ماڈل موڑ پر نظر آئے اور اُن کو کوئی ارادہ ایسا نہ تھا کہ کسی کو ایئرپورٹ کی طرف جانے دیں گے ہم کافی دیر تک وہاں کھڑے رہے پھر گھر واپس آ گئے ۔ ٹیلیفون پر سنئر اور دوسرے دوستوں سے مشورہ کیا تو معلوم ہوا کہ حالات خراب ہیں، ہائی کورٹ کو متحدہ والے اسلحہ سے لیس ہو کر گھیرے میں لیئے ہوئے ہیں ۔ راستے میں بھی اُن کا راج ہے ۔ ہمارے ایک (وکیل )دوست ملیر بار سے آنے والی ریلی میں شریک تھے اُن کی زبانی معلوم ہوا کہ ملیر پندرہ اور کالا بورڈ سے تو متحدہ والوں نے ریلی کو گزرنے دیا مگر جیسے ہی ریلی ملیر ہالٹ کے قریب پہنچی تو اس جماعت کے مسلح کارکنوں نے چاروں طرف سے آگے، پیچھے، اور دائیں و بائیں جانب کے مورچوں سے جلوس پر سیدھے فائر مارے ۔ ساتھ ہی ساتھ گرنیڈ بم سے بھی حملہ کیا ۔ اُس کے بقول صرف اُس جگہ پر نہ نہ کرتے بھی کم از کم بیس سی پچس افراد ہلاک ہوئے ۔ خود اُس نے جمن گھوٹ میں پناہ لے کے جان بچائی ۔ بلوچ کالونی میں متحدہ کے بدمعاشوں کے ہاتھوں نشانہ بننے والے جلوس میں بھی ہمارے ایک سینئر شامل تھے ۔ وہ بھی بڑی مشکل سے جان بچا کر گھر پنہنچے ۔

بشکریہ شعیب صفدر صاحب

مکمل حالات کا خلاصہ

کراچی میں سنیچر [12 مئی] کے دن جو خونریزی اور ہنگامہ آرائی ہوئی، پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر میں رہنے والوں نے وہ سب کچھ ٹی وی کی سکرین پر دیکھا، اور پھر شام ڈھلے جب لاشوں اور زخمیوں کو اٹھانے کا کام ابھی جاری تھا تو ٹی وی کیمروں کا رخ اسلام آباد کی جانب ہو گیا، جہاں صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں شامل گروہ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑہ ڈال رہے تھے۔ اسی ریلی میں جنرل مشرف نے بلٹ پروف پوڈیم کے پیچھے کھڑے ہو کر سندھ میں اپنی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بقول ’کامیابی‘ پر اسے خراج تحسین پیش کیا۔

یہ سب دیکھ کر کراچی کے رہنے والے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا وہ اب تک پاکستان ہی کا حصہ ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر خون خرابہ کرنے والے دہشتگرد ہیں تو حکومت انہیں روکنے یا پکڑنے کی بجائے اپنی پیٹھ کیوں تھپک رہی ہے؟ اور جس ایم کیو ایم کو کراچی میں ہنگامہ آرائی کے لیے قصور وار ٹھہرایا جا رہا تھا اسی جماعت کو اسلام آباد کے سرکاری پنڈال میں شاباش کیوں دی جا رہی تھی؟

پاکستانی میڈیا پر ایک جانب تو حکومت کا دباؤ رہتا ہے اور دوسری جانب شدت پسند سیاسی، مذہبی اور لسانی تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں اور مسلح حملے۔ ایسے میں کھل کر کسی ایک فریق کا نام لینا مقامی میڈیا کے لیے تو شاید ممکن نہیں لیکن کراچی میں میں نے چشم دیدگواہوں اور مقامی صحافیوں سے جو کچھ سنا، اور اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا، اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے نہ صرف چیف جسٹس کی کراچی آمد کو بہانہ بنا کر اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا، بلکہ اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ شہری اور صوبائی حکومتیں تو ایم کیو ایم کی اپنی تھیں ہی، شواہد یہ ہیں کہ مرکزی حکومت نے بھی یا تو ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دیے رکھی اور یا وہ خود اس منصوبہ بندی کا حصہ تھی جس کے تحت ویک اینڈ پر کراچی میں اکتالیس ہلاکتیں ہوئیں، سینکڑوں زخمی ہوئے اور درجنوں گاڑیوں اور موٹر سائکلوں کو جلا دیا گیا۔

شاہراہ فیصل کو، جو شہر کی مرکزی گذرگاہ ہے، جمعے کی شام سے ہی بلاک کرنے کا کام شروع ہو گیا تھا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق کہیں پولیس نے اور کہیں ایم کیو ایم کے مسلح کارکنوں نے بسوں، ٹرکوں اور ٹرالرز کو چھین کر انہیں ناکارہ بنایا اور پھر انہیں رکاوٹوں کے طور پر استعمال کیا۔ شاہراہ فیصل سے بیسیوں نہیں شاید سینکڑوں راستے نکلتے ہیں۔ ان سب کو بند کرنا، اور اس طرح کہ ایک گواہ کے مطابق وہاں سے موٹر سائکل سوار بھی نہ گذر سکے، اچھا خاصا بڑا کام ہے۔ یہ کوئی ایسی کارروائی نہیں جو چھپ چھپا کر ہو سکے اور قانون نافذ کرنے والوں کو پتا بھی نہ چلے۔ یہ کارروائی رات دو بجے تک مکمل ہو چکی تھی، اور شاہراہ فیصل ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو چکی تھی۔ کراچی ائرپورٹ پر میں ایسے مسافروں سے بھی ملا جو سنیچر کی رات گیارہ بجے کے قریب وہاں پہنچے لیکن ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر نہ جا سکے۔

پھر سندھ کے وکیلوں کو چیف جسٹس کے استقبال کے لیے ائرپورٹ، اور ان کا خطاب سننے کے لیے ہائی کورٹ پہنچنے سے روکنے کے لیے بھی تمام انتظامات پہلے سے کیے گئے تھے۔

ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس کی عمارات پر پولیس کا پہرہ اور ان کے ارد گرد ایم کیو ایم کی ٹولیوں کی موجودگی سے یہ یقینی بنایا گیا کہ وکلاء ان عمارات میں نہ پہنچ سکیں اور جو پہنچ جائیں وہ باہر نہ آ سکیں۔ ملیر بار ایسوسی ایشن کے ارکان، جو چیف جسٹس اور ان کے ساتھیوں کے میزبان ہونے کے ناطے انہیں ائرپورٹ سے جلوس کی صورت میں لے جانا چاہتے تھے، ملیر کی حدود سے باہر بھی نہ آ پائے۔ میں چیف جسٹس کے ساتھ اسلام آباد ائرپورٹ پر موجود تھا، اور کراچی کی پرواز میں ابھی پندرہ بیس منٹ باقی تھے جب ان کے ایک وکیل کو فون پر ملیر بار کے ایک رکن نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے لوگ ان سے مار پیٹ کر رہے ہیں اور ائرپورٹ کا رخ کرنے کی صورت میں اس سے بھی برے نتائج کی دھمکی دے رہے ہیں۔

وکلاء تو خیر ان سے کیا لڑتے لیکن اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور کچھ مذہبی اور لسانی گروہوں کی ریلیوں میں بھی مسلح افراد موجود تھے۔ ان سے نمٹنے کے لیے ایم کیو ایم نے الگ حکمت عملی بنا رکھی تھی۔ سینئر صحافی ایاز امیر کے مطابق، جو سنیچر کو متاثرہ مقامات کا دورہ کرتے رہے، ایم کیو ایم نے مخالفین کی ریلیوں پر گھات لگا کر حملے کیے۔

ایم کیو ایم کے پاس اسلحہ بارود کس کثرت سے تھا اور ان کے لڑنے کا انداز کس قدر پیشہ ورانہ تھا اس پر ’آج’ ٹی وی کے ایک صحافی نے جنہوں نے بہت قریب سے اپنے دفتر پر ہونے والا حملہ بھی دیکھا تھا، تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوجیوں کی سی پھرتی سے پوزیشنیں سنبھالتے اور بدلتے رہے اور ان کے لیے بارود کی سپلائی بغیر وقفے کے چلتی رہی، جس کی بنا پر وہ چھ گھنٹے سے زیادہ گولی باری کرتے رہے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی کراچی آمد ایک سازش کا حصہ تھی جس کا جواب دینے کے لیے اسے یہ سب تیاری کرنا پڑی جس میں شاہراہ فیصل کو بند کرنا بھی شامل تھا۔ تاہم جماعت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ تشدد کی ابتدا ان کے مخالفین کی جانب سے ہوئی۔ کراچی میں قریباً پچیس ہزار کے قریب پولیس اہلکار ہیں جو صوبائی حکومت کے زیر نگرانی ہیں، اور ان کے علاوہ دس ہزار سے زیادہ رینجر بھی شہر میں موجود تھے، جو وفاقی حکومت کے ملازم ہیں اور گورنر کے حکم پر کام کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے پاس شہری اور صوبائی حکومت کے بیشتر اختیارات تو ہیں ہی، گورنر بھی اسی جماعت کے ایک رہنما ہیں۔ ان حالات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حساس مقامات سے غیر حاضری یا جیسے ٹی وی پر دیکھا گیا کہ بلوائی کھلے عام گھوم رہے ہیں اور اہلکار ان کے قریب ہی منہ پھیرے کھڑے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ سکیورٹی اہلکار اس روز غیر جانبدار نہیں تھے۔

پھر چیف جسٹس کی کراچی آمد کے دن ہی ایم کیو ایم کا ریلی نکالنے پر اصرار بھی معنی خیز تھا۔ صوبے کے چیف سیکرٹری نے کم از کم ایک ہفتہ پہلے بتایا تھا کہ ان کے پاس خفیہ معلومات ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کی آمد پر ہنگامے ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان معلومات کو صرف چیف جسٹس کا دورہ مؤخر کرنے کی کوشش میں استعمال کیا گیا، عوام کی سکیورٹی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ اور ایک طرح سے ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ اس پر وزیر اطلاعات کا یہ کہنا کہ سنیچر کو پیش آنے والے واقعات کا پہلے سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا، کسی کی بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔ اور پھر سب سے اہم بات تو خود صدر جنرل پرویز مشرف نے کہی، جنہوں نے اسلام آباد کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام نے اپنی طاقت دکھا دی ہے۔ اور یہ کہ اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پورے ملک کے عوام ان کے ساتھ ہیں۔

بشکریہ بی بی سی

تعليم ۔ انگريزی اور ترقی

ہمارے اربابِ اختيار انگريزی دانی پر تُلے رہتے ہيں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ انگريزی کے بغير ترقی نہيں ہو سکتی ۔ ہم لوگ “اپنے ملک پر انگریزوں کے قبضہ سے پہلے کے نظام” کو کوستے اور “ہمارے لئے انگریزوں کے قائم کردہ تعلیمی نظام” کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے ۔ ملاحظہ ہو ایک تاریخی حقیقت جو شائد صرف چند ایک پاکستانیوں کے علم میں ہو گی ۔ لیکن پہلے ایک لطیفہ ۔ ايک اَن پڑھ ديہاتی کے بيٹے لندن ميں آباد ہو گئے ۔ جب اُن کا کاروبار چل پڑا تو اُنہوں نے اپنے والد صاحب کو بُلا کر برطانيہ کی سير کرائی ۔ چار ماہ بعد جب وہ واپس گاؤں پہنچے تو گاؤں کے لوگ ان سے ملنے آئے ۔ ايک نے کہا “سنا ہے برطانيہ کے لوگ بہت ترقی کر گئے ہيں”۔ برطانيہ پلٹ ديہاتی نے فوراً کہا ” ترقی ؟ ایسی ترقی کی ہے اُنہوں نے کہ اُن کا بچہ بچہ انگريزی بولتا ہے”۔

ہندوستان کے گورنر جنرل کی کونسل کے پہلے رُکن برائے قانون لارڈ میکالے [Lord Macaulay] کے برطانیہ کی پارلیمنٹ کو 2 فروری 1835 عیسوی کے خطاب سے اقتباس ۔

“I have traveled across the length and breadth of India and I have not seen one person who is a beggar, who is a thief, such wealth I have seen in this country, such high moral values, people of such caliber that I don’t think we would ever conquer this country unless we break the very backbone of this nation which is her spiritual and cultural heritage and, therefore, I propose that we replace her old and ancient education system, her culture, for if the Indians think that all that is foreign and English is good and greater than their own, they will lose their self-esteem, their native culture and they will become what we want them, a truly dominated nation”.

ميں نے ٹيکنيکل کالج اور يونيورسٹی ميں انجنيئرنگ کے مضامين پڑھائے ہيں ۔ اس کے علاوہ انگريزی بھی پڑھائی ہے ۔ ميری پوری کوشش ہوتی تھی کہ جو بات طلباء کو سمجھ نہ آئے وہ انگريزی ہی ميں سمجھاؤں ۔ ليکن صورتِ حال يہ تھی کہ کئی طلباء امتحان ميں پرچہ تو صحيح حل کر ليتے تھے مگر ان سے پوچھا جائے تو پتہ چلتا کہ بات ان کو سمجھ نہيں آئی ۔ آخرِ کار مجھے اُنہيں اُردو ميں سمجھانا پڑتا ۔ اصل بات يہ ہے کہ قصور طلباء کا نہيں ۔ کوئی بھی طالب عِلم فطری طور پر صحيح سمجھ اور بہترين اظہار صرف اپنی زبان ميں ہی کر سکتا ہے ۔

ميں نے ميٹرک تک سائنس اور رياضی اردو ميں پڑھے ۔ اس کے بعد سب کچھ انگريزی ميں پڑھا ۔ اُردو بطور زبان ميں نے پہلی سے آٹھويں جماعت تک پڑھی تھی اور انگريزی بطور زبان پہلی سے بارہويں جماعت تک ۔ میں نے اردو اور انگريزی کو اچھی طرح پڑھا تھا چنانچہ مجھے ميٹرک کے بعد سب کچھ انگريزی ميں پڑھنے ميں خاص مشکل پيش نہ آئی ۔

اگر ترقی انگريزی پڑھنے سے ہو سکتی ہے تو پھر جرمنی ۔ فرانس ۔ چين ۔ جاپان ۔ ملائشيا وغيرہ نے کيسے ترقی کی وہاں تو ساری تعليم ہی ان کی اپنی زبانوں ميں ہے ۔ بارہويں جماعت ميں ہمارے ساتھ پانچ لڑکے ايسے تھے جو کہ خالص انگريزی سکول سينٹ ميری [Saint Marry] ميں پڑھ کے آئے تھے ۔ ان ميں سے تين لڑکے بارہويں کے امتحان ميں فيل ہوگئے ۔ اور باقی دو بھی انجنيئرنگ يا ميڈيکل کالج ميں داخلہ نہ لے سکے ۔ جب کہ ہمارے کالج کے اُردو ميڈيم والے 12 لڑکوں کو انجنيئرنگ کالجوں ميں داخلہ ملا ۔ ميڈيکل کالجوں ميں بھی ہمارے کالج کے کئی لڑکوں اور لڑکيوں کو داخلہ ملا جو سب اُردو میڈیم کے پڑھے ہوئے تھے ۔

ہماری قوم کی پسماندگی کا اصل سبب ہر دوسرے تيسرے سال بدلتے ہوئے نظامِ تعليم کے علاوہ تعليم کا انتہائی قليل بجٹ اور ہمارے ہاں اساتذہ کی تنخواہيں باقی سب اداروں سے شرمناک حد تک کم ہونا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور ميں سوائے غیر ملکی ملکیت میں چلنے والے تعلیمی اداروں کے سب تعليمی ادارے قوميا کر ان ميں سياست کی پنيری لگا دی گئی اور ملک ميں تعليم کا تنزل تیزتر ہو گيا ۔ پھر انگريزی اور بين الاقوامی معيار کے نام پر مہنگے تعليمی ادارے بننا شروع ہوئے ۔ ہماری موجودہ حکومت نے تو ثابت کر ديا ہے کہ اچھی تعليم حاصل کرنا صرف کروڑ پتی لوگوں کی اولاد کا حق ہے ۔ اور عوام کی تعليم کو ایک ميٹرک پاس ريٹائرڈ جرنيل کے رحم و کرم پر چھوڑ ديا گيا ہے جس نے پریس کانفرنس میں کہا “ہم اسلامیات کو سلیبس سے نہیں نکال رہے ۔ ہم سکولوں میں قرآن شریف کے پورے 40 سپارے پڑھائیں گے” ۔ ایک صحافی نے سوچا کہ شائد غلطی سے زبان سے 40 نکل گیا ہے اور تصدیق چاہی تو وزیرِ تعلیم نے پھر کہا “ہاں ۔ 40 سپارے”۔

بدلتے دل ۔ سانحہ کراچی

دل کو بدلنا آسان کام نہیں لیکن کوئی ایک چھوٹا یا بڑا حادثہ کبھی ایک دل کو اور کبھی بہت سے دلوں کو بدل کے رکھ دیتا ۔ سُنا ۔ پڑھا اور میری زندگی کا تجربہ بھی ہے کہ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے اسلئے انسان کو ہر چیز یا عمل میں بہتر پہلو کو تلاش کرنا چاہیئے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے 9 مارچ سے شروع ہونے والے ہفتہ میں ایسی حماقتیں کیں جن سے سب پریشان ہوئے لیکن ان حماقتوں نے اُس تحریک کو جنم دے دیا جو حزبِ مخالف چلانے میں ناکام رہی تھی ۔ اللہ اس تحریک کو جلد کامیابی سے ہمکنار کرے اور ہمارے وطن میں عوام کا خیال رکھنے والی مضبوط جمہوریت قائم ہو جائے ۔ اور ڈکٹیٹر شپ سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خلاصی ہو جائے ۔

12 مئی کو جو کچھ کراچی میں ہوا وہ کراچی والوں سے بہتر کون جانتا ہے ؟ اس کا اچھا پہلو جو میرے علم میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے جانثار خاندانوں کی نئی نسل جس کو 10 مئی تک “قائد صرف ایک [الطاف حسین]” اور “جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے” کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہ تھا اُس نوجوان نسل کے کئی ارکان کے دل 11 اور 12 مئی کے واقعات نے بدل کے رکھ دیئے ہیں ۔

ایک پڑھا لکھا نوجوان جو ایم کیو ایم کے علاقہ کا باسی ہے اور جس کا خاندان الطاف حسین کے جان نثاروں میں شامل ہے ۔ جس کے چچا نے 12 سال قبل الطاف حسین کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا تھا اور اس کو سلام آج بھی اس کے محلے میں ہر طرف لکھا ہوا ہے ۔ اُس نوجوان نے 11 مئی کو دیکھا کہ ایئرپورٹ کو جانے والے تمام راستوں پر ٹرالر ٹرک ۔ ٹینکر اور بسیں کھڑی کر کے ان کے ٹائروں میں سے ہوا نکال دی گئی ہے ۔ پھر شام کو اس نے دیکھا کہ خود کار ہتھیاروں سے لیس جوانوں نے مورچے سنبھال لئے ہیں اور کچھ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 12 مئی کو ہسپتالوں میں چلے جائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی ایسا شخص طِبّی امداد نہ لینے پائے جو ایم کیو ایم کا نہ ہو ۔

دوسرے دن یعنی 12 مئی کو صبح 10 بجے اس نے ڈرگ روڈ اسٹیشن کے قریب دیکھا کہ اس کے ساتھی ریپیٹر اور کلاشِن کوف قسم کے خود کار ہتھیار خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی ایمبولینس میں بھر کر لے جا رہے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ شاہراہ فیصل سب کیلئے بند ہے مگر ایم کیو ایم کے جوان ہتھیار لئے آزادی سے گھوم رہے ہیں ۔پھر اس نے دیکھا کہ ایک جوان شخص گِڑگڑا کر التجائیں کر رہا ہے کہ مجھے جانے دو ۔ وہ اپنے بچے کی لاش ہسپتال سے گھر لے کر جا رہا تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا خدا کیلئے مجھے جانے دو تا کہ میں اپنے اس معصوم بچے کے کفن دفن کا بندوبست کر سکوں ۔ ایک لمحہ آیا کہ ایم کیو ایم کے اس پڑھے لکھے نوجوان کے جسم نے ہلکی سی جھرجھری لی اور وہ وہاں سے چلا گیا ۔ 12 بجے کے قریب پہلی فارنگ ہوئی اور وہ خلافِ معمول گھر چلا گیا اور ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد اُس کے دل نے اچانک اس کی ملامت شروع کردی کہ آج تک تیرا خاندان جو دلیری دکھاتا رہا وہ دراصل ایک مجبوری اور ضرورت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی درندگی تھی ۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے آپ کو مزید دھوکہ نہیں دے گا جس کیلئے اس کے چچا نے جان دی تھی وہ انسان نہیں درندہ ہے ۔ وہ قاتلوں کا قائد ہے مہاجروں کا نہیں ۔ رات تک اس کو معلوم ہو چکا تھا کہ مرنے والے پختونوں کے علاوہ سب اُس کی طرح مہاجروں کے بچے ہیں جن کا قصور یہ ہے کہ وہ الطاف حسین کی درندگی کی حمائت نہیں کرتے ۔

یہ کہانی یا افسانہ نہیں حقیقت ہے ۔ یہ ایم کیو ایم کے گڑھ میں رہنے والے صرف ایک نوجوان کی آپ بیتی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے کئی اور پڑھے لکھے نوجوان ہوں گے جو اس پراگندہ ماحول اور خونی سیاست سے تنگ آ کر 12 مئی کو تائب ہوئے ہوں گے لیکن وہ اس کا برملا اظہار کرتے ہوئے شائد ڈر رہے ہوں مگر اس نوجوان نے اپنی دلیری کا رُخ بدلتے ہوئے نہ صرف ایم کیو ایم کے لیڈران کو تحریری طور پر اپنے دل کی تبدیلی کی اطلاع کر دی ہے بلکہ الطاف حسین کو 12 مئی کے قتلِ عام کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ اس نوجوان ۔ اس جسے دوسرے جوانوں اور اُن کے اہلِ خانہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ میری محبِ وطن قارئین سے بھی التماس ہے کہ وہ بھی اُن کے لئے خصوصی دعا کریں ۔

سندھ حکومت کی دریا دِلی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی 12 مئی کو کراچی آمد کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے لگائے گئے استقبالیہ کیمپ پولیس نے اکھاڑ دیئے ہیں ۔ یہ کیمپ جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی اور لیبر پارٹی کی جانب سے لگائے گئے تھے ۔

ذمہ دار کون ہو گا ؟

پانچ اور چھ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو اسلام آباد تا لاہور جی ٹی روڈ پر پچیس گھنٹے کے سفر میں جس انداز کی عوامی پذیرائی ملی اس کے نتیجے میں مشرف حکومت اور اتحادی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کو غالباً یہ فرض سونپا گیا ہے کہ وہ اب کھل کے سامنے آئیں اور چیف جسٹس کے حق میں امڈنے والی لہر کو روکنے کے لیے پوری طاقت اور وسائل بروئے کار لائیں۔
سرکاری وکلاء نے نہ صرف عدالت کے اندر جارحانہ رویہ اختیار کر لیا ہے بلکہ مظاہرے کا جواب مظاہرے سے اور جلسے کا جواب جلسے سے دینے کی حکمتِ عملی پر بھی عمل شروع ہوگیا ہے۔ پہلے مرحلے میں اردو میں شائع ہونے والے بڑے قومی اخبارات میں پہلے اور آخری صفحے پر سات مئی سے ایم کیو ایم لیگل ایڈ کمیٹی کے علاوہ عدلیہ تحفظ کمیٹی اور غیر جانبدار وکلاء کے نام سے چوتھائی صفحے کے اشتہارات شائع کرائے جا رہے ہیں۔

اس بات کا امکان کم ہے کہ یہ اشتہارات انفرادی سطح پر شائع کیے جا رہے ہوں کیونکہ فرنٹ پیج پر چوتھائی اشتہار کا نرخ ایک اخبار میں آٹھ لاکھ روپے اور دوسرے اخبار میں دو لاکھ ساٹھ ہزار روپے کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ بیک پیج کا نرخ ایک اخبار میں سوا پانچ لاکھ روپے اور دوسرے اخبار میں ایک لاکھ اسی ہزار روپے ہے اور روزانہ دو بڑے اخبارات میں اتنی قیمت کے اشتہار شائع کروانا کسی ایک فرد کے لیے خاصا مشکل ہے۔

عدلیہ تحفظ کمیٹی کے اشتہار کا لبِ لباب یہ ہے کہ چیف جسٹس نادانستہ طور پر اعتزاز احسن، منیر ملک، رشید رضوی اور حامد خان جیسے وکلاء کے ذریعے بے نظیر بھٹو کے لیے استعمال ہورہے ہیں جن کی حکومت سے ڈیل ہورہی ہے۔ غیر جانبدار وکلاء کے نام سے جو اشتہارات شائع کرائے جا رہے ہیں ان میں چیف جسٹس سے پوچھا گیا ہے کہ جو سیاستدان اس وقت آپ کے ہاتھ چوم رہے ہیں اور جو وکلاء آپ کا مقدمہ لڑ رہے ہیں یا جو وکلاء آپ کے مخالف فریق کی جانب سے پیش ہورہے ہیں۔اگر ان میں سے کسی کا مقدمہ آئندہ آپ کی عدالت میں آتا ہے تو بحیثیت انسان اور جج کیا آپ انصاف کر پائیں گے۔

ایم کیو ایم لیگل ایڈ کمیٹی کے نام سے شائع ہونےوالے تفصیلی اشتہار میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے نام پر سیاست اور عدالتی بائیکاٹ کے نتیجے میں لاکھوں سائلوں پر انصاف کے دروازے بند ہو چکے ہیں لہٰذا یہ کھیل بند کیا جائے اور عدالت کی بات عدالت میں ہی کی جائے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ق) نے اسلام آباد میں بارہ مئی کو لاکھوں افراد جمع کرنے کے لیے پارٹی اور حکومت کے تمام ضروری وسائل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امکان ہے کہ صدر مشرف بھی ریلی سے خطاب کریں گے۔جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اعلان کیا ہے کہ بارہ مئی کو کراچی کی سڑکیں ان کے حامیوں سے بھر جائیں گی۔ چیف جسٹس کی حامی وکلاء قیادت تو پہلے ہی کراچی میں چیف جسٹس کے استقبال کے شیڈول اور جلوس کے روٹ کا اعلان کر چکی ہے۔

مبصرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں اگر اس موقع پر کوئی فریق اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آتا اور بلا لچک رویے کے نتیجے میں تصادم ہوتا ہے تو پھر حکومت کو ایمرجنسی نافذ کرنے اور بنیادی حقوق معطل کرنے کا جواز ہاتھ آ سکتا ہے۔اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہ یا تو رب جانے یا مشرف جانے۔

بی بی سی اُردو سروس

چُٹکلے

ہماری قوم میں کئی لوگوں کو برملا جھوٹ بولنے کی ایسی عادت ہے کہ وہ جھوٹ ظاہر ہونے پر شرمندہ ہونے کی بجائے ایک اور جھوٹ بول کر سامع کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ شائد یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور سرکاری افسران جھوٹ پر جھوٹ بولے چلے جاتے ہیں ۔ خیال رہے کہ پاکستان کو بنے ابھی 60 سال نہیں ہوئے ۔ ان میں سے پہلے چھ سال نکال دیں کہ جن میں سب کچھ عوام کے سامنے تھا ۔ باقی 54 سال میں سے 32 سال فوجی مطلق العنانی [Army Dictatorship] رہی اور پاکستان کے آئین کی تہس نہس کی گئی ۔ اس طرح ابتدائی 6 سال یعنی 1947 سے 1953 تک کو چھوڑ کر پاکستان پر صرف 22

 سال سویلین [Civilian] حکومت رہی پھر بھی ہمارے موجودہ صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کہتے ہیں کہ سیاست دانوں نے ملک تباہ کر دیا ۔

بروز ہفتہ 5 مئی 2007 کو چیف جسٹس صاحب کا قافلہ اسلام آباد سے لاہور روانہ ہوا ۔ ایم کیو ایم نے اس کے مقابلہ میں اسی دن کراچی میں جلوس نکالا ۔ نجی ٹی وی والوں کو حکم دیا گیا کہ ایم کیو ایم کے جلوس کی لائیو کوریج [Live coverage] کی جائے ۔ نجی ٹی وی چینلز جن میں آج ۔ اے آر وائی ون اور جیو شامل ہیں نے چیف جسٹس صاحب کے قافلہ کی لائیو کوریج کی ۔ اس پر ایم کیو ایم نے حسبِ عادت زورآوری دکھائی اور کراچی ۔ حیدرآباد ۔ سکھر سمیت سندھ کے تمام بڑے شہروں میں کیبل آپریٹرز سے ان تینوں چینلز کی نشریات بند کروا دیں ۔ رات گئے ایم کیو ایم کے ایک ترجمان نے فرمایا کہ نجی ٹی وی والوں نے جانبداری دکھاتے ہوئے عوام [ایم کیو ایم] کے اتنے بڑے جلوس کو نہیں دکھایا اور چند وکلاء کے جلوس کو کوَر کرتے رہے ۔ اسلئے عوام نے ٹی بند کر دئیے ۔ کوئی جھوٹ بولے تو ایسا ۔

اسی دن ہمارے ملک کے صدر اور چیف آف آرمی سٹاف ایک نے سیاسی جلسہ منقد کیا اور اس میں تقریر کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے لئے ووٹ مانگے اور وکلاء کو متنبہ کیا کہ وہ عدالتی معاملہ کو سیاسی نہ بنائیں ۔ بھئی واہ ۔ خود تو صاحب بہادر ملک کے آئین اور قانون کی پچھلے سات سال سے دھجیاں اُڑاتے آ رہے ہیں اور پچھلے دو ماہ سے سیاسی جلسوں میں ووٹ مانگتے پھر رہے ہیں جبکہ پاکستان کا آئین اور فوج کا قانون کسی فوجی کو سیاسی جلسہ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتا کُجا کہ وہ اس میں سیاسی تقریر بھی کرے ۔ اور پاکستان کا آئین صدر کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ سیاسی تقریر کرے یا کسی ایک پارٹی کی حمائت کرے کیونکہ وہ پورے پاکستان کا صدر ہوتا ہے ۔